بینظیر بھٹو اور پاکستانی سیاست کی گنہگار عورتیں

مریم نواز کی تعریف کرنے والے یا ان کے مداح ان کی تعریف عموماً اس جملے سے شروع کرتے ہیں کہ وہ دوسری بے نظیر ہیں اور جیالے ان کا منہ تکتے ہیں بے شک بے نظیر نے نواز شریف سے میثاق جمہوریت کیا تھا لیکن اس کا نام ہی اس چیز کا گواہ ہے کہ بی بی جمہوریت کے اوپر ایمان رکھتی تھیں وہ معاہدہ ان کے وجود کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کو بولنے اور اپنی مرضی کے نمائندے چننے کا حق رکھنے کا تھا یہ جملہ کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اس سوچ کی نمائندگی ہے کہ اگر جمہوریت کے بقا کے لیے اپنے دشمن کے ساتھ بیٹھنا پڑے تو اپنی انا کو ایک طرف رکھ دیں لیکن یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بے نظیر کی کردار کشی کی اور ان کا جینا محال کر دیا جیل، عدالتیں، کرپشن اور بدکرداری کے الزام ان کا مقدر ٹھہرے اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک عدالت سے دوسری عدالت اپنے اور اپنے شوہر کے اوپر لگائے گئے الزامات کا سامنا کرتی رہیں۔
عجیب سی بات ہے کہ آج بے نظیر کو ان کی موت کے بعد معاف کر دیا گیا بلکہ ان کا نام عزت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کے بچوں کے لیے اسی طرح کے القابات اور الزام آج بھی ہماری زنبیل میں موجود ہیں۔ ہمارا دستور ہے جب تک انسان ہمارے لیے مصلوب نہ ہو جائے ہم اسے نہیں بخشتے پورا بھٹو خاندان اس کی نذر ہو گیا لیکن ہماری تسکین نہیں ہوئی۔ بلاول کو آج جس طرح کے القابات سے آج کی حکومت اور اس کے ووٹر نوازتے ہیں شرم سے سر جھک جاتا ہے۔
ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے بے نظیر نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا فرق اتنا ہے کہ وہ بغیر امید کا دامن چھوڑے چلتی رہیں اور اپنے حصے کے دیے جلاتی رہیں اور ان کے گرد اندھیروں کو بڑھایا جاتا رہا۔ ایک منٹ کے لیے تصور کیجیے کہ موت کی کال کوٹھری کا اندھیرا کتنا گہرا ہو گا اور دل کتنا دکھا ہو گا جب سلاخوں کی دوسری طرف آپ کا باپ ہو دنیا کے لیے وہ ذوالفقار علی بھٹو ہو گا لیکن بے نظیر کے لیے ان کا مضبوط سہارا، بہترین دوست، مہربان باپ اور دنیا کے تھپیڑوں سے بچانے والا باپ تھا جو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا تھا اگر بے نظیر نے کبھی مسکراہٹ اپنے چہرے سے الگ نہیں کی یا کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بے نظیر کو اپنے یتیم ہو جانے کا احساس نہیں تھا ان کی بہادری اور دلیری نے اسی احساس سے جنم لیا کہ اب میرا باپ نہیں اور میں نے خود کو اپنے خاندان کو اور اس عوام کو آمر کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑنا ماں باپ جس عمر میں بھی اس دنیا سے جائیں ان کا دکھ اولاد کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے لیکن بے نظیر کے لیے ہمارے اصول نرالے ہیں۔
کبھی ہم نے یہ نہیں سوچا کہ خود بے نظیر کس اذیت کا شکار ہوں گی اور کس بے سروسامانی کی کیفیت ہو گی جس کا گھر منٹوں میں اجڑ گیا ہو باپ پھانسی چڑھ گیا، بھائی جلا وطن ہو گئے زندہ بھی بچیں گے کہ نہیں کچھ معلوم نہیں، ماں جیل کی نذر ہو گئی، بہن کہاں ہے کوئی رابطہ نہیں اس احساس کے ساتھ آپ جیل کی کوٹھری میں بند ہیں اور کوئی خاندان کا فرد آپ کو بچانے کے لیے نہیں اپ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے کچھ معلوم نہیں اس کال کوٹھری سے زندہ نکل بھی سکیں گے کہ نہیں کچھ معلوم نہیں جنہوں نے ملک کے منتخب وزیراعظم کو نہیں چھوڑا ان کے لیے آپ کس کھیت کی مولی ہیں کیا یہ سب بے نظیر نے نہیں سوچا ہو گا لیکن کسی نے بے نظیر کی اذیت اور بے سروسامانی کا اندازہ نہیں کیا ہم سب کے پاس اپنے دکھڑے ہیں رونے کے لیے لیکن اس لفظ پر غور کرنے کے لیے ایک لمحہ نہیں کہ وہ بہادر بے مثال بے نظیر نے اپنی زندگی کے آخری لمحے میں زخمی حالت میں مدد کے لیے باپ کو پکارا تھا ”پاپا“ اس ایک لفظ میں اس ظلم کی ساری داستان بند ہے جو بے نظیر پر ڈھائے گئے اور ہمیں ان کے جذباتی اور نفسیاتی زخموں کا اندازہ اس لیے نہیں ہوا کیونکہ ہم تو خود ہمت اور رہنمائی کے لیے بے نظیر کی طرف دیکھتے تھے اس بے نظیر کی طرف جس کے اوپر ہمارا بہت بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس نے آصف زرداری سے کیوں شادی کی اسے تو شادی کرنی نہیں چاہیے تھی اور کی تھی تو کسی اور سے کرنی چاہیے تھی اس کی فہرست بھی خاصی لمبی ہے کمال کا اصول ہے جس کا باپ مار دیا ایک بھائی مار دیا دوسرا بھائی جان بچاتا پھر رہا ہے ماں اور بہن ملک میں نہیں وہ شادی نہ کرے واقعی ہی اگر بے بینظیر بے شادی نہ کی ہوتی تو کون سا ہم نے بخش دینا تھا ہر روز ان کے بیڈروم سے اپنی گندی شہوت کی ماری سوچ سے ایک مرد کو منسوب کرنا تھا اور دوسری طرف بے نظیر نے جس سے بھی شادی کی ہوتی اس نے آصف زرداری ہی ہونا تھا کیونکہ بے نظیر کے پیچھے اس کے باپ بھائی نہیں کھڑے تھے وہ اکیلی تھی اور ہمارے معاشرے میں عورت چاہے بے نظیر ہی کیوں نہ ہو اس کی مضبوطی کا تعین اس سے کیا جاتا ہے کہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ روکنے کے لیے اس کے خاندان کے مرد موجود ہیں یا نہیں اور بے نظیر اس بات سے باخوبی واقف تھیں ان کے بے مثال کردار کے باوجود ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان کے انتہائی نجی تعلقات کے بارے میں جس قسم کی باتیں عام کی گئیں وہ شرمناک تھیں کبھی کسی مرد سیاستدان کے اس کی بیوی سے تعلقات اور اس کی بیوی کا بیڈ روم کیوں نہیں اخباروں کی زینت بنا صرف اس لیے کہ بے نظیر خاتون اور ہر عورت کو ہم اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں جو چاہا بک دیا جو چاہا الزام لگا یا جس بے نظیر کو آپ نے موت کے بعد بخشا ہے اس کو ساری عمر گندی جنس کی ماری سوچ کی سولی پر چڑھائے رکھا اور آج بھی اسی بے نظیر کے بیٹے کو منہ بھر کے ہم ہیجڑے کے القاب سے نوازتے ہیں اور وزیر داخلہ اپنے ذہنی گندگی کا برملا اظہار کرتے ہیں۔
وہی کالے الزامات جن کا بے نظیر کو سامنا تھا ان کا مریم نواز کو بھی سامنا ہے لیکن مریم اور بے نظیر میں بہت فرق ہے مریم کو جب smash کا پیغام ملتا ہے تو جواب دینے کے کیے ان کا باپ زندہ ہے، ان کی حفاظت کے لیے ان کا چچا موجود ہے، وہ جب پیشی پر جاتی ہیں تو ان کے ساتھ ان کے شوہر موجود ہوتے ہیں، ان کے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید اور دفاع کرنے کے لیے ان کے بھائی زندہ ہیں ان کا سارا خاندان سلامت ہے اور ایک نہایت با اثر خاندان ہے بے شک وہ بہادر ہیں لیکن اس بہادری میں ان کے باپ، بھائی، چچا شوہر کی موجودگی شامل ہے بے نظیر کی بہادری کا سرچشمہ بے نظیر کی اپنی ذات تھی وہ اپنے اجڑے ہوئے خاندان شہید باپ بھائیوں کے لاشے کو، اپنی بیمار ماں کی ذہنی اذیت کو اپنے کندھوں پر رکھ کر چلتی تھیں اور ساتھ میں طرح ہمارے معاشرے کی گندی سوچ جو ان کی ایک لغزش کی تلاش میں تھا تاکہ ان کو سنگسار کیا جا سکے لیکن ان کی سوچ کی گہرائی اور ہمت نے ان کو ہمارے معاشرے کے گدھوں سے جسمانی طور پر محفوظ رکھا جبکہ روح کے زخم بے حساب تھے۔
مریم نواز بے شک بہادر خاتون سیاستدان ہیں اور ان کو ابھی بہت سفر طے کرنا ہے عوام کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کرنا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ وہ یہ سفر اپنے خاندان کے ساتھ مسکراتے ہوئے طے کریں گی کیونکہ یہ ایک صحت مند معاشرے کی پہچان ہے بیمار ہوتے ہیں وہ معاشرے جو جمہوریت کی آوازوں کو اختلاف رائے پر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔
بے نظیر اور مریم نواز دونوں ہی ہمارے بیمار معاشرے کے مردانگی کے مارے مردوں کے اعصاب کو جھنجھلاتی ہوئی خواتین ہیں اپنی ذات میں جدا اور الگ جن کو ان کی مرضی کے بغیر ان کے باپ کے نام سے الگ ان کی پسند کے چنے گئے نام سے الگ ان کے شوہروں سے منسوب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ وہ وہ گنہگار عورتیں ہیں جنہوں نے روایتوں کے برعکس اپنے ذہن کو آواز دی۔
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں
جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
نہ جان بیچیں
نہ سر جھکائیں
نہ ہاتھ جوڑیں
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں
کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ
وہ سرفراز ٹھہریں
نیابت امتیاز ٹھہریں
وہ داور اہل ساز ٹھہریں
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں
کہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں
تو جھوٹ سے شاہراہیں اٹی ملے ہیں
ہر ایک دہلیز پہ سزاؤں کی داستانیں رکھی ملے ہیں
جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملے ہیں
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں
کہ اب تعاقب میں رات بھی آئے
تو یہ آنکھیں نہیں بجھیں گی
کہ اب جو دیوار گر چکی ہے
اسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا!
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں
جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
نہ جان بیچیں
نہ سر جھکائیں نہ ہاتھ
(کشور ناہید)

