ادبی تنقید اور فلسفانہ اصطلاحات کی تاریخ (8)

رفتگان ادب بے مثال تخلیق اور تنقید کو قرطاس کی زینت بنا چکے، اب جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ ”نقل کی نقل“ یعنی قدما کی mimes ہے۔ صاحب
تصنیف کے ہاں شاعری ”نیچر“ کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور ”نیچر“ کے صحیح یا غلط استعمال کی کسوٹی یہ ہے کہ شعرا نے کس حد تک قدما کی تقلید کی ہے۔ بولو کا کلام فرانسیسی جیسی وسیع و وقیع ترین زبان میں آج بھی اپنی عظمت کا شور مچاتا ہے البتہ رندوں کو یہ جرعۂ مے انگریزی زبان میں میسر ہوتا ہے، یہ ادب اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ میسر نہ سہی لیکن بھوکے کے لئے یہی غنیمت۔
یہ منظوم تصنیف چار کینٹوز پر مشتمل ہے جو فن شاعری کی بنیادی سمجھ بوجھ کے لئے تحریر کی گئی ہے۔ انگریزی زبان میں اس کا منظوم ترجمہ 1892 ء میں Yale University کے پروفیسر Albert S۔ Cook نے جن اینڈ کمپنی سے کلاسیکل تنقیدی کی آسان دستیابی کے لئے شائع کروایا۔ پہلے کینٹو کی ابتدا عجلت پسندی سے کام لینے والے شعرا و مصنفین کو احساس دلانے سے ہوتی ہے کہ انھیں اس مقدس فن کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے
” Rash authors ’tis a vain presumptuous crime
To understand the sacred art of Rime; ”
بقول بولو شاعری کے لئے موزوں افراد میں تخلیق کی انفرادیت بھی چھپی ہوتی ہے لیکن ابتدائی انفرادیت پہ داد و تحسین سمیٹنے والے بیشتر شعرا و مصنفین میں خود پسندی اور گھمنڈ کی انفرادیت خور کونپل پھوٹ جاتی ہے جس کے نتائج ہر عہد میں نمایاں ہیں یعنی بہت جلد مشہور ہونے والے شعراء جلد تاریخ ادب سے غائب ہو جاتے ہیں۔ بولو نے اسی امر کی طرف اشارہ کیا ہے
”But author, that themselves too much esteem,
Lose their own genius, and mistake their themes. ”
شاعری یا نثر کا genré کچھ بھی ہو اس پر عقلی قوانین کا اطلاق ضروری ہے۔ عہد حاضر میں بھی جب کہ غیر فطری رجحانات عام و خاص کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں عقلی اور فطری خیالات زیادہ دیر تک ذہنوں میں جگہ بنائے رکھتے ہیں۔ شاعری کو قطعاً فطرت سے جدا نہیں ہونا چاہیے۔
”Whether ’r you write of pleasant or sublime,
Always let sense accompany your rime;
Falsely they seem each other to oppose
Rime must be made with reason ’s law and close, ”
فطرت پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے اکثر اوقات شعرا و مصنفین کی تخلیق میں قدما کی کا رنگ بہت واضح ہوتا ہے جس کے بعد ان کا انفرادی انداز ساکت ہو کر رہ جاتا ہے ایسا انداز/اسلوب حاضرین بزم کی بیزاری کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کرتا۔ کیونکہ ہر دور استفادے سے زیادہ سرقہ کا وزن اٹھانے والے دریائے سخن کی نذر ہو جاتے ہیں اور تیرتے ہوئے فقط وہ ہی دکھائی دیتے ہیں جو سہاروں کے بغیر اس میں کودتے ہیں۔
”A frozen style that neither ebbs nor flow
Instead of pleasing, makes us gape and doze ”
عموماً ہمارے یہاں ایک عجیب رجحان پائے جاتے ہیں جن کی طرف بولو نے صدیوں پہلے اشارہ کر دیا تھا:
کسی اہل زبان یا ماہر زبان کی تقلید میں ثقیل لفاظی والے یا پیچیدہ خیالات والے اشعار/سطریں یاد کیے جاتے ہیں لیکن بولو کہتا ہے شاعری کا انتخاب ایسا کرو جو طبع کو موزوں لگے جن سے جذبات کو تسکین پہنچے۔ اسی طرح وہ اسلوب اختیار کرو جس میں بے ساختگی اور عروضی پختگی موجود ہو ورنہ بناوٹی سنجیدگی کا راز فاش ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
شاعر ہمیشہ رائج الوقت زبان میں شاعری کرے تو دوام نصیب ہوتا ہے کیونکہ مشکل الفاظ کا انتخاب چند بڑے شعراء کی خوشنودی کے بعد کوڑے کا ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کی شاعری عام قارئین کی سمجھ سے بالاتر ہے تو آپ کو از سر نو شاعری پر نظر ڈالنی چاہیے کیونکہ اپنے لئے شاعری کرنا بھی ایک طرح کی مہمل بات ہے :
”Write not what cannot be with ease conceived“
لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شاعری کے کرافٹ میں کسی قسم کا سمجھوتا کیا جائے شاعری سادہ ضرور ہو مگر دلکش پیرہن میں ملبوس ہونی چاہیے جس کا اسلوب عام خیال کو بھی ایسی زینت بخشے کہ پڑھنے یا سننے والا اس کے سحر میں کم از کم ہفتوں تک مبتلا رہے۔
محبت اہل سخن کے ہاں ناگزیر امر ہے کیونکہ شاعری:
”It paints the lover ’s torments and delight
A mistress ’s flattered, threatened and invited ”
اس لئے شاعری کی اسرار و رموز کے علاوہ محبت میں پوشیدہ دکھ کا ادراک بھی شاعر کے لئے ضروری چیز ہے۔
”You must know love as well as poetry“
یہی وہ جذبے ہے جو دہکتے ہوئے جذبات کے لئے اسلوب بھی استوار کرتا ہے دوسری صورت میں بولو کہتا ہے کہ ایسے شاعر اور مصنفین نفرت کے مستحق ہیں جو شدید جذبات کے لئے ”ٹھنڈا طرز بیان“ (بقول ڈاکٹر جمیل جالبی) لے آتے ہیں کیونکہ انھیں عشق سے کوئی سروکار نہیں ہوتا:
”I hate those lukewarm authors, whose force fire
In a cold, describe a hot desire- ”
(انقلابی شاعری کا وقت بھی محدود ہوتا ہے انقلاب کے کامیاب یا ناکام ہونے کے بعد ایسی شاعری زوال کی طرف دوڑتی ہے، اسی طرح سماجی مسائل یا سانحات پر اٹھنے والے قلم بھی خاص وقت کے بعد ذہنوں پر بوجھ بنتے ہیں۔ )
بولو اگر دوسرے کینٹو کا اختتام شعرا و مصنفین کو تلقین کرتے ہوئے کرتا ہے کہ تنقید کے لئے دلوں کو وسعت دیں ”Be patient when they blame“ شہر کا ہر ادبی شخص نکتہ چینی کرتا ہے کیونکہ دنیائے ادب میں بڑی نظموں سے بھی نقائص برآمد ہو سکتے ہیں تو تیسرے کینٹو کا آغاز یوں کرتا ہے کہ خراب چیزوں سے عمدہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بڑے شعراء نے اپنی ہنر مندی سے خراب چیزوں سے عمدہ نقش بنا لیے۔ تخلیق کے وقت مطالعہ سے استفادہ کریں اور ہمیشہ نئی تراکیب برتیں جن کی پڑھت سے یہ تاثر ملے کہ شاعر نے حیرت و استعجاب کا دامن تھامے رکھا ہے، اس فارمولے سے ہر خیال، مصرع اور ترکیف منفرد اور غیر معمولی نکلے گی۔
کردار نگاری میں بہت ساری باتیں قدما سے ملتی جلتی ہیں جو گزشتہ قسطوں میں آپ پڑھ چکے ہوں گے لیکن یہاں ایک بات غیر معمولی ہے اور وہ یہ کہ ”رومانی ہیرو کے پست حالات پیش نہ کرو مگر عظیم دلوں میں انسانی کمزوریوں کی جلوہ گری ضرور دکھاؤ“ (ڈاکٹر جمیل جالبی نے اسے یوں ترجمہ کیا) کیونکہ ہر انسان فطری طور پر خطاؤں سے سیکھتا ہے، اگر ہیرو میں غیر فطری رجحانات دکھائے گئے تو اس کردار میں دلچسپی کم ہوتی جائے گی۔ بولو اسی لئے مذہبی تعصب سے آزاد خیالات کو ترجیح دیتا تھا کیونکہ مذہب کی بنیاد ہی غیر فطری ہے۔
مشاہدہ کی لگن ہی سے مزاح میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مشاہدہ کردار نگاری کے فن میں تخلیق سے زیادہ اہم ہے کیونکہ لکھنے والوں کا مشاہدہ نہ ہو تو ایسی تحریر بھی کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ شاعری کو ہر حال میں یکتا و بے مثال ہونا چاہیے یہ واحد چیز ہے جس میں درمیانی درجہ موجود ہی نہیں۔ شاعری اچھی ہے یا بری۔
تاریخ ادب میں (خواہ جس زبان کی ہو) اساتذہ کو سراہے جانے کی الگ تاریخ موجود ہے لیکن ان اساتذہ کے زیر سایہ بیٹھنے والے طالب علم اکثر اوقات اپنی زمین میں اساتذہ کے عطا کردہ اشعار پر شہرت جاوداں پا لیتے ہیں لیکن اگر ایسے طالب علم اساتذہ کی بزم سے کچھ سیکھ نہیں پاتے تو یہ افراد مجرم ہیں۔ ایسے افراد کی پہچان گفتگو سے کی جا سکتی ہے :
”Let not your only business be to write
Be virtuous, just, and in your friend delight.
Tis not enough your poem be admired
But strive your conversation be desired ”
(کسی بھی سماج کا شاعر ابتدا سے ہی بڑا متجسس رہا ہے یہی سبب ہے کہ وہ صاحب مطالعہ ہوتا ہے اور اپنی تخلیق کے اسرار و رموز سے نابلد نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں عروض پہ مشق کرنے والے اکثر شعرا شعر تو کہتے ہیں لیکن دنیائے ادب میں موجود حیرتوں سے واقف نہیں ہیں بہ ہر حال پاکستان کا ادبی منظر نامہ الگ سے تحریر کا متقاضی ہے )
آخر میں بولو کہتا ہے کہ وہ یہ سب تنقیدی سطریں ادب سے گہری دوستی کی بنا پر لکھ رہا ہے نہ کہ وہ شاعری سے نفع کمانے والے شاعروں کی طرح اپنی پسند ناپسند کا اظہار کر رہا ہے۔

