کیا آپ سلویا پلاتھ کی شادی، شاعری اور خودکشی کی کہانی جانتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلویا پلاتھ کی کہانی اس لکھاری کی کہانی ہے جو اپنے مرنے کے بعد ادب عالیہ کی دنیا میں پیدا ہوئیں۔ ان کا فن ان کے پاگل پن اور شاعری ان کے اقدام خود کشی کی کوکھ سے پیدا ہوئے۔

سلویا پلاتھ 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا پلاتھ کے والد بوسٹن یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر تھے۔

سلویا پلاتھ کی عمر ابھی آٹھ برس ہی تھی جب ان کے والد فوت ہو گئے۔ سلویا پر ان کی موت کا گہرا نفسیاتی اثر ہوا اور وہ بہت دکھی ہو گئیں۔ ان کا یہ دکھ دھیرے دھیرے اور بڑھتے بڑھتے ڈپریشن کا روپ دھارنے لگا۔ ایسی ڈپریشن جس کے تاریک بادل ساری عمر ان کے سر پر منڈلاتے رہے اور انہیں موت کے قریب سے قریب تر کرتے چلے گئے۔

سلویا بچپن سے ہی حد سے زیادہ حساس لڑکی تھیں۔ انہوں نے گیارہ برس کی عمر سے ہی اپنے جذبات اور خیالات کو الفاظ کا روپ دے کر اپنی ڈائری میں رقم کرنا شروع کر دیا۔ ڈائری لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے فن کا اظہار شاعری میں بھی کیا اور پینٹنگز میں بھی۔

1950 میں جب انہیں سمتھ کالج میں داخلہ ملا تو انہوں نے کالج کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا جنہیں ان کے اساتذہ نے بہت سراہا۔ کالج کی تعلیم کے تیسرے سال انہیں ایک خاص انعام ملا اور MEDEMOSIELLE

میگزین نے انہیں چند اور خواتین ادیبوں کے ساتھ ایک مہینے کے لیے نیویارک بھیج دیا۔

نیویارک میں ایک مہینے کا تجربہ سلویا پلاتھ کے لیے اتنا اہم اور بھرپور تھا کہ انہوں نے اس تجربے کو اپنے ناول THE BELL JAR کے لیے خام مال کے طور پر استعمال کیا۔ دی بیل جار ایک خود سوانحی ناول کی صنف کا شہکار ہے۔

نیویارک کے قیام کے دوران سلویا پلاتھ کی شدید خواہش تھی کہ وہ مشہور شاعر ڈلن تھامس سے ملیں۔ وہ ان کے ہوٹل کے گرد دو دن تک چکر لگاتی رہیں لیکن جب وہ ملے بغیر چلے گئے تو سلویا پلاتھ اتنی دلبرداشتہ ہوئیں کہ انہوں نے ایک چاقو سے اپنی ٹانگوں پر چرکے لگائے اور اپنے آپ سے پوچھا کہ کیا مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں خود کشی کرلوں؟

سلویا پلاتھ نے پہلا باقاعدہ اقدام خودکشی اگست 1954 میں کیا جب انہوں نے اپنی والدہ کی تمام خواب آور گولیاں کھا لیں۔ اس اقدام خودکشی کے بعد انہوں نے چھ ماہ ایک نفسیاتی ہسپتال میں گزارے جہاں ان کا بجلی کے جھٹکوں سے علاج کیا گیا۔

1955 میں سلویا پلاتھ نے دوستاوسکی کے ناولوں پر مقالہ لکھ کر سمتھ کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ سلویا اتنی ذہین اور قابل تھیں کہ انہیں انگلستان کا فل برائٹ سکالر شپ دیا گیا کہ وہ انگلستان جا کر کیمبرج یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ انگلستان میں اساتذہ اور طلبا و طالبات ان سے بہت عزت و احترام سے پیش آئے۔

سلویا پلاتھ کی شاعر ٹیڈ ہیوز سے ملاقات 1956 میں ہوئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور ایک دوسرے کو محبت بھری نظمیں بھیجتے رہے۔ محبت ناموں کا یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ چند ماہ بعد دونوں نے ایک دوسرے کو شریک حیات کے طور پر چن لیا۔

1957 میں سلویا اور ٹیڈ امریکہ آ گئے اور دونوں استاد بن گئے۔
اس طرح دو شاعر ’دو ٹیچر اور دو دانشور ایک چھت تلے ساتھ رہنے لگے۔

سلویا پلاتھ کی شاعری میں اہم تبدیلی اس وقت آئی جب انہوں نے مشہور ادیب رابرٹ لاول کے سیمیناروں مین شرکت کرنی شروع کی جہاں ان کی ملاقات فینسٹ لکھاری این سیکسٹن سے ہوئی۔ رابرٹ لاول اور این سیکسٹن نے سلویا کی بہت حوصلہ افزائی کی اور انہیں خود سوانحی نظمیں لکھنے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد سلویا پلاتھ نے اپنی زندگی کے تلخ و شیریں تجربات و مشاہدات پر نظموں کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جو ان کی شاعری کی شناخت ٹھہرا۔ انہوں نے ڈیپریشن ’خود کشی اور عورتوں کے خوابوں اور عذابوں پر کھل کر لکھنا شروع کیا اور اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کو قبول کیا تب ہی تو وہ یہ لکھنے کے قابل ہو سکیں

TO BE TRUE TO MY OWN WEIRDNESS

انہوں نے اپنی غیر معمولی شخصیت اور اپنی غیر روایتی سوچ کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرنے کی بہت کوشش کی۔ عارف عبدالمتین کا شعر ہے

؎ میری عظمت کا نشاں میری تباہی کی دلیل
میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو۔
سلویا پلاتھ کا پہلا شعری مجموعہ دی کلوسس 1960 میں چھپا۔

جب سلویا اور ٹیڈ کی شادی کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوا اور رومانوی رشتے میں دراڑیں پڑنے لگیں تو سلویا کے دل میں اپنے شوہر کے لیے مثبت جذبات کم ہونے لگے اور منفی جذبات بڑھنے لگے۔

دھیرے دھیرے سلویا کی محبت نفرت ان کی چاہت جارحیت اور اپنائیت غیریت میں ڈھلنے لگی۔
سلویا کے ہاں ان کی بیٹی فریدا اپریل 1960 اور بیٹا نکولس جنوری 1962 میں پیدا ہوا۔

1961 میں سلویا اور ٹیڈ نے ایک جوڑے آسیا ولول اور ڈیوڈ ولول سے ایک گھر کرائے پر لیا لیکن اس گھر نے ان کی زندگی میں ایک بحران پیدا کر دیا کیونکہ ٹیڈ اپنی مالک مکان آسیا کی زلف کے اسیر ہو گئے۔ جنوری 1962 میں جب سلویا کو اپنے شوہر کے ایک شادی شدہ عورت سے رومانوی تعلقات کا پتہ چلا تو وہ اتنی دلبرداشتہ ہوئیں کہ پہلے اپنے شوہر سے بہت لڑیں اور پھر ستمبر 1962 میں انہیں چھوڑ کر اور دونوں بچوں کو لے کر انگلستان چلی گئیں اور طلاق لینے کے بارے میں سوچنے لگیں۔

ٹیڈ سے علیحدگی کے بعد سلویا میں ایک تخلیقی طوفان آیا اور انہوں نے چند ماہ میں چالیس نظمیں لکھ ڈالیں۔

اسی دوران انہوں نے اپنا خود سوانحی ناول دی بیل جار بھی وکٹوریا لیوکس کے فرضی نام سے چھپوایا۔

انگلستان میں بچوں کی خدمت ’شوہر سے شکایت اور سردی کی شدت کی وجہ ان پر ڈپریشن کا ایک اور دورہ پڑا۔ ان کے ڈاکٹر نے انہیں اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کھانے اور ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے ہسپتال جانے سے انکار کر دیا۔ آخر ڈاکٹر نے جب سلویا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے گھر میں ایک نرس رکھ لیں تو وہ راضی ہو گئیں۔ 11 فروری 1963 کی جس صبح نرس نے سلویا کا خیال رکھنے نو بجے جانا تھا اس صبح انہوں نے دونوں بچوں کو علیحدہ کمرے میں سلایا اور خود گیس کا چولھا جلا کر اس میں اپنے سر گھسا دیا اور کاربن مانو آکسائڈ کی زہریلے گیس کی شدت سے خود کشی کر لی۔ جب نرس آئی تو اسے دو سوتے ہوئے بچے اور سلویا کی لاش ملی۔

بچے تو چند گھنٹوں کے بعد جاگ گئے لیکن سلویا ابدی نیند سو گئیں۔

سلویا پلاتھ کی موت کے بعد ان کی نظموں کا مجموعہ۔ ایریل۔ شائع ہوا اور اتنا مقبول ہوا کہ اسے بہت سے انعامات ملے۔

جب سلویا پلاتھ کی نظموں کی کلیات 1981 میں چھپیں تو ان نظموں کو اتنی ادبی پذیرائی ملی کہ انہیں 1982 کا پلٹزر انعام ملا ایسا انعام جو موت کے بعد کم بہت ہی کم دیا جاتا ہے۔

سلویا پلاتھ کا ناول دی بیل جار 1971 میں ان کے اصلی نام کے ساتھ چھپا۔

سلویا کے بچوں نے ان کا فن اور پاگل پن دونوں وراثت میں پائے ان کی بیٹی فریدہ ایک فنکار بن گئیں اور ان کے بیٹے نکولس نے 2009 میں ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کشی کر لی۔

سلویا کی خود کشی کے بعد فیمنسٹ عورتیں ان کے شوہر سے اتنی ناراض ہوئیں کہ بعض نے انہیں سلویا کی خود کشی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور انہیں قتل کی دھمکیاں دیں۔ فیمنسٹ عورتوں نے یہ بھی مشہور کیا کہ ٹیڈ سلویا کو مارتے پیٹتے بھی تھے ایک دفعہ اتنا زدو کوب کیا کہ ان کا اسقاط ہو گیا۔

ٹیڈ نے جس شادی شدہ عورت آسیہ سے رومانوی تعلقات قائم کیے تھے اس نے بھی چند سال بعد خود کشی کر لی۔

ٹیڈ کافی عرصہ سلویا سے رشتے کے بارے میں خاموش رہے لیکن پھر 1998 میں ایک شاعری کا مجموعہ BIRTHDAY LETTERS کے نام سے چھپوایا جسے ادبی محفلوں میں بہت سراہا گیا۔ اس کتاب کا ٹائٹل ان کی فنکار بیٹی فریدہ نے بنایا تھا۔ جب وہ مجموعہ چھپا تو بہت کم لوگ جانتے تھے کہ ٹیڈ کینسر کے آخری مراحل میں ہیں اس لیے کتاب کی اشاعت کے چند ماہ بعد وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

اس طرح سلویا اور ٹیڈ دو شاعروں کی محبت اور نفرت چاہت اور جارحیت شاعری اور خودکشی کی کہانی اپنے انجام تک پہنچی۔

سلویا پلاتھ کی ادبی کرامت یہ ہے کہ انہوں نے محبت کی موت کی کوکھ سے ادب عالیہ کو جنم دیا۔ وہ خود تو فوت ہو گئیں لیکن نسوانی ادب کو زندہ جاوید کر گئیں۔

اگر آپ نے سلویا پلاتھ کی شاعری نہیں پڑھی تو میں نے آپ کے لیے ان کی ایک نظم کا ترجمہ کیا ہے۔
آئینہ
میرے کوئی تعصبات نہیں ہیں
میرے کوئی تحفظات نہیں ہیں
مجھے جو بھی پیش کیا جاتا ہے
میں اسے پسند یا ناپسند کیے بغیر
قبول کر لیتا ہوں
میں ظالم نہیں ہوں
صرف سچ کہتا ہوں
میں دن بھر
سامنے کی دیوار کے نقش و نگار دیکھتا رہتا ہوں
جو رات کو غائب ہو جاتے ہیں
اور اگلی صبح پھر نظر آنے لگتے ہیں
میں کبھی کبھار
ایک جھیل بن جاتا ہوں
جس میں ایک عورت اپنا عکس دیکھتی ہے
اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرتی ہے
اور آنسو بہاتی ہے
وہ عورت
میری اہمیت و افادیت کو جانتی پہچانتی ہے
وہ ہر صبح اپنا چہرہ مجھ میں دیکھتی ہے
وہ صبح جو رات کی تاریکی کی کوکھ سے پیدا ہوتی ہے
وہ جانتی ہے
کہ مجھ میں ایک الھڑ جوان لڑکی ڈوب گئی تھی
اور اب
ایک غمزدہ بوڑھی عورت جنم لے رہی ہے
۔ ۔ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 502 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments