جنرل بپن راوت: انڈیا کے پہلے چیف آف ڈیفینس سٹاف جو اپنے بیانات کے سبب سرخیوں میں رہے
63 سالہ جنرل بپن راوت انڈیا کے پہلے چیف آف ڈیفینس سٹاف (سی ڈی ایس) تھے۔
انہیں یکم جنوری 2020 کو ملک کا سی ڈی ایس بنایا گیا تھا جن کی ذمہ داری فوج کے تینوں اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست 2019 کو لال قلعہ میں اپنی تقریر میں چیف آف ڈیفنس (سی ڈی ایس) کے عہدے کی تخلیق کا اعلان کیا تھا۔
جنرل راوت اس سے قبل انڈین فوج کے سربراہ رہ چکے تھے۔ وہ 31 دسمبر 2016 سے 1 جنوری 2017 تک انڈیا کے 26 ویں چیف آف آرمی اسٹاف تھے۔
جنرل راوت 16 مارچ 1958 کو اتراکھنڈ کے پوڑی ضلع میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فوج میں لیفٹیننٹ جنرل تھے۔
انڈین فوج کی ویب سائٹ پر شائع معلومات کے مطابق جنرل راوت 1978 میں فوج میں شامل ہوئے تھے۔
شملہ کے سینٹ ایڈورڈز سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، کھڑک واسلہ میں فوجی تربیت حاصل کی تھی۔
دہرادون کی انڈین ملٹری اکیڈمی سے تربیت حاصل کرنے کے بعد انہیں 11ویں گورکھا رائفلز دستے کی پانچویں بٹالین میں سیکنڈ لیفٹیننٹ بنا دیا گیا تھا۔
چار دہائیوں پر محیط فوجی کیریئر میں جنرل راوت کو فوج میں بہادری کے لیے کئی اعزازات سے نوازا گیا۔
انڈین فوج کے لیے اہم خدمات
چار دہائیوں سے بھی طویل کریئر میں جنرل راوت بریگیڈیئر، کمانڈر، جنرل آفیسر کمانڈنگ چیف، ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں جنرل سٹاف آفیسر گریڈ جیسے اہم عہدوں پر رہے۔
انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں انتہا پسندی کو کم کرنے میں ان کے تعاون کو سراہا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 2015 میں میانمار میں گھس کر این ایس سی این کے انتہا پسندوں کے خلاف انڈین فوج کی کارروائی کے لیے بھی انہیں سراہا گیا۔ 2018 میں بالاکوٹ حملے میں بھی ان کے کردار کی بات کی گئی تھی۔
انہوں نے چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول یا ایل اے سی کے ساتھ تعینات انفنٹری بٹالین کے علاوہ وادی کشمیر میں راشٹریہ رائفلز سیکٹر کی کمان بھی سنبھالی تھی۔
اس کے علاوہ انہوں نے جمہوریہ کانگو میں مختلف ممالک کے فوجیوں کی ایک بریگیڈ کی کمانڈ بھی کی تھی۔ جنرل راوت انڈیا کے شمال مغرب میں کور کمانڈر بھی رہ چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں اہلیہ سمیت ہلاک
جنرل بپن راوت کی نئی تقرری سے انڈیا کو کیا فائدہ ہوگا؟
’کیا جنرل راوت انڈیا کو پاکستان بنانا چاہتے ہیں‘
کشمیر: ’انتہا پسند سوچ کی تبدیلی کے مرکز چلا رہے ہیں‘
جنرل راوت ڈیفنس سروسز سٹاف کالج ویلنگٹن، تمل ناڈو اور فورٹ لیون ورتھ ( امریکہ) سے کمانڈ اینڈ جنرل اسٹاف کورس کے گریجویٹ تھے۔
انہوں نے قومی سلامتی اور فوجی قیادت پر بہت سے مضامین لکھے اور مینجمنٹ اور کمپیوٹر سٹڈیز میں ڈپلومہ کیا تھا۔
چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی آف میرٹھ نے ملٹری میڈیا سٹریٹجک سٹڈیز میں ان کی تحقیق کے لیے انہیں ڈاکٹر آف فلاسفی کے اعزاز سے بھی نوازا تھا۔
جنرل راوت اپنے بیانات کے سبب اکثر سرخیوں میں رہے
آرمی چیف کے عہدے پر رہتے ہوئے جنرل بپن راوت کے کئی بیانات خبروں میں رہے۔
دسمبر 2019 میں جنرل راوت نے شہریت کے ترمیمی قانون سی اے اے کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا جس کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔
سی اے اے اور این آر سی کے حوالے سے ملک کے کئی حصوں میں جاری مظاہروں کے درمیان جنرل راوت نے کہا تھا ‘جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یونیورسٹی اور کالج کے بہت سے طلباء ہزاروں کی تعداد میں ہجوم کی قیادت کر رہے ہیں جو ہمارے شہروں میں تشدد اور توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ یہ قیادت نہیں ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو آپ کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتا ہے اور آپ کو صحیح مشورہ دیتا ہے’۔
اس بیان کی مخالفت کے بعد انہیں کہنا پڑا کہ ‘فوج سیاست سے دور رہتی ہے اور فوج کا کام ہے کہ وہ حکومت کے احکامات پر عمل کرے’۔
کشمیر پر بیان
ستمبر 2019 میں جب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مواصلات کے نظام سے متعلق مقامی افراد شکایات کر رہے تھے تو اس حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ ’کشمیر میں مواصلاتی نظام ٹھیک ہے۔ تمام ٹیلی فون لائنیں کام کر رہی ہیں اور لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا تھا ‘ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس پر پابندی لگا دی گئی تھی، اب انٹرنیٹ سے مرحلہ وار پابندی ہٹائی جا رہی ہے۔ کل ہی وہاں موبائل ایس ایم ایس سروسز کو بحال کیا گیا ہے’۔
جون 2018 میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ان میں سے بہت سی رپورٹیں بدنیتی پر مبنی ہیں۔ فوج کا ریکارڈ بہت بہتر ہے’۔
جنرل بپن راوت نے فوجی افسر لِتول گوگوئی کا دفاع کیا تھا جن پر کشمیر میں تعیناتی کے دوران ایک شخص کو جیپ سے باندھ کر گھمانے کا الزام تھا۔ جب یہ تصاویر منظر عام پر آئیں تو سوشل میڈیا پر خوب تنقید کی گئی تھی۔
فروری 2018 میں انہوں نے ریاست آسام میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ اٹھایا اور بدرالدین اجمل کی پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کے بارے میں کہا کہ ’اے آئی یو ڈی ایف کے نام سے ایک پارٹی ہے، آپ دیکھیں کہ اس پارٹی نے بی جے پی کے مقابلے میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے۔ اگر ہم جن سنگھ کی بات کریں جب اس کے صرف دو ایم پی تھے اور اب وہ کہاں ہے، آسام میں اے آئی یو ڈی ایف کی ترقی اس سے کہیں زیادہ ہے’۔
ان کے اس بیان پر کئی حلقوں نے تنقید کی تھی۔
بی ایس ایف کے ایک جوان تیج بہادر یادو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی تھی جس میں فوجیوں کو خراب کھانا ملنے کی شکایت کی گئی تھی۔ اس کے بعد جنرل راوت نے کہا تھا کہ فوجیوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال سے گریز کریں اور انہیں ’مجھ سے براہ راست بات کرنی چاہیے‘۔
فضائیہ کے بارے میں بیان
رواں سال جولائی میں جنرل راوت نے فضائیہ کے بارے میں ایک بیان دیا تھا اور اس پر بھی کافی بحث ہوئی تھی۔
جنرل راوت نے ایک کانفرنس میں فضائیہ کو مسلح افواج کی ذیلی شاخ قرار دیا اور اس کا موازنہ آرٹلری اور انجینیئروں سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ فضائیہ ائیر ڈیفنس چارٹر کے مطابق کام کرتے ہوئے فوج میں معاون کا کردار ادا کرتی ہے۔
اُن کے بیان پر اُس وقت کے فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل آر کے ایس بھدوریا نے ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ فضائیہ کا کردار محض ذیلی نوعیت کا نہیں ہے، اور یہ کہ کسی بھی جنگی صورتحال میں فضائیہ کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

