صحتمند معاشرہ کے صحتمند افراد


حماد ایک ہونہار 19 سالہ نوجوان ہے۔ اس سے ہمدردی جتاتے جب اس سے اس کے دل کے احوال پوچھے تو آنکھوں سے آنسوؤں کا بند ٹوٹ کر بہہ چلا۔ چیٹ باکس میں اس نے لکھا کہ ”جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ خودکشی کرلوں۔ میری کام کرنے کی صلاحیت سلب ہو کر رہ گئی ہے۔“ جب اس کو کریدا تو پتہ چلا کہ والدین نے تو کچھ عرصہ پہلے ہی اپنے جوڑ کی لڑکی دیکھ کر اس کی شادی کروا دی تھی مگر اس انٹرنیٹ کی بدولت کسی کے ساتھ گپ شپ چلی، وہ دوستی کیسے پیار میں بدلی اس پگلے کو پتہ بھی نہ چلا۔

جب اس من چلی حسینہ کو اس بات کا اندازہ ہوا تو وہ دامن بچا کر نکل گئی۔ یہ نوجوان نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ اب نہ وہ اپنی نو بیاہتا کو اس طرح قبول کر پاتا ہے اور نہ ہی اس پری وش کو بھلا سکتا ہے۔ اس کا والد جو کہ گاؤں میں ایک پرچون کی دکان چلاتا ہے اس کی اپنے جوان بیٹے سے کئی امیدیں وابستہ ہیں۔ حماد کو لگتا ہے کہ وہ اس دلدل سے نکل نہیں پائے گا، وہ خود کو بے بس محسوس کرتا ہے اور اس کو اب خواب میں بھی خود کشی کے خیالات آتے ہیں۔

جب خودکشی کے بارے میں سوچتی ہوں تو اکثر عامر خان کی مشہور تھری ایڈیٹ فلم کا وہ ہونہار طالب علم یاد آ جاتا ہے جو اسکول انتظامیہ اور استادوں کے پریشر کے باعث خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ آئے دن گرلز اور بوائز ہاسٹلز میں، کبھی مارئی ہاسٹل تو کبھی ایل ایم سی ہاسٹل میں طلبا و طالبات اپنے کمرہ کی چھت کے پنکھے سے خود کیا لٹکاتے ہیں گویا جیتے جی ماں باپ کو مار دیتے ہیں۔

سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق سندھ میں 2016 سے 2020 کے پانچ سال کے عرصہ میں خودکشی کے 767 کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں، جس میں سب سے زیادہ تعداد تھرپارکر اور دوسرے نمبر پر میرپور خاص کی ہے۔ ان اضلاع میں یہ تعداد زیادہ کیوں ہے اس کو دیکھنے اور سمجھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ تعداد ان اضلاع میں بسنے بڑے نام یہاں ناکام ہوتے نظر آتے ہیں جب تھر کی وہ غریب عورت اس لئے خودکشی کرتی ہے کہ وہ مائکرو کریڈٹ کے تحت لیے گئے قرضہ کی قسط جمع نہیں کروا سکتی۔

کل آفس سے گھر جاتے راستہ میں ایک ہٹی کٹی خوبرو خاتون ٹکرائی۔ اس نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں پائی تو قریب جاکر اس سے دوبارہ پوچھا۔ اس نے کہا کہ اسلام آباد میں ہم نئے آئے ہیں، خیرات چاہیے۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میں سوچ میں ڈوب سی گئی کہ تھرپارکر کی ادھ مری عورت، خودکشی تو کر لیتی ہے پر بھیک نہیں مانگتی اور یہ جو مجھ سے بھی زیادہ ہٹی کٹی کھڑی ہے اس کے لئے یہ معمول ہے۔

مذکورہ بالا تحقیق بتاتی ہے کہ بچوں میں بھی خودکشی کا رجحان چھ فیصد پایا گیا ہے۔ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ ہمارے بچے خودکشی پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ آپ میں سے اکثر یہ جواب دیں گے کہ غربت۔ صاحب مالی غربت کے ساتھ ساتھ کیا ہم اخلاقی غربت کے بارے میں بھی سوچتے ہیں یا نہیں؟ جو بچہ جوکی بن کر اونٹوں کے ساتھ دوڑ لگاتا ہو اور رات کو اپنے مالک کا غلمان بھی بنے وہ کیا خاک جینا چاہے گا؟ مدرسوں میں ان بچوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوتا۔ جو بچہ اس ماحول میں پلے اس کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی اور وہ بڑا بن کر معاشرہ کو کیا دے سکے گا؟

تحقیق واضح کرتی ہے کہ مالی غربت، ازدواجی زندگی کی ناہمواری، ذہنی بیماری، جذباتی کشمکش اور عشق میں ناکامی، خودکشی کے اہم اسباب ہیں۔ جسٹس ماجدہ رضوی کہتی ہیں کہ جب وہ تھر خاص اس لئے گئیں کہ ان خودکشیوں کے اسباب جان سکیں تو غربت کے ساتھ ساتھ سماجی ریتیں رسمیں، ذات پات کی اونچ نیچ، تفاوت اور ذہنی دباو اور نفسیاتی مسائل جیسے عوامل نظر آئے، جبکہ سندھ کی وومن ڈیولپمنٹ کی وزیر محترمہ شہلا رضا کا کہنا ہے کہ غربت کے ساتھ ساتھ بچپن کی شادیاں اور گھریلو تشدد بھی اس مسئلہ کے اہم اسباب ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اضلاع میں جہاں صحت کی سہولیات ناقص اور ڈاکٹرز کا فقدان ہے وہاں نفسیاتی ماہر کے ہونے کا سوال تو پیدا ہو سکتا ہے پر جواب نہیں۔

یہ تو وہ اسباب ہیں جو ہم گردانتے ہیں۔ ان اسباب کا کیا جو میٹھا زہر بن کر آہستہ آہستہ ہماری رگوں میں سرایت کر جاتا ہے اور زہر قاتل بن کر ہمیں فنا کر دیتا ہے۔ یہ وہ قاتل زہر ہے جو یہ معاشرہ اپنی اخلاقی پستی، اپنی کند ذہن سوچ، اپنی فرسودہ روایات و اقدار سے کبھی کبھار نہیں بلکہ ہر روز، ہر سطح پر، ہر طریقہ سے ہمارے اندر صور اسرافیل کی طرح اپنا زہر پھونکتا اور انڈیلتا ہے۔ کچھ سال پہلے بڑا مشہور واقعہ سامنے آیا تھا جس میں مشہور سیاستدان بجارانی صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ فریحہ کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی سے مار دیا تھا۔ اس سارے کیس میں میرا سوال صرف ایک ہے وہ یہ کہ فریحہ مرنا نہیں چاہتی تھی۔ مگر اس کی داد رسائی کہاں ہوگی اور کس در ہوگی؟

اس معاشرہ میں جہاں حکومت کے سربراہان یہ سمجھتے ہوں کہ زنا کا سبب عورت کا لباس ہے، اس معاشرہ میں عورت کس طرح سانس لیتی ہوگی وہ بخوبی ہم سمجھ سکتے ہیں۔ جہاں حکومت کے نمائندے اور تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کے سربراہان موٹروے کیس میں نشانہ بننے والی عورت کو ہی قصوروار سمجھتے ہوں اور اس سے عجیب غریب سوالات کرتے ہوں اور زنا کرنے والے کا ساتھ دیتے ہوں، جہاں اداروں میں ہراسیت کے دائرہ کار میں آنے والے مردوں کو اداروں کی سربراہ عورتیں ہی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہوں، جہاں ہراسیت جیسے قوانین کو توڑنے مروڑنے کے لئے ساری مشینری ہر وقت عمل میں ہو، ایسے معاشرہ میں اس عورت کا مقام، اس کو آگے نکلنے کے لئے دیے جانے والے مواقع، اس کی ازدواجی زندگی اور نجی زندگی کے معاملات اور ازدواجی زندگی کے معاملات کے لئے درکار قانونی مدد کی سطح کیا ہوگی، اس پر بات تو کجا سوچنا بھی جرم لاگے ہے۔

وکلا حضرات کے چنگل سے یہ شکار بچ پایا تو ہو سکتا ہے کہ عدالت تک پہنچے۔ فضا، فائزہ، حمیدہ، فہمیدہ اور لاکھوں خواتین پوری زندگی گھریلو تشدد کا سامنا اس لئے کرتی رہتی ہیں کیں کہ وہ جانتی ہیں کہ یہاں سے نکل کر یا تو دارالامان میں رہنا ہے یا پھر کسی وکیل صاحب کے دل میں۔ دوسری صورت میں گھر میں رہو یا جیل میں۔ یہ چاروں انتخابات اس کے لئے کوئی خاص مختلف تو نہیں ہیں۔

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں
کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ
وہ سرفراز ٹھہریں
نیابت امتیاز ٹھہریں
وہ داور اہل ساز ٹھہریں

ایسی صورتحال میں ایک بے چاری عورت، بے بس و لاچار خودکشی کا ہی سوچ سکتی ہے۔ خودکشی انسان تب کرتا ہے جب وہ خود کو بے بس و لاچار محسوس کرتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ یہ بے بسی اور لاچاری اب کبھی ختم نہ ہوگی سو بہتر ہے کہ خود کو ہی ختم کیا جائے۔

مذکورہ بالا تحقیق کے اہم محقق ڈاکٹر کریم خواجہ کہتے ہیں کہ خودکشی پر تحقیق کے لئے ڈیٹا ایک اہم مسئلہ ہے۔ کیوں نہ ہو؟ ہم خودکشی کرنے کے لئے ماحول تو میسر کرتے ہیں مگر اس کو داغ سمجھ کر رپورٹ نہیں کرواتے۔ اور اگر رپورٹ ہوتے بھی ہیں تو وہ کیس جس میں خودکشی ہو چکی ہوتی ہے نہ کہ خودکشی کی کوششیں۔ ہم تو خود سے بھی چھپ کر رہنے والے لوگ ہیں۔ نہ اپنی غلطیاں مانیں گے اور نہ کوتاہیاں، چاہے کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں، خواہ امیر ہوں یاغریب، خواہ رعایا ہوں یا راجا؟

ہمارے ہاں مسئلہ کا حل ایک ہی ہے چھپا دو۔ جس معاشرہ کے حکمران کے پاس مسئلہ کا حل چھپانے میں چھپا ہو، وہ کتنا صحتمند کہلائے گا، اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ جب اس کسوٹی پر ناپتے ہیں تو مجھے اپنے آپ سمیت ہرکوئی یہاں ذہنی مریض ہی لگتا ہے، جو کہ ایک صحتمند معاشرہ کا خواہاں تو ہے پر اس کے لئے تگ و دو نہیں کرتا۔

Facebook Comments HS