قرونِ وسطیٰ کی بُھولی بِسری ’دو وقت سونے‘ کی عادت

زاریا گورویٹ - بی بی سی فیوچر


ہزاروں برسوں تک لوگ اپنی نیند دن میں دو حصوں میں تقسیم کر کے پوری کیا کرتے رہے تھے۔۔۔ ایک شام کا وقت ہوتا تھا اور ایک صبح کا لیکن وہ ایسا کیوں کرتے تھے اور پھر یہ دو وقتوں میں سونے کی عادت کیسے ختم ہوئی؟

یہ 13 اپریل سنہ 1699 کو انگلینڈ کے شمال میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں تقریباً رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ نو برس کی جین روتھ نے آنکھیں جھپکائیں اور شام کے ڈھلتے سائے میں اس نے باہر جھانکا اور پھر وہ باہر نکل گئی۔ وہ اور اس کی ماں ابھی تھوڑی سی نیند سے بیدار ہوئی تھیں۔

مسز روتھ اٹھیں اور اپنے معمولی گھر میں انگیٹھی کے کنارے پر گئیں، جہاں انھوں نے پائپ نوشی شروع کی۔ تبھی کھڑکی سے دو آدمی نمودار ہوئے۔ انھوں نے آواز دی اور ہدایت کی کہ وہ ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

جیسا کہ بعد میں جین نے کمرہ عدالت میں وضاحت کی کہ اس کی والدہ واضح طور پر آنے والوں کی توقع کر رہی تھیں۔ وہ آزادانہ طور پر ان کے ساتھ چلی گئیں لیکن پہلے اپنی بیٹی سے سرگوشی میں کہا کہ ’خاموش رہو اور وہ صبح دوبارہ آئے گی۔‘ شاید مسز روتھ کے پاس رات کا کوئی کام تھا جسے مکمل کرنا تھا یا شاید وہ کسی مصیبت میں تھیں اور وہ جانتی تھیں کہ گھر چھوڑنا خطرناک ہے۔

کسی بھی وجہ سے جین کی ماں اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکی اور کبھی گھر واپس نہیں آئیں۔ اس رات مسز روتھ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور اگلے چند روز بعد ان کی لاش برآمد ہوئی۔ اُس کے قتل کا یہ معمہ کبھی حل نہیں ہوا۔

تقریباً 300 سال بعد سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں مؤرخ راجر ایکرک نے محراب والے داخلی راستے سے لندن میں پبلک ریکارڈ آفس تک پیدل سفر کیا۔ ایک شاندار گوتِھک عمارت جس میں سنہ 1838 سے سنہ 2003 تک برطانیہ کے نیشنل آرکائیوز موجود تھے۔ وہاں ایک لامتناہی قطاروں کے درمیان چمڑے کے پارچے کے کاغذات اور مخطوطات میں انھیں مسز روتھ کے بارے میں جو نظر آیا وہ اُنھیں کچھ عجیب لگا۔

اصل میں ایکرِک رات کے وقت کی تاریخ کے بارے میں ایک کتاب پر تحقیق کر رہے تھے اور اس وقت وہ ریکارڈز کو دیکھ رہے تھے جو ابتدائی قرون وسطیٰ اور صنعتی انقلاب کے درمیان کے دور پر پھیلا ہوا تھا۔ وہ نیند پر باب لکھتے ہوئے ڈر رہے تھے یہ سوچ کر کہ یہ نہ صرف ایک عالمگیر ضرورت ہے بلکہ ایک حیاتیاتی مستقل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ انھیں کوئی نئی چیز مل جائے گی۔

اب تک انھوں نے عدالتی بیانات کو خاص طور پر روشن پایا تھا۔ امریکہ کی یونیورسٹی ورجینیا ٹیک کے پروفیسر ایکرک کہتے ہیں ’وہ سماجی مورخین کے لیے ایک شاندار ذریعہ ہیں۔ وہ ایسی سرگرمی پر تبصرہ کرتے ہیں جس کا اکثر جرم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔‘

لیکن جیسا کہ انھوں نے جین کے مجرمانہ بیان کو پڑھا، دو الفاظ 17ویں صدی میں زندگی کی خاص طور کے بارے میں تفصیل کے ساتھ ذکر کر رہے تھے، جس کا انھوں نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا تھا: ’پہلی نیند۔‘

ایکرک کہتے ہیں کہ ’میں اصل دستاویز کا تقریباً لفظی حوالہ دے سکتا ہوں‘ جن کی دریافت پر اُن کا جوش و خروش دہائیوں بعد بھی برقرار ہے۔

عدالت میں دی گئی اپنی شہادت میں جین بیان کرتی ہیں کہ کس طرح مردوں کے ان کے گھر پہنچنے سے پہلے وہ اور ان کی ماں شام کی پہلی نیند سے اٹھی تھیں۔ اس کی مزید کوئی وضاحت نہیں تھی۔ نیند میں خلل کو صرف حقیقت کے طور پر بیان کیا گیا تھا، جیسے کہ یہ مکمل طور پر معمول کی بات تھی اور اس کا مکمل طور پر ذکر کیا جانا ضروری نہیں تھا۔

ایکرِک کا کہنا ہے کہ ’اس نے اس (نیند) کا حوالہ ایسے دیا جیسے کہ یہ بالکل معمول کی بات تھی۔‘

پہلی نیند کا مطلب دوسری نیند بھی ہے۔۔۔ ایک رات جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ کیا یہ صرف کسی ایک خاندان کی مخصوص عادت تھی یا کچھ اور بھی تھا؟

تمام لوگوں کا معمول

آنے والے مہینوں میں ایکِرک نے آرکائیوز میں مزید کھوج لگایا اور اسے دوہری نیند کے اس پراسرار رجحان یا ’دو وقفوں کی نیند‘ کے مزید بہت سے حوالے ملے۔

چند کافی حد تک مضحکہ خیز تھے جیسے کہ جون کاک برن نامی جولاہے نے نیند کا ذکر اتفاق سے اسے اپنی گواہی میں کیا ہی نہیں لیکن دوسرے گواہان جیسے کہ ایسٹ رائڈنگ، یارکشائر کے لیوک اٹکنسن، اس قتل کی صبح اپنی پہلی نیند کا ذکر اپنے بیان میں کرنے میں کامیاب رہے اور ان کی بیوی کے مطابق وہ اکثر اوقات دوسرے لوگوں کے گھروں میں فضول کام کرتے ہوئے ایسی نیند سوتے تھے۔

جب ایکِرک نے دیگر تحریری ریکارڈوں کے آن لائن ڈیٹا بیس کو شامل کرنے کے لیے اپنی تلاش کے دائرے کو بڑھایا تو جلد ہی اُن پر یہ واضح ہو گیا کہ یہ رجحان اس سے کہیں زیادہ عام تھا اور ایک اتنی زیادہ معمول کی عادت تھی جس کا انھوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

آغاز کے لیے قرون وسطیٰ کے ادب کے سب سے مشہور کاموں میں سے ایک جیفری چوسر کی دی کینٹربری ٹیلز (جو سنہ 1387 اور سنہ 1400 کے درمیان لکھی گئیں تھیں) میں پہلی نیند کا ذکر کیا گیا ہے، جسے زائرین کے ایک گروپ کے درمیان کہانی سنانے کے مقابلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ان دو نیندوں کا ذکر شاعر ولیم بالڈون کی بیویئر کی سنہ 1561 میں لکھی گئی نظم ’دی کیٹ‘ میں بھی شامل کیا گیا ہے – ایک طنزیہ نظم تھی جسے کچھ لوگوں نے پہلا ناول سمجھا، جو ایک ایسے آدمی کے گرد مرکوز ہے جو خوفناک مافوق الفطرت بلیوں کے ایک گروپ کی زبان سمجھنا سیکھتا ہے۔ جن میں سے ایک حصہ ’ماؤس-سلیئر‘ (چوہوں کی قاتل) نامی ایک مقدمے کا ذکر ہے جو آزادانہ جنسی تعلقات کے بارے میں ہے۔

لیکن یہ ذکر اس وسیع پیمانے پر عام عادت کے بارے میں ایک سرسرا سا اشارہ ہے۔ ایکِرک نے ہر قابل فہم شکل میں دو بار سونے کے نظام کے بارے میں آرام دہ اور پرسکون حوالہ جات دریافت کیے ہیں، سینکڑوں خطوط، ڈائریوں، طبی نصابی کتابوں، فلسفیانہ تحریروں، اخباری مضامین اور ڈراموں میں اس کے ذکر کو دیکھا ہے۔

یہاں تک کہ اُنھوں نے اِس عادت کا ذکر لوک گیتوں میں دریافت کیا ہے، جیسے کہ ’اولڈ رابِن آف پورٹِنگیل‘ (Old Robin of Portingale) نامی ایک گیت کے بولوں میں اس کا یوں ذکر ہے:

’آپ کی پہلی نیند سے جاگنے کے وقت

آپ کو ایک گرم مشروب دیا جائے گا،

اور آپ کی اگلی نیند کے بیدار ہونے پر،

آپ کے دکھوں کو ایک جھٹکا لگے گا۔۔۔‘

دو مرحلوں کی نیند صرف انگلینڈ میں منفرد نہیں تھی۔ یہ پوری صنعتی دنیا میں وسیع پیمانے پر رائج تھی۔ فرانس میں ابتدائی نیند ’پریمیئر سومے‘ کہلاتی تھی، اٹلی میں، یہ ’پرائمو سونو‘ تھی۔ درحقیقت ایکرک کو افریقہ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور مشرق وسطیٰ جیسے دور دراز مقامات میں بھی اس عادت کے موجود ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو سے سنہ 1555 میں ایک نوآبادیاتی واقعات کے بیان میں بتایا گیا کہ ٹوپینمبا کے لوگ اپنی پہلی نیند کے بعد رات کا کھانا کس طرح کھائیں گے جبکہ دوسرا – 19ویں صدی کے مسقط، عمان سے ملنے والی دستاویز نے وضاحت کی کہ مقامی لوگ اپنی پہلی نیند کے لیے رات دس بجے سونے کے لیے اپنی آرام گاہ میں چلے جائیں گے۔

اور قرون وسطیٰ کی خاصیت ہونے سے بہت دور ایکِرک کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ طریقہ صدیوں سے سونے کا غالب طریقہ رہا ہے۔ ایک قدیم قدرتی عادت جو ہمیں اپنے ماقبل تاریخ کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملی ہے۔ ایکِرک کو اس سلسلے میں جو پہلا ریکارڈ ملا وہ 8ویں صدی قبل مسیح کا تھا، معروف یونانی نظم ’اوڈیسی‘ کے 12,109ویں مصرعے میں، جبکہ اس سے پہلے کہ یہ کسی طرح تاریخ میں فراموش ہو جائے اس کے وجود کے آخری اشارے 20ویں صدی کے اوائل تک تھے۔

دو مرحلوں کی نیند کیسے کام کرتی تھی اور لوگ ایسا کیوں کرتے تھے؟ اور جو چیز کبھی مکمل طور پر ایک معمول تھی اسے مکمل طور پر کیسے بھلا دیا گیا؟

فراغت کا لمحہ

17ویں صدی میں نیند کی رات کچھ اس طرح لی جاتی تھی:

رات کو نو بجے کے آغاز سے رات گیارہ بجے تک، وہ لوگ جو اس نیند کی عادت کی استطاعت رکھتے تھے وہ بھوسے یا چیتھڑوں سے بھرے گدوں پر دراز ہوجاتے تھے اور اگر وہ دولت مند ہوتے تو ان گدّوں میں بھوسہ وغیرہ نہ ہوتا اس کی جگہ اس میں پرندوں کے پر بھرے ہوئے ہو تے اور وہ آسانی سے کچھ گھنٹے سونے کے لیے تیار ہوتے۔ (سماجی طبقوں کے نچلے حصے کے لوگ عام جھاڑیوں کے پتوں یا اس سے بھی بدتر حالت یعنی ایک خالی فرش یا ننگی زمین کے فرش پر سونے کے لیے لیٹ جائیں گے، ممکنہ طور پر بغیر کمبل کے بھی۔)

اُس وقت زیادہ تر لوگ اجتماعی طور پر سوتے تھے اور اکثر کھٹملوں، پسووں، جوؤں میں اپنے آپ کو اپنے خاندان کے افراد، دوستوں، نوکروں اور دیگر افراد کے ہمراہ سوتے۔ اگر وہ مکمل اجنبیوں کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے تو آرام دہ درجہ بندی کے ساتھ ان کے ساتھ بھی سو جاتے تھے۔

کسی بھی عجیب و غریب کیفیت کو کم کرنے کے لیے نیند میں متعدد سخت سماجی روایات شامل ہیں، جیسے کہ جسمانی رابطے سے گریز کرنا یا بہت زیادہ چڑچڑا پن اور سونے کے لیے مخصوص مقامات تھے۔ مثال کے طور پر لڑکیاں عموماً بستر کے ایک طرف، دیوار کے قریب سب سے زیادہ بوڑھے سوتے، اس کے بعد ماں اور باپ، پھر مرد بچے – پھر عمر کے لحاظ سے – پھر غیر خاندانی ارکان لیٹیں گے۔

چند گھنٹے بعد لوگ اس ابتدائی نیند سے اٹھنا شروع کر دیں گے۔ رات کی بیداری عام طور پر تقریباً گیارہ بجے سے رات ایک بجے تک جاری رہتی اور ان کے جاگنے کے وقت کا انحصار اس بات ہوتا تھا کہ وہ کب سونے گئے تھے۔ یہ عام طور پر رات کے وقت شور یا دیگر خلل کی وجہ سے نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی یہ کسی قسم کے الارم سے شروع کیا گیا تھا (یہ الارم تو صرف سنہ 1787 میں ایک امریکی شخص نے ایجاد کیے تھے، جو کچھ حد تک ستم ظریفی ہے کہ گھڑیاں بیچنے کے لیے وقت پر جاگنے کی ضرورت تھی)۔ اس کے بجائے جاگنا بالکل فطری طور پر ہوا، جیسا کہ صبح ہوتا ہے۔

اس کے بعد بیداری کی مدت کو ’دی واچ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ ایک حیرت انگیز طور پر مفید وقفہ تھا جس میں چھوٹے موٹے کام کاج کر سکتے تھے۔ ایکِرک کہتے ہیں کہ ’(ریکارڈ) بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے اپنی پہلی نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنا کوئی بھی کام یا کئی ایک کام کیسے انجام دیتے تھے۔‘

چاند، ستاروں اور تیل کے لیمپ یا ’گپر کی کسی بھی روشنی‘ کی کمزور چمک کے نیچے یہ عام گھرانوں کے لیے ایک قسم کی موم بتی، جو خام مومی تنوں سے بنی ہوتی ہے، لوگ عام کاموں کی طرف مائل ہوں گے، جیسے آگ میں لکڑیاں ڈالنا، علاج کرنا، یا پیشاب کرنا (جو کہ یہ آگ کے اوپر کر دیتے تھے)۔

دو مرحلی نیند

اجتماعی نیند کا مطلب یہ بنتا تھا کہ جب آپ سو کر بیدار ہوتے تھے تو کوئی نہ کوئی آپ کے ساتھ گپ شپ کے لیے موجود ہو

کسانوں کے لیے جاگنے کا مطلب زیادہ سنجیدہ کام پر واپس آنا تھا، چاہے اس میں کھیتی باڑی کے جانوروں کو چیک کرنے کے لیے نکلنا ہو یا گھریلو کام جیسے کہ کپڑا سینا، اون کو کنگھی کرنا یا جلانے کے لیے رشوں کو چھیلنا شامل ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملازمہ ایک نصف شب اور علی الصبح دو بجے کے درمیان اپنے مالک ویسٹ مورلینڈ کے لیے بیئر کا ایک گلاس تیار کرکے لاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان حالجات میں جرائم پیشہ لوگ یارکشائر میں قاتل کی طرح – گھومنے پھرنے اور پریشانی پیدا کرنے کا موقع حاصل کر لیتے تھے۔

لیکن اس ’واچ‘ کے وقفے کے دوران کچھ لوگ اپنی عبادات بھی کرتے تھے۔

عیسائیوں کے لیے مکمل ہونے والی وسیع دعائیں تھیں، جن میں مخصوص وقت کے عین مطابق مخصوص دعائیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ آپ کا رات کا کھانا ہضم کرنے کے بعد اور دنیا کے دیگر معمول چھوڑنے کے بعد ایک پادری نے اس وقت کو خدا کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مقبول وقت قرار دیا جب ’خدا کے سوا کوئی آپ کو اس وقت تلاش نہیں کرے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

دوپہر میں کام نہیں صرف آرام، گوا کے لوگوں کی خوشی کا پرانا راز

ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں وقت پر پہنچنا ’غیر مہذب‘ فعل ہے

ایک ایسا شہر جہاں کوئی غصہ نہیں کرتا

اس دوران فلسفیانہ مزاج رکھنے والے زندگی پر آرا دینے اور نئے خیالات پر غور کرنے کے لیے اس وقفے کو ایک پرامن لمحے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ 18ویں صدی کے اواخر میں لندن کے ایک تاجر نے آپ کی سب سے زیادہ سحر انگیز رات کی بصیرت کو یاد رکھنے کے لیے ایک خاص آلہ بھی ایجاد کیا تھی: ایک ’شب بیداری‘ جو پارچمنٹ کے ایک بند پر مشتمل تھا اور وہ افقی انداز کا تھا جسے تحریری رہنما کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔

لیکن یہ گھڑی سب سے زیادہ سماجی تعلقات بنانے اور جنسی تعلقات کے لیے مفید تھی۔

جیسا کہ ایکِرک نے اپنی کتاب ’ایٹ ڈیز کلوز: اے ہسٹری آف نائیٹ میئر‘ (At Day’s Close: A History of Nighttime ) میں وضاحت کی ہے کہ لوگ اکثر صرف بستر پر ہی رہتے اور گپ شپ کرتے اور ان عجیب ٹمٹماتے ہوئے اوقات میں ایک بستر پر بیٹھے لوگ غیر رسمی اور آرام دہ گفتگو کی سطح کا اشتراک کر سکتے ہیں جس کے لیے دن کے دوران وقت نکالنا مشکل ہوتا تھا۔

ان شوہروں اور بیویوں کے لیے جو دوسروں کے ساتھ بستر بانٹنے کیے ان حالاجت میں ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع بنا لیتے، یہ ان کی جسمانی قربت کے لیے بھی ایک آسان وقفہ تھا – اگر ان کے پاس کام کاج کرنے کے لیے جسمانی مشقت کا ایک لمبا دن ہوتا تو پہلی نیند نے ان کی تھکن کو دور کر دیا ہوتا اور وہ اس کے بعد کا عرصہ بچوں کی کثیر تعداد کے لیے حاملہ ہونے کا بہترین وقت سمجھا جاتا تھا۔

ایک بار جب لوگ چند گھنٹوں کے لیے جاگتے تھے تو وہ عام طور پر واپس بستر پر جاتے تھے۔ اس اگلے مرحلے کو ’صبح‘ کی نیند سمجھا جاتا تھا اور یہ طلوع فجر تک یا بعد تک ہو سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج جب لوگ مکمل طور پر بیدار ہوجاتے ہیں اور ان کے بیدار ہونے کے وقت کا انحصار اس بار ہوتا ہے کہ وہ کس وقت سونے کے لیے گئے تھے۔

دو مرحلی نیند

پبلک ریکارڈ آف میں قرون وسطیٰ کے دور کے بے انتہا فوجداری مقدمات کی دستاویزات موجو د ہیں جنھیں اب لندن کے ایک ٹاؤن ’کیو‘ میں موجود نیشنل آرکائیو میں منتقل کر دیا گیا ہے

قدیم روایت کی تبدیل شدہ نقل

ایکرِک کے مطابق، کلاسیکی دور میں دو بار سونے کے نظام کے حوالے موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اُس زمانے میں یہ رواج یا عادت پہلے سے ہی عام تھی۔ اس دو وقفوں سے نیند کا ذکر یونانی سوانح نگار پلوٹارک (پہلی صدی عیسوی سے)، یونانی سیاح پوسانیاس (دوسری صدی عیسوی سے)، رومی مورخ لیوی اور رومی شاعر ورجِل جیسی نامور شخصیات کی تضانیف میں ملتا ہے۔

بعد میں اس عمل کو عیسائیوں نے قبول کر لیا جنھوں نے اس دو نیندوں کے درمیان وقفے کی صلاحیت کو زبور اور اعترافِات کی تلاوت کے موقع کے طور پر بہت بہت سود مند اور مناسب سمجھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں سینٹ بینیڈکٹ نے تقاضا کیا کہ راہب ان سرگرمیوں کے لیے آدھی رات کو اٹھیں، اور یہ خیال بالآخر پورے یورپ میں پھیل گیا – یہ روایت آہستہ آہستہ عوام میں بھی پھیل گئی۔

لیکن نیند کو تقسیم کرنے کے فوائد دریافت کرنے والے مخلوق صرف انسان ہی نہیں ہیں – یہ قدرتی دنیا میں وسیع پیمانے پر موجود ہے جس میں بہت سی انواع دو یا اس سے بھی کئی الگ الگ حصوں میں آرام کرتی ہیں۔ اس سے انھیں دن کے سب سے زیادہ فائدہ مند اوقات میں متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے جیسے کہ جب ان کے لیے ناشتے سے گریز کرتے ہوئے کھانا تلاش کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

ایک مثال گول دم والا لیمر (بندر کی قسم کا ایک دودھ پلانے والا جانور) ہے۔ یہ مشہور مڈگاسکر کا بندر، اپنی ڈراؤنی سرخ آنکھوں اور سیدھی سیاہ اور سفید دم کے ساتھ، اس کے صنعتی دور سے قبل کے انسانوں کے سونے کے اوقات نمایاں طور پر ملتے جلتے ہیں – وہ ’جگ راتا‘ کرنے والے ہیں یعنی وہ رات اور دن کے وقت جاگتے ہیں۔

کینیڈا کی ٹورنٹو مسیساگا یونیورسٹی میں نیند اور انسانی ارتقا کی لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سیمسن کہتے ہیں کہ ’بندر کے درمیان وسیع پیمانے پر تغیرات پائے جاتے ہیں، اس لحاظ سے کہ وہ 24 گھنٹے کی مدت میں اپنی سرگرمیوں کو کس طرح تقسیم کرتے ہیں‘ اور اگر دوہری نیند کچھ لیمروں کے لیے فطری ہے تو اس نے سوچا کہ کیا یہ اسی طرح ہو سکتا ہے جس طرح ہم بھی دو مرتبہ سونے کے لیے بنے ہیں؟

ایکِرک طویل عرصے سے ایک ہی خیال پر غور کر رہا تھا لیکن کئی دہائیوں سے اس کو ثابت کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا یا یہ سمجھنے کے لیے یہ عادت کیسے ختم ہو سکتی ہے۔

پھر سنہ 1995 میں ایکِرک ایک رات دیر تک آن لائن کچھ پڑھ رہے تھے جب انھیں نیویارک ٹائمز میں کچھ سال پہلے کے نیند کے تجربے کے بارے میں ایک مضمون ملا۔

یہ تحقیق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے نیند کے سائنسدان ٹامس وئر نے کی تھی اور اس میں 15 مرد شامل تھے۔

اپنے معمول کے سونے کے نمونوں کا مشاہدہ کرنے کے ایک ابتدائی ہفتے کے بعد انھیں رات کے وقت مصنوعی روشنی سے محروم کر دیا گیا تاکہ وہ اپنے ’دن کی روشنی’ کے اوقات کو مختصر کر سکیں، چاہے قدرتی طور پر یا الیکٹرکل طریقے سے یعنی معمول کے 16 گھنٹے سے صرف 10 تک کا وقت ہو۔ باقی وقت وہ ایک بیڈ روم تک محدود تھے جس میں کوئی روشنی یا کھڑکی نہیں تھی اور یہ جگہیں پوری طرح سے سیاہی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ انھیں موسیقی بجانے یا ورزش کرنے کی اجازت نہیں تھی اور اس کے بجائے انھیں آرام اور سونے کے لیے مجبور کر دیا گیا تھا۔

اس تجربے کے آغاز میں تمام مردوں میں رات کی معمول کی عادتیں تھیں۔ وہ ایک ہی مسلسل شفٹ میں سوتے تھے جو دیر شام سے صبح تک جاری رہتی تھی۔ پھر کچھ عجیب ناقابلِ یقین بات ہوئی۔

10 گھنٹے کے دن میں سے چار ہفتوں کے بعد ان کے سونے کے انداز میں تبدیلی آ گئی تھی۔ وہ اب ایک ہی وقت میں نہیں سوتے تھے بلکہ تقریباً ایک ہی لمبائی کے دو حصوں میں سوتے تھے۔ یہ ایک سے تین گھنٹے کے وقفے کے مطابق تھے جس میں وہ جاگ رہے تھے۔ نیند کے ہارمون میلاٹونن کی پیمائش سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے سرکیڈین کا ردھم میں نئے سرے سے تشکیل پا چکے تھے، اس لیے ان کی نیند کو حیاتیاتی سطح پر تبدیل کر دیا گیا تھا۔

دو مرحلی نیند

تاریخِ انسانی کے زیادہ وقت میں وہ لوگ جن کے پاس بستر جیسی سہولت نہیں ہوتی تھی وہ یا تو بھوسے پر سوتے یا دیگر خشک سبزیوں پر سوتے

وئر نے ’بائفیزک سلیپ‘ (دو مرحلی نیند) کو دوبارہ ایجاد کیا تھا۔ ایکرک کہتے ہیں کہ ’یہ (اس تجربے کے بارے میں پڑھنا) میری شادی اور میرے بچوں کی پیدائش کے علاوہ شاید میری زندگی کا سب سے دلچسپ لمحہ تھا۔‘

جب انھوں نے اپنی تاریخی تحقیق اور سائنسی مطالعہ کے درمیان غیر معمولی مماثلت کی وضاحت کرنے کے لیے وئر کو ای میل کیا تو وہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ اتنا ہی پرجوش تھے جتنا میں تھا۔‘

ابھی حال ہی میں ڈیوڈ سیمسن کی اپنی تحقیق نے ایک دلچسپ موڑ کے ساتھ ان نتائج کو ثابت کرنے میں مدد دی ہے۔

سنہ 2015 میں کئی دیگر یونیورسٹیوں کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈیوڈ سیمسن نے ایک ریسرچ کے لیے شمال مشرقی مڈگاسکر میں منادینا کی دور دراز کمیونٹی سے مقامی رضاکاروں کو بھرتی کیا۔ یہ جگہ ایک بڑا گاؤں ہے جو ایک قومی پارک کی طرف جاتا ہے اور وہاں بجلی کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں، اس لیے راتیں تقریباً اتنی ہی تاریک ہوتی ہیں جتنی صدیوں سے ہوتی تھیں۔

اس تجربے کے شرکا جو زیادہ تر کسان تھے، 10 دن تک ان کی نیند کے پیٹرن کو ٹریک کرنے کے لیے ان سے کہا گیا کہ وہ ایک ’ایکٹی میٹر‘ پہنیں – یہ ایک نفیس سرگرمی سینسنگ ڈیوائس ہوتا ہے جسے نیند کے چکروں کو جاننے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈیوڈ سیمسن کہتے ہیں کہ ’ہم نے جو پایا وہ یہ تھا کہ (مصنوعی روشنی کے بغیر) آدھی رات کے فوراً بعد علی الصبح ایک بجے سے ڈیڑھ بجے تک تک سرگرمی کا ایک وقفہ ہوتا تھا اور پھر غیر فعالیت کے لیے یہ نیند کی طرف لوٹ جاتا تھا اور جب تک چھ نہ بج جائیں، سورج طلوع ہونے والے وقت تک، وہ بیدار نہ ہوتے۔‘

جیسا کہ یہ پتہ چلتا ہے ’بائفیزک سلیپ‘ کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی – یہ آج کی دنیا میں اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے۔

ایک نیا سماجی دباؤ

اجتماعی طور پر اس ریسرچ نےایکِرک کو وہ وضاحت بھی دی جس کے لیے وہ ترس رہے تھے کہ کیوں زیادہ تر انسانوں نے 19ویں صدی کے اوائل سے شروع ہونے والے دو نیند کے نظام کو ترک کر دیا۔ جیسا کہ ہمارے رویے میں دیگر حالیہ تبدیلیوں کے ساتھ اور جیسے کہ گھڑی کے وقت پر انحصار کرنے کی طرف ہمارا میلان بڑھا۔ اُنھیں اس سوال کا جواب صنعتی انقلاب میں ملا۔

ایکِرک کہتے ہیں کہ ’مصنوعی روشنی زیادہ مقبول اور زیادہ طاقتور ہو گئی۔ پہلے وہاں گیس (لائٹنگ) تھی، جو لندن میں پہلی بار متعارف کرائی گئی تھی اور پھر یقیناً صدی کے آخر تک برقی روشنی کا بھی استعمال شروع ہو گیا تھا اور لوگوں کے سرکیڈین ردھم کو تبدیل کرنے کے علاوہ مصنوعی روشنی بھی قدرتی طور پر لوگوں کو دیر تک جاگے رہنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔‘

تاہم اگرچہ لوگ اب نو بجے رات بستر پر سونے کے لیے نہیں جاتے تھے پھر بھی انھیں صبح اسی وقت اٹھنا پڑتا تھا – اس لیے ان کا آرام کم کر دیا گیا تھا۔ ایکرِک کا خیال ہے کہ رات دیر سے سونے کی اس تبدیلی نے ان کی نیند کو گہرا بنا دیا کیونکہ سونے کا وقت سکڑ گیا تھا۔

لوگوں کے سرکیڈین ردھم کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی روشنی نے پہلی نیند کو لمبا کر دیا اور دوسری کو مختصر کر دیا۔ ایکرک کہتے ہیں کہ ’اور میں 19ویں صدی کے دوران تقریباً کئی دہائیوں کے بعد (اس بات) کا پتا لگانے میں کامیاب ہو گیا۔‘

(دلچسپ بات یہ ہے کہ مڈگاسکر میں ڈیوڈ سیمسن کی تحقیق میں دوسرا حصہ شامل تھا – جس میں آدھے شرکا کو ایک ہفتے کے لیے مصنوعی روشنیاں دی گئیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان میں کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں تاہم ریسچرز بتاتے ہیں کہ مصنوعی روشنیوں کے لیے ان میں بڑی تبدیلیاں لانے کے لیے ایک ہفتہ کافی نہیں ہو سکتا۔

یہاں تک کہ بیسویں صدی تک اگرچہ مصنوعی روشنی پوری طرح سے قصوروار نہیں تھی لیکن دو نیندوں کے درمیان تقسیم مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔ صنعتی انقلاب نے نہ صرف ہماری ٹیکنالوجی بلکہ ہماری حیاتیات کو بھی تبدیل کر دیا۔

ایک نئی پریشانی

نیند کی عادات میں انسان کی زیادہ تر تبدیلی کا ایک بڑا ضمنی اثر رویوں میں تبدیلی ہے۔ ایک چیز کے لیے ہم نے جلدی سے ان لوگوں کو شرمندہ کرنا شروع کر دیا جو زیادہ سوتے ہیں اور جلدی جاگنے اور نتیجہ خیز ہونے کے درمیان تعلق کے ساتھ ایک مصروفیت پیدا کر لی۔

ایکرک کا کہنا ہے کہ ’لیکن میرے لیے اس سب کا سب سے زیادہ خوش کن پہلو ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جو درمیانی رات میں بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے سونے کے انداز اب اتنے بدل چکے ہیں کہ آدھی رات میں کسی کا بھی جاگنا ہمارے لیے گھبراہٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

’میرا مطلب اس پر روشنی ڈالنا نہیں۔ درحقیقت میں خود نیند کی خرابی کا شکار ہوں اور میں اس کے لیے دوائی لیتا ہوں۔۔۔‘ لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صدیوں سے بالکل نارمل رہا ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پریشانی میں کسی حد تک کمی آتی ہے۔

تاہم اس سے پہلے کہ ایکرک کی ریسرچ نباتاتی خوراک کو ختم کر دے اور لوگ اپنے لیمپ باہر پھینکنا شروع کر دیں یا اس سے بھی بدتر یہ کہ مصنوعی طور پر الارم گھڑیوں کے ساتھ اپنی نیند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، وہ اس بات پر زور دینے کے خواہشمند ہیں کہ دو مرحلی نیند کے نظام کو ترک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آج ہماری نیند کا معیار بدتر ہے۔

نیند کے مسائل کے پھیلاؤ کے بارے میں مسلسل شہ سرخیوں کے باوجود ایکرک نے پہلے یہ دلیل دی کہ کچھ طریقوں سے 21ویں صدی نیند کے لیے سنہری دور ہے کیونکہ ہم ایک ایسے وقت میں جی رہے ہیں جس میں ہم میں سے اکثر کو اس بات کا خدشہ نہیں ہوتا کہ ہمیں کوئی ہمارے بستر ہی میں قتل نہ کردے یا ہمیں اپنے بستروں کو جوؤں سے پاک کرنا ہو یا ہمیں آگ لگنے کا خطرہ ہو، یا یہ کہ کوئی اجنبی گھر میں نہ گھس آئے۔

مختصر یہ کہ نیند کا ایک دور ’قدرتی‘ نہیں ہو سکتا اور پھر نہ تو مہنگے قسم کے گدّے ہیں اور نہ ہی جدید حفظان صحت۔ ایکرک کہتے ہیں کہ ’زیادہ سنجیدگی سے بات کی جائے تو اب واپس نہیں جانا ہے کیونکہ حالات بدل چکے ہیں۔‘

لہٰذا ہو سکتا ہے کہ ہم بستر پر آدھی رات کی رازدارانہ گفتگو، سائیکیڈیلک خوابوں اور رات کے وقت فلسفیانہ انکشافات سے محروم رہ رہے ہوں لیکن کم از کم ہم غصے میں کیڑے کے کاٹنے کے سرخ نشان کی تکلیف سے بیدار نہیں ہوں گے۔

زاریا گورویٹ بی بی سی فیوچر کی سینئر صحافی ہیں اور وہ ZariaGorvett @@@@ کے نام سے ٹویٹس کرتی ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24198 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments