لشکری پہ اس کے نام کا اثر ہے؟
ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کوئی قدآور سیاسی و قبائلی رہنما پاکستانی سیاست سے بددل ہو کر سیاست کو ہمیشہ کے لئے خیرآباد کرنے کا سوچ رہا ہو بلکہ پاکستانی سیاست کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر پھر سیاست سے بددلی کا راستہ تلاش کرنے والے ایک سے زائد موجود ہیں۔ مشہور و معروف کالم نگار تجزیہ کار سابق فوجی افسر اور روس میں پاکستان کے سفارت کار رہنے والے چکوال کے بے باک انسان ایاز امیر کئی سال پاکستانی سیاست کو خیرآباد کر چکے ہیں۔
وہ دو مرتبہ مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے، جیکب آباد سندھ سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف سیاسی رہنما الہیٰ بخش سومرو نے آخری مرتبہ دو ہزار دو کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ وہ تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، افتخار حسین گیلانی کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ مشہور قانون دان ہیں۔ دو بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے مگر وہ بھی اپنے کامیاب سیاسی سفر کو جاری نہ رکھ سکے اور کئی سال قبل سیاست سے منہ موڑ لیا، سیاست سے کنارہ کشی کرنے والے رہنماؤں کے الگ الگ تجربات یا مشاہدات ہوں گے لیکن بلوچستان کے نامور سیاسی و قبائلی رہنما نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی پہ لگتا ہے کہ اس کے نام کا اثر ہے جو ان کی سیاست پہ بھرپور طریقے سے اثر انداز ہو رہا ہے۔
سابق رکن بلوچستان اسمبلی اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کے متعلق خبریں آ رہی ہیں کہ وہ سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دینے جا رہے ہیں۔ اگر یہ خبر درست ہے تو پھر اس ہونے والے عمل کو روکنا ہو گا۔ نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کا سیاست سے بددل ہونا بلوچستان، بلوچستان میں بسنے والی تمام اقوام اور پیارے پاکستان کے لئے ایک نقصان سمجھا جائے گا۔ ہفت زبان ورکر جمہوریت کا علمبردار، صلح جو، بے داغ دامن، برادر اقوام کا خیر خواہ، علم کا خزانہ اور کتابوں کا عاشق اگر سیاست سے بددل ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لیتا ہے تو یہ ہم سب کا نقصان ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ افتخار حسین گیلانی، ایاز امیر، الہیٰ بخش سومرو یا دیگر نے سیاست سے کنارہ کشی کیوں اختیار کی؟
لیکن نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کے متعلق اگر میں غلط نہیں ہوں تو اتنا عرض کروں گا کہ ان پہ ان کے نام کا بہت اثر ہے۔ لشکری، جنگی یا فوجی کو کہتے ہیں۔ میرے بہت ہی کم سیاسی و صحافتی تعلق کی صورت میں جو بہت ہی کم علم حاصل کیا ہے۔ اس کے مطابق نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے ہر محاذ پہ ہر فورم پہ ایک جنگ لڑی ہے اور وہ جنگ پاکستان کی بھی تھی۔ بلوچستان کی بھی تھی۔ برادر اقوام کی بھی تھی اور انسانیت کی بھی تھی اور ان دنوں وہ جہالت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
پاکستان بھر سے کتابیں اکٹھی کر کے بلوچستان کے کونے کونے میں موجود اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں لائبریریوں تک پہنچا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے نوجوان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی سیاست تاریخ معیشت جغرافیے کو سمجھ سکیں، ان کتابوں میں افسانے بھی ہوتے ہیں اور سفر نامے بھی، آٹو بائیو گرافیز بھی ہوتی ہیں اور خوبصورت شاعری بھی، میری معلومات کے مطابق نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے اب تک پچاس ہزار سے زائد کتابیں علم کے متوالوں کے حوالے کر چکے ہیں جنگی، فوجی، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہاں کہاں جنگ نہیں لڑی؟
پاکستان پیپلز پارٹی کی بلوچستان میں حکومت بنوائی، محض دس ایم پی ایز کی کمان کرتے ہوئے کنگ میکر کا کردار ادا کیا، جو آزاد حیثیت سے جیت کر آئے تھے۔ ان ارکان اسمبلی کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل کروایا، دیگر جماعتوں کو اپنا ہمنوا بنایا اور یوں بلوچستان میں پہلی مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت معرض وجود میں آئی، نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی سینیٹر منتخب ہوئے اور واٹر اینڈ پاور کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بنے لیکن بہت جلد ہی ان کی اپنی پارٹی قیادت سے اختلافات ہو گئے اور پھر انھوں نے شاندار میلے ٹھیلے کو لات مارکر نہ صرف سینیٹر شپ بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی خیرباد کہہ دیا، اپنی مخصوص سیاسی و نظریاتی سوچ و فکر اور اصولوں پہ قائم رہتے ہوئے انھوں نے بلوچستان و پاکستان کا مقدمہ لڑنے کے لئے مسلم لیگ نون کا فورم چنا، بلوچستان و مرکز میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہوئی تاہم ایک سال بعد ہی ان کے مسلم لیگ نون کی مرکزی قیادت سے اختلافات پیدا ہو گئے اور ایک بار پھر انھوں لدے پھندے جہاز سے اترنا ہی بہتر جانا، حالانکہ وہ چاہتے تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مرکزی و صوبائی حکومتوں سے بے تحاشا فوائد و مراعات حاصل کر سکتے تھے لیکن انھوں نے دامن پہ داغ لگنے نہ دیا اور اپنے اصولوں کا سر بلند رکھا، نام لشکری ہو، جنگی ہو فوجی ہو اور جنگ نہ کرے یہ تو ناممکن سی بات تھی پھر ایک مورچہ چنا جس کا نام تھا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مگر یہاں بھی موصوف بہت مایوس ہوئے، پارٹی قیادت کے قول فعل میں تضاد، اور عجیب و غریب بلکہ چونکا دینے والے فیصلوں نے نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کو اس قدر شاک لگے کہ وہ سیاست سے ہی بد دل ہونے لگے ہیں۔
راتوں رات شامل ہونے والی نسیمہ احسان شاہ کو مخصوص نشست پہ رکن بلوچستان اسمبلی بنانا، باپ کے بڑے بیٹے کے خلاف فعال کردار ادا کر کے چھوٹے بیٹے کو سی ایم کی کرسی پہ بٹھانا اور اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ کا رونا روتے روتے باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن کے لئے ووٹ دینا اور چھ نکات کو ردی کی ٹوکری کے حوالے کرنے سمیت بی این پی قیادت کے دیگر فیصلوں نے نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کو از حد مایوس کیا، وہ جنگی تھے جنگ لڑتے رہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ جنگ لڑتے رہیں گے۔ ان کی سیاست سے کنارہ کشی ہم سب کا نقصان ہے۔ بلوچستان کا نقصان ہے۔ پاکستان کا نقصان ہے۔ برادر اقوام کا نقصان ہے۔


