شہر اقبال کے شاہین یا گدھ
سیالکوٹ پاکستان کا اہم صنعتی شہر ہے جو آلات جراحی، کھیلوں کا سامان، موسیقی کے آلات، چمڑے کی مصنوعات، ٹیکسٹائل صنعتوں کے لئے مشہور ہے۔ لہٰذا پاکستان کی درآمدات کا بڑا ذریعہ اور زرمبادلہ کمانے کا دوسرا اہم شہر ہے۔ اس کے علاوہ یہ شہر تاریخی لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ مشہور فلسفی، شاعر اور دانشور، تحریک آزادی کی اہم شخصیت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا جائے پیدائش ( 09 / 11 / 1877 ) ہے۔
گزشتہ ہفتہ میں شہر اقبال سے اندوہناک اور رلا دینے والی خبر پر اگر دیکھیں تو کہنے کو بہت کچھ اور پل بھر کو سوچیں تو ذہن خالی اور ہاتھ لکھنے سے معذور ہوجائیں۔ سری لنکن شہری پریا تنھا کمار کا مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد، ہلاکت اور پھر لاش کی بے حرمتی کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر چند لمحے کے بعد ہی شیئرڈ ہو چکی تھی۔ ابتداء میں تو کچھ پتہ ہی نہیں چلا کہ کیا معاملہ ہے، لیکن بعد میں مختلف میڈیا چینل پر معاملہ کی تفصیلات آنا شروع ہوئیں تو اس ساری کہانی کا سرا ہاتھ میں آیا۔
یہ معاملہ سیالکوٹ میں ایک نجی گارمنٹ فیکٹری میں پیش آیا۔ سری لنکن شہری پریانتھا کمار، اس فیکٹری میں ملازم تھا۔ ایک مشین پر کوئی مذہبی اسٹیکر لگانے سے منع کرنے پر یہ بات اس قدر بڑھ کر ایک ایسے افسوسناک واقعہ کی شکل اختیار کر گئی کی دنیا بھر میں پاکستان کی معاشرتی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ سینکڑوں افراد کی موجودگی میں صرف ایک لرزہ خیز ہلاکت ہوئی۔ اور مستند قومی اخبارات کے مطابق اس ایک غیر ملکی کو بچانے والوں میں صرف دو افراد عملی طور پر سرگرم تھے اور باقی حملہ آور اور تماشائی تھے۔
فیکٹری سکیورٹی پر مامور تیرہ گارڈز اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے موقع سے فرار ہوچکے تھے۔ فیکٹری پروڈکشن مینجر اور اس کا ساتھی خود پر ہجوم کا تشدد سہتے رہے لیکن پریانتھا کو نہ بچا سکے۔ اور اس سارے جنون اور تشدد کے باعث ماورائے عدالت ہلاک ہونے والے غیر ملکی پر تکفیر مذہب (توہین رسالت) کا الزام تھا۔
سری لنکا اپنے بھر پور حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) ، دار چینی اور چائے کی درامد کے علاوہ اپنے شاندار قدرتی عجائبات کے لئے مشہور ہے۔ اس ملک کو بحرہند کے موتی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس ملک میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ شہر اقبال سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریانتھا کمار کا سفاکانہ قتل پاکستانیوں کو رلا گیا۔ ملک کے تمام حساس حلقے چند مشتعل اور شر پسند عناصر کے اس غیر انسانی فعل سے افسردہ ہیں اور اس واقعے کی بھرپور مذمت کر رہے ہیں۔
سری لنکا پاکستان کو آنکھوں (Cornea) کے عطیات دینے کے حوالے سے غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ 1965 ء سے سری لنکا آئی ڈینیشن سوسائٹی (Eye Donation Society) کے تحت ڈاکٹر ہڈسن سلوا نے پاکستان کو آنکھوں کے مفت عطیات کرنے کا آغاز کیا۔ سری لنکا کی آنکھیں عطیہ کرنے والی سوسائٹی اب تک پاکستان کو 50 ہزار سے زائد آنکھوں کا عطیہ دے چکی ہے۔ اور اب تک ہزاروں پاکستانی جو قوت بصارت سے محروم تھے وہ بینائی پاکر اپنی روز مرہ زندگی میں سرگرم عمل ہیں۔
تصور کریں جب انسان پر جنون طاری ہوتا ہے تو وہ سب احسانات کو بالائے طاق رکھ کر شر کے زیر اثر ایسے ایسے کام کر گزرتا ہے کہ نسل انسانی شرمندہ ہو جاتی ہے۔ اس اندوہناک واقعے کی تفصیلا تمام پرنٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ لیکن بار بار انہیں دہرانے سے کچھ حاصل نہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی خاندان کے اس فرد کا نعم البدل کیا لوٹایا جائے سوائے چند الفاظ تعزیت اور تسلی کے۔ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں جہاں اس واقعہ پر اظہار افسوس کیا جا رہا ہے۔ وہیں مذہبی تکفیر و ناموس رسالت کے موجودہ قوانین کے ذاتی دشمنی اور عناد کے لئے استعمال کی مذمت بھی کی جا رہی ہے۔
ماضی میں بھی تکفیر کے زیادہ تر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو ماورائے عدالت قتل اور یہاں تک کہ زندہ اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دینے کے واقعات بھی ریکارڈ پر ہیں۔ ایک مستند حوالے کے مطابق 1990 ء سے اب تک پاکستان میں 62 افراد توہین مذہب کے الزام میں ماورائے عدالت قتل کیے جا چکے ہیں۔ معزز عدالتیں کہ چکی ہیں کہ کسی کو بھی توہین مذہب کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس کا مرتکب سزا کا مستحق ہے، تاہم بے بنیاد الزامات پر قانون کو ہاتھ میں لینا غلط ہے۔
عدالتوں کا موقف یہ بھی ہے کہ توہین مذہب کے الزامات کے بعد مجاز عدالت کے سامنے دفاع کا موقع فراہم ہونا چاہیے تاکہ انصاف ہو سکے، اس سے جھوٹے الزامات کے امکانات ختم ہوجائیں گے، اور ماضی میں ایسا ہوا بھی ہے۔ جہاں مذہبی غیرت ایسے موقعوں پر جوش دلاتی ہے وہیں مذہب احترام انسانیت اور عدل کے تقاضوں کا درس بھی دیتا ہے۔ انسانی زندگی کا نعم البدل نہ ہی زر دولت ہی مذمتیں ہیں۔
معتبر عالم دین تقی عثمانی کا اس ضمن میں بیان سامنے آیا ہے کہ توہین رسالت سنگین جرم ہے لیکن ملزم سے اس کے ارتکاب کے ثبوت بھی اتنے ہی مضبوط ہونے ضروری ہیں۔ کسی پر یہ سنگین الزام لگا کر خود ہی اسے وحشیانہ اور حرام طریقے سے سزا دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ سیال کوٹ کے واقعے نے مسلمانوں کی بھونڈی تصویر دکھا کر ملک و ملت کو بدنام کیا ہے۔
اس واقعہ کے مرتکب افراد شاید جوش اور مذہبی جنون میں یہ بات بھول گئے کہ سری لنکا میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لئے انہوں کیا کیا مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اگر اس واقعہ کے رد عمل میں ان کے جان و مال کا نقصان ہوتا ہے اس صورت حال کا کون ذمہ دار ہو گا۔
دور حاضر میں ملک خداداد معاشی اور سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ بیرونی قرضوں کا حجم 127 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ حال ہی میں پوری دنیا کی طرح پاکستان کی معیشت کورونا کے باعث پہلے ہی انحطاط کا شکار ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ یہ تمام حالات ملکی سلامتی اور بقاء کے لئے کوئی خوش گوار نہیں۔ عوام مہنگائی سے دوچار ہیں۔ آئے دن بیرونی قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے ناکافی ملکی وسائل کے باعث پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے اور کوئی حل نہیں، اس کی وجہ سے عوام مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کے باعث پریشان حال ہیں۔
امریکہ سرکار بھی ناراض ہے اور آئی ایم ایف ( آئی ایم ایف ) اور عالمی مالیاتی بینک کے ذریعے پاکستان پر سخت سے سخت پابندیوں کو عندیہ دے رہا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ملک کسی ایسے واقعے یا سانحے کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے پاکستان کی عالمی ساکھ اور متاثر ہو۔ دشمن قوتیں اسی طرح کی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گی۔ ان تمام حالات میں سیالکوٹ واقعہ میں بیرونی محرکات کی موجودگی کو یکسر رد نہیں کیا جاسکتا۔ مجموعی طور پر سری لنکن شہری کا سیالکوٹ میں سفاکانہ قتل، فیکٹری کی ذاتی سکیورٹی اور شہری انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور حیلوں بہانوں پر سوالی نشان ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کو ندامت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


