تندی باد مخالف (3)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فوج سے میں فارغ ہو چکا تھا البتہ جی او سی (جنرل) سے ملاقات باقی تھی۔ مقررہ روز، میں اپنے کماندار کے ہمراہ، عام کپڑوں میں، دن کے ساڑھے بارہ بجے جنرل صاحب کے آفس پہنچ گیا۔ پانچ منٹ کی ابتدائی بات چیت جذبہ خیر سگالی کے تحت ہی ہوئی۔ میں سمجھا بات ختم ہو گئی ہے۔ میں اٹھنے لگا تو کہنے لگے، کیپٹن جمیل، ایک بات نمایاں طور پر آپ کے خلاف جاتی ہے کہ آپ نے مجھے یہ۔ کہا تھا۔ ان کے الفاظ تھے :

One thing is outstanding against you that you said this —- to me.
سر! میں نے کوئی غلط بات کی اور نہ ہی کوئی غلط کام کیا تھا۔ میرے الفاظ تھے :
Sir! I said or did nothing wrong.

اور ساتھ ہی میں نے ملٹری لاء اور آرمی رولز کے حوالے دینے شروع کر دیے۔ جنرل صاحب نے دونوں ہاتھ کھڑے کر دیے اور اپنے بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، میں نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ آپ نوجوان لوگ جب کسی کام کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ ابھی، اسی وقت یہ کام اس طرح ہونا چاہیے۔ جب کہ ہمیں اس کے نشیب و فراز، نفع نقصان یعنی دونوں پہلووں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جیسے آپ سمجھ رہے ہوں، وہ سب کچھ ہمارے اختیار میں بھی ہو۔ میں آپ سے صرف اتنا کہوں گا کہ جب تک میں سروس میں ہوں، آپ اس واقعے کا ذکر کسی اور سے نہ کریں۔

میں نے وعدہ کر لیا کہ ایسے ہی ہو گا۔ کہنے لگے، اب کیا ارادہ ہے اور میں اس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟

جنرل صاحب شاید یہ پیشکش خلوص سے کر رہے تھے لیکن میرے سامنے، مجھے سی ایم ایچ، منگلا، نہ بھیجے جانے کی مثال موجود تھی، جس پر جنرل صاحب پوری طرح با اختیار تھے۔ لہذا کہا، سر آپ کی پیشکش پر میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ پوسٹ گریجوایشن کے سلسلے میں جو کچھ کرنا چاہیے وہ مجھے خود ہی کرنا پڑے گا۔ یہیں پر بات ختم ہو گئی۔ باہر آیا تو کرنل صاحب نے پوچھا ملاقات کیسی رہی؟

معاملات صرف باہمی دلچسپی کے امور تک ہی رہے۔ اس سے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوا، میں نے کہا۔

کہنے لگے اگر آپ کو جلدی نہ ہو تو ہم سی ایم ایچ (جہلم) میں ایک طبی کانفرنس میں شمولیت کر لیں۔ ہم سی ایم ایچ کے بالکل پاس ہی تھے۔ ہم ہسپتال کے ایک ہال میں جا بیٹھے۔ وہاں تیس چالیس کے قریب ڈاکٹر بیٹھے تھے۔ کچھ ڈاکٹر شہر سے بھی آئے ہوئے تھے۔ سرجن میجر، جو چند ماہ قبل امریکہ سے سرجری میں بورڈ کر کے آئے تھے، یعنی کلاسیفائیڈ سرجن تھے، نے ورم معدہ پر ایک کیس پیش کیا۔ ان کے خیال میں اس مریض کا کامیاب آپریشن کیا گیا تھا۔

اتفاق سے ورم معدہ پر میں نے خاصی ریسرچ کر رکھی تھی۔ 1975ء میں جب میں ایم بی بی ایس کے آخری سال میں تھا، اس موضوع پر، برٹش جنرل آف سرجری کے پچھلے پانچ سال کے ماہانہ شمارے دیکھ کر، ایک پیپر (آرٹیکل) لکھ چکا تھا۔ سرجن کی بات جب ختم ہوئی تو میں کھڑا ہو گیا اور سؤال کیا، آپ نے ورم معدہ کے لئے ایک بنیادی سا آپریشن کیا، اب تو اس سلسلے میں خاصا کام ہو چکا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے اسی آپریشن کا انتخاب کیوں کیا؟

میجر صاحب کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔ شہر کے سول ہسپتال کے سرجن، ڈار، جو نئے نئے ایف آر سی ایس کر کے آئے تھے۔ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے بھی کچھ سؤال جواب کیے۔ ان کے خاموش ہونے پر میں پھر کھڑا ہو گیا اور پوچھا، آپ کے مطابق یہ مریض کچھ عرصے سے پیٹ میں درد کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے ورم معدہ کی تشخیص کیسے کی؟

مریض کے چارٹ میں کسی طبی تحقیق کا اندراج نہیں ہے، میجر صاحب نے کہا۔

آپریشن کے دوران ایسا کیا انکشاف ہوا کہ جس پر، ورم معدہ کی تشخیص نہ ہوتے ہوئے بھی آپ نے یہ آپریشن کیا۔

دراصل آپریشن میں نے نہیں کیا، یہ مجھ سے پہلے سرجن نے کیا تھا۔ مریض کے چارٹ پر آپریشن کی تفصیل تو لکھی ہے لیکن سرجری کے دوران، کیا دیکھا گیا، چارٹ میں اس کا اندراج نہیں ہے۔

سر، آپ ایسے کیس پر بحث کرنا چاہتے ہیں جس کی طبی تحقیق ہی نہیں کی گئی، جس کے چارٹ پر آپریشن کے دوران، انکشافات کا اندراج ہی نہیں ہے۔ آپ ہم سے کیا توقع کرتے ہیں، ہم اس پر کیا بحث کریں اور کیسے کہیں کہ یہ ایک کامیاب آپریشن تھا؟

میجر صاحب بالکل خاموش ہو گئے۔ میرا تجربہ اور علم، سطحی سا تھا کہ میں نے سرجری میں محض ایک سال کا ہاؤس جاب کر رکھا تھا۔ میجر صاحب کے خاموش ہوتے ہی محفل برخواست ہو گئی۔

ہم باہر آئے تو سلطان الغافلین کہنے لگے مجھے سی ایم ایچ کے کمانڈنگ افسر سے کام ہے، آپ دس پندرہ منٹ میرا انتظار کر لیں۔ میں ایک درخت کے سائے میں جا کھڑا ہو گیا۔ کرنل ماجد بھی اس کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے بھی میٹنگ کی کارروائی دیکھی تھی۔ میرے پاس آئے اور بولے، آپ آرمی سے فارغ ہو گئے؟

جی کل سے فارغ ہو گیا ہوں۔
ارے بھئی، ہمیں تو آپ کے ٹیلنٹ کا پتہ ہی تھا۔ آپ نے ایک کلاسیفائیڈ سرجن کو خاموش کرا دیا۔

سر، یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں۔ میں تو ویسے ہی تیر تکے چلا رہا تھا۔ کرنل صاحب کچھ دیر تک میرے پاس کھڑے رہے اور تاسف کا اظہار کرتے رہے اور میں سوچتا رہا، وقت کیسے پلٹا کھاتا ہے۔ آسماں کو رنگ بدلتے دیر ہی کتنی لگتی ہے۔

مارچ 1980ء میں، میں ایف آ رسی ایس کرنے آئرلینڈ اٹھ آیا۔ اس کے مراحل طے کرنے کے بعد میں دسمبر 1984ء میں تین ہفتے کی چھٹی پر اپنے گھر منگلا آیا ہوا تھا۔ میرے ایک پھوپھی زاد بھائی جو سابقہ فوجی تھے نے بتایا کہ آپ کے جنرل صاحب اب یہاں منگلا میں کور کمانڈر ہیں۔ آپ ان سے کبھی مل لیں۔

بھائی صاحب، اب ان سے میرا کیا لینا دینا؟ میں نے کہا۔
ویسے ہی تفریحاً، انہوں نے کہا۔

میں نے سوچا، تعلقات اگر باہمی اغراض پر مبنی ہوں تو وہ تعلق بے لوث نہیں ہوتا۔ پر خلوص تعلق تو بنتا ہی تب ہے جب درمیان میں کسی غرض کی پخ نہ ہو۔ ایک دن میں کیپٹن ممتاز، جو اپنی یونٹ میں ہمارا ساتھی تھا اور اب سی ایم ایچ منگلا میں گریڈڈ میڈیکل سپیشلسٹ تھا، سے ملنے گیا۔ واپسی پر جب میں نے راستے میں کور ہیڈ کوارٹر کا بورڈ دیکھا تو اندر چلا گیا۔ ایک صوبیدار صاحب نے پندرہ بیس منٹ کی تفتیش و تحقیق کے بعد مجھے اندر بھیج دیا۔ جنرل صاحب کی سیٹ پر کوئی اور صاحب بیٹھے تھے۔ میں معذرت کرتے ہوئے مڑنے لگا تو انہوں نے کہا، اب آپ آہی گئے ہیں تو تھوڑی دیر ہمارے پاس بیٹھ جائیں، اور پوچھا، ہم آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟

میں جنرل صاحب سے ملنے آیا تھا، کام وغیرہ کوئی نہیں، میں نے کہا۔

جنرل صاحب آج راولپنڈی گئے ہوئے ہیں، کل آ جائیں گے۔ وہ واپس آنے پر مجھ سے پوچھیں گے کہ مجھ سے کوئی ملنے تو نہیں آیا۔ آپ اپنا ایڈریس اور ٹیلیفون نمبر اس کاغذ پر لکھ دیں۔

ٹیلیفون ہمارے گھر تو کیا پورے قصبے میں نہیں تھا۔ قریب ترین ٹیلیفون واپڈا کالونی، منگلا میں تھا جو ہمارے گھر سے ایک میل دور تھی۔ میں اپنا ایڈریس لکھ کر آ گیا۔ دوسرے دن میں لاہور چلا گیا۔ مجھے وہاں چار پانچ دن ٹھہرنا تھا۔ تیسرے دن منگلا واپڈا کالونی سے پھوپھی زاد کا ٹیلیفون آیا، پچھلے دو دن سے جنرل صاحب آپ کے لئے اپنی گاڑی بھیج رہے ہیں، انہیں کیا جواب دیں؟ کہا انہیں کہیں کہ گاڑی بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں واپس آ کر خود ان سے رابطہ کر لوں گا۔ واپس آ کر ان سے رابطہ کیا تو اپنے گھر بلا لیا۔ وہ ایک بڑے سے گھر میں اکیلے بیٹھے تھے۔ یہ جان کر بہت خوش ہوئے کہ میں ایف آر سی ایس کے مراحل طے کر چکا ہوں۔ کہنے لگے اب کیا ارادہ ہے؟

میں ایک سال اور وہاں رہنا چاہتا ہوں تاکہ سرجری میں میری مہارت ذرا اور بہتر ہو جائے۔ میں ان شاء اللہ ایک سال بعد واپس آؤں گا۔ میری کوشش ہو گی کہ مجھے کسی میڈیکل کالج میں ملازمت مل جائے تا کہ میں طلباء کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنا کام بھی کر سکوں۔

کیا کسی سرکاری ہسپتال میں کام کرنا ضروری ہے؟

سرکاری ہسپتال میں کام کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ میں غریب اور بے آسرا مریضوں کی بلا اجرت مدد کر سکوں گا۔

آپ ایک پرائیویٹ ہسپتال کیوں نہیں بنا لیتے، جہاں غریبوں کا علاج بھی ہو۔ میں بھی حسب توفیق، آپ کی مدد کروں گا۔

پرائیویٹ ہسپتال میں خدمت نہیں تجارت ہوتی ہے۔ مجھے تجارت کرنی نہیں آتی، مجھے اس کا تجربہ ہی نہیں ہے۔

واپس آنے لگا تو مجھے اپنے گیٹ تک چھوڑنے آئے اور اپنی گاڑی پر گھر تک چھوڑنے کی پیشکش بھی کی۔ میں ان کا شکریہ ادا کر کے آ گیا۔ دل میں خیال آیا، وہ تند و تلخ جملوں کا تبادلہ کن دو اشخاص کے درمیان ہوا تھا۔

جنوری 1986ء کے پہلے ہفتے میں، میں واپس آ گیا اور راولپنڈی میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر آف سرجری اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سرجن تعینات ہوا۔ جولائی میں پتہ چلا کہ جنرل صاحب ریٹائر ہو کر راولپنڈی میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ میں انہیں ملنے چلا گیا۔ وہ آرمی کے میس کے ایک کمرے میں فروکش تھے۔ کوئی گھر بار اور گھر گرہستن نہیں تھی۔ گھر گرہستی کے فکرو تردد سے بے نیاز، میری چھمب کی جھونپڑی کی بان کی منجی اور لوٹے کی سہولیات سے قدرے بہتر، آسائشوں کے ساتھ وہ وہاں آرام سے بیٹھے تھے۔

کہنے لگے، اچھا ہوا تم خود ہی مجھے ملنے آ گئے۔ چند دن قبل میں نے لال کڑتی میں تمہیں اپنی فیملی کے ساتھ شاپنگ کرتے دیکھا تھا۔ میں تم سے ملنا چاہتا تھا لیکن تمہاری فیملی کی وجہ سے مل نہ پایا۔ اتنے میں ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل اندر آئے اور جنرل صاحب کے ساتھ بیٹھ گئے۔ جنرل صاحب نے جب میرا تعارف کروایا تو وہ صاحب ڈاکٹروں کے بارے میں زہر اگلنے لگ پڑے۔ شاید یہ بھی خوشامد کا کوئی انداز ہوگا۔ ابھی انہوں نے رفتار پکڑی ہی تھی کہ جنرل صاحب نے کہا، یہ ان ڈاکٹروں میں سے نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو۔ ان صاحب کو یک دم بریک لگ گئی اور ان کے پہیے جام ہو گئے۔ میں کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ کر آ گیا۔

میری عارضی سروس کے دوام کے لئے اکتوبر میں لاہور میں پبلک سروس کمیشن کا انٹر ویو ہوا۔ وہاں دس پندرہ افراد ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں ایک بڑی سی میز کے گرد بیٹھے تھے۔ جنرل صاحب نے فرمایا، ڈاکٹر جمیل! آپ کشمیری ہونے کی وجہ سے اس ملازمت کا استحقاق نہیں رکھتے، ہاں البتہ اگر آپ، نو آسامیوں کے لئے آئے ہوئے پچیس امیدواروں میں اول آ گئے تو آپ کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ مجھے ایک جھٹکا سا لگا کہ یہ کس طرح کی شرط عاید کر رہے ہیں۔ یہ بات میرے ہونٹوں تک آتے آتے رہ گئی کہ جناب! اگر میری پاکستانیت مشکوک ہے تو مجھے پاکستان فوج کے زنداں میں اڑھائی سال تک حبس بے جا میں رکھنے کا کیا جواز تھا؟ بہر حال انٹر ویو ہوا۔ پاکستان کے آئین میں حال ہی میں ہونے والی ترامیم، بین الاقوامی سیاست اور سفارت کے اسرار و رموز اور کرکٹ کے کھیل پر بڑی پر مغز، سیر حاصل، لا حاصل اور لا یعنی گفتگو ہوئی۔ میں تیسرے نمبر پر آنے کے باوجود، چوتھے سے دسویں نمبر پر آنے والوں کے مقابلے میں نا اہل ٹھہرا۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب ماں کی کوکھ اور جائے پیدائش کا انتخاب انسان کے اپنے بس کی بات نہیں تو اسے تبدیل کیسے کیا جاسکتا ہے۔

چند ہفتوں بعد ایک صاحب نے آ کر میری نشست سنبھال لی۔ میں گھر آیا، یہ محض اتفاق تھا کہ آئر لینڈ کی شہریت کا خط آیا پڑا تھا۔ میں نے ستمبر 1985ء میں شہریت کی درخواست دی تھی مگر دسمبر میں وہاں سے آ گیا تھا اور سب کچھ بھول بھلا بیٹھا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں کشمیری ہوں اور مجھے اس پر فخر بھی ہے۔ مگر جس ریاست کے غیرت و حمیت سے عاری، بے منزل لوگ، اپنی آزادی کی خاطر، منہ اٹھا کر دوسروں کی طرف دیکھتے ہوں، ان کی ریاست پر مسلط قوتیں، ان کی سر زمین کے قدرتی وسائل پر بلا اجازت تصرف کے باوجود، اس کے باسیوں سے اسی طرح کا اہانت آمیز سلوک روا رکھتی ہیں۔

آزاد کشمیر میں اس وقت کوئی میڈیکل کالج نہیں تھا۔ میں آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر ہیلتھ سے ملا۔ یہ صاحب کہاں سے تھے اور ان کی تعلیمی قابلیت کیا تھی، یہ جان کر میرا سر شرم سے جھک گیا۔ یوں سمجھ لیں جیسے ایک حوالدار کو باہر سے لا کر آزاد کشمیر کی فوج کا کمانڈر انچیف مقرر کر دیا گیا ہو۔ انہی صاحب نے، ایف آر سی ایس کرنے کے فوراً بعد لکھے گئے، میرے خط کے جواب میں، مایوس کن دو سطری خط لکھا تھا۔ بعد میں وزیر اعظم، سکندر حیات سے بھی ملاقات ہوئی۔

سیاسی مصلحتوں کے سائے میں پلنے والے، کسی مصلحت کے تحت کچھ نہ کر پائے۔ میں کسی سیاسی شعبدہ بازی کا قائل تھا اور نہ کبھی ہو سکا۔ ریاست جموں کشمیر کی وحدت پر یقین اور ریاستی عوام کے، بلا خوف، بلا جبر اور غیر مشروط حق خود ارادیت پر میرا اٹل موقف، میری راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ چناں چہ میں نے رزق حلال کی تلاش میں، پاک بازوں کی زمین سے رخت سفر باندھا اور بے دینوں کی زمین، برطانیہ میں آ کر آباد ہو گیا۔ کنسلٹنٹ بننے کے لئے تین سال کی بقیہ ٹریننگ مکمل کی اور یہیں ملازمت اختیار کر لی۔ میں اب کنسلٹنٹ سرجن بھی تھا اور طلباء کو پڑھانے بھی لگ پڑا۔ گویا میں انگریز طلبا کو پڑھانے کا اہل تھا مگر اپنوں کو پڑھانے کا نہیں۔

خون اور مٹی کے اٹوٹ رشتے کبھی جدا نہیں ہوتے، چاہے کتنی ہی دوریاں درمیان میں حائل ہو جائیں۔ میں 1990ء میں دو ہفتے کی چھٹی پر گھر آیا۔ میں ابھی اسلام آباد میں ہی تھا۔ جنرل صاحب، ان دنوں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ فون کیا، کہا کب ملنے آؤ گے؟ میں نے کہا کل حاضر ہو جاؤں گا۔ وہاں گیا تو گیٹ سے ہی میری گاڑی کے ساتھ ساتھ ایک کپتان صاحب دوڑنے لگے۔ انہوں نے مجھے ایک میجر کے حوالے کیا اور خود واپس چلے گئے۔ میجر صاحب مجھے جنرل صاحب کے آفس میں لے گئے۔ میں ویسے ہی بیٹھے بٹھائے وی آئی پی بن گیا تھا۔

جنرل صاحب کہنے لگے، کب آئے؟
جی میں کل آیا ہوں۔
ارے بھئی ہمیں بتایا ہوتا تو آپ کو ائر پورٹ پر رسیو کر لیتے۔
میں آپ کا شکر گزار ہوں، مجھے ایسی کوئی مشکل درپیش نہیں تھی۔

ان سے ملازمت میں پیش آمدہ مشکلات کا تذکرہ ہوا، جس کا انہیں پہلے سے کچھ علم تھا۔ کشمیر کے بارے میں بھی کچھ بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں جو وہ مناسب سمجھتے ہیں کر رہے ہیں۔ جنرل صاحب ابھی تک بے خانماں تھے، اپنے گھر بار کے نہیں ہوئے تھے۔ تیس منٹ کی ملاقات کے بعد باہر نکلا تو وہی میجر صاحب باہر کھڑے تھے۔ میرے ساتھ چل پڑے اور پوچھا، آپ ان سے ملنے کس لئے آئے تھے؟ جی چاہا کہ کہوں، برطانیہ کی وزیر اعظم، مارگریٹ تھیچر کے ایلچی کے طور پر ایک اہم پیغام لے کر آیا تھا جو جنرل صاحب تک پہنچا دیا ہے۔

اس سے میری فائل تو کھلنی ہی تھی جو کبھی بند نہ ہوتی، خود جنرل صاحب کی فائل بھی کھل جانی تھی۔ جنرل صاحب کی فائل تو غالباً پہلے سے کھلی ہوئی تھی۔ میجر صاحب کو اپنے ہی باس پر اعتماد نہیں تھا، شاید اس کی وجہ جنرل صاحب کے پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ اور ان کے حاضر سروس نہ ہونے کے باوجود بے نظیر کا انہیں اس عہدے پر متعین کر نا تھا۔ میں نے انہیں مخمصے سے نکالنے کے لئے صاف بتا دیا یہ ایک خیر سگالی ملاقات تھی، جنرل صاحب کبھی میرے جی او سی رہے ہیں۔ مجھے بھی آپ لوگوں کا پیٹی بند بھائی رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس پر ان صاحب کی الجھن، پریشانی اور ذہنی تناؤ قدرے کم ہوا۔

جنرل صاحب نے کچھ عرصہ بعد راولپنڈی کے پرانے ائر پورٹ کے نواح میں، چکلالہ سکیم میں اپنا گھر بنا لیا۔ ان سے ایک آدھ مرتبہ ٹیلیفون پر ہی بات ہوئی، ملاقات نہ ہو سکی۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ دل کے مریض ہیں۔ وہ 1995ء میں 62 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ تب سے آج تک وہ میری دعائے سحر میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔ (جاری ہے)


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments