محبت کی قوس قزح تخلیق کرنے والا افسانہ نگار: قمر زیدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(نوٹ۔ یہ خط ادارہ نو بہ نو کے چار دسمبر 2021 کے سیمینار میں پڑھا گیا جو قمر زیدی کی پچاس سالہ شعری و نثری خدمات کے اعتراف کے لیے عزیزی مظفر عباس نے زوم پر منعقد کیا)

محترمی و مکرمی مظفر عباس صاحب!

میں جب بھی آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اسلام آباد میں آپ کے ساتھ گزاری ہوئی چند شامیں یاد آ جاتی ہیں۔ ان شاموں کی خوشگوار یادیں میرے دل کے نہاں خانوں میں اب تک محفوظ ہیں۔ آپ نے اور آپ کے اہل خانہ نے جس اپنائیت اور خلوص سے اپنے دل اور گھر کے دروازے کھول کر مجھے خوش آمدید کہا اور میرا خیال رکھا وہ مجھے کبھی نہ بھولے گا۔ آپ کی محبت اور اپنائیت نے میرے اسلام آباد کے قیام کو یادگار بنا دیا۔

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہم سب اپنی زندگی میں ان گنت لوگوں سے ملتے ہیں۔ بعض لوگوں سے برسوں کی ملاقاتوں کے بعد بھی دل کا رشتہ نہیں بن پاتا اور بعض انسانوں سے ایک ہی ملاقات میں ایسی جڑت محسوس ہوتی ہے جو ساری عمر قائم رہتی ہے۔ آپ ایک ہی ملاقات میں میرے دل کے PERMANENT RESIDENTبن گئے۔ کاش آپ میرے شہر میں ہوتے تو ہم ہر مہینے ڈنر اور ڈائلاگ کی محفل سجاتے اور ادبی مکالمے کرتے۔ میں زہرا نقوی کا ممنون و مشکور ہوں جنہوں نے میرا آپ جیسے انسان دوست اور ادب نواز انسان سے تعارف کروایا۔

اگر میری آپ سے ملاقات نہ ہوئی ہوتی تو میرا قمر زیدی اور ان کے افسانوں کے مجموعے۔ سایہ گل۔ سے بھی تعارف نہ ہوتا۔ مجھے ادبی تحفہ بھیجنے کا بہت بہت شکریہ۔ میں ان افسانوں کو پڑھ کر محظوظ بھی ہوا اور مسحور بھی۔ یہ میری بدقسمتی کہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں کے لکھے ہوئے اور 1990 کی دہائی میں ہندوستان میں چھپے ہوئے یہ ادبی شہ پارے میری نگاہ سے نہیں گزرے۔ یہ مجھ جیسے پاکستانی اور کینیڈین اردو ادب کے طالبعلموں کی بدقسمتی ہے کہ ہم ہندوستان میں چھپنے والی بہت سی ادبی تخلیقات سے سیاسی وجوہات کی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔

آپ کی خواہش ہے کہ میں قمر زیدی کی تخلیقات کے حوالے سے اپنی رائے آپ سے شیر کروں اس لیے عرض ہے کہ چونکہ میں قمر زیدی سے کبھی نہیں ملا اس لیے میری رائے اس کتاب کے افسانوں تک محدود ہوگی۔

’سایہ گل‘ کے افسانے پڑھ کر میرا پہلا تاثر یہ بنا کہ یہ ایک مثالیت پسند نوجوان لکھاری کے افسانے ہیں۔ ان افسانوں میں مجھے جو خوبیاں دکھائی دیں وہ میں آپ سے شیر کیے دیتا ہوں۔

قمر زیدی کو اردو زبان پر قدرت حاصل ہے۔ وہ الفاظ کا تخلیقی استعمال کرتے ہیں۔ بعض دفعہ تو یوں لگتا ہے جیسے وہ نثر میں شاعری کر رہے ہیں۔ اسی لیے مجھے بالکل حیرانی نہیں ہوئی جب آپ نے بتایا کہ وہ شاعر بھی ہیں۔

قمر زیدی نثر میں شاعری ہی نہیں کرتے مصوری بھی کرتے ہیں۔ وہ الفاظ سے پینٹنگز بھی بناتے ہیں۔ وہ کسی منظر کو اس خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ انسان آنکھیں بند کر کے چشم تصور سے اسے دیکھ سکتا ہے۔

یہ قمر زیدی کا کمال ہے کہ وہ اپنے کرداروں کے جذبات ’خیالات اور احساسات بڑے احسن طریقے سے قاری کے ذہن اور دل کی گہرائیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔

کسی بھی افسانے کا پہلا جملہ کتنا اہم ہوتا ہے اس کی مثال قمر زیدی کے مجموعے کے پہلے افسانے۔ گم شدہ منزل۔ کے پہلے جملے سے عیاں ہے۔ لکھتے ہیں

’ رات کٹی پتنگ کی طرح فضا میں تیر رہی ہے‘
یہ پہلا جملہ ہی قاری کو پکڑ ہی نہیں جکڑ بھی لیتا ہے۔
اس کے بعد قمر زیدی کہانی کے مرکزی کردار اور چاند کا مکالمہ پیش کرتے ہیں

’ میرے کمرے میں گہری خاموشی ہے۔ میں فضا میں اضطرابی کیفیت محسوس کر رہا ہوں۔ میرے دل میں بھی ایک اضطراب کا عالم ہے۔ عجیب بے چینی سی ہے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ میں اپنے بستر پر پڑا پگھلتے لمحوں کی سسکیاں صاف سن رہا ہوں۔ کھڑکی کے اس پار آسمان پر چاند بھاگ رہا ہے۔ میری نظریں اس کا تعاقب کر رہی ہیں۔ لیکن وہ اپنی دھن میں بھاگتا ہی جا رہا ہے۔ آخر میرا دل چیخ اٹھتا ہے۔

’پاگل نہ بنو۔ میری بات سنو۔ تم زندگی سے اس طرح فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ آؤ میری تنہائیوں میں برابر کے شریک ہو جاؤ۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے غم کا مداوا بن جائیں۔ میں بھی تمہاری ہی طرح غم زدہ ہوں۔ تم آسمان کی وسعتوں میں اپنی منزل تلاش کرتے رہے ہو اور میں زمین کے ذرے ذرے سے اپنی اپنی کھوئی ہوئی بہار کا پتہ پوچھتا ہوں‘

ان جملوں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ قمر زیدی کیسے نثر میں شاعری کرتے ہیں اور کیسے الفاظ سے پینٹنگ بناتے ہیں اور کس طرح قاری کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد قاری ان کے ساتھ ساتھ کہانی کے آخر تک چلتا ہے۔

قمر زیدی کا نام بھی قمر ہے اور اس افسانے میں ان کا کلیدی استعارہ بھی چاند ہے۔ قمر زیدی کی طرح ابن انشا بھی چاند کے سحر میں گرفتار رہتے تھے اسی لیے ان کی شاعری کے مجموعے کا نام بھی۔ چاند نگر۔ تھا اور ان کی کئی غزلوں اور نظموں میں چاند سے اٹکھیلیاں ملتی ہیں۔ ان کی مشہور نظم کے اشعار آپ نے بھی سنے ہوں گے

؎ کل چودھویں کی رات تھی شب رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم ہنس دیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا
قمر زیدی لکھتے ہیں

’ میں بے خود ہوا جا رہا ہوں۔ میری یہ کیفیت دیکھ کر آسمان پر چاند مسکرا رہا ہے۔ میں چاند کو پھر دیکھنے لگا ہوں۔ چاند کے چہرے سے بادل کا وہ ٹکرا لہراتا ہوا آگے نکل کر اندھیرے میں گم ہو گیا ہے۔ چاند کے ہالے میں میری زندگی کے خواب نمایاں ہو اٹھے ہیں‘

قمر زیدی رات۔ چاند۔ بادل اور۔ خواب۔ کے تانے بانے سے افسانہ بنتے ہیں۔ یہی ان کی فنکاری ہے۔

اس افسانے کی محبوبہ ریشماں ہے جس کی قربت میں اس افسانے کا ہیرو جوانی کی چند حسیں شامیں گزار چکا ہے۔ لیکن پھر ان دو محبوبوں کا غم جاناں۔ غم دوراں کی نذر ہو جاتا ہے۔ ان کی محبت کسی کی نفرت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ قمر زیدی رقم طراز ہیں

’ پھر دوسرے دن مجھے ریشماں کے گاؤں کے لٹنے کی خبر ملتی ہے۔ اسی رات بلوائیوں نے اس کے گاؤں پر حملہ کر دیا تھا۔ میں نے ریشماں کو بہت تلاش کیا بہت ڈھونڈا لیکن اس کا کہیں پتہ نہ چل سکا‘

قمر زیدی کے پہلے افسانے کی طرح کئی اور افسانوں میں بھی دو محبوب مختلف خاندانی ’سماجی اور سیاسی تضادات کی وجہ سے جدا ہو جاتے ہیں لیکن اس جدائی کے باوجود ان کے دل میں محبت مر نہیں جاتی اس کی کرن باقی رہتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اور آخر ایک دوسرے سے مل بھی جاتے ہیں لیکن دوسری ملاقات روایتی ملاقات نہیں ہوتی بلکہ زندگی انہیں ایک سرپرائز دیتی ہے۔ محبت ملتی ہے لیکن ایک نئے انداز سے‘ ایک نئے زاویے سے ’ایک نئے تجربے سے‘ ایک نئے حادثے سے۔

’گم شدہ منزل‘ کے ہیرو جمال کو برسوں بعد جب ریشماں ملتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور وفور جذبات میں کہتا ہے

’ ہاں ہاں میں ہی تمہارا جمال ہوں ریشماں۔ تمہیں نجانے کہاں کہاں میں نے تلاش کیا ہے! میں جلدی سے بول اٹھتا ہوں‘

لیکن پھر جمال کو یہ جواب ملتا ہے
’ میں ریشماں نہیں ہوں انکل۔ ریشماں میری ماں کا نام تھا۔

آج سے دو سال پہلے جب وہ بستر مرگ پر تھیں میں ان کے خاندان اور ان کے گاؤں کے بارے میں جاننے کے لیے ان سے بضد ہو گئی۔ مجبورا انہیں سب کچھ بتانا پڑا۔ آپ کا ذکر کرتے وقت میں نے ان کی آنکھوں میں عجب الجھن محسوس کی تھی۔ شاید وہ اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اسی وقت انہوں نے مجھے آپ کی تصویر بھی دکھائی تھی۔ جو بھاگتے وقت ان کے پاس تھی ’

ریشماں کی بیٹی ہندوستان آئی تا کہ ماں کا گاؤں بھی دیکھ سکے اور ماں کے جوانی کے دوست سے بھی مل سکے۔
افسانے کے آخری جملوں میں جمال پھر چاند سے مخاطب ہے

’ اے میرے چاند! میرے ہمدم! مجھے معاف کر دینا۔ اب میں تیرا ساتھ نہ دے سکوں گا۔ کیونکہ مجھے اپنی کھوئی ہوئی منزل کا پتہ مل گیا ہے۔ میں وہیں جا رہا ہوں۔ اب مجھے وہیں پہنچ کر سکون ملے گا۔ رخصت اے میرے چاند رخصت! ‘

میں نے اس افسانے کا تفصیلی ذکر اس لیے کیا ہے تا کہ آپ قمر زیدی کے انداز بیاں ’ان کے مزاج‘ ان کے ذوق اور ان کے اسٹائل سے متعارف ہو سکیں۔

قمر زیدی نے افسانوں میں محبت کی قوس قزح کے بہت سے رنگ تخلیق کیے ہیں جو مختلف افسانوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔

افسانے۔ آخری سبق۔ میں لکھتے ہیں

’ یہ ضروری نہیں کہ محبت کرنے والے اظہار محبت بھی کریں محبت ایک لطیف احساس کا نام ہے جسے صرف دل ہی محسوس کر سکتا ہے‘

جیسے۔ گم شدہ منزل۔ افسانے کا ہیرو اور ہیروئن ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اسی طرح۔ روح کے رشتے۔ افسانے کے دو محبوب جدا ہو جاتے ہیں۔ قمر زیدی لکھتے ہیں

’ رفتہ رفتہ ہم ایک دوسرے سے بے تکلف ہوتے گئے۔ زمانہ گردش کرتا رہا۔ وقت گزرتا رہا۔ اور ہم دنیا و مافیہا سے بے خبر محبت کی شاداب وادیوں میں آرزوؤں کی معصوم کلیاں چنتے رہے۔ خوابوں کے حسیں محل بناتے رہے لیکن اس کے والدین کی سخت مخالفت نے ہمارے حوصلے پست کر دیے۔ ہم نے ہمیشہ کے لیے گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔‘

قمر زیدی کے افسانوں میں محبوب ایک دوسرے سے عمر بھر ساتھ نبھانے کے وعدے کرتے ہیں لیکن وہ ساتھ ساتھ زندگی کے سنگین مسائل کا اقرار بھی کرتے ہیں۔

افسانے۔ کفارہ۔ کا ہیرو جو ایک فوجی ہے اپنی محبوبہ سے کہتا ہے

’میں یہ بھول ہی گیا تھا کہ میں ایک فوجی افسر ہوں اور فوجیوں کی زندگی ریشمی زلفوں کے سایوں میں نہیں جلتے تپتے ریگستانوں میں پروان چڑھتی ہے۔ سنو ہنی! اگر میں محاذ جنگ سے واپس نہ آ سکا تو تم میرے غم میں اپنی زندگی برباد نہ کرنا۔ کسی شریف آدمی کو جیون ساتھی بنا کر اپنا گھر بسا لینا اور جہاں تک ممکن ہو مجھے بھولنے کی کوشش کرنا‘

قمر زیدی کے افسانے کا یہ ڈائلاگ پڑھ کر مجھے انقلابی چے گوارا یاد آ گئے جنہوں نے مرنے سے پہلے اپنے قاتل فوجیوں کو یہ آخری وصیت کی تھی کہ وہ ان کی بیوی کو یہ پیغام دیں کہ وہ ان کی موت کے بعد دوسری شادی کر لے۔

قمر زیدی کے کئی افسانوں میں عورتوں اور مردوں کی نفسیات کے بارے میں دلچسپ جملے اور مکالمے ملتے ہیں۔ افسانے۔ عورت۔ میں لکھتے ہیں ’‘ عورت بے بس ہوتی ہے اور مرد بے رحم ’

قمر زیدی اپنے افسانوں میں انسانوں کی شخصیت کے روشن پہلوؤں کے ساتھ ساتھ تاریک پہلو بھی دکھاتے ہیں۔ افسانے۔ عورت۔ میں لکھتے ہیں

’ میں نے تم سے شادی کر کے غلطی کی
غلطی؟ یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟
ٹھیک ہی کہہ رہی ہوں۔ تم تو جنسی طور پر مجھے اچھی طرح آسودہ بھی نہیں کر سکتے ’

میرے اس جملے نے اس کے لیے بم کا کام کیا۔ اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں ابھرنے لگیں۔ آنکھیں غیرت سے جھک گئیں۔

آج میں اپنی بے بس دکھیاری ماں کا انتقام اپنے ظالم باپ سے لے رہی ہوں۔ ڈیسوزا کی غیرت مردانگی کو اتنی گہری ضرب لگی تھی کہ وہ اس کی تاب نہ لا کر تڑپ رہا تھا ’

قمر زیدی کے افسانوں کے کردار ایک ایسے ماحول میں محبت کرتے ہیں جس کا خلاصہ کسی شاعر نے ایک شعر میں بیان کیا ہے

آرزو اور آرزو کے بعد خون آرزو
ایک مصرعہ میں ہے ساری داستان زندگی

قمر زیدی کے افسانوں کے دو محبوب کہیں ملتے ہیں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں قربتیں بڑھتی ہیں لیکن پھر وہ کسی حادثے ’کسی سانحے یا کسی ٹریجڈی کا شکار ہو کر جدا ہو جاتے ہیں۔ محبوب دل گرفتہ اور دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ مدتوں بعد کسی اور دنیا میں کسی اور حوالے سے ملتے ہیں۔

قمر زیدی ہمیں دکھاتے ہیں کہ وقت کس طرح محبتوں کو بدل دیتا ہے۔

قمر زیدی مثالیت پسند ادیب ہیں وہ اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب معاشروں کی مجبوریاں اور پابندیاں ختم ہو جائیں گے اور دو انسان اور دو محبوب اپنی چاہت سے ایک دوسرے کے شریک سفر اور شریک حیات بن جائیں گے۔

قمر زیدی جانتے ہیں کہ ابھی ہم انسانی ارتقا کے اس موڑ پر ہیں جہاں ہم سب رنگ ’نسل‘ مذہب اور قومیت کی دیواروں کی گھرے ہوئے ہیں۔ قمر زیدی ان دیواروں کو مسمار کر کے محبت کے پل تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

وہ اپنے افسانوں میں محبت کی قوس قزح تخلیق کرتے ہیں جس کے مختلف رنگ مختلف کہانیوں کے مختلف کرداروں میں بکھر جاتے ہیں اور ہمیں ایک بہتر مستقبل کا خواب دکھاتے ہیں۔

یہ افسانے آج سے پچاس برس پیشتر تخلیق کیے گئے تھے لیکن ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا وہ نصف صدی پیشتر تھا۔

مظفر عباس صاحب!

مجھے۔ سایہ گل۔ کا ادبی تحفہ بھیجنے کا اور قمر زیدی جیسے شاعر و دانشور ادیب سے غائبانہ ادبی تعارف کروانے کا بہت بہت شکریہ۔ یہ افسانے طویل تجزیے کے متقاضی تھے لیکن وقت کی پابندی کی وجہ سے میں نے اختصار سے کام لیا۔ امید ہے میرے تبصرے نے آپ کو نا امید نہیں کیا ہو گا۔

قمر زیدی نے۔ سایہ گل۔ کے افسانوں کے بعد پچھلے پچاس سالوں میں جو افسانے تخلیق کیے ہیں ان کا ادبی تحفہ بھی ضرور بھیجیے گا۔

آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل
دسمبر 2021


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 500 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments