امریکہ کے اصلی ہیر اور رانجھا

وہ دونوں شہر کے مشہور کالج میں پڑھتے تھے۔ لڑکے کا باپ ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل تھا اور ان کا خاندانی پیشہ سپاہ گری تھا۔ لڑکی کا باپ ایک امیر بزنس مین اور ایک بڑے کسینو کا مالک تھا۔ لڑکے کا نام رچرڈ تھا۔ وہ دراز قد، سنہری بال، نیلی آنکھیں اور مردانہ وجاہت رکھنے والا خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ پیار بھرا دل رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھا پینٹر بھی تھا۔ وہ اپنی ایک کالج فیلو Native American لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔

لڑکی کا نام مایا تھا، وہ شرمیلی سی، سرو قامت، موٹے نقوش، سانولی رنگت اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والی لڑکی تھی۔ رچرڈ شاید اس لڑکی کی جانب اس لیے متوجہ ہوا کہ کالج میں باقی سب لڑکیاں کھلے ڈلے مزاج کی تھیں لیکن مایا جسے کچھ ساتھی چھیڑنے کے لیے وائلڈ بیوٹی کہہ کر پکارتے، وہ ہمیشہ دوسرے کالج فیلوز سے الگ تھلگ رہتی اور اپنے کام سے کام رکھتی۔

ایک دن کالج میں کوئی کلچرل شو تھا اور ہر سٹوڈنٹ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس ہو کر بہت خوبصورت نظر آ رہا تھا۔ مایا نے ریڈ انڈین ٹرائب کا روایتی لباس زیب تن کیا اور وہ اس دن کسی قبیلے کی شہزادی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ سب سے جدا اور سب سے پیاری نظر آ رہی تھی۔ ہر کوئی اس کے پیراہن کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا۔ لیکن رچرڈ نے تو حد ہی کردی۔ اس نے ایک گلاب کا پھول اپنے ہاتھ میں لیا اور لان میں اکیلے بیٹھی مایا کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر اسے آئی لو یو کہہ کر پروپوز کر دیا۔ مایا، رچرڈ کے اس اچانک فیصلے پر بہت حیران ہوئی اور اس نے سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگا۔

اس سے پہلے کہ رچرڈ اپنے دل کی کوئی اور بات کہتا، مایا وہاں سے اٹھ کر کلچرل شو دیکھنے بڑے آڈیٹوریم چلی گئی۔ اس دن رچرڈ کاؤ بوائے ہیٹ پہن کر بہت ہینڈ سم لگ رہا تھا۔ وہ گیٹار اچھا بجا لیتا تھا اس لیے شو میں اس نے کنٹری سانگ گا کر خوب داد موصول کی۔ اس نے Kenny Rogers کا مشہور گانا The Gambler گانے سے پہلے کہا وہ یہ گانا اپنی اس خوابوں کی شہزادی کے نام کرنے جا رہا ہے، جسے وہ ابھی اچھی طرح جانتا بھی نہیں لیکن وہ اپنی پہلی محبت کا یہ جوا ضرور کھیلے گا، چاہے اسے اپنا سب کچھ ہارنا پڑے۔ وہ رومانوی انداز میں بولا، جسے میں چاہتا ہوں اس کا تعلق میرے رنگ، نسل اور قبیلے سے نہیں مگر میرا دل کہتا ہے وہ جنگلی کبوتری ایک دن ضرور میری محبت کی آغوش میں ہو گی۔

سٹیج پر رچرڈ کے بے دھڑک اعلان اور کسی کی محبت میں گرفتار ہونے کے اقرار سے جہاں اس پر لٹو ہونے والی بے شمار لڑکیوں کے دل ٹوٹ گئے، وہیں مایا کے دل میں بھی اس کے خیال نے انگڑائی لی۔ شو ختم ہونے کے بعد مایا رچرڈ سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر ایک دھڑکا، ماں کی نصیحت، اور اس کے خاندان کی روایات اسے آگے بڑھنے سے روک رہیں تھیں۔ وہ رچرڈ کے پاس گئی اور بس اتنا کہا، آپ بہت اچھے گلوکار بن سکتے ہیں۔ عاشق کے لیے معشوق کی ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہی کافی ہوتی ہے، یہاں تو بات اس سے آگے بڑھ گئی تھی۔

رچرڈ نے مایا کے تہنیتی کلمات کا شکریہ ادا کیا اور اس سے معذرت بھی کی کہ اس نے اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے آئی لو یو کہہ دیا۔ مایا نے کہا وہ تو تم نے اکیلے میں کہا لیکن جو سٹیج پر شیخیاں بگھار رہے تھے اس کا کیا ہو گا۔ پھر مایا ایک خوبصورت تبسم اپنے ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے بولی، ذرا ہمیں بھی تو پتا چلے کہ وہ جنگلی کبوتری کون ہے۔ رچرڈ نے کہا تمہیں کل دکھاؤں گا۔ دوسرے دن رچرڈ ایک پینٹنگ لے کر کالج آیا اور مایا کو اپنی آنکھیں بند کرنے کا کہہ کر بولا، کیا تم اس جنگلی کبوتری سے ملنا پسند کرو گی جس سے میں پیار کرتا ہوں۔ مایا کے منہ سے بے اختیار ہاں نکل گئی لیکن اس کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا۔ شا ید ابھی بھی اسے یقین نہیں تھا کہ وہ ہی رچرڈ کی پہلی محبت ہے۔

رچرڈ نے پینٹنگ سے کاغذ کا پردہ ہٹایا تو مایا سامنے اپنی ہی پینٹنگ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ بولی، یہ میری تصویر کس نے بنائی ہے۔ رچرڈ اپنے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بولا، ان ہاتھوں نے قدرت کے شاہکار کو کینوس میں اتارنے کی کوشش کی ہے۔ مایا، رچرڈ کی صلاحیتوں کی معترف نظر آنے لگی اور کہا آپ واقعی بہت اچھے آرٹسٹ ہیں۔ آپ کو گانا بھی آتا ہے، پینٹنگ بھی کر لیتے ہیں اور کیا کیا آتا ہے آپ کو؟ رچرڈ بولا، بس پیار کرنا سیکھ رہا ہوں اگر آپ میری مدد فرمائیں تو۔ مایا پھر سنجیدہ ہو گئی اور رچرڈ سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی، دیکھو، مجھے کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ اسی لیے آپ سے سوچنے کے لیے وقت مانگا تھا۔

رچرڈ نے کہا، مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر میں حیران ہوں کہ آج کے زمانے میں بھلا گھر والوں سے کون پوچھتا ہے۔ مایا بولی، بس یوں سمجھو کہ یہ میری مجبوری ہے اور ہم قبائلی لوگوں کو اپنی روایات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ رچرڈ ہنس کر بولا، چلو یہ تو اور بھی اچھا ہے مجھے بھی امریکن انڈینز کے رسم و رواج سیکھنے کا موقع ملے گا۔ چلو تم یہ میری پینٹنگ رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی دکھانا۔ مایا نے رچرڈ کا شکریہ ادا کیا اور پینٹنگ کار میں رکھ کر اپنی کلاس میں چلی گئی۔

گھر جا کر مایا نے وہ پینٹنگ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور دادی کو دکھائی تو وہ سب بہت خوش ہوئے لیکن جب دادی نے پوچھا کہ اس تصویر کا مصور کون ہے تو مایا ذرا ہچکچائی اور کہا، وہ میرا کالج فیلو ہے۔ اس کا نام رچرڈ ہے۔ خیر ڈنر کا وقت تھا اور وہ بات آئی گی ہو گئی مگر اگلے روز، چھٹی کے دن مایا اپنے گھر پر ہی تھی۔ دادی نے مایا کو اپنے پاس بلایا اور کہا میری جان سے پیاری شہزادی میں نے تم سے کوئی بات کرنی ہے۔ آؤ میرے پاس بیٹھو۔ مایا جو اپنی دادی سے بہت پیار کرتی تھی وہ ان کی گود میں اپنا سر رکھ کر لیٹ گئی۔

