کرسٹین چبک: وہ ٹی وی میزبان جس نے لائیو نشریات کے دوران خود کشی کی

اس مضمون کے کچھ حصے بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتے ہیں۔

کرسٹین چبک نے اپنے سیاہ لمبے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا دے کر چہرے سے ہٹایا، تھوک نگلتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو ذرا سے بھینچا اور دایاں ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے سامنے پڑے ہوئے خبروں کے سکرپٹ میں سے اگلا صفحہ پلٹا اور اپنی نظریں کاغذ پر جماتے ہوئے پڑھنا شروع کر دیا۔

’آپ تک تشدد اور خون خرابے کی تازہ ترین خبریں پہنچانے کی چینل فورٹی کی پالیسی کے عین مطابق، اب ملاحظہ کیجیے ۔۔۔‘

کرسٹین نے کاغذوں سے نظر ہٹا کر سیدھا کیمرے کی جانب دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے ان کے ہونٹوں پہ ایک خفیف سے مسکراہٹ دکھائی دی اور جب انھوں نے اپنے سامنے لکھے ہوئے الفاظ پر زور دیتے ہوئے پڑھنا شروع کیا تو ان کی آواز میں طنز کا عنصر بھی شامل ہو گیا۔

‘خون اور لوتھڑے۔۔۔اپنے حقیقی رنگوں کے ساتھ۔۔۔‘

یہ کہتے ہوئے جب انھوں نے ایک مرتبہ پھر سامنے لکھی ہوئی تحریر پڑھنا شروع کی تو ان کے بائیں ہاتھ میں ہلکی سی کپکپاہٹ دکھائی دی۔ ان کے دائیں بازو میں تناؤ آ گیا۔

’ہم آپ کے لیے سب سے پہلے لا رہے ہیں۔۔۔‘

کرسٹین کی آواز میں کوئی لغزش نہیں تھی۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنا سر اوپر اٹھایا اور کیمرے کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں کی سیاہی مزید گہری ہو گئی اور انھوں نے کیمرے میں نظریں گاڑھتے ہوئے کہا ’۔۔۔خود کشی کی ایک کوشش۔‘

اگلے ہی لمحے، ان کا دایاں ہاتھ میز کے نیچے سے اوپر آیا جس میں اعشاریہ 38 بور کا ریوالور تھا۔

انھوں نے ریوالور کی نوک اپنے سر کے پیچھے نچلے حصے میں لگائی اور ٹریگر دبا دیا۔ ساتھ ہی گولی کی زور دار آواز سنائی دی۔ ریوالور کی نالی سے دھواں اٹھ رہا تھا اور ان کے چہرے سے بال یوں اڑنے لگے جیسے اچانک آندھی چل پڑی ہو۔

ان کے چہرے پر سختی چھا گئی لیکن ان کے جذبات قابو میں دکھائی دیے۔ ان کا سر نیچے کو لڑھک گیا۔ ساتھ ہی ان کا اوپر کا دھڑ ایک زور دار آواز کے ساتھ سامنے رکھی ہوئے میز پر جا لگا اور ان کا جسم آہستہ آہستہ دیکھنے والوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہوا میز کے نیچے دھنس گیا۔‘

یہ الفاظ ہیں واشنگٹن پوسٹ کی نامہ نگار سیلی کوئن کے جنھوں نے آج سے 47 برس پہلے جولائی سنہ 1974 میں پیش آنے والے اس دلخراش واقعے کی منظر کشی کی اور اس خودکشی کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تھی۔ ان کی اس رپورٹ سے چند دن پہلے امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے شہر سارا سوٹا کے مقامی ٹی وی چینل کی میزبان کرسٹین چبک نے صبح کی نشریات کے دوران خود کو گولی مار لی تھی۔ وہ کیا حالات تھے جن کی وجہ سے کرسٹین نے خود کو یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور سمجھا، اس کا کھوج لگانے سے پہلے ہم ایک نظر اس دن کے واقعات پر ڈالتے ہیں۔

15 جولائی 1974 کی صبح کیا ہوا تھا؟

سیلی کوئن اپنی رپورٹ میں بتاتی ہیں کہ پیر 15 جولائی کا دن چینل فورٹی کے دفتر میں ایک معمول کا دن تھا۔ کرسٹین اپنے صبح ساڑھے نو بجے کے شو ’سن کوسٹ ڈائجسٹ‘ سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے دفتر پہنچ گئی تھیں۔ دفتر کے قریب واقع اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے انھوں نے اپنی والدہ کے ساتھ جلدی جلدی چائے کی ایک پیالی پی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ماں سے کہا کہ وہ ان کا پسندیدہ چاکلیٹ پوڈل فریج سے نکال کے رکھ دیں کیونکہ وہ پونے گیارہ بجے تک واپس آ جائیں گی۔

گھر سے نکل کر کرسٹین اچک کر اپنی پیلے رنگ کی کنورٹیبل ووکس ویگن کار میں سوار ہو گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے لیموں کے رنگ کی کار ‘دا لیمن’ فراٹے بھرتی ہوئی سٹوڈیو کی طرف روانہ ہو گئی۔ اس دن کرسٹین معمول سے زیادہ اچھی لگ رہی تھیں۔ دھوپ کی وجہ سے ان کا رنگ مزید گہرا ہو چکا تھا اور ان کی کمر تک لمبے سیاہ بال چمک رہے تھے۔ سیاہ و سفید پرِنٹڈ لباس ان پر خوب جچ رہا تھا اور عام دنوں کے مقابلے میں اس دن کرسٹین کا جذبہ واقعی جوان لگ رہا تھا۔

جب شو کے اس دن کے مہمان پہنچے تو کرسٹین دونوں میاں بیوی کو سٹوڈیو تک اپنے ساتھ لے کر گئیں۔ پھر انھوں نے مہمانوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خبروں کا سکرپٹ لکھنے جا رہی ہیں۔

کرسٹین نے اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں کیا تھا۔ چنانچہ ان کی بات سن کر شو کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر لِنفورڈ رِکرڈ اور کیمروں کے پیچھے کھڑی دونوں خواتین بھی حیران ہو گئیں۔ دفتر میں لوگ کرسٹین کو پیار سے کرس کہتے تھے۔ ڈائریکٹر اور دونوں کیمرا وویمن حیران تھیں کیونکہ کرس اپنے شو کا آغاز مہمانوں کے ساتھ گفتگو سے کرتی تھیں اور شو کا پہلا آدھا گھنٹہ ہلکی پھلکی باتیں کیا کرتی تھیں۔ وہ کبھی کبھار ہی خبریں پڑھتی تھیں اور وہ بھی صرف سنیچر یا اتوار کے دن۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ کرس نے اپنے شو کا آغاز خبروں سے کیا ہو۔

لیکن کرس اتنی زیادہ قابل بھروسہ اور پیشہ ورانہ اعتبار سے اتنی اچھی شہرت کی حامل تھیں کہ سٹوڈیو میں موجود ہر شخص کو لگا کہ کرس بہتر سمجھتی ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ وہ اپنی میز پر بیٹھیں، ٹائپ رائٹر میں کاغذ لگایا اور ٹائپنگ میں مصروف ہو گئیں۔ تھوڑی ہی دیر میں انھوں نے دس منٹ کے بلیٹن کا سکرپٹ لکھ لیا اور کنٹرول روم میں بیٹھے عملے کو بتایا کہ خبروں کے دوران کون سا کِلپ استعمال کرنا ہے۔ اور پھر وہ سٹوڈیو کے دوسرے کونے میں اس کرسی پر بیٹھ گئیں جہاں بیٹھ کر وہ کبھی کبھار خبریں پڑھا کرتی تھیں۔

کرسی پر بیٹھتے ہوئے انھوں نے کٹھ پتلیوں سے بھرا ہوا ایک بڑا سا تھیلا میز کے نیچے رکھ دیا۔ کرسٹین کٹھ پتلیاں بنایا کرتی تھیں اور کبھی کبھی ناظرین کو دکھانے کے لیے انھیں بیگ میں ڈال کر ساتھ بھی لے آیا کرتی تھیں۔ وہ دفتر کے قریب واقع ایک ہسپتال میں ذہنی طور پر معذور بچوں کے لیے بھی پُتلی تماشا کیا کرتی تھیں۔ کسے معلوم تھا کہ اس دن کرسٹین نے اپنے بیگ میں اعشاریہ 38 بور کا پستول بھی چھپا رکھا تھا۔

کیا اس خودکشی کی ویڈیو موجود ہے؟

1974 میں پیش آنے والا یہ واقعہ عوامی سطح پر بڑی حد تک تاریخ کے دھندلکوں میں کھو گیا تھا، لیکن سنہ 2016 میں یہ کہانی ایک بار پھر اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی جب اسی سال کرسٹین چبک کی زندگی پر ایک فلم ’کرسٹین‘ اور ایک دستاویزی ڈرامے ’کیٹ پلیز کرسٹین‘ ( Kate plays Christine) کی نمائش کی گئی۔

ان فلموں کی ریلیز کے بعد سمارٹ فونز اور ویڈیو اپ لوڈنگ ویب سائٹس یو ٹیوب کے اس جدید دور میں ایک مرتبہ پھر اس لائیو نشریات کی ریکارڈنگ کے حوالے سے کئی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں اور کئی لوگوں نے اس منظر کو دیکھنے کے لیے مذکورہ کِلپ کی تلاش شروع کر دی اور اس حوالے سے کئی مضامین بھی لکھے گئے۔

کہا جاتا ہے کہ اس دن اس واقعے کے لائیو نشریات کے دوران پیش آتے ہی حیران و پریشان تکنیکی عملے نے کیمرے کے سامنے اندھیرا کر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ منظر براہ راست محض چند سو لوگوں نے ہی دیکھا تھا۔

ماضی میں کچھ لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے یہ ویڈیو دیکھی تھی، لیکن ان کے پاس اپنے دعوے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سنہ 1974 میں انٹرنیٹ اور اس قسم کے دیگر جدید ذرائع موجود نہیں تھے جہاں کسی ویڈیو کو محفوظ کیا جا سکتا تھا۔

شاید اس ویڈیو کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کرسٹین کی خودکشی کا واقعہ مزید پرتجسس بن گیا کیونکہ جو شخص یہ کہانی سنتا، اس کی خواہش ہوتی کہ وہ اس واقعے کی ویڈیو ضرور دیکھے۔ اس واقعے سے متعلق چھپنے والی خبروں کے مطابق چینل خود بھی اس پروگرام کو کبھی کبھار ہی ریکارڈ کرتا تھا۔

کرسٹین کے ساتھ کام کرنے والے ایک صاحب گورڈن گیلبرائتھ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس دن نشریات کے دوران سٹیشن پر موجود تھے جب یہ واقعہ ہوا۔ ڈاکیو ڈرامے ‘کیٹ پلیز کرسٹین’ میں وہ کہتے ہیں کہ اس دن کرسٹین نے کہا تھا کہ اس دن کا پروگرام ریکارڈ کیا جائے۔

انھوں نے ایسا ہی کیا، لیکن اس ہولناک واقعے کے بعد حالات پیچیدہ ہو گئے۔ ان کے بقول ان دنوں میں ’سب سے بڑی بحث یہی تھی کہ ہم اس (ریکارڈنگ) کا کیا کریں۔ آخر کار سٹیشن (چینل) کے مالک نے فون کیا اور کہا کہ واشنگٹن میں مقیم ان کے وکلا کی ٹیم نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت یہ ریکارڈنگ کسی کو نہ دکھائی جائے۔‘

ڈاکیو ڈرامے ’کیٹ پلیز کرسٹین‘ میں یہاں سے آگے کی کہانی سٹیو نیومن سناتے ہیں جو ان دنوں چینل پر موسم کا حال بتاتے تھے۔ ان کے بقول ‘اس دن کی ریکارڈنگ کی صرف ایک کاپی ایسی ہے جو آج تک موجود ہے کیونکہ اس کی کوئی دوسری کاپی نہیں بنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اگر کوئی کہے ’میں خودکشی کرنا چاہتا ہوں‘ تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

خودکشی کو شکست دینے والی کراچی کی طالبہ

’ذہنی اور دوستوں کا دباؤ منشیات کے استعمال کی اہم وجہ‘

آن لائن جریدے ولچر ڈاٹ کام کے مطابق لگتا ہے کہ جب تک یہ کاپی ڈبلیو ایکس ایل ٹی (چینل فوٹی کا مالک چینل) نامی چینل کے ہیڈ کوارٹر میں موجود تھی، اس وقت تک اسے صرف ایک شخص نے دیکھا تھا۔ ویب سائٹ کے مطابق واشنگٹن پوسٹ کے لیے اس واقعے پر تفصیلی رپورٹ لکھنے والی سیلی کوئن نے انھیں بتایا تھا کہ کرسٹین چبک کی خودکشی کے چند دن بعد جب وہ تفصیلی خبر لکھ رہی تھیں تو اس دوران انھوں نے چینل کے دفتر میں یہ ریکارڈنگ ‘کئی مرتبہ’ دیکھی تھی، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں کہ اس کے بعد وہ ریکارڈنگ کہاں گئی۔

ویب سائٹ کے مطابق بعد میں یہ چینل ڈبلیو ڈبلیو ایس بی کے نام سے کام کرنے لگا تھا اور اس کے مطابق مذکورہ ریکارڈنگ ان کے پاس نہیں ہے۔

سنہ 2016 میں ’پیپل ڈاٹ کام‘ سے بات کرتے ہوئے کرسٹین چبک کے بھائی گریگ چبک نے اس قسم کی افواہوں کا ضمنی طور پر ذکر کیا تھا۔ گریگ چبک کا کہنا تھا کہ ان کے گھر والوں نے یہ قانونی حکم نامہ حاصل کر لیا تھا کہ سٹیشن وہ ریکارڈنگ کبھی نہیں دکھا سکے گا جو ‘حکام’ نے اپنے قبضے میں لے لی تھی اور پھر بعد میں کرسٹین کی والدہ کو دے دی تھی۔

گریگ چبک کے بقول ان کی یاداشت دھندلا چکی ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ‘آج تک میں نہیں جانتا کہ وہ (ٹیپ) کہاں ہے، لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ کسی شخص کو بھی یہ ٹیپ کبھی نہیں ملے گی۔‘

کرسٹین نے آخر ایسا کیوں کیا؟

سیلی کوئن کے مطابق اس المناک واقعے کے چند ہی گھنٹے بعد، جب ہسپتال نے کرسٹین کی موت کی تصدیق بھی نہیں کی تھی، ان کی والدہ نے بھی ایک مقامی رپورٹر کو انٹرویو دیا تھا۔

اس انٹرویو میں کرسٹین کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ‘بہت، بہت زیادہ، بہت زیادہ افسردہ اور ذہنی دباؤ میں تھی۔ اس کے پاس اپنی پسند کی ملازمت تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ اگر اس کی نوکری کل ختم ہو جاتی ہے تو وہ تب بھی خوش رہے گی کہ وہ جو کام کرنا چاہتی تھی وہ اس نے کر لیا ہے۔ ملازمت کے علاوہ اس کی زندگی میں کچھ اور نہیں تھا، کوئی سوشل لائف نہیں تھی۔ نہ اس کا کوئی دوست تھا، نہ کوئی رومانوی لگاؤ اور نہ ہی کسی رومانی تعلق کا کوئی امکان۔

وہ 29 برس کی تھی (مگر) کنواری تھی اور میں اسے پریشان کرتی رہتی تھی۔ وہ لوگوں سے تعلق نہیں بنا پاتی تھی۔ اصل مسئلہ یہی تھا۔ وہ بہت حساس تھی۔ وہ لوگوں سے بات کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی۔ وہ کہتی ‘ہیلو آپ کا کیا حال ہے، آپ میرے ساتھ کافی نہیں پیئیں گے۔‘ لوگ انکار تو نہیں کرتے، لیکن یہ بھی نہیں کہتے کہ ‘تم ہی آ جاؤ میرے ساتھ کافی پینے۔‘

والدہ کا مزید کہنا تھا ’کرسٹین کی ذاتی زندگی میں جو لوگ تھے، کرسٹین کے ساتھ ان کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اور اس چیز نے کرسٹین کو بہت پریشان کر دیا تھا۔ وہ ذہنی دباؤ میں رہنے لگی۔ وہ ذہنی امراض کے ماہر کے پاس بھی جاتی تھی لیکن اس ماہر کے خیال میں کرسٹین قطعاً اتنی غمگین بھی نہیں تھی کہ وہ اپنی زندگی ختم کر سکتی تھی۔

کرسٹین کو لگتا تھا کہ اگر آپ ڈِپریشن سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کر لیتے ہیں، تو آپ خود کو تیار کر لیتے ہیں۔ آپ ایک مرتبہ پھر لوگوں کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور اگر پھر بھی کوئی آپ کا ہاتھ نہیں تھامتا تو (آپ کو سمجھ جانا چاہیِے) کہ آپ کے اندر کوئی مسئلہ ہے۔ کرسٹین کو محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے علاوہ کسی دوسرے شحص سے تعلق نہیں جوڑ پائے گی۔ وہ صرف 29 برس کی تھی، جو کہ بڑے دکھ کی بات ہے۔‘

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق 16 برس کی عمر میں کرسٹین نے اپنے بوائے فرینڈ کو ایک گاڑی کے حادثے میں کھو دیا تھا۔ کرسٹین کے بھائی نے اپنے انٹرویو میں پیپل ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ ’میرے خیال میں کائیکر ڈیو ان کی اصلی محبت تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ 21 برس کی عمر میں کرسٹین نے ایک اور شخص کو ڈیٹ کرنا شروع کیا جو 30 برس کے تھے مگر اُن کے والد کو اُس شخص کی عمر اور مذہب ناقابل قبول تھے۔ وہ یہودی تھا اور اُن کا رشتہ زیادہ دن نہیں چلا۔‘

گریگ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے بعد اُن کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں تھا۔‘

کرسٹین بچپن ہی سے ڈپریشن کا شکار رہی تھیں اور اس بات کا اظہار اُن کے بھائی نے میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں بھی کیا۔ اُن کے بقول اُن کے والدین نے کرسٹین کے علاج پر ہزاروں ڈالر خرچ کیے۔

یہ بھی پڑھیے

’میں نے بیٹے کی موت کے بارے میں سچ بولنا شروع کیا‘

ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

میوزک انڈسٹری کے ’گندے راز‘: ’مجھے زبان بند رکھنے کے لیے بیس ہزار پاؤنڈ کی پیشکش کی گئی‘

اُن کے بھائی نے کرسٹین سے متعلق یہ دعویٰ بھی کیا کہ اُن کے خیال میں ان کی بہن بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار تھیں۔ اس حوالے سے اُس وقت زیادہ معلومات نہیں تھیں اور اُن کے مطابق کرسٹین علاج کے باوجود نفسیاتی اور ذہنی مسائل سے چھٹکارا نہ پا سکیں۔

ایک انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ ’وہ انتہائی قابل تھیں مگر انھیں احساس کمتری رہتا تھا اور انھیں کبھی اپنی قابلیت پر اعتماد نہیں ہوتا تھا۔‘

ڈاکیو ڈرامے ‘کیٹ پلیز کرسٹین’ میں اداکارہ کیٹ لِن شل کرسٹین کی کہانی میں ڈوب کر اُن کی خودکشی کی وجوہات سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

کیٹ لن شل کا کہنا تھا کہ ’وہ نہیں جانتی کہ انھوں (کرسٹین) نے جو کیا وہ کیوں کیا اور شاید وہ یہ کبھی بھی نہ جان سکیں۔

کیٹ لن شل کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے سرعام ٹی وی پر اپنی جان لی، یہ ہمارے معاشرے میں زندگی کے نجی پہلوؤں کو منظر عام پر لانے کی اجتماعی خواہش کی عکاس بھی ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔‘

’کرسٹین‘ نامی فلم میں اُن کا کردار ہالی ووڈ کی اداکارہ ربیکا ہال نے ادا کیا تھا۔ یہ فلم دراصل اس کہانی کی ڈرامائی تشکیل ہے جس میں کرسٹین کی اس بڑھتی مایوسی کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس نے آخرکار انھیں خودکشی پر مجبور کر دیا۔

ربیکا ہال کا کہنا تھا کہ کرسٹین نے ’جو کیا اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ مگر ہم اس افسوسناک واقعے کو کسی طرح بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کر رہے، بس اُن کی موت ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔’

خون بہتا ہے تو شہ سرخی بنتی ہے

فلم ‘کرسٹین’ کے ایک منظر میں وہ کہتی ہیں کہ میری شدید خواہش ہے کہ مجھے کام پر ترقی ملے۔‘ دوسرا کردار اُن سے پوچھتا ہے کیا آپ نے ترقی مانگی ہے۔ وہ جواب میں کہتی ہیں مانگی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ مجھے مختلف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اُن کے باس ایک میٹنگ میں مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ’ہمیں زیادہ ریٹنگز چاہیے‘۔ پھر کمرے پر موجود ٹی وی پر گولی چلنے کی وڈییو دکھائی دیتی ہے اور گولی چلنے کی آواز کرسٹین کے کردار سمیت سین میں موجود سب کو چونکا دیتی ہے اور کرسٹین کے باس مشہور جملہ کہتے ہیں ‘اِف اِٹ بلیڈز اِٹ لیڈز‘ یعنی اگر خون بہتا ہے تو شہ سرخی بنتی ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ اس طرح کے مسائل نے اُن کے دیرینہ نفسیاتی اور ذہنی مسائل میں اضافہ کر دیا تھا۔

اپنی جان لینے سے کچھ ہفتے پہلے کرسٹین نے خودکشی کے بارے میں کہانیوں کو پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی مگر اُنھوں نے ڈپریشن کے خلاف اپنی جنگ کو سب سے چھپائے رکھا۔

کرسٹین چبک نے خودکشی سے قبل جو کچھ کہا تھا وہ الفاظ ان مسائل کی عکاسی کرتے ہیں جن کا رجحان میڈیا کے منظر نامے میں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے اور آج کے دور میں پہلے سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

کرسٹین چبک کی خودکشی کے بعد ٹی وی چینل کے مینیجر نے اُن کی ہلاکت کی ذمہ داری سے کمپنی کو دستبردار قرار دے دیا تھا اور اُن کی ناکام محبت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دراصل ‘وہ ایک 29 برس کی لڑکی تھی جو چاہتی تھی کہ اس کی شادی ہو اور ایسا نہیں ہوا۔‘

کرسٹین کے حالاتِ زندگی پر بننے والے ڈاکیو ڈرامہ کے ڈائریکٹر رابرٹ گرین کہتے ہیں کہ ’ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک سنجیدہ صحافی تھیں اور وہ خون خرابے والی خبروں کے رجحان سے تنگ آچکی تھیں مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انھوں نے خبروں میں خون خرابے والے کام کی انتہا کر دی تھی۔ میں ذاتی طور پر اس طرح کے تضاد کا کوئی جواز نہیں پیش کر سکتا۔‘

ربیکا ہال کا کرسٹین کو پیش ذہنی مسائل کے بارے میں کہنا تھا کہ ’یہ ایک ایسے شخص کی بہت قریب سے دکھائی جانے والی کہانی ہے جس کی مشکلات کا ہم اعتراف کرتے ہیں، ایک ایسا شخص جسے اپنی بقاء کی جنگ لڑنی پڑ رہی تھی۔ وہ معاشرے کے قائم کردہ معیاروں پر پوری نہیں اترتی تھیں اور وہ مسلسل جذبات کی رو میں بہتی جا رہی تھیں اور وہ اس کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھیں۔‘

اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر اُن کے پاس وہ ایموشنل ٹولز (ذرائع) اور ذہنی مسائل اور برے سلوک کا مقابلہ کرنے کے وسائل ہوتے تو میرے خیال میں وہ بچ جاتیں۔ مگر اس وقت اس ذہنی مرض کی تشخیص اور علاج دستیاب نہیں تھا۔ وہ بس ایک عورت تھیں جو بہت تلخ دنیا میں گزارا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔‘

ربیکا ہال کے بقول ’یہ خبروں میں پِس جانے کا روزمرہ کا معمول تھا جس کی وجہ سے آخر کار کرسٹین کو احساس ہوا کہ بس اب وہ اس کا حصہ نہیں رہ سکتیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words