جب ”بابا“ کے ہاتھوں ”بے بی“ کی حکومت برطرف ہوئی
ذکر ہے 6 اگست 1990 ء کی ایک حبس زدہ سہ پہر کا، اسلام آباد میں ظاہری طور پر تو سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا لیکن اسی شہر خوباں کی خاموش فضا سمے کی رینگتی ساعتوں کو کچھ انہونی کا مژدہ سنا رہی تھی، ساڑھے تین بجے سہ پہر دارالحکومت کے کچھ علاقوں سے فوج کے دس، بارہ ٹرک گزرتے دکھائی دیے جن کے آگے ایک جیپ رواں دواں تھی، جیپ اور ٹرکوں میں سوار فوجیوں نے اپنی مشین گنوں کو الرٹ انداز میں اٹھا رکھا تھا اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر تھیں، یہ قافلہ ایف 8 سے ہوتا ہوا بلیو ایریا کے اس میدان میں رک گیا جہاں کچھ عرصہ قبل قومی صنعتی نمائش منعقد ہوئی تھی، سوا چار بجے یہاں سے فوجی دستوں کو طے شدہ ٹھکانوں پر تیزی سے پہنچنے کا حکم ملا۔
دوسری جانب شاہراہ دستور پر ایستادہ ایوان صدر کی عالی شان عمارت میں بھی گہماگہمی معمول سے کچھ زیادہ نظر آ رہی تھی، ساڑھے چار بجے کے لگ بھگ سینئر صحافیوں کو فوری طور پر ایوان صدر پہنچنے کے لیے کہا گیا، جہاں شام پانچ بجے صدر غلام اسحاق خان نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران آئین کے آرٹیکل 58 ( 2 ) بی کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیے جانے کی سناؤنی دی۔
2 دسمبر 1988 ء کو 35 سال کی عمر میں پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے والی بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی وہ ”انہونی“ تھی جس کی ”ہونی“ کا علم سیاسی و عسکری حلقوں کے بہت سے عالی منصب لوگوں کو دو دن پہلے سے تھا، اس ”انہونی“ پر انہیں اس حد تک یقین تھا کہ 6 اگست کی صبح معاصر روزنامہ ”نوائے وقت“ میں مرحوم عارف نظامی نے صدر مملکت کی طرف سے اسمبلیاں توڑ کر نگران حکومت قائم کرنے اور غلام مصطفی جتوئی کے نگران وزیراعظم مقرر ہونے کی خبر شائع کر دی۔
خواجہ احمد طارق رحیم نے 6 اگست کی صبح کابینہ کے اجلاس میں بتایا کہ آج صدر اہم فیصلہ کرنے والے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس آٹھ اگست کو طلب کرنے سے متعلق جو سمری چار روز قبل ایوان صدر کو ارسال کی گئی تھی اس پر اب تک کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے، ان اطلاعات کے بعد دوپہر کو بے نظیر بھٹو صدر اسحاق خان کو فون کر کے ان سے دریافت کرتی ہیں : ”کیا آپ اسمبلیاں توڑ رہے ہیں؟“ جس کے جواب میں صدر مملکت انہیں کہتے ہیں : ”یہ سب افواہیں ہیں، میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کروں گا“ ۔ صدر مملکت کی یقین دہانی سے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو مطمئن ہو گئیں تاہم پریس کانفرنس کرنے سے کچھ دیر قبل صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کو فون کر کے اسمبلیاں توڑنے کے ”اچانک“ فیصلے سے آگاہ کیا۔
پریس کانفرنس میں بے نظیر حکومت کے خاتمے کی جو وجوہات بیان کی گئیں وہ کم و بیش وہی تھیں جو جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988 کو محمد خان جونیجو حکومت کے خاتمے کے وقت بیان کی تھیں، اپنی پریس کانفرنس میں صدر غلام اسحاق خان نے صوبہ سندھ کے ضلع نواب شاہ (بے نظیر آباد) سے تعلق رکھنے والے غلام مصطفیٰ جتوئی کو تین ماہ کے لیے نگران وزیر اعظم مقرر کرنے کا اعلان کیا جن کو بے نظیر بھٹو ”انکل“ کہتی تھیں۔
حکومت کی برطرفی کا اعلان کرنے کے بعد غلام اسحاق خان ایوان صدر کی بالائی منزل پر پہنچے تو بے نظیر بھٹو سے تمغہ جمہوریت حاصل کرنے والے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ سمیت پاک فوج کی پوری قیادت وہاں موجود تھی، حتیٰ کہ اس روز ملتان کے دورے پر موجود چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی ایڈمرل افتخار احمد سروہی کو دوپہر کے وقت فون کر کے فوراً اسلام آباد پہنچنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
صدر غلام اسحاق خان نے فوجی قیادت کی موجودگی میں غلام مصطفیٰ جتوئی سے نگران وزیراعظم کا حلف لیا، ان کے ساتھ چار رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا، جس میں رفیع رضا، غلام مصطفیٰ کھر، سرتاج عزیز اور الٰہی بخش سومرو شامل تھے، اسی روز پنجاب میں غلام حیدر وائیں اور سندھ میں جام صادق علی نے نگران وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
بے نظیر بھٹو حکومت کے خاتمے کی کوششیں تو بہت عرصے سے جاری تھیں، ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی گئی جو ناکام ہو گئی تھی، اس کے علاوہ راجیو گاندھی کے ساتھ اسلام آباد میں ان کی ملاقات بھی مقتدر قوتوں کو بہت ناگوار گزری تھی، اس موقع پر بے نظیر بھٹو پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے خالصتان تحریک کے رہنماؤں کی فہرستیں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو دی تھیں، بے نظیر بھٹو کے خلاف پہلے روز سے ہی اسلامی جمہوری اتحاد اور میاں محمد نواز شریف نے سیاسی محاذ گرم کر رکھا تھا، اس سارے عرصے کے دوران آصف علی زرداری کی حکومتی معاملات میں مداخلت کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بن رہی تھیں اور انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب بھی دیا جا چکا تھا لیکن اس کے باوجود بے نظیر حکومت کے خاتمے کی فوری ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔
بے نظیر بھٹو کے بارے میں عام تاثر یہی تھا کہ انہیں امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اس دوران یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ پاکستان میں امریکی سفیر رابرٹ اوکلے نے چند امریکی سینیٹروں کے ہمراہ غلام اسحاق خان سے ملاقات کی اور انہیں یہ پیغام دیا کہ بے نظیر حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے تو پھر ایسی کیا فوری وجہ تھی جو بے نظیر بھٹو کی برطرفی کا سبب بنی؟
کچھ صحافتی حلقے 2 اگست 1990 ء کے واقعے کو بے نظیر حکومت کے خاتمے کی اصل وجہ قرار دیتے ہیں، اس روز عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا تھا اور کویتی حکمرانوں کو فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی تھی، یہ وہ مرحلہ تھا جب پاکستان کے لیے اپنے دیرینہ دوست سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اپنی فوج وہاں بھیجنا ضروری ہو گیا تھا اور یہی وہ مرحلہ تھا جب غلام اسحاق خان کے لیے بھی بے نظیر حکومت کے خاتمے کے لیے حمایت حاصل کرنا آسان ہو گیا۔
تاہم 27 دسمبر 2019 ء کو معاصر روزنامہ ”جنگ“ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں صحافی فخر درانی نے سندھ میں ایم آئی کے سابق چیف بریگیڈئیر (ر) حامد سعید اختر کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ 6 اگست 1990 ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کی بڑی وجوہات میں ایک بڑا سبب ان کا عوامی سطح پر یہ بیان بھی تھا کہ پاک فوج نے یورینیم کی افزودگی میں اس ریڈ لائن کو پار کیا ہے جو بڑی طاقتوں کے لئے قابل قبول نہیں، بریگیڈئیر (ر) حامد سعید اختر نے بتایا کہ بظاہر بھاری کرپشن اور پکا قلعہ حیدر آباد میں پولیس آپریشن بھی وجوہات تھیں مگر پی پی پی رہنما کی حکومت کی سابق صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں برطرفی کی بعض دیگر وجوہات بھی تھیں۔
بریگیڈئیر (ر) حامد کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے روبرو پیش کیے گئے بیان کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت نے پکا قلعہ حیدر آباد میں آباد مہاجر آبادی کے خلاف اس روز پولیس آپریشن شروع کیا جس روز وزیر اعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور کور کمانڈر بیرون ملک دورے پر تھے اور فوجی یونٹ سالانہ مشقوں میں مصروف تھے، اس آپریشن کے دوران پولیس نے درجنوں مرد و خواتین اور بچوں کو قتل کیا، یہ معاملہ اعلیٰ قیادت تک پہنچایا گیا، صدر غلام اسحاق خان نے فوج کو باہر آنے اور یہ کشت و خون بند کرانے کا حکم دیا، سٹیشن کمانڈر حیدر آباد نے فرائض کے لئے تقریباً 300 جوانوں کو اکٹھا کیا اور اس مقام پر پہنچے، ان کی مداخلت پر پولیس فورس پیچھے ہٹی، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے پاکستان واپسی پر پریس میں بیان دیا کہ فوج نے مہاجروں کو پی او ایف میں تیار شدہ ہتھیار فراہم کیے ، پولیس نے یہ ہتھیار برآمد کرنے کے لئے پکا قلعہ کا گھیراؤ کیا، جب پولیس فورس اس ذخیرے تک پہنچنے والی تھی تو فوج کود پڑی اور فوجی گاڑیوں میں ہتھیار اٹھا کر لے گئے۔
بریگیڈئیر (ر) حامد سعید اختر نے دعویٰ کیا کہ اسی سال وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے عوامی سطح پر فوج پر تنقید کی کہ وہ یورینیم کو اس سطح پر افزدہ کر کے ریڈ لائن پار کر رہی ہے جو بڑی طاقتوں کے لئے قابل قبول نہیں اور انہوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے خالصتان تحریک کچلنے کے لئے بھارت کی حمایت کا اظہار کیا، کچھ دن بعد وزیراعظم نے سندھ میں سالانہ مشقوں پر فوج پر تنقید کی، جس پر آئی ایس پی آر کو وضاحت دینا پڑی کہ قانون کے مطابق آرمی چیف ملک کے کسی حصے میں تربیتی مشقوں کے لئے کسی سے اجازت لینے کے پابند نہیں۔
ایم آئی کے سابق صوبائی چیف نے دعویٰ کیا کہ اس سال کے دوران حکومت نے ریلوے، پی آئی اے، کسٹمز، کے پی ٹی، امیگریشن، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور دیگر حساس محکموں میں پرکشش اسامیوں پر الذوالفقار کے کارکنوں کو بھرتی کیا جس سے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا گیا۔ بریگیڈئیر (ر) حامد سعید اختر کے مطابق جب غلام اسحاق خان کے سامنے محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے تو سابق صدر نے متعلقہ حکام کو بے نظیر بھٹو کے لئے ایک بریفنگ کے اہتمام کی ہدایت کی تاہم اس کے بعد بھی صورت حال بہتر نہ ہوئی جس پر سابق صدر کو آرٹیکل 58 ( 2 ) بی کو حرکت میں لانا پڑا۔


