۔۔۔ کی ٹوکری سے کیا نکلنے والا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ہمیشہ ہی مدر ٹریسا بنے لوگوں سے ہنس ہنس کر بات کرتے رہیں اور مزاج کبھی برہم ہی نہ ہو۔ دیکھیے ہم بھی دکھتی رگ رکھتے ہیں اور اگر اسے کوئی چھیڑ دے تو پھر سوچ لیجیے کہ کیا گزرتی ہوگی۔ ہم پہ نہیں، چھیڑنے والے پہ!

الٹراساؤنڈ کرتے ہوئے بچے کی جنس دریافت کرنے پہ ہمارا پارہ قطعی قابو میں نہیں رہتا۔ ارے بھئی شکر کرو کہ اللہ نے حاملہ کیا، ماں باپ بننے سے محروم نہیں رکھا۔ اب دعا کرو کہ بچہ جسمانی اور ذہنی طور پہ مکمل ہو، لڑکی ہو یا لڑکا، یہ سوال ہی بے معنی ہے۔

لڑکی، لڑکا یا کچھ بھی بننے سے پہلے نطفے کو بہت سے نازک مقامات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ننگے پاؤں خار دار رستوں پہ، اور کچھ کے پر کسی نہ کسی موڑ پہ جل جاتے ہیں لیکن جہالت کے بورے میں زندگی گزارنے والوں کو کیا ادراک؟

اماں لائی انڈا، ابا لایا سپرم اور دونوں نے مل کر نطفہ بنایا بالکل ویسے ہی جیسے چڑیا لاتی ہے چاول کا دانہ اور چڑا دال کا۔ لیکن کھچڑی پکنے اور بچہ بننے کا درمیانی مقام۔ خدایا۔ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔

سائنس یہ بتاتی ہے کہ انڈے اور سپرم سے مل کر بننے والا ملغوبہ جسے ہم زائی گوٹ کہتے ہیں چھ ہفتے تک کوئی صنفی فرق نہیں رکھتا۔ اس کے سیلز میں اہلیت موجود ہے کہ لڑکا بنے، لڑکی بنے یا کچھ اور۔ ساتویں ہفتے میں اگر زائی گوٹ کے صنفی سیلز خصیے ( Testes) نہ بنائیں تو بچے کے زنانہ اعضا بننا شروع ہو جائیں گے۔ اور اگر صنفی سیلز خصیے بنا دیں تو ان خصیوں سے خارج ہونے والے مردانہ ہارمون کے زیر اثر مردانہ اعضا تشکیل پائیں گے۔ یہ تجربات الفریڈ جوسٹ نے 1940 میں کیے جن کے مطابق ہر زائی گوٹ عورت میں ڈھل جائے گا اگر خصیے نہ بنیں تو۔

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ ہر انسان چھیالس کروموسومز کا مجموعہ ہے۔ چوالیس آٹو سومز ( Autosomes) جو جسم کی رنگت، ساخت، عادات، اور بقیہ تمام اعضا کے ذمہ دار ہیں اور مرد ہو یا عورت، ان میں کوئی فرق نہیں۔ بائیس کروموسومز باپ کی طرف سے اور بائیس ماں کی طرف سے۔

مسئلہ پینتالیسویں اور چھیالیسویں کروموسم کا ہے۔ یہ جوڑا جنسی یا صنفی کروموسوم ( sex Chromosomes) کہلاتا ہے۔ ایکس ایکس ( XX) عورت کے لئے اور ایکس وائی ( XY) باپ کے لئے۔

سو اب ترتیب یوں بنی کہ ماں کی بیضہ دانی ( ovary ) میں بننے والے ہر انڈے میں صرف ایکس کروموسوم ہی ہو گا اور باپ کے خصیوں ( testes) میں بننے والے سپرمز میں کسی میں ایکس اور کسی میں وائی۔ سو جان لیجیے کہ لڑکا ہونے کا فیصلہ مرد کے سپرمز کرتے ہیں۔

اس لئے اگر کوئی جیالا یہ تقاضا کرے کہ سنو بھاگوان، اب کے مجھے ہر حال میں بیٹا چاہیے۔ تو بجائے دل میں پیچ وتاب کھانے کی بجائے بھاگوان کو کہنا چاہیے، جو مرضی ہو آپ کی سرکار، جو دیں گے بسر وچشم قبول کروں گی ظل الہی!

بچے کی جنس کا فیصلہ کروموسومز تو وقت ملاپ کر دیتے ہیں لیکن ملاپ کے بعد بننے والے زائی گوٹ کے مخصوص سیلز میں کچھ ہفتوں تک دونوں اصناف کے اعضا بنانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

یہ بات بے حد اہم ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی یہ سمجھ لے کہ ہر دو قسم کے اعضا بنانے والے سیلز میں جب کسی بھی وجہ سے کوئی رکاوٹ یا رخنہ پڑتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

ہر نطفے میں دو طرح کی نالیاں پائی جاتی ہیں، یاد رکھیے ہر نطفے میں۔
1۔ والفیین ( wolffian duct)
2۔ مولیرین ( Mullerian duct)

یقین جانیے جب ہم میڈیکل کے طالب علم تھے، ہر دفعہ بھول جاتے تھے کہ کون سی نالی سے کیا کیا بنتا ہے۔ آخرکار علاج یہ نکالا کہ مولیرین کا ایم فار مدر، چلیے جی ماں ہو گئی زنانہ اعضا کے لئے۔

ہنسیے گا نہیں اگر ہم بتائیں کہ وولفین کے w کے لئے ہم نے wolf کا انتخاب کیا لیکن یقین کیجئیے کہ ان تشبیہات کے بعد اب اگر کوئی سوتے میں بھی پوچھ لے تو درست جواب ہی ملے گا۔ ویسے آپس کی بات ہے wolf، وولفین سے ہجوں کے لحاظ سے بھی مشابہہ ہے اور معنی میں بھی، سو یہ انتخاب کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔

ہارمونز اور کروموسومز کے زیر اثر مولیرین سے رحم، ویجائنا اور انڈا لانے والی نالیاں بنتی ہیں۔ جبکہ وولفیین سے وہ پیچ دار نالیاں بنتی ہیں جو خصیوں میں بننے والے سپرمز کو عضو تناسل تک لے کر جاتی ہیں۔

نو ہفتے تک بچے کے بیرونی جنسی اعضا میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

نویں ہفتے میں بچی میں مخصوص سیلز ویجائنا کا بیرونی حصہ بناتے ہیں جسے ولوا ( Vulva) کہا جاتا ہے اس میں بڑے ابھار (Labia majora) ، چھوٹے ابھار ( Labia Minora) اور کلائیٹورس ( Clitoris ) شامل ہیں۔

بچے میں یہ مخصوص سیلز عضو تناسل، پیشاب کی نالی اور پراسٹیٹ گلینڈ بناتے ہیں۔

یہ پیچیدہ عمل اگر ٹھیک ٹھیک چلتا رہے تو آپ کے گھر میں یا رانی آئے گی یا راجہ۔ لیکن اگر اس عمل کے دوران کہیں بھی، کسی بھی وجہ سے کچھ گڑبڑ ہو جائے تو پھر وہ ہو گا جو آپ کو قبول نہیں! یہ ادراک رکھتے ہوئے بھی کہ اللہ کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔

ایسا لگ رہا ہے کہ ہم پہ بھی ان لوگوں کا اثر ہو ہی گیا جو کبھی ہیٹ سے کبوتر نکالتے ہیں اور کبھی پھولوں کا گلدستہ!

دیکھیے کیا نکلتا ہے اگلی بار؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments