ماسٹر خدا بخش کی نواسی
میں قبر کے سامنے خاموشی سے کھڑا تھا. میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب ابل رہا تھا جنہیں میں روکنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا. ایک طرح سے جیسے مجھے سکون سا مل رہا تھا پر آنسو جیسے میرے دل سے نکل کر آہستہ آہستہ میری آنکھوں سے گزر کر ٹپک رہے تھے.
قبرستان میں اس جگہ پر صرف ان کی قبر سلامت تھی جس کے سرہانے ایک چھوٹے سے پتھر پر بڑے سلیقے سے ان کا نام لکھا ہوا تھا، ان کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات تحریر تھی. ان کا انتقال تقریباً پندرہ سال پہلے ہوا تھا. ایسا لگتا تھا جیسے کوئی پابندی سے آ کر ان کی قبر کو صاف کرتا ہے. جھاڑ جھنکار نکالتا ہے، سوکھے ہوئے پتے ہٹاتا ہے اور پکی قبر کے اوپر پھول رکھتا ہے اور اگربتی جلا کر چلا جاتا ہے. ان کا کوئی شاگرد، رشتہ دار ان سے محبت کرنے والا انسان جو وقت نکال کر پابندی سے اس قبر کی دیکھ بھال کرتا ہے.
مٹی کے ڈھیر کے نیچے ایک درخت کے سائے میں ویران سے قبرستان میں وہاں ماسٹر خدا بخش دفن تھے. سولہ سال انگلستان میں رہنے کے بعد آتے ہی میں نوکری کی بھاگ دوڑ میں لگ گیا تھا. وہاں میں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی تعلیم مکمل کی اور اچھا خاصا تجربہ بھی حاصل کیا تھا. شروع شروع میں میرا دماغ خراب تھا. میں سوچ کر آیا تھا کہ سرکاری ملازمت حاصل کروں گا اور اپنے ملک میں اور اپنے سرکار کی دنیا میں اس دنیا کے جدید اکاؤنٹنٹ کے نظام کو لے کر آؤں گا جس کی وجہ سے سرکار کا حساب کتاب شفاف ہوتا ہے.
ان کے کام میں تیزی آجاتی ہے، لوگوں کے پھنسے ہوئے حساب کتاب جلدی جلدی نمٹ جاتے ہیں. اچھے ملکوں میں سرکار عوام کے لیے کام کرتی ہے، عوام پر حکمرانی نہیں کرتی ہے. انہیں ان کے حقوق دیتی ہے، حقوق قلب نہیں کرتی ہے، ان کی خدمت کرتی ہے، ان کا استحصال نہیں کرتی ہے. ان کی زندگی کو آسان بناتی ہے، انہیں مشکلات میں نہیں پھنساتی ہے. اس طرح کے بے وقوفی کے خیالات ماسٹر خدا بخش نے بچپن سے دماغ میں ڈال دیے تھے. انہوں نے ہمیں نویں اور دسویں کلاس میں پڑھایا تھا.
پڑھاتے تو وہ حساب تھے، الجبرا، ٹکٹامنتری اور جیومیٹری لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے روشناس کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے. ہر کلاس میں چار پانچ اور کبھی کبھی دس منٹ کا کوئی ایسا قصہ سناتے تھے جس نے ہمارے موم جیسے دماغ میں بڑی آہستگی سے تبدیلی آتی گئی تھی. استاد ایسے ہی ہوتے ہیں استاد ایسے ہی ہونے چاہئیں.
ایمانداری، سچ، اخلاص، خدمت اور دوسروں کے کام آنے کا ابتدائی سبق انہوں نے ہی دیا تھا. ہفتے میں دو دن ان کی کلاس آخر میں ہوتی تھی اور ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ چھٹی کی گھنٹی کے ساتھ سارے اسکول میں چھٹی ہو جائے گی مگر ہماری کلاس کو مزید پندرہ بیس منٹ بیٹھنا ہوگا. شروع شروع میں تو ہمیں بہت برا لگا تھا. یہ بھی کوئی بات ہے ساری کلاسیں ختم ہو گئیں اور صرف ہمیں بیٹھنا ہے. لیکن بہت جلد ہی ہمیں اچھا لگنے لگا. وہ پندرہ بیس منٹ میری زندگی کے بہت اہم اور مقدس بیس منٹ بن گئے.
جنہوں نے میری زندگی اور میرے جیسے سینکڑوں طالب علموں کی زندگی کے رخ کو متعین کیا تھا. ان پندرہ بیس منٹوں میں حساب کتاب کے علاوہ سب کچھ پڑھاتے تھے. یورپ کے سائنس دانوں کے قصے، تاریخی واقعات، فراعین مصر کی داستانیں، یونان کا فلسفہ، یہودیوں اور عیسائیوں کی کہانی، ان مسلمان سائنسدانوں اور فلسفیوں کی باتیں جنہوں نے علم کے چراغ روشن کیے. مسلمان بادشاہوں اور خلیفاؤں کے جھگڑے، انصاف اور محلاتی سازشوں کی ابتداء اور انتہا. ان کی اس قسم کی کلاسوں سے مجھے پتہ چلا تھا کہ خلیفہ ہارون رشید نے ایک رات میں سارے برمکی خاندان کو قتل کرا دیا تھا، ابن رشد اور امام غزالی کے کیا اختلافات تھے، محمد بن قاسم سندھ کیسے پہنچا تھا، محمود غزنوی نے کیوں سومناتھ کا مندر تباہ کیا تھا اور خواجہ معین الدین چشتی نے اجمیر میں دل کیسے جیتے تھے.
میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ ایسے کیوں تھے. کیوں وہ اپنے مضمون کو چھوڑ کر ایسی باتیں پڑھاتے تھے جن کو پڑھانے کی ان کی ذمہ داری نہیں تھی. وہ کون سا شعلہ تھا جو ان کے دل کے اندر آہستہ آہستہ جل رہا تھا، کہاں سے آئی تھی وہ چنگاری جو ہر ایک کی زندگی کو گرمانا چاہتی تھی. کیوں نہیں ہوتے ہیں آج کل ایسے استاد جن کے دماغ میں کوئی مقصد ہوتا ہے اور دل میں کسک ہوتی ہے جو اپنی ذات کی موم بتی کو پگھلا پگھلا کر روشنی پھیلانی چاہتی ہے. وہ روشنی جو ہر ایک کے لیے ہوتی ہے، ہر ایک تک پہنچتی ہے، اندھیرے میں اجالا کر دیتی ہے.
شاید ہمارا زمانہ اور تھا اور آج کل کا زمانہ اور ہے. انگلستان میں اور انگلستان سے آنے کے بعد اٹھتے بیٹھتے محفلوں میں کبھی کبھار جب بھی اس طرح کی بات ہوتی ہے تو ہر دوسرا تیسرا آدمی کسی ایسے ہی استاد کا ذکر چھیڑ دیتا ہے جس نے ان کی زندگی کے راستوں کا تعین کیا، ان کی سوچ میں دیانت ڈالی، انسانیت کا احساس جگایا. وہ استاد صرف اپنا مضمون نہیں پڑھاتے تھے، دنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ سکھاتے تھے. وہ کم تھے مگر بہت اچھے تھے.
آج کل دنیا بدل گئی ہے، ہم نے جن سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی وہ آہستہ آہستہ کھنڈر بن گئے ہیں، میرے سابقہ اسکول میں اب بچوں کے لیے نہ پانی کا انتظام ہے اور نہ ہی کوئی ٹوائلٹ ہے. اسکول کی دیوار کے ساتھ زمین پر قبضہ ہو گیا ہے جہاں لوگوں نے دکانیں بنا کر ہر قسم کے کاروبار شروع کر دیے ہیں. کھیل کے میدان کا تو اور بھی برا حال ہے. جن جگہوں پر ہم کھیلتے تھے، گرے تھے تھے جہاں کی مٹی ہمارے زخموں میں گھل کر ہمارے جسم کا حصہ بن گئی، وہاں ویرانی ہی ویرانی تھی.
نہ کوئی دیکھنے والا نہ کوئی سنوارنے والا. پرانے چوکیدار نے بتایا کہ ویسے تو بہت سے استاد ہیں جو تنخواہ لیتے ہیں لیکن آتے بہت کم ہیں. طالب علم شور شرابا کر کے گھر چلے جاتے ہیں اور نقل کر کے امتحان پاس کرلیتے ہیں، آج کے سرکاری اسکولوں کا یہی وتیرہ ہے. اسکول کی عمارت آہستہ آہستہ کھنڈر بن رہی تھی، آئے دن لوگ آتے ہیں جو اسکول کی جگہ پر فلیٹ بنانا چاہتے ہیں.
اب سرکاری اسکولوں میں ایسے ہی بچے آتے ہیں جن کے ماں باپ انتہائی غریب ہیں اور ان بچوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا ہے جو سماج غریب لوگوں کے ساتھ کرتا ہے. نہ کوئی دیکھنے والا نہ کوئی سننے والا. سرکاری اسکولوں کے استاد تنخواہ لیتے ہیں پر اسکول نہیں آتے، کہیں اور کچھ اور کام کرتے ہیں یا سیاسی جماعتوں میں اپنے رہنماؤں کی ڈیوٹیاں نبھاتے ہیں. غریب اور غریب کے بچے کا یہی مقدر ہے شاید ہمیشہ ایسا ہوتا رہے گا.
ہر گلی محلے بستی قصبہ شہر میں پرائیویٹ اسکول کھل گئے ہیں جن کی فیسیں دے دے کر والدین ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں، جہاں تعلیم تو دی جاتی ہے مگر انسان نہیں بنایا جاتا. تعلیم ایک ایسی تجارت ہو گئی ہے جس کے کوئی اصول نہیں ہیں، اس کا مقصد اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہ ہر صورت اور ہر طریقے سے دولت کمائی جائے. ان دولت کمانے والے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچے ڈاکٹر، انجینئر، کمپیوٹر کے ماہر، بزنس مینجمنٹ کے چیتا، سائنسدان، بڑے صحافی، نوکرشاہی کے افسر، چالاک وکیل، بے ایمان سیاستدان اور بددیانت جنرل تو بن جاتے ہیں مگر ان کے دل میں اپنے خاندان، محلے دار، دوست احباب، قوم و ملک اور دنیا کا درد نہیں ہوتا ہے کیونکہ ان اسکولوں میں خدا بخش صاحب جیسے ماسٹر نہیں ہوتے ہیں.
مجھے سرکاری نوکری بہت مشکل سے ملی. کبھی میرا ڈومیسائل آڑے آ گیا اور مجھ سے انتہائی کم درجے کے قابل شخص کو نوکری دیدی گی کیونکہ اس کا ڈومیسائل صحیح جگہ کا تھا اور کہیں انٹرویو میں سچ بولنے کی سزا بھگتنی پڑی. سفارش کا نہ ہونا تو سب سے بڑا عذاب ہو گیا. میرے دماغ کی خرابی کا یہ حال تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں بہترین قسم کی نوکریاں مل رہی تھیں مگر میں اپنی ضد پر اڑا ہوا تھا میں نے سوچ لیا تھا کہ میں ایک سال تک سرکاری نوکری تلاش کرتا رہوں گا، اس وقت تک اگر سرکاری نوکری نہیں ملی تو پھر کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری لے کر اپنے خوابوں کو بھول جاؤں گا.
مگر ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ جو سوچا جائے وہی ہو جائے. اسی ہفتے مجھے وزارت مالیات میں نہ جانے کیسے نوکری مل گئی. نوکری ملی بھی تو ایسی ملی کہ میں مالیاتی معاملات میں ہونے والی بدعنوانیوں کی نشاندہی کرنے والے شعبے کا سربراہ بن گیا. پہلے ہفتے ہی شعبے کے دیگر ارکان سے بات چیت کے بعد اندازہ ہو گیا کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے. میرے شعبے کا اصل کام بدعنوانیوں کا سراغ لگانا نہیں تھا بلکہ معلوم بدعنوانیوں کو چھپانے اور کاغذ کے ڈھیروں میں انہیں گم کروانے میں مدد کرنا تھا.
مجھے پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ سرکاری نوکری کرنا کتنا مشکل کام ہے. خاص طور پر ایسی سرکاری نوکری جس میں جھوٹ اور بدعنوانی ہی اصل کام ہے. سیدھے سادھے اور سچ کی بنیاد پر تو کام بہت آسان ہوتا ہے. اکاؤنٹس کے اصول پیچیدہ نہیں ہوتے ہیں کیونکہ سچ کبھی پیچیدہ نہیں ہوتا ہے. سچ تو سورج کی طرح روشن ہوتا ہے، صبح کی طرح حسین ہوتا ہے. ان سادہ اصولوں کو پیچیدہ بنانا پھر ان پیچیدہ بنیادوں پر بدعنوانی کو جائز کرنا مشکل ہوتا ہے. ہمارے ملک میں اس کام کے بہت ماہر موجود ہیں.
میرے ساتھ وہی ہوا جو ایسے حالات میں ہوتا ہے. میں وزارت مالیات میں تین مہینے گیارہ دن گزار کر مستعفی ہو گیا. میں نظام کو نہیں بدل سکتا تھا اور نظام مجھے بدلنے میں ناکام ہو گیا تھا. میری سائیکل کے دونوں پہیے مخالف رخ میں گھومنے شروع ہو گئے تھے اور سائیکل ساکت ہو کر گرنے والی تھی. میرے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں سائیکل کو چھوڑ دوں یا سائیکل مجھے چھوڑ دے، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا تھا.
یہی وہ وقت تھا جب پاکستان واپس آ کر پہلی دفعہ مجھے ماسٹر خدا بخش کا خیال آیا تھا. ان کی باتیں یاد آئی تھیں اور میں نے سوچا تھا کہ میں واپس انگلستان چلا جاتا ہوں. اس اتوار کو یہی سوچتا ہوا میں ڈان اخبار میں نوکریوں کے اشتہارات والا صفحہ پڑھ رہا تھا کہ مجھے ایک اشتہار ایک ملٹی نیشنل اکاؤنٹنگ کی کمپنی کا نظر آیا اور میں نے اس عہدے کے لیے انٹرنیٹ پر درخواست بھیج دی تھی.
چوبیس گھنٹے کے اندر مجھے جواب ملا اور تین دن کے بعد میرا انٹرویو ہوا اور ساتویں دن میں کمپنی میں ایک اہم عہدے پر فائز ہو گیا تھا.
پہلے دن سے ہی میں نے بڑی محنت سے کام کرنا شروع کر دیا. میرے دو ہی مقاصد تھے پہلا تو یہ کہ کمپنی کو پورے ملک میں مستحکم اور منظم کیا جائے جس کے لیے میں نے دن رات بری طرح سے محنت کی تھی. دن کودن نہیں سمجھا اور رات کو رات نہیں مانا. بہت جلدی میری محنت رنگ لائی تھی اور پورے ملک میں میری کمپنی اور مجھے تسلیم کر لیا گیا تھا. پرائیویٹ اداروں میں ابھی بھی ایمانداری کی گنجائش ہے اور محنت کی قدر ہے، مجھے سمجھ میں آ گیا تھا کہ کیوں لوگ سرکاری اداروں میں کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ لوگ خود ہی بے ایمان ہیں. ہمارا تعلیمی نظام ملک چلانے کا طریقہ کار، جھوٹ اور بے ایمانا کرنا سکھاتا ہے.
دوسری ذمہ داری میں نے یہ لی تھی کہ میں نوجوان طلبا و طالبات کی تربیت کرنا چاہتا تھا، میں چاہتا تھا کہ کمزور طالب علموں کی مدد کروں، بالکل ویسے ہی جیسے ماسٹر خدا بخش نے میری اور میرے جیسے بہت سے لوگوں کی تھی جو سماج میں، ملک میں، دنیا میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے. ان کی تھوڑی سی مدد کرنے سے ان کے لیے راستے کھل جاتے ہیں.
مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ ملک کے پرائیویٹ سیکٹر میں میری اس طرح سے پذیرائی ہوگی اور اتنی جلدی نہ صرف یہ کہ میں ملک میں اپنی کمپنی میں اہمیت اختیار کرلوں گا بلکہ ملک میں بھی مجھے اہم سمجھا جائے گا. کبھی کبھی میں سوچتا تھا کہ مجھے سرکاری ملازمت میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا لیکن پھر خیال بھی آتا کہ ایک طرح سے اچھا ہی ہوا کہ مجھے سرکار اور سرکار کی حکومت کا اندازہ ہو گیا. مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ ہماری اصل دنیا میں کیا ہو رہا ہے، ہم کیسے لوگ ہیں، کیا کر رہے ہیں. یہ تجربہ بھی خوب تھا جس نے مجھے یقین دلا دیا تھا کہ ہم تباہی کی طرف تیزی سے چلے جا رہے ہیں.
اسی زمانے میں ایک دن مجھے کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے فون آیا، وہ چاہتے تھے کہ میں ادارے کے سینئر طلبا و طالبات سے آ کر بات چیت کروں اور انہیں دنیا میں کامیاب ہونے کے طریقوں سے آگاہ کروں.
مجھے اس قسم کے دعوت نامے ہمیشہ اچھے لگتے تھے. مجھے بہت اچھا محسوس ہوتا تھا جب میں نوجوان طلبا و طالبات سے بات کروں، زندگی میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا ذکر کر کے ان کا حوصلہ بڑھاؤں، انہیں بتاؤں کہ دنیا کے رنگ ڈھنگ کیا ہیں اور زندگی کے اصول اور شر سے مقابلہ کس طرح سے کیا جائے. مجھے خاص طور پر طلبا سے سوال و جواب کرنے میں مزا آتا تھا مگر مجھے یہ دیکھ کر افسوس بھی ہوتا تھا کہ ان اداروں میں پڑھنے لکھنے والے بچے ملک میں رہنے کو تیار نہیں تھے. ان کی تعلیم کا مقصد یہی تھا کہ فارغ ہو کر جلد از جلد ملک چھوڑ جائیں.
اس دن میں نے تقریر شروع کرنے سے قبل ماسٹر خدا بخش کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ آج کی یہ تقریر میں ان کے نام کر رہا ہوں کیونکہ آج میں جو کچھ ہوں ان ہی کی وجہ سے ہوں، زندگی کے اس مرحلے پر جب مجھے سب سے زیادہ عزم و ہمت کی ضرورت تھی اس وقت جب میں اسکول میں فیل ہو رہا تھا، جب میں چھوٹی دوڑ میں ہی پیچھے رہ گیا تھا، اس وقت انہوں نے میری انگلی پکڑ کر لمبی دوڑ کی صف میں کھڑا کر دیا تھا. وہ انگلی پکڑنے والا شخص میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم آدمی بھی تھا. وہ نہیں ہوتا تو شاید میں بھی کہیں ڈبو کھیل رہا ہوتا یا کسی چرس کے اڈے کا مالک ہوتا. شہر کے کسی بڑے چوہدری کے ساتھ کلاشنکوف لے کر چل رہا ہوتا، گٹکا کا شکار ہو کر کینسر کی موت مر گیا ہوتا. آج کے زمانے میں بھی اسی ماسٹر خدا بخش کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ اب ان جیسے استاد ہمارے بچوں کو میسر نہیں ہیں.
تقریر اچھی رہی، مگر سب سے زیادہ مزہ سوال و جواب کے موقع پر آیا جب تقریباً سارے ہی سوال و جواب ختم ہونے کو تھے تو وہ لڑکی ہال کے درمیان سے اٹھ کر آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف آئی تھی اور اسٹیج کی سیڑھیوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے چڑھتی ہوئی اوپر پہنچ گئی تھی.
میں نے اسے حیران نگاہوں سے دیکھا تھا. اس نے مجھ سے میرا مائیک مانگا جو میں نے اسے دے دیا تھا. اس نے مجھے دیکھا پھر ہال کی جانب نظر ڈالی، پھر مائیک میں بولی.
"سر میں یہاں آئی بی اے میں پڑھتی ہوں، ہمیشہ اول آتی رہی ہوں اپنی ماں کی وجہ سے، جنہوں نے مجھے پالا پوسا، بڑا کیا، زندگی میں لڑنے کا حوصلہ دیا، آگے بڑھنے کی طاقت دی. میرے والد کو میری پیدائش کے فوراً بعد ہی کراچی کی ایک گلی میں گولیوں کا نشانہ بنا کر مار دیا گیا تھا کیونکہ وہ ایک شریف انسان تھے. کے ڈی اے کے ایک ایماندار افسر تھے. جنہوں نے بے ایمانی سے انکار کر دیا تھا اور ان سیاستدانوں کے آگے جھکنے سے منع کر دیا تھا جو شہر کو بیچ کر کھا رہے تھے. جنہوں نے پارکوں پر پلازے، اسکولوں کی عمارت پر اپارٹمنٹ اور ریل کی پٹری پر مسجدیں بنا کر دکانیں بنائی تھیں، جنہوں نے اسپتالوں کی جگہ شاپنگ مال بنائے جو شہر کا پانی پی گئے جنہوں نے شہر کا خون کر دیا. وہ تھوڑی دیر کے لیے رکی تھی مجھے دیکھا تھا پھر بولی تھی کہ ابو کے قتل کے بعد میری ماں نے بڑی محنت کی، ہر قسم کے کام کیے اور میرے بھائی اور مجھ کو ایسی تعلیم دی کہ ہم ان پر غرور کر سکتے ہیں. سر میں اسٹیج پر صرف یہ بتانے آئی ہوں کہ وہ ماسٹر خدا بخش کی بیٹی تھیں. وہ میرے نانا تھے، میری امی کے ابو!