دادی، مایا کا سر سہلانے لگیں اور کہا میری بیٹی مجھے رچرڈ کے بارے میں کچھ اور بتاؤ، وہ کیسا دکھائی دیتا ہے، کون ہے۔ مایا دادی کے سوال سن کر اٹھی اور انھیں گلے لگا کر بولی، بڑی ماں تم اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو۔ رچرڈ بس میرا کالج فیلو ہے اور کچھ نہیں۔ وہ ایک سفید فام لڑکا ہے اور بہت اچھا آرٹسٹ۔ لیکن اس نے تمہاری پینٹنگ کیوں بنائی، کیا تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو، دادی نے پوچھا۔ نہیں دادی، میں کچھ نہیں چھپا رہی، ہاں وہ مجھے پسند کرتا ہے اور اس نے مجھے پروپوز بھی کیا ہے۔ لیکن میں اسے اچھی طرح جانتی بھی نہیں اور نہ ہی میں نے کبھی اس سے اپنے جذبات بانٹے ہیں۔

دادی کے چہرے کی جھریوں سے صاف نظر آ رہا تھا کہ انھیں مایا کی بات پسند نہیں آئی اور وہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ نظر آنے لگیں۔ پھر دادی نے مایا کو اپنے خاندان میں ہونے والی محبت کی ایک داستان سنائی۔ دادی رنجیدہ آواز میں کہانی سناتے ہوئے بولیں، یہ اٹھارہویں صدی کے وسط کی بات ہے جب میری بڑی بہن سے ایک مغربی آباد کار کے بیٹے کو پیار ہو گیا تھا اور اس نے اسے شادی کے لیے تجویز کیا لیکن تمہارے پردادا جو اپنے قبیلے کے چیف بھی تھے انہوں نے اس رشتے سے انکار کر دیا۔ تمہارے پردادا کے انکار کی وجہ سے ہمارے قبیلے پر آفتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ آبادکاروں نے ہمارے قبیلے پر حملہ کر دیا۔ وہ میری بہن کو اٹھا کر لے گئے اور قبیلے کے سب مرد ان کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

میری بیٹی، وہ ہم سے رشتہ کسی محبت کی بنیاد پر نہیں مانگ رہے تھے۔ وہ تو ہمیں سیاسی رشتہ داری کے بندھن میں باندھ کر اپنا غلام بنانا چاہتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے ہمیں ان کی تہذیب سیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی مقدس کتاب اور تعلیمات کے ذریعے ہمیں مہذب بنانا چاہتے تھے۔ میری جان، یہ ہماری زمین ہے، ہم ہزاروں سالوں سے اس پر آباد ہیں۔ ہمارے پورکھوں کی روحیں بھی یہاں آزاد گھومتی ہیں۔ بھلا ہمیں کیا ضرورت تھی کہ ہم ودیشیوں کا تمدن اختیار کریں۔ تم اپنے قبیلے کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔ تم اپنے قبیلے کی روایات اور نسل کی امین ہو۔ تم اپنے دل کی ملکہ ہو، جو چاہو فیصلہ کرو لیکن اپنے فیصلے میں گھر والوں کی رائے بھی شامل کر لینا۔ اسی میں ہمارے قبیلے کی بھلائی ہو گی۔

مایا اپنی دادی کی باتیں غور سے سن رہی تھی۔ وہ اپنے قبیلے میں محبت کی خونچکاں داستان سن کر افسردہ ہو گئی۔ اس نے اپنی دادی کو تسلی دی کہ وہ اپنے شریک حیات کا فیصلہ کر نے سے پہلے گھر والوں کو ضرور اعتماد میں لے گی۔ دادی، مایا کے خیالات سن کر خوش ہوئیں اور کہا، میں تمہاری اس معاملے میں مدد بھی کروں گی بلکہ آج رات کے کھانے پر تم سب گھر والوں کے سامنے رچرڈ کی پروپوزل والی بات کرنا۔ دیکھیں سب کیا کہتے ہیں۔

رات کے کھانے پر مایا کی دادی نے رچرڈ کی بنائی ہوئی پینٹنگ کی تعریف کی اور سب کو بتایا کہ ہماری بیٹی کے پاس آپ سب کو بتانے کے لیے کوئی خاص بات ہے۔ ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے سب گھر والوں نے کھانے سے اپنا ہاتھ روک لیا او ر مایا کی طرف متوجہ ہوئے۔ مایا نے رچرڈ کی پروپوزل اور پھول دینے والی بات کا ذکر کیا۔ مایا کی ماں خوش تھی کہ کوئی اس کی بیٹی کو چاہنے والا مل گیا لیکن اس کا باپ کھانے کی پلیٹ کو اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے بولا، اس لڑکے کا باپ کون ہے؟ کیا تم پہلے ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہے یا یہ سب کچھ اچانک ہوا۔ مایا نے اپنے باپ کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کے باپ کو تو نہیں جانتی، نہ ہی پہلے رچرڈ کو ملی ہوں ہاں مگر یہ کچھ اچانک ہوا۔ وہ سرخ گلاب کا پھول لے کر میرے سامنے آ گیا اور مجھے آئی لو یو بول کر پروپوز کر دیا۔

باپ نے اس معاملے پر مایا کی اپنی رائے جاننے کی کوشش کی تو مایا نے کہا، ”آئی ایم اوپن اور یہ کہ رچرڈ ایک اچھا لڑکا ہے“ ۔ مایا کے والدین ذہین تھے، انہوں نے ایک شرط پر مایا کو رچرڈ کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے کی اجازت دی کہ وہ اور رچرڈ پہلے ایک دوسرے کو سمجھیں۔ خاص طور پر رچرڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ خاندان کا حصہ بننے سے پہلے ریڈ انڈینز قبیلے کے رسم و رواج اور تاریخ کی معلومات حاصل کرے۔ پھر اگر دونوں کی مرضی ہو تو شادی کر سکتے ہیں۔

اگلے ہفتے جب مایا کالج گئی تو رچرڈ نے پوچھا تمہارے گھر والوں کو میری پینٹنگ کیسی لگی۔ مایا نے جواب دیا، سب گھر والوں نے بہت پسند کی لیکن دادی نے تصویر سے زیادہ اس کے مصور کے بارے میں جاننا چاہا۔ یہ سن رچرڈ نے بے تاب عاشق کی طرح ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ ڈالے، اچھا تو بتاؤ تم نے دادی کو میرے بارے میں کیا بتایا، انہوں نے میرے بارے میں کیا پوچھا، تم نے اپنی بڑی ماں کو وہ پھول والی بات تو نہیں بتائی۔ سچ بتاؤ تم نے اپنے گھر والوں کو میرے بارے میں کیا کیا بتایا۔ پھر وہ اپنا منہ لٹکا کر، معصومانہ انداز میں بولا، مگر تم تو میرے بارے میں کچھ زیادہ جانتی بھی نہیں ہو پھر تم نے انہیں کیا بتا یا ہو گا۔

مایا نے رچرڈ کے سارے سوالوں کا ایک جواب دیا کہ اس نے گھر والوں کو سب بتا دیا ہے کہ تم مجھ سے پیار کرتے ہو اور تم نے مجھے پروپوز کیا ہے۔ یہ سن کر رچرڈ کی سانسیں اور بھی تیز ہو گئیں اور اس کی بے تابی کا عالم دیدنی تھا۔ بے قراری کے عالم میں اس نے کہا، پلیز بتاؤ تمہارے گھر والوں نے کیا کہا۔ مایا پر اپنے عاشق کے جذباتی رویے کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ ٹھنڈے مگر سنجیدہ لہجے میں بولی، گھر والوں کی وہی مرضی ہے جو میری ہوگی لیکن وہ سب چاہتے ہیں کہ ہم پیار کے راستے پر ذرا دھیرج سے آگے بڑھیں۔ مجھے کوئی خاص جلدی نہیں اور امید ہے تم بھی اس بات کو سمجھو گے۔

رچرڈ نے مایا کی باتیں بڑے تحمل سے سنیں اور اسے ایسے لگا جیسے وہ کسی برف کے صحرا میں کھڑا ہو اور راستے میں ایک بھاری برف کی سل پڑی ہے جسے ہٹانا بہت مشکل ہو۔ خیر اس نے اپنی تمام ہمت جمع کر کے پوچھا، تو پھر تمہاری مرضی کیا ہے۔ مایا نے بلا توقف جواب دیا، میری وہی مرضی ہے، جو میرے گھر والوں کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم سنجیدہ رشتہ استوار کرنے سے پہلے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھیں۔ تم ہینڈ سم اور سمارٹ ہو، خوش باش اور مزاح پسند ہو، تمہارا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے اور کوئی بھی لڑکی تمہاری پروپوزل کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کر سکتی۔ میں بھی ان لڑکیوں میں سے ہوں جنہیں تمہارے جیسے ذہین اور خوبصورت مرد کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا اچھا لگے گا۔

رچرڈ نے مایا کی باتوں کو بہت مثبت اندازہ میں لیا اور کہا، میں بھی تمہارے گھر والوں کی بات سے متفق ہوں اور تمہیں سر سے پاؤں تک سمجھنا اور جاننا چاہتا ہوں۔ مایا، رچرڈ کے بھولے پن پر مسکرائی اور کہا، ہاں ضرور مگر وقت آنے پر۔ پھر کہا، پہلے تمہیں میرے قبیلے کے رسم و رواج اور ماضی کے بارے میں جاننا ہو گا تاکہ ہماری آنے والی زندگی میں کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔ میں چاہتی ہوں تم نارتھ امریکہ میں indigenous (سودیسی ) لوگوں اور ریڈ انڈینز کی تاریخ جانو۔ میں بھی اس میں تمہاری مدد کروں گی۔ اور ہاں تم مجھے اپنے آبا و اجداد اور مغربی طرز زندگی کے بارے میں سکھانا۔

عاشقوں کے اس سنجیدہ مکا لمحے کے بعد آہستہ آہستہ دونوں کے درمیاں تکلف مٹنے لگا گویا کہ آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگے۔ کالج میں دونوں کی دوستی کے چرچے زبان زد عام ہوئے۔ کچھ رقیب، کیدو بن کر سامنے آئے مگر سب کو منہ کی کھانا پڑی۔ وہ دونوں اکثر کلاس سے فارغ ہو کر لائیبریری میں نظر آتے یا پھر کالج کے خوبصورت لان میں بیٹھ کر باہمی دلچسپی کے موضوعات پر گفتگو کرتے۔ رچرڈ تو پہلے ہی مایا پر فدا تھا لیکن اب مایا کے من میں بھی پیار کے دیپ جلنے لگے۔ وہ بھی رچرڈ کے قریب آنا چاہتی تھی۔ دوسری طرف رچرڈ جوں جوں ریڈ انڈینز کی تاریخ پڑھتا اور سمجھتا جا رہا تھا، اس کے من کی دنیا بدلنے لگی۔

رچرڈ حساس طبعیت کا مالک تو پہلے ہی تھا جب اسے معلوم ہوا کہ مغربی اقوام نے امریکہ کے مقامی باشندوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تو وہ اپنے آبا ء کے کردار پر شرمندگی محسوس کرنے لگا۔ وہ جس تہذیب و تمدن کا نمائندہ تھا اس کی بنیادوں میں اسے کروڑوں مظلوموں کا خون نظر آنے لگا۔ اسے اپنی کم علمی اور کم مائیگی پر شرمندگی تھی کہ کسی نے اسے تاریخ کے وہ اسباق پڑھائے ہی نہیں جو امریکہ کی چکا چوند ترقی کے نیچے کہیں دب کر رہ گئے۔ اسے اپنے تعلیمی اداروں اور گھر والوں سے گلہ رہنے لگا کہ انہوں نے ماضی کے تلخ حقائق کو نئی نسل سے چھپا کر رکھا۔

پھر یوں ہوا کہ کالج میں ان کا آخری سمیسٹر چل رہا تھا اور اکتوبر میں کولمبس ڈے آ گیا۔ اس دن امریکہ میں عام تعطیل ہوتی ہے لیکن جگہ جگہ اس حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ رچرڈ بھی کالج کی ایک تقریب میں بطور ایک آرٹسٹ اور مقرر مدعو تھا۔ اس نے جونہی اپنی تقریر کا آغاز کیا تو ہال میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور کچھ دائیں بازو کے خیالات کے حامی طلبہ نے رچرڈ پر باقاعدہ حملہ کر دیا۔ وہ سب اس کی تقریر پر معترض تھے۔

رچرڈ نے کولمبس ڈے پر اپنی متنازع تقریر کا آغاز کچھ یوں کیا، میں آج شرمندہ ہوں کہ ہم سب یہاں کولمبس ڈے منانے کے لیے جمع ہیں۔ یہ دن تو ان کروڑوں مظلوموں کی یاد میں منانا چاہیے جن سے ان کا وطن تو کجا جینے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کس دریافت کا جشن منا رہے ہیں۔ وہ کون سی ان دیکھی سرزمین تھی جس کی کوکھ سے میرے پیارے وطن امریکہ نے جنم لیا۔ آج خوشی منانے کا نہیں اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے اور ان کا ازالہ کرنے کا دن ہے۔

رچرڈ نے ابھی اپنی تقریر کے کچھ ابتدائی کلمات ہی مکمل کیے تھے کہ ہر طرف سے شٹ اپ، شٹ اپ کی صدائیں آنے لگیں۔ کوئی اسے غدار کہنے لگا اور کسی نے کہا کس جاہل کو بولنے کا موقع دیا گیا ہے ۔ کالج کی انتظامیہ کو زبردستی رچرڈ سے مائیک چھیننا پڑا اور اسے گھسیٹ کر سٹیج سے نیچے لا یا گیا جہاں کچھ انتہا ء پسند سٹوڈنٹ نے اس پر ہلا بول دیا۔ اس سارے ہلے گلے میں رچرڈ کو کوئی بڑی چوٹ تو نہیں آئی تھی لیکن اگلے روز کالج کے پرنسپل نے اسے اپنے دفتر بلا کر ڈسپلن کی خلاف ورزی، قومی مشاہیر کی توہین اور نقص امن کی بنیاد پر کالج سے خارج کر دیا۔ نہ صرف اس عاشق نامراد کو کالج سے فارغ کر دیا گیا بلکہ ادارے کی حدود سے 500 گز دور رہنے کی ہدایت بھی کر دی گئی۔ رچرڈ کے گھر والے بھی کسی حد تک دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تھے لہذا وہ بھی اپنے بیٹے کے خلاف ہو گئے اور انہوں نے کالج کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے میں اس کی کسی قسم کی مدد نہیں کی۔

اکثر Native Americans کولمبس ڈے کی تقریبات میں شامل نہیں ہوتے۔ اسی لیے مایا بھی اس روز کالج نہیں گئی اور وہ دن گھر پر ہی گزارا۔ رچرڈ پر کالج میں جو بیتی اسے اس کی کوئی خبر نہ تھی۔ اگلے سوموار جب وہ کالج آئی تو سب ساتھی اسے گھور کر دیکھ رہے تھے۔ وہ مایا کو ہی کالج میں ہنگامے کا ذمہ دار سمجھتے تھے کہ شاید رچرڈ کا ذہن اسی نے خراب کیا اور اس کے اندر زہر بھرا تھا۔ کالج کے ٹیچرز بھی اس سے کسی قسم کی بات کرنے سے اجتناب کر رہے تھے۔ مایا کی نظریں رچرڈ کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ اسے کہیں نظر نہ آیا۔ بلا آخر مایا کی ایک سہیلی نے اسے ساری حقیقت بتائی تو مایا کلاسز چھوڑ کر اپنے مجنوں کی تلاش میں نکل پڑی۔

وہ رچرڈ کے گھر گئی جہاں اس کے فوجی باپ نے بھی اسے برا بھلا کہا کہ تمہاری وجہ سے میرے بیٹے کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے۔ اس دن رچرڈ اپنے گھر نہیں تھا اور مایا اسے ہر جگہ تلاش کر رہی تھی۔ وہ شام تلک اپنے محبوب کو ڈھونڈتی رہی بلا آخر تھک یار کر اپنے گھر واپس چلی گئی۔ اس نے اپنے گھر والوں کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ مایا کے گھر والے بھی رچرڈ کو برا بھلا کہنے لگے کہ اسے اتنا ہنگامہ کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ لڑائی میڈیا کی زینت بن سکتی ہے جس سے نسلی فسادات پھوٹنے کا بھی ڈر ہے۔ یہاں تک کہ مایا کے باپ نے اسے کالج جانے سے بھی روک دیا کیونکہ وہ کالج میں اکیلی ریڈ انڈین لڑکی تھی اور کوئی اسے نقصان نہ پہنچا دے۔

دوسری طرف رچرڈ مایا سے ملنے کے لیے پاگل ہو رہا تھا۔ اس کی قانونی مجبوری تھی کہ وہ کالج کی حدود کے اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ چھپ چھپا کر کالج کے گیٹ کے سامنے کھڑا رہتا کہ شاید مایا کی کار کو اندر باہر جاتے دیکھ کر اس سے بات کر سکے۔ لیکن مایا کا تو کالج آنا بند کر دیا گیا تھا۔ جب کچھ دن مسلسل مایا نظر نہیں آئی تو رچرڈ اپنا بھیس بدل کر کالج کے اندر گھس گیا تاکہ حقیقت سے آگاہ ہو سکے۔ وہ دن اس غریب عاشق پر بہت بھاری ثابت ہوا۔

کسی نے اسے پہچان لیا اور کالج انتظامیہ کو اس کے بارے خبر کر دی۔ انتظامیہ نے فوراً پولیس بلا کر جانس کو trespassing کے قوانین کے تحت گرفتار کروا دیا۔ رچرڈ نے پولیس کی پکڑ سے بھاگنے کی کوشش کی اور اسی بھاگ دوڑ میں اس نے ایک پولیس والے پر ہاتھ اٹھا دیا جس کی پاداش میں اسے اگلے چھ ماہ کی قید بھگتنا پڑی۔

مایا کو جب رچرڈ کے حالات کی خبر ہوئی تو وہ اپنے آپ کو اس کے حالات کی ذمہ دار سمجھنے لگی۔ وہ سارا دن اپنے کمرے میں بند رہتی اور اس نے کھانا پینا اور اپنی پڑھائی بھی چھوڑ دی۔ وہ ڈپریشن کی مریضہ نظر آنے لگی اور ایک دن اپنے محبوب سے ملنے کے لیے گھر سے بھاگ کسی انجان منزل کی جانب چلی گئی۔ پھر برسوں تک کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ مایا کہاں گئی۔ کسی نے کہا وہ قتل کر دی گئی، کسی نے کہا وہ راستے میں اغوا ہو گئی۔ جتنی منہ اتنی باتیں لیکن مایا کو آج بھی گمشدہ اور مقتول تصور کیا جاتا ہے۔

رچرڈ کے گھر والوں نے اسے موالی سمجھ کر گھر سے بے دخل کر دیا لیکن اس نے اپنی گمشدہ محبوبہ کی یاد کو تازہ رکھنے اور ریڈ انڈینز پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے احتجاج کا ایک انو کھا طریقہ نکالا۔ وہ آج پچاس سال گزرنے کے بعد بھی گلی کوچوں پر بیٹھ کر چاک کے ذریعے زمین پر پینٹنگ بناتا ہے اور مقامی امریکنز اور اپنے محبوب کی تصویریں بنا کر امریکہ کی نوجوان نسل کو کچھ بتانے، کچھ سمجھانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ انہیں امریکہ کی تاریخ کا وہ سبق یاد دلانے کی کوشش کر رہا ہے جو کسی امریکی کالج یا یونیوسٹی میں باقاعدہ اور کھلے الفاظ میں نہیں پڑھایا جاتا۔

امریکہ کے ہیر رانجھا کی کہانی بھی بڑی عجیب ہے جس میں دو محبت کرنے والے دل فقط اس لیے نہیں مل سکے کہ دونوں کے آباء کی تاریخ مختلف تھی۔ ایک فاتح قوم کا سپوت، دوسری مفتوح قوم کی مظلوم بیٹی، ایک کا ہیرو، دوسرے کا دشمن، ایک کا دعوی کہ وہ تہذیب یافتہ ہیں، دوسرے پر الزام کہ وہ پسماندہ قبائل تھے۔ امریکہ کا رانجھا رچرڈ ہے جس نے انسانوں کے درمیان تمام تفریقات کو مٹا کر محبت کے پیغام کو آگے بڑھایا۔ اس نے اپنی جاگیر کو چھوڑ کر ہیر کی بھینسیں تو نہیں چرائیں لیکن اس پر ہونے والے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے امریکہ کے نسلی فسادات کے خلاف پرامن طریقے سے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ عمر بھر کے لیے ایک سٹریٹ آرٹسٹ بن جاتا ہے اور اپنی پینٹنگ کی مہارت کے ذریعے، نسلی فسادات اور نسل کشی کی بھینٹ چڑھنے والے بے آواز مظلوموں کی آواز بن گیا ہے ۔

امریکہ کی ہیر، مایا ہے جس نے اپنی محبت اور قبائلی روایات کو ساتھ ساتھ نبھایا۔ مر کر بھی وہ اپنے عاشق کے دل اور فن میں زندہ ہے۔ اس کہانی کا کیدو، ایک ٹانگ سے معذور کوئی انسان نہیں بلکہ وہ لنگڑا لولا اور جبر کا نظام ہے جس میں سچ بولنے، پڑھنے، لکھنے اور سچا پیار کرنے پر پابندی ہو۔ مایا اور رچرڈ کی کہانی سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہمیں اپنی آنے والی نسل کو، اپنی تاریخ سے، اپنے کلچر سے، اپنے خیالات سے بر وقت اور ایمان داری کے ساتھ آگاہ کرنا چاہیے۔ ورنہ جب انہیں حقیقت کا علم ہو گا تو وہ فخر کرنے کے بجائے ہم پر شرمندہ ہوں گے۔ سب سے ضروری یہ کہ اکیسویں صدی میں ہمیں اپنے اظہار رائے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہوں گی جیسے جانس کا نعرہ ہے : Let the Art Speak

Credits:

Pictures in this story are owned and made by an American Painter Richard Bocook and published with his permission and consent. Copy Rights Protected

Comments - User is solely responsible for his/her words