EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

امتناعات کس لیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم لکھنے والے سیاسی مسائل پر لکھتے رہتے ہیں کیونکہ سیاسی معاملات پر بات کرنا کچھ ایسے ہے جیسے بڑھئی میز یا کرسی بناتا ہے۔ کوئی اچھی تیار کر لیتا ہے کوئی بہت ہی اچھی اور کچھ بری بھی بنا دیتے ہیں لیکن ان سب کا بڑھئی ہونا ضروری ہے تاکہ پائے کو پائے کی ہی جگہ پر لگائیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی تجزیہ نگاری میں کوئی زیادہ علمیت درکار نہیں ہوتی، مشاہدہ تجربہ اور ملکی یا بین الاقوامی سیاست بارے کچھ جانکاری کی ضرورت پوتی ہے۔

اس کے برعکس ہم لکھنے والے سماجی موضوعات کو بہت کم چھیڑتے ہیں۔ ایک وجہ تو یہ کہ سماجی معاملے پر خیال آرائی نہیں کی جا سکتی مستند حقائق پر بات کرنی ہوتی ہے دوسری بات یہ کہ سماجی مسائل سے وابستہ کچھ امتناعات بھی ہیں۔ ماحول کی صفائی، بدعنوانی کا خاتمہ، قانون پر عمل درآمد وغیرہ ایسے سماجی مسائل ہیں جن کا تعلق حکومت یا انتظامیہ سے ہوتا ہے۔ ایسے معاملات پر پاکستان اور اس جیسے ملکوں کے ارباب اقتدار کا رویہ سرد مہری کا ہے۔ ایسے موضوعات میں امتناعات بھی نہیں ہوتے۔ ساتھ ہی ساتھ سماج میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، جنسی امتیاز، نسلی تفریق اور اسی نوع کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں چپ سادھنے، گول مول بات کرنے یا بات کو اپنی مرضی کے مطابق بیان کرنے کا رواج ہے کیونکہ کھل کر بات کرنے پر کہیں سیاسی قدغن ہے تو کہیں مذہبی یا پھر خالصتاً سماجی قدغن۔

آج کل سوشل میڈیا پر افراد کی جانب سے مختصر ”شذرے“ آویزاں کرنے کا چلن عام ہو چکا ہے۔ اس علت میں بہت سوں کی طرح میں بھی مبتلا ہوں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس سہولت سے میں بھی مستفید ہوتا ہوں۔ گزشتہ دنوں میں نے سوشل میڈیا پر ایک شذرہ لگایا جو یوں تھا، ”جنسی عمل کی بات کرنا معیوب۔ شادی کی پہلی رات بہنیں اور کزن بھائی کو کمرے میں دھکیلیں اور معنی خیز قہقہے لگائیں۔ واہ رے منافقت!“ اس پر وہ لوگ جو جنس پر بات کرنے کو Taboo خیال کرتے ہیں، ان کا رویہ معاندانہ بلکہ بہت حد تک تذلیل کن تھا مثال کے طور پر یہ کہنا کہ ”کیا آپ اپنی بیٹی سے اس عمل پر بات کریں گے؟“ ویسے تو بیٹی سے بھی مناسب الفاظ میں بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن کسی کو اتنا ذاتی ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے پھر جب ماں موجود ہے تو وہی بات ماں بھی تو کر سکتی ہے، باپ سے اس بارے میں پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی، صرف جذبات بھڑکانے کی غرض سے، ظاہر ہے اور یہ سب سے نرم تبصرہ ہے جبکہ کئی تبصرے باقاعدہ فحش تھے حالانکہ اس شذرے میں طنز کے علاوہ فحش بات کوئی بھی نہیں البتہ ٹیبو کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔

مجھے پھر جواب الجواب میں ایک اور شذرہ لگانا پڑا کہ ”گلی گلی میں بڑوں سے بچوں تک گالیوں میں جنسی عمل کا ذکر کرتے ہیں مگر اس بارے میں شائستگی سے بات کرنے پر وہی لوگ آپ کو گالیاں دیں گے“۔ ہماری پبلک، کیونکہ سوشل میڈیا پر پبلک ہی ہوتی ہے، کا رویہ اس ضمن میں یوں ہے جیسے اسلام میں جنسیات بارے بات کرنا ممنوع ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ان معاملات پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ جہاں حیض کہنا تھا وہاں حیض ہی کہا گیا ہے۔ جہاں مباشرت کا ذکر کرنا تھا اسے اسی طرح بیان کیا گیا۔ شرم گاہ کو اللہ تعالٰی اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے تھے، چنانچہ وہی کہا جو کہنا چاہیے تھا تاکہ لوگوں کو بات سمجھ آ سکے چنانچہ جنس پر بات کرنا نہ صرف یہ کہ عربوں کے ہاں ممنوع نہ تھا اور نہ آج ممنوع ہے بلکہ اسلام میں بھی ممنوع نہیں۔ یہ ممانعت یا ٹیبو یعنی Taboo برصغیر کا ٹیبو ہے جس پر وسط ایشیا سے آنے والے حملہ آوروں کے ہاں کی ثقافت کی چھاپ زیادہ ہے۔

وسط ایشیا میں تو اس ٹیبو کو ستر سال سے زائد عرصے کی سوویت حکومت نے توڑ ڈالا تھا مگر ہمارے ہاں یہ مصنوعی ممانعت جاری ہے اور بڑی سختی کے ساتھ، جس کے وہاں کے لوگوں کی ازدواجی زندگیوں پر بہت برے اثرات پڑ سکتے ہیں اور پڑتے ہیں۔

میں نے یہ مضمون لکھنا ہی شروع کیا تھا کہ مجھے پاکستان سے ایک قابل اعتبار شخص کا فون آیا جنہوں نے جنس کے بارے میں لاعلمی کے مسئلے کو اٹھائے جانے پر نہ صرف یہ کہ مجھے سراہا بلکہ انہوں نے دو ذاتی مشاہدات بتائے کہ ان کا بیٹا اور بیٹی دونوں بیاہ کے بعد باہمی جسمانی تعلقات بارے لاعلم تھے۔ یہ دونوں بچے اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ ان میں سے ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ بتانے والے کا کہنا تھا کہ اگر کسی ڈاکٹر کا اس Taboo نے یہ حال کر رکھا ہے تو کسی اور کم علم کی بات کیا کرنی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر انہوں نے جنسیات بارے نہ پڑھا ہوتا اور وہ اپنے بچوں کے دوست نہ ہوتے تو کم از کم ان کا بیٹا تو اسی الجھن میں خود کو ”نامرد“ تصور کرنے لگ جاتا۔ اس کے بعد ان کے ازدواجی اور دونوں میاں بیوی کے انفرادی ذہنی حالات کیا ہوتے، اس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح ایک ذہین، حوصلہ مند، حاضر جواب، خوش شکل بائیس سالہ لڑکی نے جو سائنس گریجویٹ ہے اور ریاضی میں ایم ایس سی کرنے کی خواہاں بھی، نے لکھا کہ گزشتہ دسمبر میں اچانک اس کی شادی ایک کزن کے ساتھ جو مولوی ہے، کر دی گئی، اس شادی سے اس کی زندگی اتھل پتھل ہو کررہ گئی ہے۔ اس بچی نے بہت ہچکچاہٹ کے بعد لکھا کہ ”میں آج بھی کنواری ہوں“ ۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ والد کے ہاں جا کر یہی فقرہ بلا کم و کاست اپنے والد کے سامنے کہہ دو۔ چونکہ وہ ایک اچھے عہدے پر ہیں۔ پڑھے لکھے شخص ہیں اس لیے باقی بات وہ خود سمجھ جائیں گے، تمہارے لیے یہی مناسب ہوگا کہ خلع لو، عدت پوری کرو اور بعد میں کسی مناسب شخص کے ساتھ بیاہ کر لینا، میں نے مشورہ دیا۔ پوری زندگی اس اذیت میں کاٹنے کا سوچنا بھی نہ۔ مگر وہ اب بھی تذبذب میں مبتلا ہے کہ بات کرے تو کس طرح کرے۔ ماں سے بات کرے گی تو وہ اپنے بھتیجے کا ساتھ دے گی جو اس کا نام نہاد شوہر ہے۔

یہ دو مثالیں واضح کرتی ہیں کہ بلاوجہ امتناعات نے لوگوں کی ازدواجی زندگی میں زہر گھولا ہوا ہے۔ ایک ایسی معاملے سے متعلق جو انسانی حیات کے فروغ کے لیے ضروری ہے، بات کرنے کو امتناعات میں ڈالنا سراسر غلط ہے۔ کوئی نہیں کہتا کہ آپ بچے کو جنسیات سے متعلق آگاہ کریں البتہ اس عمر کے بعد جب بچے گلیوں میں دی جانے والی گالیوں کے سیاق و سباق کے عملی اظہار سے متعلق جاننا شروع ہو جاتے ہیں، انہیں اس بارے میں بتایا جانا چاہیے۔

ایسا نہیں جیسا پچھلے دنوں ایک سائٹ کے ملٹی میڈیا سیکشن میں پیش کیے جانے والے پروگرام ”ڈاکٹر صداقت سے پوچھو“ میں ڈاکٹر صاحب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو یہی بتایا جاتا تھا کہ پیدا ہونے والے بچے کو اللہ میاں آسمان سے پھینکتے ہیں جسے یا تو والدین ہاتھوں میں لے لیتے ہیں یا رضائی جیسی کسی نرم جگہ پر گر جاتا ہے تو وہاں سے اٹھا لیتے ہیں۔ جب میزبان نے نے کچھ کہا چاہا تو ڈاکٹر صاحب نے اس کی بات کاٹ کر مسکراتے ہوئے کہا ”کیوں کیا بچے اسی طرح پیدا نہیں ہوتے؟“ ظاہر ہے کہ طنز تھا لیکن ٹیبو کو توڑنے کی ہمت ماہر نفسیات کے پاس بھی نہیں تھی۔

آج جب انٹرنیٹ ایک عام ضرورت بن چکا ہے جس پر طبی معلومات سے لے کر فحش مواد تک رسائی معمولی بات ہے تب اس موضوع کو امتناعات کی فہرست میں ڈالے رکھنے سے جنسیات کے بارے میں وہی علم حاصل ہوگا جو گلیوں میں بکی جانے والی فحش گالیوں سے حاصل ہوتا ہے یا تب کان کھڑے ہوتے ہیں جب دیواروں پر ”آئیے آپ کو جوان بنا دوں“ قسم کے اشتہارات پر نظر پڑتی ہے۔ ہم گالیوں اور ان اشتہارات جیسی فحش گوئی و فحش نویسی کو تو خاطر میں نہیں لاتے لیکن شائستہ انداز میں سائنسی حوالے سے معلومات دیے جانے کو فحش اور دین پر حملے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ایسے میں ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے