جب انڈیا جاتے ہوئے نورجہاں کو چلتے جہاز سے اتار لیا گیا تھا


noor jahan saira bano
نور جہاں اور سائرہ بانو

بمبئی کے اس دورے میں نورجہاں کی سب سے بڑی خواہش اپنے پرانے گھر کو دوبارہ دیکھنے کی تھی۔ تقسیم سے پہلے حسین منور نامی ان کا گھر کی عمارت بمبئی کے نانا چوک میں عمر پارک، وارڈن روڈ پر واقع تھی جس کے ایک حصے میں اب اجن ہسپتال قائم ہو چکا تھا۔ ان کے پرانے گھر کا دورہ کروانے کا انتظام مشہور ہدایت کار محبوب خان کی اداکارہ بیوی اور نورجہاں کی گہری سہیلی سردار اختر نے کیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے وہ نورجہاں کو میرین ڈرائیو پر واقع اپنے زمانے کے مشہور اداکار اور ہدایت کار اے آر کاردار کی رہائش گاہ پر اپنی بہن بہار اختر کے پاس لے گئیں تھیں جو اے آر کاردار کی بیوی تھیں۔

نورجہاں جو ان دونوں بہنوں سے محض چند سال چھوٹی تھیں پرانے دنوں ہی کی طرح انھیں چھوٹی آپی اور بڑی آپی کہہ کر مخاطب کرتی رہیں۔ اس موقع پر منوج کمار کی بیوی ششی بھی موجود تھیں، پھر یہ ساری خواتین منوج کمار کی پیلی مرسیڈیز میں بیٹھ کر چینی ریستوران ٹٹ کک میں دوپہر کے کھانے کے لیے پہنچ گئیں۔ ریستوران میں نورجہاں نے دوسرے گلوکاروں کے برعکس ٹھنڈے گرم اور کھٹے میٹھے کا لحاظ کیے بغیر کھانا کھایا۔ جس پر سب لوگ بہت حیران تھے۔

کھانے کے بعد جب وہ اپنا پرانا گھر دیکھنے پہنچیں تو دروازہ میں داخل ہوتے ہوئے ان کے دل کی عجیب حالت تھی۔ یہ وہ گھر تھا جہاں وہ نوعمری میں دلہن بن کر آئیں تھیں اور جہاں انھوں نے اپنی پہلی اولاد کو جنم دیا تھا۔ وہ کتنی ہی دیر نچلی منزل پر واقع اپنے فلیٹ کے بند دروازے کو دیکھتی رہیں پھر انھوں نے اس کی گھنٹی بجائی۔ دروازہ کھلا تو نورجہاں نے پوچھا، ”کیا عثمانی صاحب اندر ہیں؟ میں بس دو منٹ کے لیے اندر آنا چاہتی ہوں، میں کبھی یہاں رہا کرتی تھی۔

“ ایک سفید باریش آدمی باہر آئے اور ہاتھ بڑھا کر کہا، ”اندر آ جاؤ، میں جانتا ہوں تم کون ہو، لیکن تم نے شاید مجھے نہیں پہچانا۔“ وہ عثمانی صاحب ہی تھے، پتا چلا کہ انھوں نے نورجہاں کے دورہ بھارت کی خبر اخبار میں پڑھ کر اپنا پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا تھا، انھیں یقین تھا کہ نورجہاں اپنا چھوڑا ہوا گھر دیکھنے ضرور آئیں گی۔ نورجہاں ان کے گلے لگ کر زار و قطار رونے لگیں۔

انھوں نے باقی لوگوں کو بتایا کہ عثمانی بھائی میرے لیے بڑے جیٹھ کی طرح تھے۔ میرے شوہر شوکت حسین رضوی ان سے پوچھے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے۔ جب ہم پاکستان جانے لگے تو ہم نے اپنے گھر کی چابیاں ان کے حوالے کردی تھیں۔ اس پر عثمانی صاحب نے کہا تھا، ”تم نے یہ گھر مجھے دے دیا تھا، جیسے تم نے سب کو بہت کچھ دیا۔“ یکایک انھوں نے نورجہاں سے پوچھا، ”تمھارا بیٹا کیسا ہے؟“ نورجہاں کی آنکھیں چمک اٹھیں اور انھوں نے کہا، ”لاہور آ کر خود دیکھ لیجیے۔ کبھی وہ میرے ساتھ رہتا ہے اور کبھی اپنے باپ کے ساتھ۔“

گھر کی ترتیب اسی طرح تھی جیسے نورجہاں پینتیس برس پہلے چھوڑ گئیں تھیں۔ اچانک ان کی نظر ایک روغن شدہ لکڑی کی دیوار پر پڑی۔ ”جب میں یہاں رہتی تھی تو یہ یہاں نہیں تھی۔“ اتنے برسوں بعد بھی ایک معمولی سی تبدیلی کو انھوں نے پہچان لیا تھا اور اس نے انھیں بے چین کر دیا تھا۔ پھر انھوں نے باہر کھلنے والی ایک کھڑکی کی طرف اشارہ کیا، ”میں اس کھڑکی سے آم بیچنے والے کو آواز دیا کرتی تھی۔ وہ ان سلاخوں کے ذریعے مجھے آم دیا کرتا تھا اور میں ایک ساتھ چھ چھ آم کھا جاتی تھی۔“

پھر وہ بے تابی سے دوسرے کمرے میں داخل ہو گئیں تھیں، ”اور یہ وہ کھڑکی ہے جس سے میں نے اپنے والد کو آتے دیکھا تھا جب وہ پہلی بار بمبئی آئے تھے۔ تب میں انھیں بہت عرصے بعد دیکھ رہی تھی اس لیے خوشی سے چلاتی ہوئی باہر سڑک پر نکل آئی تھی۔“ پھر وہ دوسرے پڑوسیوں کو دیکھنے جب باہر نکلیں تو ایک ادھیڑ عمر کی ہندو عورت نے ان سے پوچھا کیا وہ واقعی نورجہاں آپا ہیں؟ نورجہاں دہلیز سے باہر آ گئیں اور انھوں نے اس عورت کو گلے لگا کر پوچھا۔ ”ستیہ، کیا یہ تم ہی ہو؟ تمھاری وہ بیٹی کہاں ہے جو میرے بیٹے کو تنگ کیا کرتی تھی؟

دیکھتے ہی دیکھتے نورجہاں کو پڑوس کی ادھیڑ عمر اور گھریلو عورتوں نے گھیر لیا۔ پاجامہ اور بنیان پہنے ستیہ کے جیٹھ نے بتایا یہ ہمارے گھر آیا کرتی تھیں اور ہمارے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ میں نے ان کو کبھی کسی فلمی ستارے کی طرح نہیں سمجھا، مجھے تو یہ ہمیشہ ایک میٹھا بولنے والی مسکراتی ہوئی لڑکی کے طور پر یاد رہی ہیں۔ ستیہ نے اپنی بیٹی کو آگے کرتے ہوئے کہا، دیدی! اسے آشیرواد دیجیے۔

noor jahan and indira gandhi
نور جہاں اور اندرا گاندھی

نچلی منزل کے بعد نورجہاں اوپر پہلی منزل پر پہنچیں، خوبصورت پتھروں سے بنی حسین منور نامی اس منزل پر خاتون خانہ مسز محبوبانی نورجہاں کے استقبال کو دوڑی چلی آئیں۔ نورجہاں اب تک اپنے جذبات پر قابو پا چکی تھیں۔ وہ سارا گھر گھوم پھر کر دیکھتی رہیں اور اشارے سے ایک ایک جگہ کی نشاندہی کرتی رہیں۔ ”ان لوگوں نے گھر کی ترتیب بھی تبدیل نہیں کی۔ یہ وہ کمرہ ہے جہاں میرا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ اور یہ وہی باورچی خانہ ہے جہاں میں کھانا پکایا کرتی تھی۔ اس کمرے میں میں اور رفیع صاحب“ یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے ”کی ریہرسل کیا کرتے تھے۔ یوسف صاحب (دلیپ کمار) وہاں بیٹھے ہمیں دیکھا کرتے تھے۔“

نورجہاں کا یہ دورہ ان کے لیے بہت یادگار تھا، اس موقع پر انھوں نے ہندوستان کی اس وقت کی وزیراعظم سے ملاقات بھی کی۔ اندرا گاندھی سے ان کی ملاقات دس منٹ کے لیے طے ہوئی تھی لیکن مسز گاندھی نورجہاں سے دو گھنٹے تک باتیں کرتی رہیں۔ آج جب اس دورے کو چالیس برس گزر چکے ہیں، اور نورجہاں کے انتقال کو بھی اکیس سال ہوچکے ہیں، وہ اب بھی پاکستانی فلمی دنیا کی سب سے بڑی ہستی سمجھی جاتی ہیں، ایک ایسا ستارہ جو بجھ کر بھی تابندہ ہے اور روز اول کی طرح جگمگا رہا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2