مری کا رومان اور انتظامیہ کی نا اہلی
کوئی بھی موسم ہو مری کا رومان اور جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ موسم گرما میں فضا میں رچی چناروں اور چیڑ کی خوشبو دل موہ لیا کرتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں مری کے آسمان کے رنگوں کی چھب ہی نرالی ہوتی ہے۔ سرمئی، ارغوانی، بنفشی، فاختئی، پیازی سبھی رنگ امڈ امڈ کر اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ یکا یک بادلوں کے چھا جانے سے آسمانی رنگ لاجوردی اور گلابی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مری کا آسمان گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ شاید موسم کے تغیرات کو دیکھتے ہوئے یہ محاورہ بنا ہو گا۔
موسم کا اعتبار نہیں
پھول خوشبودار نہیں
پھل مزے دار نہیں
لوگ وفادار نہیں
مری پنجاب کا وہ سیاحتی پرفضا پہاڑی مقام ہے جو ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہے۔ کوئی بھی اپنے بجٹ کی منصوبہ بندی کر کے یہاں کی سیر سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اسے ملکۂ کوہسار کہا جاتا ہے۔ لیکن مری کے مقامی ہوٹلوں والے ہمیشہ سیاحوں کی کھال اتارنے کو تیار ہی رہتے ہیں۔ چند دن پہلے بھی ویک اینڈ پہ لوگ پروانوں کی طرح مری کی برف باری دیکھنے کے عشق میں گھروں سے نکلے۔ انہیں کیا پتا تھا کہ وہ انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ٹھنڈی سفید برف میں ٹھٹھرتے ہوئے میٹھی موت مر جائیں گے۔
یوں تو وطن عزیز میں بہت سے سیاحتی مقام ہیں جیسے ناران، کاغان، سوات، کالام، ہنزہ وغیرہ جانے کے لیے جیب میں کافی روپے ہونے چاہئیں۔ لہذا زیادہ تر لوگ مری کا رخ کرتے ہیں۔ اس دفعہ بھی برف باری کے شوقین لوگوں نے مری کا رخ کیا۔ جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق 3 جنوری سے 8 جنوری تک برفانی طوفان آنے کے پیشین گوئی کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں تمام اداروں کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا تھا۔ بلا شبہ مری ایک چھوٹا سا ہل سٹیشن ہے جہاں اس کے قدیمی حسن کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے الٹا اس پر بہت سی تعمیرات بنائی گئی ہیں۔
مری میں زیادہ سے زیادہ 35 سو گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں لیکن اس روز مری میں تقریباً ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہو گئیں۔ مری میں دو بڑے چوک ہیں جہاں ٹریفک بلاک ہو جانے کی وجہ سے نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ ایک جھیکا گلی اور دوسرا سنی بینک سے کلڈنہ۔ اس روز ان دونوں رستوں کو صاف کروانے کی کوئی تیاری ہی نہیں کی گئی تھی۔ فواد چوہدری صاحب کی ٹویٹ تھی: ”اتنی بڑی تعداد میں کسی سیاحتی مقام پہ گاڑیوں کے داخلے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں لوگ خوشحال اور معیشت مضبوط ہے۔
“ کوئی ان حکمرانوں سے پوچھے کہ کیا مری جیسے چھوٹے سیاحتی مقام پر اس کی قوت اختیار سے زیادہ گاڑیوں کا اندھا دھند داخل ہونا اور مری انتظامیہ کا غائب رہنا حکومت کی نا اہلی ہے یا معیشت کی مضبوطی۔ ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اس کے عوام کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے۔ عوام کے لیے تعلیم و صحت کے شعبے میں ترقی دینے سے۔ عوام کے لیے بروقت سہولتیں بہم پہنچانے سے۔ اب مری کو ہی دیکھ لیجیے جب لوگ وہاں پھنسے مدد کے لیے آہ و فضاں کر رہے تھے۔
ماں اور باپ کے سامنے ان کے پھول سے بچے موت کی آغوش میں سرک رہ تھے۔ تب کوئی ان کا پرسان حال نہ تھا۔ مری کی انتظامیہ شاید بھنگ پی کر سو رہی تھی۔ جب 23 قیمتی جانیں میٹھی موت کے گھاٹ اتر گئیں تب کہیں جا کر اگلے روز برف صاف کرنے کی گاڑیاں پہنچیں۔ کیا یہ گاڑیاں وہاں پہلے سے موجود نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب نے خود کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ نتھیا گلی کی طرف سے کے پی سے آنے والی گاڑیوں کا داخلہ بروقت بند کیا جا سکتا تھا۔
اگر مری کی انتظامیہ غفلت نہ برتتی اور بروقت مدد کی جاتی تو وہ قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔ اب بات کرتے ہیں اس ظلم کی جو مقامی ہوٹلوں والوں نے غریب سیاحوں پر ڈھا یا۔ ایک ابلا انڈا تین سو تک کا بیچا۔ منرل واٹر کی بوتل جو 60 روپے میں بکتی تھی وہ پانچ سو تک کی بیچی گئی۔ گاڑیوں میں چینز لگانے والوں نے بھی منہ کھول کر پانچ ہزار روپے تک مانگے۔ لوگوں کو ناشتے دو دو ہزار روپے میں بیچے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں بچ جانے والی ایک فیملی اپنے تاثرات بیان کرتی ہے کہ وہ پہلے سے 10 ہزار روپے پر تین دن کے لیے کمرہ بک کروا کر گئے۔
ایک رات گزارنے کے بعد ہوٹل والوں نے کمرہ خالی کرنے کو کہا۔ جب اس شخص نے بتایا کہ میری تو پہلے سے تین دن کی بکنگ ہے تو کہا کہ پھر آج آپ 40 ہزار کرایہ ادا کریں گے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ میں ٹوٹل 60 ہزار کا بجٹ لے کر گیا تھا۔ لہذا ہم واپس آ گئے اور یوں زندہ بچ گئے۔ مری والوں نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسی اندوہناک صورت حال میں بغیر منافع کے اپنے دلوں کے دروازے کھول دینے چاہیے تھے۔
اگر ایسے میں مری والے اپنے ہم وطنوں کو سہولتیں دیتے تو ان کے لیے آنے والے دنوں میں کاروبار دگنا ہی ہونا تھا۔ ایک سوال پرائم منسٹر عمران خان سے بھی ہے کہ آپ تو زمانے کے سیاح ہیں۔ اپنی عید کی چھٹیاں گزارنے بھی نتھیا گلی جاتے ہیں۔ کیا آپ کو اپنے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو نہیں بتانا چاہیے تھا کہ اتنی گاڑیاں آ رہی ہیں تو اس رش کو کنٹرول کرنے کے انتظامات کر رکھے ہیں یا نہیں۔ بعد میں عثمان بزدار کا ہیلی کاپٹر میں چڑھ کر ہوائی جائزہ لینے کا مقصد کیا تھا؟
کیا وہ معصوم لوگ جو گھروں سے سیر کرنے کو نکلے اور ملکی معیشت میں حصہ ڈلا وہ یوں اپنے بچوں سمیت مرنے کو گئے تھے؟ کیا مری کے اسسٹنٹ اور ڈپٹی کمشنر کو معلوم نہیں تھا کہ اتنی گاڑیاں آ رہی ہیں تو راستے صاف کروانے ہیں۔ حکومت پاکستان سے گزارش کے کہ راولپنڈی سے مری تک ٹرین ٹریک بنایا جائے اور مری کے اندر چھوٹی بس شروع کی جائے تاکہ ضرورت سے زائد گاڑیوں کے داخلے کو ممنوع قرار دیا جائے۔ مری کی انتظامیہ کو ہر صورت محفوظ سیاحت کا بندوبست کرنا ہو گا۔
اس وقت پبلک اتنی دلبرداشتہ ہے کہ وہ مری کا مکمل بائیکاٹ کر چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ منافع خوروں کو اور اس اندوہناک واقعہ کے ذمہ داران کو فی الفور کڑی سے کڑی سزا دے۔ مری والوں نے جان بوجھ کر سڑکیں بلاک کیں۔ کمروں کے کرائے چار گنا بڑھا دیے۔ ٹول پلازہ والوں نے لوٹا۔ پوری قوم طیش میں ہے۔ مری کا سب بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن والوں کو سزا دی جائے۔ آخر میں اگر کوئی پھر بھی زندگی کی رعنائیوں سے تنگ ہے اور مرنے کا ارادہ ہے تو مری چلیے۔ مری کے رومان کو بالآخر مری کی انتظامیہ کی نا اہلی لے ڈوبی۔


