للی پوٹ پارا کا ایک اور افسانہ: ہائی وے

(2)
میں دھیرے دھیرے کار چلا رہی ہوں۔ ایک کے بعد دوسرے منظر پیچھے چھوٹتے جا رہے ہیں۔ میں پہاڑیوں کے اوپر کے سارے گرجا گھروں کو نہیں دیکھ سکتی۔ ایک کے بعد دوسرا سبزہ زار آتا ہے اور پیچھے چھوٹ جاتا ہے۔ میں صرف سست کار رفتار ڈرائیوروں سے آگے نکل پاتی ہوں۔ مجھے کوئی جلدی نہیں۔ اگر کچھ کرنا چاہوں گی بھی تو وہ یہ ہو گا کہ کہیں رکوں، کسی درخت کے نیچے سگریٹ پیؤں اور بس وہیں بے مقصد بیٹھی رہوں۔ ایک ہفتے بعد میں اپنے بچے کو واپس لینے جا رہی ہوں۔ وہ ہفتہ جس کے دوران مجھے دنیا بدلنی تھی۔ میری دنیا۔ چھوٹی سی دنیا، جس کے بارے میں ایک ہفتہ پہلے میرا خیال تھا کہ یہ ایک کیچڑ کے دلدل سے ایک حسین، ہرے بھرے دھوپ بھرے میدان میں بدل سکتی ہے۔
اب میرے اندر کوئی مسرت بھرا جنون نہیں رہا۔ اب میں ایک بھی ہچ ہائیکر کو گاڑی میں نہیں بٹھاتی۔ مجھے اب کوئی درد نہیں ہے۔ کینوس کے جوتے میں، ایکسیلریٹر پر، میرے پیر کا دباؤ بہت ہلکا ہے۔ اور میرے ذہن میں خیالات کار کی رفتار کی مانند سست ہیں۔
ذہن میں بار بار ایک خیال اٹھتا ہے اور آگے کی طرف دھکا مارتا ہے۔ سچ کا کوئی فائدہ نہیں۔ مکھوٹے اتار کر پھینک دو اور خود کو زندگی کے حوالے کر دو۔ اپنے آس پاس کی ساری چیزوں میں تحلیل ہو جاؤ اور خیالوں میں کھو جاؤ۔ اور جب تم اتنے بے پردہ اور برہنہ ہو جاؤ کہ جدید دور کے کسی عیسیٰ مسیح کی مانند ننگے پیر یہاں سے وہاں پھرنے لگو، تب تم مکمل طور پر غیر محفوظ ہو جاؤ گے۔ چوٹ کھانے کے لائق۔ پھر تم کو وہی لوگ اذیت دیں گے جن کے لئے تمھارا دل درد محسوس کرتا تھا۔ جنھیں تم ہمیشہ خود سے پہلے رکھتے تھے۔ کیا مجھے سچ معلوم ہے؟ میں دھیرے دھیرے کار چلاتی ہوں اور میلوں آگے نکل جاتی ہوں۔
سچ کا کوئی فائدہ نہیں۔ مجھے اس سے کیا لینا دینا ہے؟ ابھی سب لوگوں کو سب کچھ معلوم ہے اور سبھی بے حد چالاک ہیں۔ صرف مجھے اب کچھ بھی نہیں معلوم۔ اب مجھے کوئی تشویش یا پیش بینی کا احساس نہیں ہے۔ میں ریڈیو بند کر دیتی ہوں۔ ڈونووان کا گانا اب میرے لئے ناقابل برداشت ہو رہا ہے۔ اس کی دلکش آواز، آواز کی تھرتھراہٹ، لرزشی تاثر، ہر چیز سے مجھے کوفت ہو رہی ہے۔
میرا بیٹا ڈرائیو وے میں میرا انتظار کر رہا ہے۔ اپنے مزاج کے مطابق، مجھ سے ملتے ہی وہ کہتا ہے کہ اسے پیاس لگی ہے۔ ”ممی، جوس!“ میں کار سے باہر نکلتی ہوں اور اوپری منزل پر اس کے لئے جوس لینے جاتی ہوں۔
” میرا ڈفل بیگ پہلے سے ہی بھرا ہے،“ وہ مجھے بتاتا ہے۔ میں نے اور نانی نے مل کر گھونگھے پکڑے ہیں۔ لاکھوں گھونگھے! ”
”ارے واہ! تم نے ان میں نمک لگایا؟“
وہ مارے جوش کے کانپ رہا ہے : ”ہم نے ان میں مسالا لگایا اور ہمارے پاس گھونگھے کا سوپ ہے!“
” واہ دوست، کیا بات ہے! کیا وہ مر چکے ہیں؟“
”سب کے سب مر چکے ہیں! پانی پیلا ہو گیا ہے۔ آپ دیکھیں گی؟“
”ہاں ہاں ضرور!“ ہم ہاتھ پکڑے ہوئے گھر کے پچھواڑے جاتے ہیں۔ گھونگھے کا سوپ ایک پلاسٹک بیگ میں ہے۔ ”لاکھوں“ پسے ہوئے اور مرے ہوئے گھونگھے۔ مجھے الٹی آنے لگتی ہے۔ لیکن میں کسی طرح روک لیتی ہوں۔
میں اپنی ماں سے رخصت لیتی ہوں۔ روبوٹ کی طرح ان کی ساری مدد کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ وہ مجھے دیکھتی ہیں۔ ابھی ہماری ”بات چیت ہوئے“ صرف ایک ہفتہ گزرا ہے۔ پھر سب کچھ ویسے کا ویسا ہے۔ وہ مجھ سے کچھ نہیں پوچھتیں اور میں اس کے لئے ان کی ممنون ہوں۔
میں دھیرے دھیرے کار چلا رہی ہوں۔ مجھے اپنا خیال رکھنا ہے۔ اتنے سارے لوگوں کو میری ضرورت ہے۔ میرا بیٹا، ماں، بھائی، والد، نانی۔ مجھے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ میرا شوہر بھی کہتا ہے کہ اسے میری ضرورت ہے۔ اور یہ کہ وہ میرے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور یہ کہ اسے مجھ سے پیار ہے۔ ہر کوئی مجھے اتنا پیار کرتا ہے کہ مجھے اس گھٹن بھری، دلدلی اور محفوظ کیچڑ میں روکے رکھنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ لیکن میں اپنی زندگی میں واپس جا رہی ہوں اور میں ایک یا دو جگہ اور رکوں گی۔
میں اسے سڑک کی پٹری پر اس جگہ دیکھتی ہوں جہاں مقامی سڑک ہائی وے سے ملتی ہے۔ ”میرے ننھے دوست، کیا ہمیں ایک ہچ ہائیکر کو کار میں بٹھانا چاہیے؟“
”جی ممی۔ اگلی سیٹ پر آپ کی بغل میں کافی جگہ ہے۔“ بالکل ٹھیک، کافی جگہ ہے۔ ایک خالی سیٹ، جو مجھے درد دینا چاہتی ہے، جس سے میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ لیکن کچھ کہنے کو ہے نہیں۔
”ہیلو میم،“ ایک چھوٹے سر اور بے ترتیب سی لڑکی کہتی ہے، ”کیا آپ لبلانا جا رہی ہیں؟“
”“ ہاں بیٹھو۔ بیلٹ باندھ لو۔ ”
پھر ہم باتیں کرتے ہیں کہ وہ کیا پڑھتی ہے؟ وہ اسٹائریا کے علاقے میں کیا کرتی ہے؟ وہ میرے بیٹے سے ہنسی مذاق کرتی ہے۔ وہ دونوں گپ شپ کرتے ہیں۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ نانی کے گھر پر اسے کیسا لگا۔ کیسے انھوں نے گھونگھے پکڑے (وہ اتنے دھیرے دھیرے چلتے ہیں کہ ہم سے بچ کر بھاگ ہی نہیں سکتے! ہا ہا! )
میں کار چلاتی ہوں۔ اچھی طرح۔ دھیرے دھیرے۔ احتیاط سے۔ میں ٹول اسٹیشن سے گاڑی کو فاسٹ لین میں ڈالتی ہوں۔ ”الیکٹرانک ٹول کلیکشن یوزرس اونلی۔“ گھر قریب آ رہا ہے۔ کچھ نہیں بدلا۔ کچھ بھی نہیں۔
مترجم: ڈاکٹر آفتاب احمد
سینئر لیکچرر، ہندی اردو، کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک

