EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انقلابی راہنما سینگار نوناری کا جبری اغوا، ریاستی بیانیہ اور بے بس عدالتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند ہفتوں بعد ہمارے وطن عزیز کو ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آئے 74 برس ہو جائیں گے۔ نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے والے ممالک کا بغور جائزہ لیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے ان 74 برسوں میں اپنے عوام کو کیا دیا؟ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کو کس حد تک یقینی بنایا؟ ان کی تعلیم، صحت اور روزگار کا کس قدر بندوبست کیا ہے؟ ان کے آئینی و جمہوری حقوق کو کس حد تک یقینی بنایا؟ یہی وہ بنیادی انسانی حقوق ہیں، جن کے تحفظ کے لیے ریاست قائم کی جاتی ہے۔

یوں یوں ریاست اپنے شہریوں کے ان بنیادی حقوق کو یقینی بناتی جاتی ہے، عوام کے دل میں اپنے وطن سے محبت بڑھتی جاتی ہے اور ان کے دل میں وطن کے لیے قربانی کا جذبہ بڑھتا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا وطن پاکستان آزادی کے وقت سے ہی ان جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، کرپٹ اشرفیہ اور بیوروکریسی کے تسلط میں چلا گیا جو قیام پاکستان سے قبل برطانوی سامراج کی مخبر، کارندے اور تنخواہ دار ملازم تھے اور اس سے مراعات حاصل کرتے تھے۔ آزادی کے تقریباً 74 برس بعد بھی اس ملک اور اس کے عوام پر کیا بیت رہی ہے، اس کے لیے کونسلر سینگار نوناری اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ پیش آنے والے سانحہ کا جائزہ لیتے ہیں، جو وطن عزیز میں پیش آنے والے ہزاروں واقعات میں سے ایک ہے، جو آئے روز ملکی شہریوں کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں۔

سندھ دھرتی کے ایک نڈر اور بے لوث انقلابی راہنما، نصیر آباد، لاڑکانہ سے عوامی ورکرز پارٹی کے صوبائی سیکرٹری محنت اور پارٹی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے کونسلر کامریڈ بالاچ سینگار نوناری کو مبینہ طور پر رینجرز اور پولیس کی جانب سے گرفتاری، جبری اغوا اور غائب کیے ہوئے آج تادم تحریر 24 روز گزر چکے ہیں۔ ابھی تک ہماری ریاست اور اس واردات کو سر انجام دینے والے کسی محکمے نے نہ تو ان کے خلاف کوئی مقدمہ دائر کیا ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو یہ بتایا ہے کہ وہ کہاں ہیں؟ ان کا جرم کیا ہے؟ وہ اس وقت کس حال میں ہیں؟ ان کی اہلیہ محترمہ فوزیہ نوناری کو خدشہ ہے کی ان پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ان کی جان خطرے میں ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 13 جولائی کو سینگار نوناری بارے عالمی اپیل شائع کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سینگار نوناری عوامی ورکرز پارٹی (اے ڈبلیو پی) سندھ کے لیبر سکریٹری ہیں اور انہوں نے اپنی ساری زندگی ملک کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جدوجہد کرتے ہوئے گزاری ہے۔ انہیں 26 جون 2021 کو صبح 3 بجے گھر سے ان کی اہلیہ اور تین کمسن بچوں کے سامنے اغوا کیا گیا۔ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور ان کو لے جانے سے پہلے سادہ کپڑوں میں ملبوس 15 کے قریب سیکورٹی اہلکاروں نے ان کے گھر کو توڑ ڈالا۔

یہ اغوا ایک ایسے موقع پر پیش آیا گب عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے نجی املاک ڈویلپروں کی طرف سے مبینہ طور پر غیر قانونی اراضی پر قبضے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی تھی اور یہ واقع اس احتجاج سے ایک روز قبل پیش آیا۔ ان کی اہلیہ فوزیہ نوناری نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بالاچ سینگار نوناری کو بازیاب کروایا جائے اور انہیں سویلین عدالت میں پیش کیا جائے تا کہ ان کی رہائی عمل میں آ سکے۔ اس اپیل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متعلقہ حکمرانوں کو لکھنے کے لیے ایک ڈرافٹ لیٹر اور اس واقع اور بالاچ سینگار نوناری کی جدوجہد کی تفصیل رپورٹ بھی منسلک کی ہے تاکہ دنیا بھر کی سول سوسائٹی کو اس واقع اور اس کے وجوہات سے آگاہی ہو سکے۔

کامریڈ سینگار نوناری ایک انتہائی متحرک اور تجربہ کار سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ وہ بائیں بازو کی سیاسی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ منسلک ہیں اور سندھ کے صوبائی سیکرٹری محنت ہیں۔ وہ ہما وقت سندھ میں کسانوں اور مزدوروں کو متحرک کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ اپنے عہد جوانی سے ہی ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، بالخصوص کسانوں، ہاریوں اور مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی ملک میں 73 برس سے مسلط قبائلی سرداری، جاگیرداری اور نیم سرمایہ داری نظام کو توڑ کر ملکی معاشی ڈھانچے کی تشکیل نو کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

ایک جمہوری دور میں ملک کے پرامن شہریوں اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنا، سرکاری محکموں کی جانب سے جبری اغوا کر کے غائب کر دینا نہ صرف شرمناک فعل ہے بلکہ موجودہ جمہوری ہائی بریڈ سیٹ اپ کے منہ پر تمانچہ ہے۔ کامریڈ سینگار نوناری کو بلا شبہ ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات اور محنت کش عوام کے لیے آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے، جن کا گزشتہ 74 برس سے بڑی بے دردی سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں کہ اہل اقتدار کو اس بات کی سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ اکیسویں صدی صدی کے کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دور میں سیاسی مخالفیں کی پکڑ دھکڑ اور گرفتاریوں سے عوامی حقوق کے لیے جاری جدوجہد اور ملکی اشرفیہ، جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، کرپٹ اور جابر بیوروکریسی، لینڈ مافیہ، قبضہ گیری اور بے دخلیوں کے خلاف ملک میں جاری پر امن جدوجہد کو روکا نہیں جا سکتا۔

قبل ازیں کامریڈ بالاچ سینگار نوناری کی بازیابی اور رہائی کے لیے عوامی ورکرز پارٹی کی کال پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، جو بالخصوص لاہور، قصور، گوجرانوالہ، اسلام آباد، ملتان، نصیرآباد، لاڑکانہ، حیدرآباد، سانگھڑ، کراچی اور ملک کے دوسرے شہروں کے مظاہروں کی کم از کم سوشل میڈیا پر بھرپور کوریج دیکھنے کو ملی ہے۔ ان کے آبائی شہر نصیرآباد، لاڑکانہ میں آج 24 ویں روز بھی زبردست مظاہرہ ہوا ہے، جو اس سانحہ کے روز سے روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے اور اس میں اب تو دور دراز کے دیہاتوں کے ہاری، کسان بھی شہری عوام کے ساتھ کندھے سے کندہ ملا رہے ہیں۔

سینگار نوناری کی 60 سالہ ماں ہیر نوناری ان ہزاروں مظاہرین میں شامل ہے جو اپنے رانجھے کی رہائی کے لیے ہر روز سڑکوں پر اپنا پلے کارڈ اٹھائے نظر آتی ہے، جس پر درج ہے کہ میرے رانجھے کو رہا کرو۔ اس سب کے باوجود مجال ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت، پیپلز پارٹی کے صوبائی حکومت، رینجرز، پولیس یا پھر مقامی انتظامیہ کے سر پر جوں بھی رینگی ہو۔ انسانی اقدار، جمہوری آزادیاں، عوامی حقوق، ملکی عوام اور ان کے حقوق تو رولنگ الیٹ کو فقط الیکشن کے دنوں میں ہی یاد آتے ہیں یا پھر جب وہ خود حزب اختلاف میں ہوں اور حکمران وقت کی جانب سے بنائے گئے مقدمات کی زد میں ہوں تو انہیں انسانی اقدار اور جمہوری حقوق بہت یاد آتے ہیں۔ کامریڈ نوناری کے خلاف ہونے والے اس شرم ناک واقع سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں سیاسی کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد میں ریاست کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔

کامریڈ بالاچ سینگار نوناری کو جمعرات 24 جون کی رات سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے ان کے گھر سے زبردستی اٹھا لیا تھا۔ ان کا قصور یہ ہے کہ وہ ملک میں جاری جاگیرداری و سرمایہ داری نظام، کرپٹ اشرفیہ، بیوروکریسی اور لینڈ مافیہ کی جانب سے ملک کے غریب کسانوں اور ہاریوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے بدمعاشی اور دھونس کے ذریعے ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ٹیکسوں پر پلنے والی پولیس اورسیکوریٹی کے محکمے عوام کو تحفظ دینے کی بجائے ملکی وسائل پر قابض جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، سرمایہ داروں اور ریل اسٹیٹ مافیہ کے سرغنہ ملک ریاض جیسوں کے نجی غنڈوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات ہے کہ جمہوریت کی چیمپین پیپلز پارٹی سندھ میں سیاسی کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد میں ریاست کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کی کامریڈ سینکار نوناری کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ ایک غریب کسان کا بیٹا ہے۔ اس نے اپنے علاقے نصیر آباد، لاڑکانہ میں جاگیرداروں کے خلاف عوام کو ایک غریب دوست متبادل سوچ کے گرد منظم کیا اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔

کامریڈ سینگار نوناری نے ہمیشہ پر امن جدوجہد کی کا راستہ اپنایا اور ساری زندگی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جاگیرداری باقیات کے خلاف لڑائی لڑی۔ موجودہ صورت حال ملک بھر کے ترقی پسند، امن دوست اور جمہوری قوتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ملک پر مسلط اس فرسودہ جاگیردارانہ و قبائلی نظام، سامراجی حکمران ٹولہ اور ان کے حواریوں کی ہائیبرڈ حکومت کے خلاف ملک کے تمام ترقی پسند، جمہوریت دوست اور سامراج دشمن قوتوں کو مل کر بھرپور جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے۔

بالاچ سینگار نوناری کی اہلیہ محترمہ فوزیہ نوناری، جو خود بھی ایک باشعور اور سرگرم سیاسی کارکن ہیں اور عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ منسلک ہیں، نے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے خاوند کی بازیابی اور رہائی کے کیے مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ اس مقدمے کی پیروی عوامی ورکرز پارٹی کے وکلاء کا ایک بڑا پینل کر رہا ہے، جس کی قیادت عوامی ورکرز پارٹی کی جنرل سیکرٹری اور ممتاز ماہر قانون اختر حسین ایڈووکیٹ بذات خود کر رہے ہیں۔

اختر حسین سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر، پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین اور گزشتہ دو برس سے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ممبر رہ چکے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی ایڈوائزری تنظیم انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک لائرز کے بیورو کے ممبر ہیں اور اس کے ڈپٹی سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ وہ ایک قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ساری زندگی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کی لیے سرگرداں رہے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھٹو دور میں بننے والے حیدرآباد ٹربیونل کیس میں بھی میاں محمود علی قسوری اور عابد حسن منٹو کی معاونت کی تھی، جس کے تحت حبیب جالب، میر غوث بخش بزنجو، ولی خان اور دیگر پابند سلاسل تھے اور ملک میں جمہوری اداروں کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانے کی قیمت ادا کر رہے تھے۔

محترمہ فوزیہ نوناری کے وکیل کامریڈ اختر حسین نے مقامی ٹیلی وژن کو انٹرویو اور ٹویٹر پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنی اس رٹ پٹیشن میں وفاق کو بھی پارٹی بنایا ہے، ڈیفینس سیکرٹری کے ذریعے محکمہ دفع کو بھی، صوبائی حکومت کو، وفاقی سیکرٹری داخلہ کو، ڈی جی رینجرز کو، آئی جی پولیس کو اور نصیرآباد، لاڑکانہ، جہاں کے بالاچ سینگار نوناری رہنے والے ہیں، وہاں کے ایس ایچ او کو بھی پارٹی بنایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تو سراسر اغوا ہے۔ آئے روز جو مسنگ پرسنز بنائے جا رہے ہیں اس کی کوئی قانون یا ملکی آئین ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ کسی شہری کی، بغیر کسی قانون کی خلاف ورزی کے اور بغیر ایف آئی آر اندراج کے گرفتار کر لیا جائے۔ ایف آئی آر کے علاوہ تو قانونی طریقہ پر صرف ڈیٹینشن ہی ہو سکتی ہے اور ڈیٹینشن تو پریوینٹیو ڈیٹینشن ہوتی ہے، جس کی قانون میں گنجائش ہے اور اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص پبلک لا اینڈ آرڈر پر اثر انداز ہو سکتا ہو تو اس کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، جس کے لیے وجوہات فراہم کرنے پڑتی ہیں کہ ان حقائق کے بنیاد پر گرفتار کیا جاتا ہے۔

ایسی ڈیٹینشن ایک ماہ یا پھر دو ماہ کے لیے ہوتی ہے اور پھر اس کو ریویو بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کامریڈ سینگار نوناری کا واقع تو سراسر اغوا ہے کہ گھر میں ایسے گھسے جیسے ڈاکو کسی کو اٹھا کے لے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ہمارے ملک کی رینجر، پولیس اور اسٹیبلشمنٹ کے اتھارٹیز والے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو اٹھا کے لے جائیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کو قابل سماعت سمجھتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

میں کامریڈ سنگھار نوناری کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور وہ ایک غریب کسان کا بیٹا ہے۔ اس نے ہمیشہ پر امن جدوجہد کا راستہ اپنایا اور ساری زندگی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ملک پر مسلط جاگیرداری سماج اور اس کی باقیات خلاف لڑائی لڑی۔ وہ اور اس کی پارٹی نے ہمیشہ اس فرسودہ جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام، سامراجی حکمران ٹولہ اور ان کے حواریوں کے خلاف تمام ترقی پسند، جمہوریت دوست اور سامراج دشمن قوتوں کو ساتھ ملا کر جدوجہد کی ہے۔

ہمارا عدالتی نظام بھی کتنا بے بس اور مجبور ہے کہ جب تک اس کیس کی شنوائی ہو گی اور داد رسی کی نوبت آئے گی، نہ جانے سینگار نوناری کس قدر سکیورٹی اداروں کے جبر و تشدد کا نشانہ بن چکا ہو گا۔ جب ملک کے اعلی عدالتیں انہیں بے قصور قرار دے دیں گیں تو کیا ان پر ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہو سکے گا؟ محترمہ فوزیہ نوناری احتجاجی مظاہروں میں بڑی جرات اور امید کے ساتھ گاتی ہیں :۔

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوح ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں، روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے، جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر، جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
ہم دیکھیں کے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 16 posts and counting.See all posts by pervez-fateh

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے