ڈی۔ آئی۔ جی کی محبوبہ (11)


دسویں قسط کا آخری حصہ

ٹیپو سے بینو کو عشق ہے۔ وہ اس کے پہلے مرد ہیں۔ فیض یاد ہے نا کہتے تھے جن کی آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے۔ ڈونگا گلی سے تو آخری ملاقات تک وہ ان کی نگاہوں کا ایک ایک رنگ، ہر لباس، ان کے لمس کا ہر ذائقہ، ان کی آغوش کی ہر خوشبو کو Recount کرسکتی ہے۔ اب وہ یہاں کینڈا میں نہیں تو اس کے باوجود جب زونی کو وہ گلے لگاتی، یا سونگھتی ہے تو اس میں بینو کو ان کی خوشبو آتی ہے

٭٭٭  ٭٭٭

ٹوانہ جی کا چوتھے مہینے کے اختتام پر فون آیا۔ ابو کو کہہ رہے تھے بینو کو تین دن میرے پاس چھوڑ جائیں۔ اسلام آباد میں اس کا ویزہ لگوانا ہے۔ فارن آفس والوں نے ہائی کمشنر کو سفارتی چھٹی لکھ دی ہے. اسناد وغیرہ کی تصدیق بھی کرانی ہے۔ بینو کو بھوربن میں رکھا تھا۔ بہت پیار کیا۔ بینو نے دونوں مردوں کے اظہار الفت میں ایک بڑا فرق محسوس کیا ہے۔ سوچے تو وہ ظہیر کو بھی اس شمار قطار میں ڈال سکتی ہے۔ ظہیر کے سامنے تو اسے لگتا تھا کہ وہ ابرار الحق کا پریتو میرے نال ویاہ کر لے والا گیت تھی جسے کسی نے غلطی سے سوئم، چہلم پر بجا دیا۔ سو اس کا ذکر، حرف زیاں ہے۔

ٹیپو کی الفت میں مردانہ تسلط کا گماں ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے فوج اسے دشمن کا مفتوح علاقہ سمجھ کر کمانڈوز اور ٹینکوں سمیت بستر میں گھس آئی ہے۔

 ٹوانہ جی البتہ اسے پیار کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے وزارت داخلہ سے گویا ممنوع بور کے اسلحہ کا لائسنس اور خصوصی اجازت لی ہوئی ہے۔ بستر میں گالیاں بھی بکتے ہیں۔ بینو کے لیے نہ تو گالیوں میں مذکور عمل اب نیا ہے، نہ ہی وہ اعضا جن کا ذکر گالیوں میں ہوتا ہے۔ ان اعضا میں آدھے تو اس کے اپنے پاس بھی ہیں۔ ۔

ٹیپو کا بچہ پیٹ میں ہونے کے باعث شاید اسے ٹوانہ صاحب کی رفاقت میں الجھن ہو سکتی تھی مگر وہ جان چکی ہے کہ محبت اور اس کا اظہار، دو مختلف تجربات ہیں۔ دونوں کا آپس میں کوئی تال میل نہیں بھی ہوسکتا۔ عورت چاہے اور طوائفوں کی اکثریت تو شاید ایسا ہی کرتی ہے کہ وہ ان لمحات وصال کو حلوائی کے مٹھائی سے پیار کے طور پر نبھاتی ہے۔ عورت کا جسم اور عورت کا دماغ کا تعلق ایسا ہی اختیاری بھی ہوسکتا ہے جیسا ریل کے انجن کا ڈبوں سے یاAircraft Tow Tractors  کا ہوائی جہاز سے ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ہوائی جہاز ٹیوب سے ہٹ جائے یا ٹیک آف رن وے کی جانب سیدھا کردیا جائے تو ٹو ٹریکٹر کو ہوائی جہاز ساتھ لے کر تھوڑی اڑتا ہے۔ ٹرین کا انجن بھی تو بہت سے ڈبے پیچھے چھوڑ کر نئی مسافت پر روانہ ہوجاتا ہے۔

جذبات کی بات کریں توبھارت کی فلم انڈسٹری میں وہ جو عورتوں کے دل مسلم کی طرح قلب کو گرمانے اور روح کو تڑپانے والے سریلے من بھاﺅنے ہندی گیت ہوتے ہیں ان کے گلوکار، موسیقار اور گیت کار ایسے ادھیڑ عمر مرد ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ ان کی ماں اور بیوی کے علاوہ کبھی کوئی عورت ان کے قریب سے بھی گزری ہوگی۔ جیسے راجہ مہدی علی خان جن کے دو گیت مدھرتا اور نسوانی سپردگی اور آنند بخشی جی کا گیت شرارت اور مدھرتا کا انت ہیں

اگر مجھ سے محبت ہے مجھے سب اپنے غم دے دو (فلم آپ کی پرچھائیاں)

آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے(ان پڑھ)

دل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے۔

سو بینو کی سپردگی کو بھی آپ ریل کے انجن اور Aircraft Tow Tractors کے کھاتے میں ڈال دیں۔

اب کی دفعہ بینو ٹوانہ صاحب کے پاس تھی تو بہت پیار کیا۔ کہہ رہے تھے ملتان جا کر سامان پیک کرے بس ایک اٹیچی کیس۔ ضروری دستاویزات۔ اچانک نکلنا ہوگا۔ امی ابو کو سمجھا دے کہ ان کے اپنے اور ظہیر کے پیچھے بھی ایجینسیاں سیاسی چکر میں بلاوجہ پڑی ہیں۔ چیف منسٹر صاحب نے اوپر سے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے اپنے قریبی شمار ہونے والے تین چار افسروں کو خود ہی شارٹ ہونے کو کہا ہے۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں۔ دونوں کراچی سے یا پشاور سے افغانستان کے راستے دوبئی۔ اوساکا اور وینکور جائیں گے۔

سی ایم صاحب نے یقین دلایا ہے کہ اگر انہوں نے زبان بند رکھی اور نیب کو پکٹرائی نہ دی تو جیسے ہی حالات ٹھیک ہوئے تو وہ ان کا عرصہ مفروری (غیر معمولی چھٹی) مان کر تنخواہ سمیت انہیں عہدوں پر بھی بحال کردین گے۔ سینارٹی کے حساب سے اگر واجب ہوا تو پروموشن بھی کردیں گے اور ریٹائرمنٹ کا معاملہ ہوا تو کسی کارپوریشن، فاﺅنڈیشن، محتسب یا سفیر کے عہدے پر بھیج دیں گے۔ بینو خوش ہے کہ ظہیر اور ٹیپو کے رشتوں میں نصیب کا یہ اچھال خوابوں میں بھی ممکن نہ تھا۔ اسے ٹوانہ صاحب کی رفاقت میں اپنائیت اور ملکیت دونوں کا بھرپور احساس ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہر برہنگی پر اسے ٹیپو کی نگاہوں کے سائے اس کے بدن پر پھیلتے سمٹتے محسوس ہوتے ہیں۔

ابو امی اور بینو ان دنوں ملتان میں اس لیے رہتے ہیں کہ ٹیپو جی نے وہاڑی والے بینو کے  ڈی ٹیل مینٹ کے آرڈر کینسل کرا لیے ہیں۔ اس کا کارن یہ ہے کہ انہیں ملتان اور بہاولپور اور ڈیر غازی خان تینوں ڈویژنوں کے معاملات کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ اس وقت اس ریجن کے وہی سب سے بڑے افسر ہیں۔ آج کل ملتان میں کوئی ان سے اوپر بڑا افسر نہیں۔

 Slush فنڈز بہت ہیں سو ایک لاکھ روپیہ ٹیپو جی بھی ہات خرچے کا دے دیتے ہیں۔

ان کے ادارے میں تین نئے ماتحت افسر پوسٹ ہوئے ہیں۔ ٹیپو جی نے فیلڈ آپریشنز کی ذمہ داری انہیں سونپ رکھی ہے۔ ڈیرہ غازی خان والے کو مستقل وہاڑی میں رکھا ہے۔ جاسوسی کے چار سو پھیلے نیٹ ورک کے حوالے سے ناممکن ہے کہ بینو سے وہ وہاڑی میں مل پائیں۔ ان کے خیال میں ایسی صورت میں ان کا وہاڑی آنا خطرے اور بدنامی دونوں سے خالی نہیں۔

ٹوانہ صاحب کے کسی کزن کا بنگلہ گل گشت کالونی میں خالی ہے۔ سو بینو اور اس کے والدین اسی میں رہتے ہیں۔ مالک مکان ان کا کزن اور کسٹم کا اپریزر ہے۔ اس کی پوسٹنگ کراچی میں ہے۔ ٹوانہ جی نے ہدایت کررکھی ہے کہ کسی کو نہیں بتانا کہ وہ کس کے کرایے دار ہیں کیوں کہ بنگلہ کبھی مستقل طور پر کسی ایک فیملی کے زیر استعمال نہیں رہا۔ ٹوانہ جی بھی اب یہاں چھپتے چھپاتے آ جاتے ہیں۔

ابو نے ٹیپو جی کو نہیں بتایا کہ یہ گھر کس نے دیا ہے۔ فطرتاً کھوجی ہیں۔ پوچھا تو کہہ دیا کہ عزیزوں میں کسی بیوہ کا ہے۔ شوہر کا انتقال حال ہی میں ہوا ہے سو وہ اپنے والدین کے پاس عدت میں پنڈی میں مقیم ہیں۔ یہاں ملاقات کا اس لیے منع کیا ہے کہ ارد گرد بھی اس خاتون کے عزیزوں کے گھر ہیں۔ ابو نے ایک آدھ مرتبہ ان سے بینو کی شادی کا پوچھا تو بینو سے ناراض ہوئے کہ انہیں بچے کے بارے میں نہ بتایا ہوتا تو بہتر تھا۔ بینو نے کہا سنیں اگر آپ اپنے گھر میں باپ نہیں بنے تو مجھے بتائیے ابو اسے الٹیاں کرتے اور الٹی سیدھی چیزیں کھاتا دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بچی کے ساتھ کوئی گڑبڑ ہوئی ہے۔ شکر کریں ان کا ارادہ تو لاہور میں آپ کی بیگم اور بڑون سے دونوں سے مل کر اصل واردات بتانے کا تھا۔ اتنا سننا تھا کہ ٹیپو جی کا تو جیسے خون خشک ہوگیا۔ آواز گلے میں رندھ گئی۔

ان کے اشتعال اور انتشار کے آگے بند باندھنے کے لیے بینو نے لب و لہجہ دھیما کیا۔ تریا چلتر (عورت کی چالبازی) دکھاتے ہوئے گلے میں ہات ڈال گود میں بیٹھ گئی۔ پوچھنے لگی کیا وہ باپ بننے پر خوش نہیں۔ چوم کر بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کمال مکاری سے کہا جانو آپ بتائیں میں کس منھ سے یہ پیٹ لے کر ظہیر کے پاس کینیڈا جاﺅں۔ میں ایسا کروں تو بغیر نیشنلٹی کے وہاں میرا اور میرے بچے کا کیا مستقبل ہے۔ میں نے انہیں فی الحال تو یہ دھمکی دے کر روک دیا ہے کہ

He is love of my life. Please don’t you ever do it

اتنا سننا تھا کہ جان میں کچھ جان آئی اور بینو کے ایک سو دس بوسوں کے بعد انہوں نے بھی جواب میں چوما۔ پوچھنے لگے کہ انکل مان گئے؟۔ میں بھی کہوں اتنی سرد مہری کیوں برتتے ہیں۔ پہلے تو ٹیپو میاں اور ٹیپو بیٹا سے نیچے بات نہیں کرتے تھے اب سر اور رینک کا ستعمال کرتے ہیں۔ بینو نے کہا میں نے انہیں کہا کہ آپ نے ٹیپو کو یا ان کے کئیریر کو نقصان پہنچانے کا کوئی قدم اٹھایا تو میں چناب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لوں گی۔ ٹیپو جی مجھے صرف اتنا سمجھا دیں یہ بچہ جو اب میرے پیٹ میں ہے اور جسے میں نے کسی قیمت پر Abort  نہیں کرنا۔ کیا آپ یہ کا بچہ آپ کی Good -Time Sex کا مجھ کنواری دکھیاری کے لیے ایک تمغہ بسالت ہے۔ آپ کو معلوم ہے میرا سب سے بڑا اخلاقی مخمصہ کیا ہے۔ میں نہ تو ایک معصوم بے خطا شوہر کو رسوا کرنا یا دکھ دینا چاہتی ہوں نہ ہی میری محبت مجھے اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ چونکہ اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑانے پر آمادہ ہیں تو میں آپ کی بدنامی اور بربادی میں حصہ ڈالوں۔ آپ کو کیا پتہ کہ عورت جب کسی مرد کو راضی بہ رضا اپنے بچے کا باپ بناتی ہے تو وہ اس کو کتنا بڑا مان دیتی ہے۔ یہ زندگی بھر کا تعلق ہے جو وہ اس کے نام سے جوڑتی ہے۔ آپ کے لیے ممکن ہے میں Prize Catch ہوں۔ آپ میرے لیے اس بچے کے باپ ہیں جو میرے پیٹ میں پل رہا ہے۔ آپ کو کیا پتہ عورت کے لیے پہلا مرد جسے وہ پیار بھی کرے اور اپنی فروغ نسل کا ذمہ بھی سونپے وہ تو اس کے نزدیک دیوتا ہوتا ہے۔ پتی پرمیشور، مجازی خدا۔

آپ کے لیے ممکن ہے یہ جذبات ڈ راموں والے زیادہ کچھ نہ ہوں۔ ایک سستا .Soap Opera  سونی ٹی وی کا کوئی ڈرامہ۔ کسی مرد کا چاﺅ سے بچہ پیدا کرنا ہم عورتوں کے لیے وجود ذات سے جڑے عظیم الشان نسوانی تصوارت ہیں۔ میرا جب یہ پیٹ آپ کی محبت سے پھول کر دکھائی دینے لگے گا تو بتائیں میں اپنے رشتے داروں کو کیسے قائل کروں گی کہ باقی بچے بھلے نو ماہ یا اس سے کم عرصے میں پیدا ہوتے ہوں میرے شوہر کا بچہ گیارہ مہینے میں پیدا ہوا ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ ظہیر کو گئے اب دوماہ سے زائد کا عرصہ ہوچلا ہے۔ کبھی سوچا آپ کی اس حقیر کنیز بے دام نے آپ کا بنا کسی بندھن ایک بنا مال بنا مول کے رکھیل بن کر ہر دفعہ کہنا مانا ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ ملتان وہاڑی اپنے رشتہءداروں کے درمیان اس حرام کی اولاد کے ساتھ کیسے جی سکتی ہوں۔ آپ ابھی قاضی کو لائیں ہم ابھی نکاح پڑھ لیتے ہیں شادی کا اعلان تب کریں گے جب آپ کے کاندھا پھولوں اور پیتل کی ننھی منی تلواروں سے بھر جائے گا۔ ابو کو بھی وہی جھوٹ بولا ہے کہ بورڈ ہوتے ہی پہلی بیگم کو اور ان کے والدین کو اعتماد میں لے کر فوراً شادی کرلیں گے۔

ابو اس جھوٹ کو سمجھتے ہیں مجھے کہتے ہیں پروموشن ہوا تو حضرت رات کی تاریکی میں نئی جگہ پر کسی سفارت خانے میں کور پوسٹنگ پر چلے جائیں گے۔ ہم انہیں کہاں ڈھونڈ تے پھریں گے۔ ہمیں تو ان کا اصلی نام بھی معلوم نہیں۔ ٹیپو کو اس بارے میں کچھ علم نہیں کہ بینو نے بہت خاموشی سے ان کی کئی تصاویر اپنے آئی فون پانچ ایس سے کھینچ کر ہارڈ ڈسک میں لاک کر رکھی ہیں۔ جب وہ اس کے گھر پر جیپ میں سوار ہورہے تھے۔ جب وہ ابو کے ساتھ ملتان جا رہے تھے۔ جب وہ کئی دفعہ برہنہ سو رہے تھے۔ حتی کے انہیں پتہ بھی نہیں چلا مگر ڈونگا گلی میں اپنی سلیفیاں ایسی بھی لیں ہیں جن میں وہ دکھائی پڑتے ہیں۔ وہ عورت جو مرد کو گھیرنا چاہتی ہو وہ اپنے تعاقب میں تنہا ہو کر بھی شیرنیوں کا وہ پرائڈ ہوتی ہے جو کمال انداز تعاقب سے شکار گھیرتی ہیں۔ ایسے موقعے پر وہ موساد اور را کو بھی دھول چٹا سکتی ہے۔ ہماری مجبوری اور بے کسی تو دیکھیں ہمیں محض آپ کی خاطر یہاں رہنا پڑ رہا ہے۔ چپ ہوگئے

چار دن بعد جب ملاقات ہوئی تو بینو سے کہنے لگے سر دست تمہارا مسئلہ اس طرح سے حل کرتے ہیں کہ تمہیں لاہور یا پنڈی میں کوئی گھر لے دیا جائے ایسا کرنے سے بچے والی بات کو میرے پروموشن تک ٹالا جاسکتا ہے۔ اس سے تم اپنے والدین کے ساتھ امی ابو کے ساتھ لاہور میں رہ سکو گی۔ تمہارا لاہور میں خود ٹرانسفر کرادوں گا۔ ٹائمنگ کا اشو ہے تو بچہ سی سیکشن سے کرا لینا۔ بینو نے اس پیشکش میں انہیں احساس دلائے بغیر ایک بہت بڑا کھانچہ دیکھ لیا۔ اسے پتہ ہے کہ اسے ٹوانہ کے ساتھ جلد فرار ہونا ہے سے وہ اگر سمجھ کر کھیلے تو اس میں برق رفتار مالی فائدوں کی امید ہے۔

اس نے بڑا جذباتی پتہ کھیلا۔ دونوں نے کئی دفعہ شاہ رخ ایشوریا اور مادھوری کی فلم وہاڑی میں ساتھ بستر میں لیٹ کر دیکھی تھی۔ بہت سے مشترکہ حوالے تھے۔ اسی لیے اس وقت بھی  جھوٹ موٹ کے آنسو آنکھوں میں لا کر فلم دیوداس میں طوائف چندر مکھی کی طرح کہنے لگی” چھوڑیں ٹیپو صاحب! ہم رکھیلوں کا کیا سوچنا۔ چلیں ہمیں تو آپ اپنی سرکاری جیپ میں بٹھا کر چناب دریا میں پل پر سے اپنے ہاتوں سے دھکا دے دیں۔ دھکا دینے سے الزام سر لگنے کا خطرہ ہے تو یوں کریں پل تک چھوڑ کر الوداع کہہ کر آجائیں۔ آپ کی رکھیل کی آخری خواہش ہے کہ آپ کا چہرہ ہی وہ روپ ہو جو وہ مرنے سے پہلے دیکھنا چاہتی ہے۔ جب آپ دفتر پہنچ جائیں مجھے ٹیکسٹ مسیج کردیں کہ Reached Office -Safely

اس وقت آپ کی یہ چندر مکھی اپنے آئی فون۔ پانچ سمیت سوہنی بن کر خود کو چناب کی بپھری لہروں کے حوالے کر کے جان دے دے گی۔ بس وہ ایک دعا مانگے گی کہ اللہ مرنے کے بعد تو کسی وردی والے افسر سے مت ملانا۔ ظہیر اور ٹیپو نے اتنا تپایا ہے کہ مجھے یہ وردی سے نفرت ہو گئی ہے۔ ہم دونوں ماں بیٹا آپ کو روز محشر کے بھی کچھ الزام نہیں دیں گے۔ ایک بدن تھا یہ سوچ کر بیٹھے تھے ظہیر نے شادی کرکے مول لیا آپ نے استعمال کرکے برباد کیا۔ اس بدن کا کیا پچھتاوا جو آپ کو سونپا، آپ نہ آتے تو مٹی کے حوالے ہو جانا تھا۔ ۔

بانہوں میں سمیٹ کر بینو کو کہنے لگے جذباتی باتیں مت کرو۔ تم ڈونگا گلی میں بھی میری بیوی تھیں۔ تم وہاڑی اور ملتان میں بھی بیوی ہو۔ ہماری شادی اور بچے میں صرف ٹائمنگ آﺅٹ ہے۔ میں نے بات تو کی ہوئی ہے۔ کل آپ اور آپ کے ابو کو لاہور جا کر ایک آٹھ کنال کا گھر دیکھ لیں۔ مل جائے گا۔ بتا رہے تھے۔ ایک چھوٹے سے گروہ کے ارد گرد گھیرا تنگ ہوا ہے۔ ایم پی اے صاحب کی مرضی ہے کہ بندے چھوڑ دیں۔ یہ دہشت گردی سے زیادہ دھندے کی بات ہے۔ اس گروہ کے افراد سرکاری پائپ لائنوں سے بھی تیل چراتے ہیں۔ ان کا ایرانی۔ ڈیزل کی اسمگلنگ کا بھی کام ہے۔ سفارشی سیاست کار کا کہنا ہے گرفتار افراد دہشت گرد نہیں مگر آپ کو پتہ ہے جنوبی پنجاب سارا ہی ایک دوسرے کا رشتہ دار ہے۔ اب ان حرامیوں کی وجہ سے ہم اپنا کاروبار لے کر کہاں جائیں۔ ایک طرف سے یہ مارتے ہیں دوسری طرف سے آپ کے بندے۔ دشمنیاں بھی ہیں۔ کچے کے ڈاکوﺅں سے مقابلے کے لیے ان کا ساتھ بھی ضروری ہے۔ اپنے پروٹیکشن کے لئے ان گرفتار بندوں کے رابطے دہشت گردوں سے ہیں۔

بینو کو کہنے لگے تمہاری خاطر ڈیزل چوروں کو چھوڑ رہا ہوں۔ بینو نے شرارت کی عبدالرحمن ڈکیت کو بھی تو چھوڑا تھا بیگم کے زیورات اور افسر کی جیپ کے لیے۔ وہ کونسا میرا ماموں تھا۔ کہنے لگے گھر خریدنے تم بھی ساتھ چلی جاﺅ تمہارے ابو کو سمجھا دیا ہے۔ کوٹ ادو سے کوئی انہیں لاہور میں نہیں ملے گا۔ ساٹھ ستر لاکھ کا ایک گھر دیکھ لیں۔ مالک مکان کو ان کی طرف سے کیش میں ادائیگی ہوجائے گی۔

تین دن کے قیام کے دوران بینونے ساٹھ لاکھ روپے میں غیر ملکی فٹنگز والا کا ایک چار بیڈ روم کا گھر ای ایم ای کالونی لاہور میں لے لیا ہے۔ دو گلیاں چھوڑ کر اس کے تایا ابو کا بھی گھر ہے۔ یہ ان کے کسی دوست کا تھا جن کی پوری فیملی اب آسٹریلیا ہجرت کر گئی ہے۔ ٹیپو کو ابو نے کہہ دیا کہ سمجھ لیں یہ گھر آپ دونوں کی اولاد کا ہے۔ میں چپ چاپ تب تک ظہیر کے پاس چلی جاﺅں گی جب ٹیپو کینیڈا آئیں گے تو ظہیر سے طلاق لے کر ان سے باقاعدہ نکاح کر لوں گی۔ تب تک امی ابو وہاڑی چھوڑ یہاں لاہور میں رہیں گے۔ اتنی ہی رقم ابو کے اکاﺅنٹ میں ڈیزل چوروں نے اور بھی جمع کرا دی ہے۔ تب تک بچے والے معاملے میں ابو اور بینو کی جانب سے مکمل خاموشی رہے گی۔ بینو نے کہا بھی کہ آپ کی سرکاری مہر سے ایک اشٹام پیپر بنوا لیتے ہیں۔ پہلی دفعہ پتہ چلا کر اسٹامپ پیپر درست ہجے ہیں۔ اس کو قانونی زبان میں ایفی ڈیوٹ کہتے ہیں۔ بچے کا باپ پڑھا لکھا ہو تو اس کے یہ فائدے ہیں کہ آپ کو صحیح ہجے آجاتے ہیں۔

ٹیپو جی کہنے لگے تمہاری زبان میرے لیے آئین پاکستان کا درجہ رکھتی ہے۔ میں نے اس آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ بینو چوں کہ اچھی طرح سے چونا لگا چکی ہے لہذا اس نے ان کے دو تین بڑوں کا نام لے کر چھیڑتے ہوئے ان ہی الفاظ اور لہجے میں کہا۔ جذباتی باتیں مت کرو۔ بھوتنی کے بھانجے یہ بتاﺅ تمہارے ان بڑوں نے کیا کاما سوترا اور نیپال کے آئین پر حلف اٹھایا تھا۔ (جاری ہے)

Latest posts by اقبال دیوان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 90 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments