EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

عورتوں کے خلاف تشدد اور دوسرے جرائم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ انصاف کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد کسی بھی رشتے سے ناروا سلوک ہے جس میں ایک ساتھی دوسرے پر ساتھی پر قابو پانے کی کوشش کرے یا اس سے اس کی آزادی چھیننے کی کوشش کرے۔ گھریلو تشدد کی تعریف میں متعدد قسم کی زیادتیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ جس میں جسمانی زیادتی مارنا پیٹنا، اپنے ساتھی کو طبی علاج سے روکنا اور کسی منشیات کے استعمال پر مجبور کرنا شامل ہے۔ جذباتی زیادتی میں مستقل تنقید کے ذریعے کسی شخص کے احساسات کو مجروح کرنا، کسی کی صلاحیتوں کو کم کرنا، الٹے نام پکارنا اور ہر وقت آپ کی تذلیل کرتے رہنا شامل ہیں۔

نفسیاتی بدسلوکی میں اپنے ساتھی کو خوف میں مبتلا رکھنا اور جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہنا شامل ہے۔ اسٹالکینگ ( (stalkingمیں ایسا طرز عمل اختیار کرنا جس میں کسی دوسرے کو ہراساں کرنا، بار بار کالز کرنا، غیر من پسندانہ میسج بھیجنا اور کسی کا پیچھا کرنا شامل ہے۔ گھریلو تشدد صحت عامہ کا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر سال 20 لاکھ سے زائد خواتین گھریلو تشدد سے متاثر ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ہر سال 58 %میں سے 50 %خواتین اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں ہلاک ہوتی ہیں۔

مطلب یہ کہ انہیں اپنے خاندان کے ممبر ہی ہلاک کرتے ہیں کسی گھریلو ناچاقی کی بنا پر۔ عالمی سطح پر کی جانے والی انسانی سمگلنگ میں خواتین کا نصف حصہ ہے یعنی کہ 49 %۔ ہر پانچ میں سے تین لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے، جو کہ ان کے حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ عالمی سطح پر تین میں سے ایک طالب علم ہراسمنٹ کا شکار بنتا ہے۔ جب کہ جنسی ہراسانی میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کا تناسب زیادہ ہے۔ سکول لیول پر سٹالکنگ یا ہراسانی چاہے وہ کسی کی طرف سے بھی ہو لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

2015 میں ریاست ہائے متحدہ کی 27 یونیورسٹیوں میں ہونے والے سروے کے مطابق 23 %انڈر گریجویٹ طلبا ء نے اپنے تعلیمی کیریئر کے دوران جنسی ہراسمنٹ کا سامنا کیا ہے۔ یورپی یونین کی ہر دس میں سے ایک خاتون نے اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں سائبر ہراسمنٹ کا سامنا کیا ہے۔ سائبر ہراسمنٹ سے مراد سوشل میڈیا پر ہراساں کرنا، بار بار کالز اور غیر پسندیدہ میسجز بھیجنا شامل ہے۔ 2017 میں کیے جانے والے ایک عالمی اندازے کے مطابق 87000 خواتین میں سے نصف سے زیادہ گھریلو ناچاقی کی بنا پر مار دی جاتی ہیں۔

مطلب یہ کہ پوری دنیا میں 137 خواتین کو اپنے گھر کے ممبر ہی قتل کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر کی جانے والی انسانی اسمگلنگ میں نصف حصہ بالغ خواتین کا ہے ہر چار میں سے تین لڑکیاں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوتی ہیں اور انہیں جنسی استحصال کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے ۔ عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک طالب علم اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں ہراسمنٹ کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو ہراسمنٹ کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے مثال کے طور پہ انہیں برے القابات سے پکارا جا تا ہے ان کو نفسیاتی طور پر تنگ کیا جاتا ہے یا مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے یہ سب چیزیں بولنگ (bulling) میں آجاتی ہیں۔

یہ سب غیر مناسبانہ رویے لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو خواتین کے خلاف تشدد روزبروز بڑھ رہا ہے اس کا پھیلاؤ دیہی اور شہری علاقوں میں یکسر ہے۔ پاکستانی خواتین زیادہ تر اپنے تشدد پسندانہ شوہر اور کنبے کے احترام میں اور طلاق کے ڈر سے ایسے ناخوشگوار رشتے میں بندھی رہتی ہیں۔ 2012 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دیہی علاقوں کی 31 %خواتین کو جبکہ شہری علاقوں میں 57 %جسمانی تشدد کا رجحان پایا گیا ہے جو کہ ایک خطرناک شرح ہے۔

2012 سے 2013 میں پاکستان میں کیے جانے والے ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق 39 %خواتین کو جسمانی استحصال اور جذباتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 52 %خواتین نے گھریلو تشدد کو لے کر اپنے شوہر کے بارے میں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی۔ 2013 میں کی جانے والی گھریلو سروے کی رپورٹ کے مطابق 80 %خواتین نفسیاتی تشدد کا شکار ہیں، 75 %خواتین کو جسمانی تشدد کا سامنا ہے جبکہ 47 % خواتین دوران حمل جسمانی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق 2004 میں گھریلو تشدد کی شرح 65.6 %تھی اور صرف 30.4 %کیسز ایسے تھے جن کے خلاف رپورٹ کیا گیا تھا۔ 1999 میں کی گئی اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 50 %شادی شدہ خواتین جسمانی تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے، 90 %جذباتی دباؤ اور گھٹن کا شکار ہیں انہیں شخصی آزادی نہیں حاصل، اسی طرح 72 %خواتین شوہروں کی بدسلوکی کے باعث اضطراب اور ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔

پاکستان نیشنل ویمن ڈویژن (پی این ڈبلیو ڈی) نے 1999 میں گھریلو جھگڑے کے باعث گھر سے نکال دی جانے والی خواتین پر ایک تحقیق کی جس کا تخمینہ 80 %تھا جو کہ خطرناک شرح ہے۔ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد متعدد اسباب سے وابستہ ہے پاکستان میں پدرسری نظام رائج ہے، مردانہ تسلط کو ثقافت اور زندگی کے تمام معاملات میں اختیار حاصل ہے، بشمول کنبہ، معاشرتی، ثقافتی قانون اور سیاست۔ گھریلو تشدد کے کچھ بہت ہی عام عوامل میں کنبہ سے متعلق مسائل، فیصلے کے اختلافات، خواتین کے حقوق کے غلط عقائد، عورت کو کم حیثیت دینا، 18 سال سے کم عمری کی شادی اور سب سے اہم تعلیم و تربیت کا فقدان ایسے بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔

چند قابل ذکر عوامل جس کی وجہ سے ایک عورت گھریلو مسائل کا شکار ہوتی ہے ان میں سب اہم اسلامی افکار کی غلط ترجمانی ہے، عورت کی فطری آزادی کو نظرانداز کرنا، مردوں کی فطری برتری کے بارے معاشرے میں موجود غلط عقائد وغیرہ شامل ہیں۔ بالآخر عورت پر تشدد کے نتائج زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں جیسے کہ بچوں کی سوچ پر گھریلو تشدد کا بہت گہرا اثر مرتب ہوتا ہے ایسے بچے اضطراب اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کشف چوہدری کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے