کشمیر میں نیشنل ازم اور زمینی حقائق
اپنی سرزمین سے محبت کرنے والا ہر شخص میرے لیے محترم ہے، چاہے وہ شکست خوردہ ہی کیوں نہ ہو۔ نیشنل ازم جب تعصب کا روپ دھار لے تب وہ برائی بھی بن جاتا ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جو مختلف لسانی اور ثقافتی قومیتوں پر مبنی ہو، نیشنل ازم کو فروغ دینا ایک لازمی سیاسی ضرورت بھی بن جاتا ہے۔ ویسے ذاتی طور پر تو میں ہیومن ازم ( رشتہ انسانیت) پر یقین رکھنے والا انسان ہوں، لیکن جب کوئی آپ پر آپ ہی کے وطن میں طاقت کے ذریعے آپ کے فطری اور انسانی حقوق میں رکاوٹ بن جائے، تو ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے، یہ سوال میں دنیا کے ہر آزادی پسند اور انصاف پسند شخص سے پوچھتا ہوں؟
ہم کسی کو فتح نہیں کرنا چاہتے، بلکہ اپنی ہی آبائی سرزمین پر آزادانہ طور پر رہنے کا اپنا انسانی اور قانونی حق ہی طلب کرتے ہیں۔ یہ اصطلاحات ”نیشنل ازم“ ، اور ”پیٹریاٹ ازم“ آخر کسی نہ کسی ضرورت کے تحت ہی تشکیل دی گئی ہوں گی، کہیں بقائے باہمی اور جذب باہمی کے مقصد سے، تو کہیں جواز جارحیت کے مقصد کی وجہ سے اور کہیں اپنے دفاع کے نقطہ نظر سے، ان اصطلاحات کے استعمال کی ضرورت پڑی ہو گی، اور اب تک پڑ جاتی ہے۔
ویسے یہ بات جو میں نے اپنی پوسٹ پر لگائی ہے یہ ایک اپنی سرزمین سے محبت کرنے والے، مگر شکست خوردہ ”ریڈ انڈین“ سردار کی تصویر دیکھ کر یہ جملہ ذہن میں آیا تو اسے اپنی وال پر پوسٹ کی شکل دے دی۔ مگر اتفاق سے میرا کشمیری تشخص بھی کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار ہے کہ ہم سے بہت زیادہ طاقتور اقوام کے جبر کا ہم اپنے ہی وطن میں شکار ہیں اور اس لڑائی یا مطالبے میں ابھی تک ظاہراً شکست خوردہ بھی ہیں تو کچھ یہ صورتحال کی یکسانیت بھی دل کو چھو لیتی ہے، اور کچھ کہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
یہاں ہمارے روس میں مقیم دوست اور ممتاز مارکسی دانشور اور ممتاز مصنف برکت حسین شاد، آزادی کشمیر میں مذہبی بنیاد پرستی کی شمولیت کے منفی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کشمیر میں داخلے کے وقت مہاراجہ کی طرف سے پنڈت نہرو کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہیں، اور کشمیر کی تحریک آزادی کا تشخص سیکولر بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ تو اس موقف کے بارے میں راقم کا نقطہ نظر تفصیلی طور پر درج زیل ہے۔ ”تحریک میں ضرورت سے زیادہ“ مذہبی سوچ کا نفوز واقعی بہتر آپشن نہیں تھا، لیکن بوجوہ اس کی موجودگی بھی ایک مضبوط جواز رکھتی ہے، کیونکہ کشمیر کی تحریک آزادی، حصول حقوق کی کوئی پرولتاری عالمی تحریک نہیں بلکہ معدومی اور تحلیل کے خطرے سے دوچار ایک قوم کی اپنے ہی محدود علاقے میں بنیادی انسانی اختیار، اور حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے، اور بدقسمتی سے اس استحصال میں مذہبی تعصب، ایک ایسا ہتھیار ہے، جو آس پاس کے بہت بڑے ممالک اور گروہوں کی طرف سے کشمیری قومیت کے خلاف صرف اس لیے آزمایا جاتا رہا کہ کشمیر کے باشندوں کی اکثریت مسلم ہے۔
آپ نے ایک نصابی یعنی تھیوریٹیکل جائزہ تو لیا لیکن مقامی حالات کے تناظر میں یہ جائزہ درست نہیں ہے کیا کشمیری مسلم اکثریت ان اقلیتوں کی موہوم ”خوشنودی کے حصول کے لیے اپنی مذہبی تخصیص سے دستبردار ہو جائے؟ یہاں ذرا رک کر تحریک آزادی کشمیر میں اقلیتوں کے کردار اور ان کی واضح خواہشات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو جاتا ہے جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے سب سے پہلے جموں کے ڈوگرہ ہندو کے کردار کا جائزہ لینا مناسب ہو گا ڈوگرہ ہندو خود کو وسیع تر ہندو سماج کا ایک سرکردہ اور اعلیٰ حصہ سمجھتے ہیں، اور کشمیر کے بارے میں ان کا ذہنی رویہ ایک“ خریدار ”جیسا ہی ہے وہ ذہنی طور پر خود کو مقامی اکثریتی مسلمانوں کی بہ نسبت کوئی اعلیٰ نسل تصور کرتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ جب آپ ہی کی دلیل کے مطابق شیخ محمد عبداللہ نے کشمیری نیشنل ازم کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اسی امید پر نیشنل کانفرنس کا سیکولر بنیادوں پر قیام عمل میں لایا، تو ڈوگروں میں سے گنتی کے چند لوگ ہی اس کے ساتھ شامل ہوئے باقی اکثریت نے بھارت کی ہندو اکثریت کی طرف سے کشمیر میں“ اپنی ہی قوم ”کے مسلم عناصر کے خلاف بھارت کے بازوئے شمشیر زن کا گھناؤنا کردار ادا کرنا پسند کیا، اور بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کے قتل و غارت اور اغواء میں ملوث ہوئے۔
جبکہ ان بدترین دنوں میں بھی ریاست کے مسلمانوں نے اپنے ہاں موجود ہندو پنڈت اقلیت کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا، بلکہ وسیع پیمانے پر قبائلی حملہ آوروں کی طرف سے، ہندو پنڈت کشمیری اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظالمانہ سلوک پر واضح طور پر اپنی ناپسندیدگی، غم و غصہ اور مخالفت کے رویہ کا برملا اظہار کیا، لیکن اس پر بھی بحیثیت مجموعی کشمیری پنڈتوں نے سیاسی طور پر وسیع پیمانے پر شیخ عبداللہ کے نیشنل ازم کا ساتھ نہیں دیا، یعنی“ :مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے ”دراصل کشمیری پنڈتوں کے سامنے بھارت کے کروڑوں کے ہندو سماج میں ایک برتر مذہبی اور قومی مقام کا للچا دینے والا درجہ موجود تھا، اور اس بڑی اکثریت کے سماج میں اعلیٰ ترین مذہبی، سماجی اور ثقافتی درجہ کی چکا چوند چھوٹے سے کشمیری سماج کے“ نیشنل ازم ”کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی، لہذا قدرتی طور پر ان کا انتخاب بھی وہی بڑے ہندو سماج میں اعلیٰ مقام ہی رہا ہے۔
رہے لداخ کے بدھ تو وہ شروع سے ہی خود کو ذہنی اور سماجی طور پر وسیع تر ہندو اکثریتی سماج کے قریب تر پاتے رہے، اور ان کا مرکز کے ساتھ ادغام کا مطالبہ مسلسل ساٹھ سال ایک باقاعدہ تحریک کی شکل میں واضح رہا۔ اب آپ کے خیال میں کشمیر کی مسلم اکثریت کیا کرے، کہ یہاں کی دوسری مذہبی اقلیتیں ان کی تحریک آزادی میں وسیع پیمانے پر ان کے شانہ بشانہ چلیں، کیا وہ خود کشی کر لیں، یا ان دوسری مذہبی اقلیتوں کے ساتھ“ یک جہتی ”کے اظہار کے لیے اپنا مذہبی تشخص ترک کر دیں؟
آپ نے کارل مارکس اور نظریہ سوشل ازم کے تناظر میں عالمی نیشنل ازم کی بات کی ہے جس کی منزل ابھی بہت دور ہے، روس جیسے ملک میں بھی وہاں کے مرد آہن“ :پیوٹن ”کو بھی اپنے ملک میں مختلف علاقوں میں موجود مذہبی اقلیتوں کو ان کے مذہبی حقوق دینے پڑے اور اس نے روسی نیشنل ازم کو مذہبی اکثریت یا لا مذہبی اکثریت کا نظام بنانے کے بجائے مذہبی اقلیتوں کو اس سماج میں باعزت مقام ان کے مذہبی حقوق کے احترام کے ساتھ تفویض کیا، اور یہ ماڈل چین کے جبریہ ماڈل کے مقابلے میں سیاسی طور پر زیادہ کامیاب ہے۔
عالمی تناظر میں نصابی نقطہ نظر سے آپ کی بات درست ہے کہ ایک مشترکہ عالمی سماج میں کیونکہ ممالک اور ان کے درمیان سرحدات معدوم ہو کر مشترکہ عالمی سماج کے انتظامی یونٹس کی شکل میں بدل جائیں گی تب ظاہر ہے کہ مسئلہ کشمیر، اور فلسطین جیسے انسانی اور علاقائی مسائل بھی خود بخود حل ہو جائیں گے، لیکن برسر زمین حالات کچھ ایسے بن چکے ہیں، کہ کشمیری خود پر جبری طور پر عائد پابندیوں، غیر انسانی سلوک، اور ظلم و ستم کے بڑھتے ہوئے مظاہروں کے ساتھ مکمل معدومی اور تحلیل ہو جانے کے شدید فوری خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔
آپ نے روس کے زیر قبضہ علاقے داغستان کی ایک چھوٹی سی قوم“ آور ”سے تعلق رکھنے والے مشہور مصنف، شاعر، رسول حمزہ توف، کی کتاب“ میرا داغستان ”ضرور مطالعہ فرمائی ہو گی، اور ہماری ہی طرح اس کتاب کے ایک ایک حرف سے چھلکتی اپنے داغستان کی گہری محبت اس کے رسم و رواج اور ثقافت سے شدید محبت کو ضرور محسوس کیا ہو گا اور اس کتاب سے یہ بھی اخ کیا ہو گا کہ ایک لینن ایوارڈ یافتہ اور سوشل ازم کے نظام کے حامی ہونے کے باوجود رسول حمزہ توف اپنے وطن، اس کی ثقافت، اس کے عوام، وہاں کی چھوٹی سی آبادی کی زبان تک کے بارے میں کتنا حساس ہے کیا اس کی اپنے علاقے، اپنی قوم، اپنے لسانی و ثقافتی تشخص سے یہ شدید لگاو اور محبت اس کے روس کے ایک پروقار شہری اور سوشل ازم کے ایک حامی کارکن ہونے کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے؟
اسی طرح ہم کشمیری اپنے وطن کشمیر سے، اس کے لوگوں سے جو ہم خود بھی ہیں، اس کی زبان سے، اس کی ثقافت سے شدید اور گہری وابستگی اور محبت رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ملحقہ بڑی اور طاقتور اقوام کی طرف سے شدید ترین غیر انسانی استحصال کا شکار ہیں، اس ظلم، استحصال اور غیر انسانی روئیے کے خلاف اور اپنے علاقے پر اختیار کے اور آزادی سے رہنے کے بنیادی انسانی حق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہمارا بنیادی حق ہے، جس سے ہم کسی بھی طرح پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں۔
آج گپکار اتحاد کی شکل میں نیشنل کانفرنس سمیت سب بھارتی قومی دھارے کا حصہ اپنے آپ کو کہلانے والی جماعتیں رو رو کر بھارت کو اپنی وفا داری کا یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کی ماضی میں سیکولرازم اور بھارت کے لیے شاندار خدمات کے باوجود بھارت ان پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔ رہی بات پنڈت نہرو کی گرفتاری کی تو اس کے پیچھے شیخ عبداللہ کے پنڈت نہرو اور بھارت کے ساتھ براہ راست گٹھ جوڑ کا بہت حصہ تھا مہاراجہ کو خدشہ تھا کہ نہرو شیخ کو کشمیر میں آگے لا کر مہاراجہ کو بے اثر کر دے گا۔
مذہبی ایلیمنٹ کو واقعی تحریک کی پہچان نہیں بنانا چاہیے تھا لیکن ہمیں تقسیم ہند اور اس کے اصولوں کو اور اس وقت کی برصغیر کی سیاسی فضا کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ آج جو اکا دکا غیر مسلم ممبر نیشنل کانفرنس میں شامل ہیں، انہوں نے اپنے علاقوں میں موجود مسلم ووٹ کی وجہ سے یہ نشستیں حاصل کی ہیں، اور وہ اپنی مذہبی اکائی کی کسی طرح نمائندگی نہیں کرتے یا ان کو اتمام حجت کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے نیشنل کانفرنس میں رکھوایا گیا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ کشمیر کی غیر مسلم اقلیتیں کسی خود مختار کشمیر میں بھی، جہاں آبادی کی اکثریت مسلم ہو، کے ساتھ کسی طور پر نہیں رہنا چاہتے، البتہ وہ متفقہ طور پر بھارت کے ساتھ کسی خصوصی حیثیت کی ریاست کشمیر جہاں ان کی پشت پر بھارت کے ایک ارب ہندو ہوں رہنا چاہتے بھی ہیں، پسند بھی کرتے ہیں۔ وہ ڈوگرے جو آج بھی اپنے نام نہاد نسلی غرور کی وجہ سے خود کو کشمیر اور یہاں کی آبادی کا خرید کنندہ سمجھتے ہیں اور آج بھی اسی سٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کسی خودمختار و آزاد کشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ ایک اقلیت کے طور پر رہنے سے خود کشی کو ترجیع دیں گے۔
کشمیر میں آج تک حکومت، سیکولر اور بھارت نواز کہلانے والی پارٹیوں بشمول نیشنل کانفرنس کی رہی ہے، تو لداخ کا بدھ تک ان نیشنل نظریہ رکھنے والی بھارت نواز“ مسلم ”اکثریت کے ساتھ رہنے کے بجائے بھارت یعنی مرکز کے ساتھ ادغام کی تحریک گزشتہ ساٹھ سال سے کیوں چلاتے رہے؟ اسی طرح گلگت بلتستان کے عوام کی اکثریت کا پاکستان کے ساتھ شمولیت کا رجہان اور مطالبہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب اگر کوئی ان تلخ حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے خود کو مسلسل دھوکے میں رکھنا چاہے، تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
اگر کشمیر کے مسلمان اپنا مذہب ترک بھی کر دیں، تو مخصوص ذہنیت اور تعصب کی وجہ سے کشمیر کی دیگر مذہبی اقلیتیں، بھارت کے ساتھ ہی رہنا چاہیں گی، تاکہ مسلم اکثریت کی طرف سے ان کو لاحق خدشات اور اکثریتی حصہ ہونے کے جمہوری فوائد میں اپنی بدستور اصل حیثیت کی حصہ داری میں یہ اقلیتی حیثیت سے رہنے کو کسی طرح تیار نہیں۔ ہم کشمیر میں بلا واسطہ اور براہ راست کئی سو سال سے ہندو حکومت کا اور تعصب کا مزا چکھ رہے ہیں، یہ مذہبی عنصر تو بوجوہ اسی طرح نوے کی دہائی میں کشمیر کی موجودہ تحریک میں شامل کیا گیا تھا، جن وجوہات سے افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف امریکہ کی پلاننگ کے تحت مذہبی عناصر کو شامل کیا گیا تھا، اور اس مذہبی عنصر نے سپر پاور روس کا کیا حشر کیا، یہ سب کے سامنے ہے تو کشمیر کی تحریک آزادی میں بھی یہ مذہبی عنصر نوے کی دہائی میں شامل کیا گیا تھا، اور ان کے اثرات ایسے پڑے کہ بانوے ترانوے میں بھارت ان ہی کی مذاکرات کے لیے منت سماجت کرتا اور نرسیما راو کے دور میں، آسمان تک کے امکانات کی آفرز کرتا دکھائی دیا۔
یہ آفر اس وقت براہ راست انتہائی کٹر مذہبی جماعت حزب المجاہدین کو کی گئی تھی، جو کہ کشمیری مجاہدین پر ہی مشتمل تنظیم تھی اس کے بعد ہی پاکستان کی طرف سے معاملات براہ راست کشمیری قیادت کے ہاتھوں جانے کے خدشے کے پیش نظر دوسرے پاکستانی گروپ اس تحریک میں شامل کر دیے گئے، تاکہ کنٹرول اپنے پاس رکھا جا سکے، اور باقی اندر کی کہانی اسد درانی اور دلت کی کتاب“ دی سپائی کرانیکلز ”تفصیل سے بیان کرتی ہے، تو محترم ہم کشمیری ابھی زندہ ہیں، اور ہماری آزادی کی خواہش بھی اسی طرح زندہ ہے، ہم ہر کسی کو اس کی اصل حیثیت اور اصل عزائم کے ساتھ بہت اچھی طرح پہچانتے اور جانتے ہیں۔ اور ہمارا آہنی عزم ایک نہ ایک دن اپنا مقصد ضرور حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔


