نوعمر مزدوری پیشہ مظلوم بچوں کی حالت زار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بار خلیفہ ہارون الرشید نے بابا بہلول سے دریافت کیا کہ چور کی کیا سزا ہے؟ تو بابا بہلول نے کہا کہ اگر عادی چور ہے تو ہاتھ کاٹ دو اور اگر بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری کی ہے تو حاکم وقت کا سر کاٹ دو ۔ ایک مجذوب دانا نے نہایت گمبھیر مسئلہ کا نہایت مختصر لفظوں میں حل بتا دیا۔ عمومی طور پر معاشرے میں برائی کی ترویج میں اشرافیہ یا مراعات یافتہ طبقے کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی سرپرستی میں جرائم جنم لیتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں اور آہستہ آہستہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ غریب کو انصاف کا نہ ملنا یا غریب کے لئے کوئی اور قانون اور امیر کے لئے کوئی اور قانون۔ جب دل میں سزا و جزا کا تصور ہی نہ ہو تو دل ویسے ہی مطلق العنانی پر آمادہ رہتا ہے۔ ایسے میں اگر نشانہ غریب کا بچہ ہو تو پھر بلا جھجک ظلم کیا جاتا ہے۔

اب تو یہ روز کا معمول ہے کہ نیوز چینل اور اخبار بچوں پر تشدد اور ظلم کی خبروں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، مگر نہ ہمارے رویوں میں کوئی تبدیلی آتی ہے نہ متعلقہ اداروں کے کان پر جوں رینگتی ہے۔ کبھی آتا ہے کہ فلاں شہر کی ایک خاتون نے 14 سا لہ ملازمہ پر تشدد کی انتہا کر دی، کبھی آتا ہے کہ فلاں جج صاحب اور ان کی بیوی نے نو عمر ملازمہ کی جان لے لی، جس کے جسم پر بد تریں تشدد کے نشانات پائے گئے۔ مگر ان سب کے نتائج سو فیصد یکساں ہیں، کہ کبھی بھی امیر آقا کو سزا نہ ہو سکی۔

لگتا کچھ یوں ہے کہ جیسے یہ کوئی معیوب عمل ہی نہیں اور پورا معاشرہ ہی اس بے حسی کا شکار ہے۔ آئے دن اس ہی قسم کی خبریں ہمیں چونکائے بغیر گزر جاتی ہیں۔ ہمارے کان اور ہمارے دل غریب بچوں کی اذیت ناک اور دلخراش خبریں سن سن کر لگتا ہے جیسے بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ کوئی مسیحا نہیں جو ان مظلوموں کی داد رسی کو آئے، پاکستان میں فلاحی و رفاہی اداروں کا ایک جم غفیر ہے، قریب سو سے زیادہ ٹی وی چینلز ہیں، مگر کوئی تنظیم، کوئی ادارہ، کوئی چینل ان مظلوموں کی مدد کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔

عجیب بی حسی اور سرد مہری پورے معاشرے پر طاری ہے اور بہت ممکن ہے کہ سب یہ سوچ رہے ہوں کہ میرا بچہ تھوڑی ہے۔ ہر بار ایک نیا سانحہ سامنے آتا ہے، کچھ نام نہاد فلاحی تنظیمیں کچھ دیر شور مچاتی ہیں چینلز اپنی ریٹنگ بڑھاتے ہیں مال بناتے ہیں اور معاملہ کھیل ختم پیسہ ہضم کے مصداق سرد خانوں کی بھی کال کوٹھری میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل ایثار سے عاری ہوتا ہے اور محض پیسہ بنانے کا ذریعہ ہوتا ہے لہذا نتائج بھی نہ ہونے کے برابر ہی ہوتے ہیں۔

نشریاتی ادارے کوریج کے نام پر خوب راگ الاپتے ہیں اور مظلوموں کی عزت کا وہ پوسٹ مارٹم کرتے ہیں کہ شیطان بھی شرم سے دانتوں میں انگلیاں دابے نظریں چراتا نظر آتا ہے۔ رہی بات لواحقین کی تو وہ نہ زندوں میں ہوتے ہیں نہ مردوں میں۔ کہ اپنے لخت جگر کی اندوہناک موت یا معذوری اور دوسری جانب میڈیا کا حادثے کا پوسٹ مارٹم ان کے لئے سوہان روح بنا رہتا ہے۔

پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ کم عمر بچے جبری مشقت کا شکار ہیں۔ حکومت وقت اس ضمن میں کچھ اقدامات ضرور کر رہی ہے مگر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، کچھ حکومتی اقدامات سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ اس حوالے سے اعداد و شمار جمع ہو گئے ہیں، جن سے چاروں صوبوں میں کم عمری میں جبری مشقت کے اعداد و شمار بھی منظر عام پر آئے ہیں اور صوبوں میں موجود جرائم پیشہ گروہ کی بھی نشاندہی ہو گئی ہے۔ حکومت پاکستان مقدور بھر کوشش کر رہی ہے اور معاملات کچھ سنجیدگی کی طرف مائل بھی ہیں مگر کیونکہ مقابلہ بہت ہی طاقتور گروہ سے ہے لہذا نتائج خاطر خواہ حاصل نہیں ہو پا رہے ہیں۔

پاکستان وہ ملک ہے جہاں بچوں سے جبری مشقت کی بدترین مثالیں موجود ہیں، چاہے وہ گھریلو ملازمین ہوں یا کسی ادارے سے منسلک ہوں، بدترین حالات کا شکار ہیں۔ یہاں تک کے اغوا کیا جانا، بیچ دیا جانا اور حبس بے جا میں غلام کی طرح رکھ کر کام کروانا بھی معمول کی بات ہے۔ اینٹوں کے بھٹے، قالین کے کارخانے، بھیک منگوانا، چوڑی کے کارخانے، چائے خانے نوعمر ملازمین کے دم سے ہی چل رہے ہیں۔ یہ تمام بچے 5 سے 15 سال تک کی عمر کے ہوتے ہیں۔ جو کہ عالمی طور پر تسلیم شدہ جرم ہے۔

اگر ہم صرف چند مہینوں کے اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں تو دل دھک سے رہ جائے گا۔ اور اپنی تمام تر دلخراشی کے باوجود نتائج نہ ہونے کے برابر ہیں، جو بذات خود ایک بڑا المیہ اور قابل شرم بات ہے۔ ہمارے لئے بھی اور معاشرے کے لئے بھی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ہماری لاتعلقی اور بے حسی نے ان مظلوم بچوں کو کتنا لاچار و مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی جان گنوا کر بھی انصاف سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ ان بچوں کے والدین معاشی طور پر اتنے بد حال ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچے بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس طرح وہ اپنے جگر گوشوں کو موت کی دہلیز پر چھوڑے جا رہے ہیں مگر وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔

نوعمر بچوں سے جبری مشقت بذات خود ایک قبیح فعل ہے اور دنیا بھر میں بنیادی اخلاقی اقدار کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ بین الاقوامی مزدوروں کے قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے، مگر حیرت انگیز طور پر ہمارے ہاں اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور اس فعل قبیحہ کو بالکل معیوب نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اب تو یہ ایک قسم کا اسٹیٹس سمبل بن کر رہ گیا ہے، اس بے حسی کے طرز عمل کے نتیجے میں عموماً بچے یا تو زندگی بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں یا پھر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک کسی نے ان کے حق میں علم جہاد نہیں اٹھایا کہ ان تلخ حقائق پر سے پردہ اٹھایا جا سکے۔

غربت و افلاس کے ہاتھوں مجبور والدین اپنے معصوم جگر گوشوں خصوصاً بچیوں کو ان بگڑے نوابوں کے حوالے کر دیتے ہیں، جو ان بچوں کو پالتو جانور یا غلام کی طرح رکھتے ہیں اور پھر جو ظلم بھی روا رکھ سکتے ہیں کرتے ہیں، جس میں کئی کئی سال تک ماں باپ سے ملنے نہیں دیا جاتا، جسمانی تشدد ہنٹر یا سلاخ سے مارنا، جنسی زیادتی، استری یا چولہے سے جلا دینا، ہاتھ پاؤں توڑ کر معذور کر دینا، اور کبھی تو اس پر بھی اکتفا نہیں ہوتا اور مظلوم بچے کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔

اس مقام پر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس پورے قضیے میں والدین کا کتنے فیصد کردار ہے، کیونکہ ان کی رضا سے ہی بات آگے بڑھتی ہے اور سانحے کی شکل تک پہنچ پاتی ہے۔ کیا یہ صرف مالی پریشانی اور غربت ہے جو والدین کو اس حد تک مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے جگر گوشوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ معاملہ چاہے جو بھی ہو، نو دو لتیے غریبوں کی اس کمزوری سے خوب واقف ہوتے ہیں اور اپنے پیسے کی طاقت کا بڑا زعم ہوتا ہے ان کے دماغوں میں، لہذا یہ اپنے پیسے کی طاقت کے عوض غلام نما بچے خرید کر گھر میں رکھ چھوڑتے ہیں۔

ان بھوکے اور مظلوم بچوں پر کام کا اس قدر بوجھ ڈالتے ہیں کہ وہ اس عقوبت خانے سے آزادی کا سوچنا تک بھول جاتے ہیں اور یہ نام نہاد آقا جب اور جہاں موقع ملتا ہے اپنی انا کی تسکین کی خاطر ان مظلوم بچوں کو تختہ مشق بنانے سے نہیں چوکتے اور جو ظلم روا رکھ سکتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ اس ظلم کی چکی میں رحم کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ میرے پاس اتنا حوصلہ نہیں کہ ان مظالم کو قلمبند کر سکوں۔ بس اس دعا پر اپنے کالم کا اختتام کرتا ہوں کہ۔ اللہ ان پر رحم فرمائے اور ہمیں اتنی ہمت دے کہ کم از کم ان مظلوموں کی داد رسی کر سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments