EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ڈئیر والدین! بیٹی کی بربادی مبارک ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بیٹی پیدا ہوتے ہی والدین، اسے دوسرے گھر میں آباد کرنے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کو مشرقی تہذیب کی پروردہ شرم و حیا کا پیکر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جانے انجانے میں کچے ذہن کے لڑکی کے دماغ میں سیکس کا بھس بھرتے رہتے ہیں۔ بے شعور والدین اپنی بیٹیوں کے سامنے دن میں کئی بار دہراتے ہیں کہ جیسے ہی یہ بڑی ہوگی ہم تو اچھا رشتہ آتے ہی اس کی شادی کر دیں گے۔

آپ مجھے بتائیے شادی کا مطلب سوائے سیکس کے اور کیا ہے۔

وہ گڑیاں اور کتابیں چھوڑ کر گھر گرہستی کی جانب دھیان لگا لیتی ہے۔ شادی کو دماغ میں بسائے رکھنے والی لڑکی جنسی میلان زیادہ رکھتی ہے۔ کسی بھی لڑکے کی دوستی کی آفر جلد قبول کر لیتی ہے۔ اور پھر میرے ماں باپ سے ملو کی رٹ لگائے رکھتی ہے۔

لڑکا بھی ظاہر ہے اپنے ماں باپ سے ڈرتا ہے۔ اور سمجھتا ہے کہ ملنے کا کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہو گا۔
دوستی کو پانچ چھ سال ہو گئے۔ لیکن ان سالوں میں لڑکی بہت کچھ گنوا چکی ہے۔

نہ نہ آپ یہ نہ کہیں کہ میڈیا بے حیائی پھیلا رہا ہے، لڑکے نے اسے دھوکا دیا، فلاں سہیلی کی صحبت نے اسے خراب کیا۔ آپ کی گھٹیا، سیکسی باتوں نے اسے سیکس کی جانب راغب کیا۔

یہ جملے سننے والی لڑکیاں پڑھتی تو ہیں لیکن ان کا اپنے مستقبل کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہوتا

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ عام طور پر مڈل اور لوئر مڈل کلاس میں چودہ سال سے اٹھارہ سال تک کی لڑکیوں کی اکثریت شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف مخالف جنس کی قربت ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آزادی نے لڑکی کا ذہن خراب کیا ہے، تب اسے گھر میں قید کر دیجیے، لیکن اچھا رشتہ، فوراً شادی جیسے الفاظ کی باز کشت جاری رکھیے۔ دیکھیے چودہ سال کی عمر میں پہلا رشتہ آتے ہی بغیر تصویر دیکھے اور رشتے کی کرید کیے لڑکی فوراً شرما کر ہاں کر دے گی۔

موجودہ دور میں انٹر نیٹ، مخلوط تعلیم، مہنگائی نے لڑکوں اور لڑکیوں کو باہمی میل جول کا موقع دیا ہے۔ لیکن چوبیس پچیس سال کی عمر کی لڑکی رشتے کی کرید کرتی ہے اور سوچ سمجھ کے انکار یا اقرار کرتی ہے۔ اس کا دھیان کیوں کہ اپنے کریئر کی جانب ہوتا ہے اس لیے دوران تعلیم وہ کسی لڑکے کے ہاتھوں تباہ نہیں ہوتی۔

ہم نے اپنے والد سے ہمیشہ یہ سنا کہ جب تک ہماری بیٹیاں گریجویشن نہیں کر لیں گی وہ ان کی شادی نہیں کریں گے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ہم سب بہنوں کے ذہن میں بڑے ہو کر کیا بننا ہے، کا خاکہ بنا ہوا تھا۔

بچے، خاندان، اور معاشی مجبوریوں میں جکڑے ہوئے مرد عورت کو دنیا لاکھ میاں بیوی پکارے، لیکن وہ محض منہ بولے رشتوں میں جکڑے ماں، باپ، بہو، بیٹا، داماد بیٹی، ساس سسر، بھابی، بھیا، سالی، بہنوئی ہی ہوتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ سب ہی لڑکیاں برباد ہوتی ہیں۔ وہ لڑکیاں جن کے دماغ میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کی دھن ہوتی ہے وہ لڑکیاں شادی شادی کی رٹ نہیں لگاتیں۔ میری دوست کی بیٹی آٹھویں جماعت سے ایک لڑکے کے عشق میں مبتلا ہے۔ لیکن اس نے صاف کہہ رکھا ہے کہ جب تک وہ ڈاکٹر نہیں بن جائے گی، اس کے والدین شادی نہیں کریں گے۔ اس دوران لڑکا بھی بر سر روز گار ہو گیا۔ اب اس سال ان کی شادی ہے۔

ایک تعلیم یافتہ بر سر روز گار لڑکی شادی کے بعد ، شادی کو بچائے رکھنے کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگاتی ہے نہ ہی کسی مجبوری کے دام میں آتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے