ہولی یا کرسمس کی مبارک باد اور انجینئر محمد علی مرزا کا موقف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں مجھے کسی دوست نے انجینئر محمد علی مرزا کا ایک ویڈیو کلپ بھیجا جس میں وہ بیرون ملک میں مقیم مسلمانوں کو ہولی یا کرسمس کی مبارکباد ہندو اور مسیحی کمیونٹی کے ساتھ شیئر کرنے کا طریقہ سمجھا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی آفس میں ہندو اور مسیحی لوگ کام کرتے ہوں تو مسلمان اس کمیونٹی کی طرف سے عید مبارک کا پیغام بڑی خوشی سے قبول کر لیتے ہیں مگر جب دوسروں کی ہولی یا کرسمس ہوتی ہے تو تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اس کمیونٹی کے ساتھ ہو لی یا کرسمس کیسے وش کریں؟

پھر وہ پریشان ہو کر مجھے ای میل کر رہے ہوتے ہیں کہ جناب ہماری راہنمائی کریں کہ کیسے ہم ہندو یا مسیحی لوگوں کو ان کا تہوار وش کریں؟ مجھے اس بات کی توقع تھی کہ مرزا صاحب بلند نظری اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکرام مذاہب کی بجائے اکرام انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو ترغیب دینے کی کوشش کریں گے کہ کسی بھی دوسرے مذہب کے بندے کو اس کے تہوار پر ”صرف مبارکباد کا پیغام“ دینے سے انسانی رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور مذہب کی صحت پر خوشی کے لمحات کو بانٹنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

لیکن احساس تفاخر یا سپیریئرٹی کمپلیکس کا زہر اس قوم کی رگ رگ میں اتر چکا ہے جس کے اثر سے مرزا صاحب بھی اپنا دامن نہیں بچا سکے اور اپنی ”مذہبی کو ہان“ کو دوسرے مذاہب کے مقابلے میں منفرد اور نمایاں رکھنے کے لئے ہمیں بطور مسلمان کیا اقدامات کرنے چاہئیں تقریباً آدھے گھنٹے کا کلپ اسی موضوع پر بنا ڈالا۔ ہم اپنی مذہبی تصورات کو لے کر کے کتنے غیر محفوظ اور ہر وقت اسی فکر میں گم رہتے ہیں کہ ہم اپنا فکری قد کیسے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ذہنوں میں بڑھائیں اور نمایاں رکھیں اور ہمارا کانچ جیسا ایمان دوسرے مذاہب کے لوگوں کے تہوار پر انہیں صرف مبارکباد کا پیغام دینے سے ہی بکھر یا لرز جاتا ہے۔

اس ویڈیو کلپ میں مرزا صاحب ہولی یا کرسمس کے کھانے کو ”حلال“ بنانے کا حل بھی پیش فرما رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ آپ کو اپنے تہواروں کا کھانا پیش کریں تو انہیں بڑے ادب و احترام سے کہا جائے کہ وہ ہمیں کھانا اپنے مذہبی عقیدہ کے حساب سے پیش نہ کریں بلکہ وہ یہ جملے ادا کر کے کھانا پیش کریں کہ ہم اللہ کے نام پر آپ کو یہ کھانا دے رہے ہیں تو اس صورت میں یہ آپ کے لئے حلال ہو جائے گا اور آپ کھا سکتے ہیں۔

جناب عرض یہ ہے کہ اگر آپ مذہبی نفسیات پر غور کریں تو کتنے فیصد لوگ دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں جو مذہب کو شعوری طور پر اور مکمل گیان کے ساتھ قبول کرتے ہیں؟ یا یہ ایک محض حادثاتی اتفاق ہوتا ہے؟ تقریباً دنیا کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو جس گھر میں پیدا ہوتے ہیں رسمی طور پر اسی مذہب کا حصہ بن جاتے ہیں اور لوگوں کی بہت کم تعداد اپنے آبائی مذہب کو ”ری وزٹ“ کرتے ہیں۔ اس لئے مذہب کے نام پر جس ”باریک بینی“ کے مایا جال کا راگ دوسروں پر اپنی فوقیت کا رعب جمانے کے لئے آپ چھیڑ رہے ہیں دنیا کی اکثریت ان ”تقسیمی فلسفوں“ سے لاعلم ہوتے ہیں اور ان تقسیمی فارمولوں کا روگ بھی برصغیر کی گھٹی میں شامل ہے اس کے علاوہ مغربی دنیا کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور اسی لئے کرسمس کے موقع پر سب لوگ یک جان ہو کر خوشی کے اس لمحے کو سیلیبریٹ کرتے ہیں اور مذہب، رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔

حضور والا انسانی رشتے تمام مذاہب سے بالاتر ہوتے ہیں اور جس برتری کو آپ فکری تقسیم یا ریلیجیس سنوبری کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ایسا آج کے دور میں کم ازکم ممکن نہیں رہا اور جو لوگ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر روزی کمانے کی خاطر دوسرے ممالک میں آباد ہیں کم از کم انہیں بخش دیں اور ان کے ذہنوں کو اپنے نفرتی فارمولوں اور کنویں جیسی سوچ سے آلودہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کا ایک دوسرے کے تہواروں پر مبارک باد دینے سے کوئی مسلم ہندو یا کوئی مسیحی مسلم نہیں بن جاتا بلکہ یہ ایک طرح کے ”خیرسگالی اشارے“ ہوتے ہیں جو لوگوں کے دلوں میں محبت کا الاؤ جلائے رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتیں یا تنگ نظری کا مظاہرہ وہ لوگ کرتے ہیں جو اندر سے غیر محفوظ اور مختلف فوبیاز کا شکار ہوتے ہیں، مرزا صاحب دوسروں کی نظروں میں فکری طور پر بلند ہونے کے لئے اور دوسروں کی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے اپنی سوچ کو ”میگنی فائی“ کرنا پڑتا ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ اپنے قبیلے کے لوگوں کے ایمانی محافظ بن کر ان کو نمک حرامی کے طریقے بتاتے پھریں۔ آپ کے لوگوں کو جو کاروباری مواقع، اعلی تعلیم کے مواقع، شادی اور حتی کہ گرین کارڈ حاصل کر کے وہیں آباد ہونے کے مواقع جو مغرب مہیا کرتا ہے کیا آپ عرب ریاستوں سے اس قسم کی مہمان نوازی کی توقع کر سکتے ہیں؟

اس حقیقت کا گیان تو آپ کو فرحت ہاشمی صاحبہ سے بھی مل سکتا ہے جو کینیڈا میں مقیم ہو کر اپنا مذہبی یوٹیوب چینل بڑے دھڑلے سے چلا رہی ہیں اس کے علاوہ درجنوں علماء کے بچے، بچیاں مغربی تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے بیٹے نے بھی کینیڈا سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ اس کے علاوہ جاوید غامدی اور طاہر القادری جیسے لوگ بھی مغربی سہولیات انجوائے کر رہے ہیں اور مکمل آزادی کے ساتھ اپنا مذہبی سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کیا ان لوگوں کو اعلی سہولیات اور اپنا کام مکمل آزادی کے ساتھ کرنے کی عرب ممالک اجازت دے سکتے تھے؟ مرزا صاحب اس قسم کی تقسیم کی باتیں یا انتشار ذہنی کا مقصد اپنے لوگوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں کے خلاف چارج رکھنا ہوتا ہے یہ ایک طرح کا طریقہ ہوتا ہے خود کو دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ڈسٹینس پرکھنے کا ، تاکہ خود کو منفرد رکھنے کی عادت کی تسکین ہوتی رہے کیونکہ جب لوگ ایک دوسرے کے تہواروں کے موقع پر ایک دوسرے کو عید مبارک، ہولی مبارک یا ہیپی کرسمس کہتے ہیں تو وہ ایک طرح سے مذہبی فرق کو درمیان میں سے ہٹا کر ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں جسے مذہبی کلاس برداشت نہیں کر سکتی اگر مذہبی فرق مٹ جائے تو لوگوں کے درمیان انسانی بنیادوں پر رشتے بننے سے کون روک سکتا ہے؟

ان رشتوں کو بننے سے صرف وہی طبقہ روک سکتا ہے جن کا کاروبار نفرت کی بنیاد پر چل رہا ہو گا۔ آج کی دنیا میں مذہب انسان کا ذاتی فعل بن چکا ہے اپنی قلبی و ذہنی تشفی کے لیے وہ جس مذہب کو بھی تسلیم کرے یہ اس کی ذاتی خواہش ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی رشتوں کے درمیان مذہب کو نہیں اٹکانا چاہیے آپ کا جو بھی فلسفہ ہو اسے اپنی حد اور ذات تک محدود کر کے دوسرے انسانی معاملات کو بخوبی اور احسن طریقے سے نبھانے چاہیے۔

مرزا صاحب اس قسم کا موقف اختیار کر کے آپ نے ”یک سوراخی بصیرت“ یعنی اپنے ٹنل ویژن کا مظاہرہ کیا ہے۔ اتنی عمیق نظری اور محنت کے ساتھ اپنے لوگوں کو رمضان المبارک میں تمام دفتری امور ایمان داری سے سر انجام دینے پر قائل کریں نہ کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے درمیان اپنی مذہبی شناخت کو کیسے برقرار رکھنا ہے وہ سمجھاتے پھریں۔ بد قسمتی سے ہم وہ لوگ ہیں جو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ”مس فٹ“ ہیں اسی لیے نان ایشوز کو ایشو بنا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments