بن میاں کی چنوں، میرا بائی اور ہمارا 71 سالہ اولمپک کمیٹی صدر


آئیں کھیلوں کی بات کریں۔ کھیل دنیا میں انسان اور کسی مملکت کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔ ہمارے کپتان عمران خان سے زیادہ یہ بات کون جانتا ہے۔

صدر فاروق لغاری جنہوں نے ایشائی کھیلوں میں پاکستان کی سن 1974 میں تہران میں شوٹنگ کے مقابلوں میں نمائندگی کی تھی ان کے بارے میں ان کے دوست اور ساتھی سابق فیڈرل سیکرٹری ڈاکٹر ظفر الطاف اپنے گھر کھانے پر پاکستان کے پہلے کرکٹ کپتان اور اپنے گرو عبد الحفیظ کاردار سے کہنے لگے فاروق نے بہت مایوس کیا۔ صدر تھے۔ پنجابی پختون بلوچ ہر طرف رشتہ داری، آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ، سول سرونٹ، ایشین گیمز میں چاندی کا تمغہ لینے والے۔ مطلب کہ مقابلہ اور میرٹ دونوں پر یقین رکھنے والے۔ یہ پہلی مایوسی ہے کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں کھیلوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ دوسری کی بات آگے

تپتی ہوئی جولائی کی دوپہر میں جب مشرق وسطیٰ کے ریگ زاروں میں چیل بھی انڈا چھوڑ دیتی ہے ہمارا پاکستانی محنت کش بھاری بھرکم بوجھ کمر پر لادے پیٹرو ڈالر کے خزانوں سے اپنے لیے کچرا چن رہا ہوتا ہے۔ یہ کچرا بھی اس کے لیے بہت ہے۔ پیچھے وہ غربت کی آگ کی ایک جلتی چتا چھوڑ کر آیا ہے اور اس کی آگ کو محنت سے کمائے گئے انہیں ریالوں دراہم سے حاصل کی گئی آسودگی کی یہی ایک موہوم سی لہر بجھا سکتی ہے۔ وزیرستان کے محسود اور وزیر نوجوان پہاڑی کی چوٹی پر شیشے کی ایک چھوٹی سی بوتل رکھتے اور نیچے سے اپنی بندوق سے نشانہ لے کر اس کے پرخچے اڑا دیتے ہیں۔ ویسے بھی یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کسی انگریز فوجی نے کہا تھا کہ یہ اسی وقت امن سے ہوتے ہیں جب یہ حالت جنگ میں ہوں۔

ساتھ والے بنگلے میں ماسی صفوراں کام کرتی ہے۔ محلے کے بچوں کو جانے کیسے پتہ لگ گیا ہے کہ ماسی صفوراں کو ہندوستانی ڈرامے اور فلمیں بہت پسند ہیں اور جب سے اس نے سلمان خان کی فلم دبنگ دیکھی تھی جس کے بعد وہ اداکارہ سوناکشی سنہا کی بہت بڑی فین بن گئی تھی اسی کے انداز بھی کاپی کرنے لگی تھی۔ اس نے یہ بھی پیش گوئی کر دی تھی کہ دیکھنا یہ دبنگ ٹو بھی بنائے گا اور وہ بھی ہٹ ہو گی۔ ہندوستانی فلموں اور ڈراموں کے ہڑُکے کی وجہ سے بچے اسے ماسی چپو رام کہہ کر چھیڑتے ہیں۔ ماسی صفوراں کا قد پانچ فیٹ دس انچ ہے، کلائی پکڑ لے تو سندھ کے آئی جی بھی نہیں چھڑا سکتے۔ اس کے سسر نے اس پر ایک دفعہ ہاتھ اٹھایا تو اس نے احمد پور شرقیہ کے اس ہتھ چھُٹ مرد کو ایسا دھوبی پٹکا دیا کہ باقی عمر بستر میں گزری۔ دنگا دلیری کی ماہر اس خاتون کی پاکستان میں کوئی قدر نہیں۔ نہ ہی ہم نے وزن اٹھانے والے، نشانہ بازوں کو کسی شمار قطار میں رکھا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک جرمن کپتان اس وقت حیرت سے چیخ اٹھا جب اس نے اپنے بحری جہاز سے ایک پختون بوڑھے کو اپنی کمر پر بڑے سائز کا ریفریجرٹر نیچے لے جاتے ہوئے دیکھا۔

آپ نے یہ تفصیلات اگر غور سے پڑھی ہیں تو ہم نے اب تک وزن اٹھانے، نشانہ بازی اور کشتی کی بات کی ہے۔ ان تینوں کھیلوں کے اولمپک مقابلوں میں بالترتیب پندرہ، اٹھارہ اور پندرہ گولڈ میڈل ہوتے ہیں یعنی کل ملا کر اڑتالیس۔ س ہمارا یہ عالم ہے کہ اس سال ٹوکیو اولمپک میں دس کھلاڑی اور دس عہدے دار شریک ہوئے۔ چار کھلاڑی کوالی فائیڈ تھے چھ وائلڈ کارڈ اینٹری۔ جن کے تمغے کا کوئی امکان نہیں جب کہ جاپان کے دو بھائی بہن ہفی یومی اور اوٹا سونے کے دو تمغے لے اڑے۔

Japanese Twins

امریکہ کو بہت ناز تھا کہ وہ اسکیٹنگ کا چمپیئن ہے۔ اسکیٹنگ کو دنیا کا سب سے سستا کھیل سمجھیں اور جسے پاکستان میں اسد عمر صاحب ایسوسی ایشن بنا کر سرپرستی عطا کر سکتے ہیں کہ ڈالر کے معاملے میں انہوں نے بھی بہت عمدہ اسکیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہ شاید فٹ بال سے بھی سستا کھیل ہے۔ پہلوانوں جیسی خوراک بھی درکار نہیں ہوتی۔ وزیر اعظم الیکشن کے دنوں میں جن Stunted Growth والے بچوں کا ذکر کرتے تھے ان کے لیے تو یہ بہت اچھا ہے بس سستا سا ایک اسکیٹ بورڈ اور دنیا مومن کے لیے میدان۔ بارہ تمغے ہیں۔ چھ لڑکوں کے، چھ لڑکیوں کے۔

آپ کو حیرت ہوگی کہ اس میں پہلا اور تیسرا تمغہ تیرہ برس کی دو جاپانی اور برازیل کی لڑکیوں موم جی اور رئیس لیل نے جیتا۔ مردوں میں جاپان کے یوٹو ہوری گومے نے سونے کا تمغہ لیا

Rayssa Leal

پرانے لوگوں کو یاد ہو گا۔ افواج پاکستان کچھ عرصے تک تو اپنے جوانوں کو کھیلوں میں اس قدر اعلی معیار پر تیار کرتی تھیں کہ ان کا ایک ایتھلیٹ لانس نائیک غلام رازق 1958 اور 1966 میں دوڑ کے ایشیائی مقابلوں میں سونے کا تمغہ لایا تھا۔

اب ان کے ہاں بھی اس حوالے سے کوئی ترجیحات دکھائی نہیں دیتیں حالانکہ کم از کم سوا سو کے قریب سونے کے ایسے تمغے ہیں جو ان مجاہدان صف شکن کی دسترس سے کچھ دور نہیں بشرطیکہ وہ اس پر توجہ دیں۔ ان میں تیر اندازی، ایتھلیٹس، والی بال، باکسنگ، سائیکلینگ، گھڑ سواری، جمناسٹکس، تلوار بازی اور اسی قبیل کے دوسرے کم خرچ کھیل شامل ہیں۔

مال بناﺅ سول سرکاری اداروں میں تو ان کے ریٹائرڈ جرنیل کھلاڑیوں کی آمد پر سوشل میڈیا میں بھلے سے بے ضرر طوفان برپا ہو مگر اولمپک میں ان کی کامیاب شرکت پر کنواریاں بھی نورجہاں کا سن 1965کی جنگ والا ملی نغمہ سر پر بغیر دوپٹہ لیے گائیں گی او ماہی چھیل چھبیلا ہائے کرنیل نی جرنیل نی۔ تمغوں کی اس بہتات کی وجہ سے یہ پہلا موقع ہوگا کہ اتنے سارے کرنیل بغیر بورڈ کے جرنیل بن جائیں گے۔

اس کے برعکس سوچئے کہ ایسی ہی غربت کا مارا ملک ایتھوپیا 1960سے اولمپک مقابلوں میں شرکت کے لیے دس ہزار میٹر کی طویل  Marathon دوڑنے والا Abebe Bikila بے چارہ مفلوک حال سپاہی تھا۔ روز گاﺅں سے دوڑ کر صدارتی محل میں گارڈ ڈیوٹی کے لیے آتا تھا۔ بھاگم بھاگ اسے روم بھیجا گیا تو اتنا وقت نہ تھا کہ بے چارے کو جوتے خریدنے کی مہلت ملتی۔ ننگے پاﺅں دوڑا۔ سونے کا تمغہ جیتا۔ وہ پہلا افریقی تھا جس نے یہ تمغہ جیتا۔

لندن اولمپک تک جو سال 2012 میں منعقد ہوئے، ایتھوپیا سونے کے اکیس اور کل ملا کر پینتالیس تمغے جیت چکا ہے۔ انہیں میں تیونس کا وہ اٹھارہ بر س کا خوبرو جوان ہے احمد حنفوئی ہے جس نے پیراکی میں تمغہ جیتا۔ امریکہ سے پیراکی میں تمغہ جیتنا آسان نہ تھا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنی استانی جی پین اسٹیٹ چیکی نیلسن کو امریکہ میں پیراکی کی ٹریننگ کراتے دیکھا۔ صبح چار بجے ٹیم کے ممکنہ کھلاڑی پول پر موجود ہوتے تھے۔

آج سوشل میڈیا پر یاروں نے ٹوکیو اولمپک میں طلحہ طالب کے ویٹ لفٹنگ میں پانچویں نمبر پر آنے پر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ آپ کو اچھا تو نہیں لگے گا مگر آئیں آپ کی طبیعت صاف کرنے کے لیے تھوڑی کڑوی گولی دیں۔ گاڈ فادر میں ڈان ویٹو کولی آنے نے کہا تھا۔ دوستوں کو قریب مگر دشمنوں کو قریب تر رکھا کرو۔ سیکھتے آپ دشمنوں سے ہیں دوستوں کے ساتھ تو آپ موج میلہ پارٹی کرتے ہیں۔ سو اس مثال کو اور دیگر باتوں کو بھی اسی زمرے میں لیا جائے۔

mirabai chuno

بھارت میں منی پور کی ستائیس برس کی چنوں باجی گھر سے ٹوکیو اولمپک میں شرکت کے لیے چلیں تو ماں سے کہا اگر چاندی سے کم تمغہ ہو تو تم مبارک باد مت وصول کرنا۔ ماں نے کہا وہ کیوں؟ میرا بائی کہنے لگی کہ ویٹ لفٹنگ Quantifiable Sport  ہے۔ اس کے کھلاڑی کو علم ہوتا ہے کہ تین دفعہ کی باری میں ہم کتنا وزن اٹھا پائیں گے۔ یہ کوئی Synchronize Swimming یا شو جمپنگ جیسا ایونٹ نہیں کہ دوسرے ساتھی یا گھوڑے کے موڈ یا نادانی سے کارکردگی آوٹ ہوجاتی ہو۔ چین کی نئی لڑکیوں کا مجھے علم نہیں۔ شاید کوئی لڑکی مجھ سے زیادہ ویٹ اٹھالے ورنہ گولڈ میڈل میرا ہے۔ واپسی پر آپ میرے لیے چکن والا ڈومینو پٹزا ضرور منگانا۔ ایسا ہی ہوا چین کی باجی  Hou Zhizhi  جنہوں نے سونے کا تمغہ جیتا ہے وہ اگر ممنوع ادویات کے استعمال میں اپنی جیت سے محروم گئیں تو میرا بائی چنوں کا نمبر پہلا ہوگا اور وہ سونے کے تمغے کی حقدار قرار دے دی جائیں گی۔

باجی چنوں ایک چھوٹے سے گاﺅں میں رہتی تھیں جس کے گھر میں لکڑیاں جلا کرتی تھیں۔ بھائی بہن مل کر جنگل سے لکڑی کاٹ کر لاتے تو چولہا جلتا۔ لوزر بھائی اپنا گٹھا چھوڑ کر بھاگ جاتا۔ چنوں باجی میرا بدن،  میری مرضی بھول کر غربت اور عورت کے نصیب کو کوستی اکیلی ہی دونوں گٹھے سر پر لاد کر لاتیں۔

اس بار برداری سے بے چاری کا قد تو پونے پانچ فیٹ رہ گیا مگر کمر ایسی مضبوط ہوگئی کہ ہاتھی کمر پہ لاد کر شہر بھر گھومے تو بھی فرق نہ پڑے۔ ویسے باجی چنوں کی پٹزا کی فرمائش مدنظر رکھ کے ڈومینو والوں نے زندگی بھر کے لیے پٹزا فری کر دیا ہے۔

ایک ہم ہیں۔ یہ دوسری مایوسی کا ذکر ہے۔ سترہ برس سے ایک اکہتر سالہ بوڑھے ریٹائرڈ افسر کو جس کا پاکستان سے باہر کھیلوں کی دنیا میں کوئی تعارف نہیں، اپنی اولمپک کمیٹی کا صدر بنا رکھا ہے۔ ایسا ہی حال فٹ بال ایسوسی ایشن کا بھی ہے۔ ان سے درخواست کریں کہ نیک مسلمانوں کو جنت میں بھی کھل کے کھیلنے کے ایسے ہی مواقع ملیں گے۔ پاکستان کی اب رب دا واسطہ جان چھوڑیں۔ کب تک پاکستان کو اپنے حرص و ہوس کے پنجے میں داب کر بے نام ونشاں رکھیں گے۔ وہاں جنت میں رہنا بھی دیر تک ہے۔ وہاں ساری عمر بغیر تمغے اور کامل بگاڑ کے ساتھ اولمپک کمیٹی کا صدر بنے رہیں۔

دکھ یہ ہے کہ یہ سب بربادی اس ہستی کے دور میں بھی جاری ہے جس کا اپنا تعارف کھیل ہے۔ یعنی کپتان میری جان عمران خان۔  وہی کپتان جسے مغرب نے سربراہان مملکت سے اسے کھیل کی بنیاد پر زیادہ مان دیا۔ جس کی نمل یونیورسٹی، کرکٹ اور شوکت خانم کی وجہ سے دنیا میں ایک پہچان ہے جو خود بھی میرٹ پرفارمنس اور مقابلے کی اہمیت سے ذاتی طور پر آگاہ ہے اور اللہ اسے نظر مریم و بلاول کے شر سے بچائے ملک کا وزیر اعظم بھی ہے۔

ان کو چاہیے کہ اولمپک کمیٹی، فٹ بال ایسوسی ایشن وغیرہ پر مسلط ان پیران فرتوت سے جان چھڑاکر ان انجمنوں کو وزارت کھیل میں شامل کر کے خود اس کی باگ دوڑ سنبھالیں اور روزانہ ایک گھنٹے کی میٹنگ کھیلوں کی ترقی پر ہو۔ فٹ بال کے لیے کسی افریقی یا لاطینی امریکی ملک سے کوچ منگا کر ہر چینل کو ایک ٹیم سپورٹ کرنے کا کہیں۔ ہر ملٹی نیشنل، پی آئی اے کسٹم اور پولیس کی ٹیمیں بنائیں۔ فوج میں ایک اسپورٹس کور خصوصی طور پر بنائیں۔ ویسے ایک سیاسی مشورہ اور بھی ہے گو سیاست ان کی طرح ہمارا بھی میدان نہیں۔ اگر مریم کا غصہ ٹھنڈا کرنا ہے تو جنید صفدر کو جو کیمبرج میں پولو کھیلتا ہے اور ٹیم کا کپتان ہے، اسے اولمپک ایسوسی ایشن کا صدر بنا دیں۔

ہاں طلحہ طالب کے پانچویں نمبر پر آنے پر اچھل اچھل کر بغلیں بجانے کی بجائے اس نصیحت پر دھیان دیں جو رخصتی کے وقت امریکن ٹیم کو تمغوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے کی جاتی ہے وہ یہ کہ

You don’t win SILVER , you lose GOLD

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan