منٹو کے افسانے ”یزید“ کا ایک جائزہ
جس سعادت حسن منٹو کو دنیا آج عورتوں کے گندے پہلوؤں اجاگر کرنے والے کے نام سے جانتی ہے وہ دراصل ان تمام احساسات سے ماورا تھا جسے ایک عام انسان میں آپ ڈھونڈ سکتے ہیں، یوں تو منٹو نے کافی افسانے لکھیں اور لوگ اس کو پڑھتے رہتے ہیں مگر منٹو ہر افسانے میں الگ ڈھنگ سے آپ کو ملے گا جیسے وہ تھوڑا ممد بھائی بن جاتا ہے، کبھی حنیف بن کر ہندو لڑکی کو دل دے بیٹھتا ہے تو کبھی اس میں شریفن کی جھلک آ جاتی ہے۔ یہ ایک شخص میں کئی خوبیوں یا خامیوں کے مترادف ہو سکتا ہے۔
انسان جو لکھتا ہے وہ پہلے لکھنے کا وجد طاری کرتا ہے یعنی تمام غلاظت یا محبت کرید کر صفحے پر اتارنا یہ وجد کی حالت ہوتی ہے۔ منٹو نے سن سینتالیس کے تضاد میں جتنے افسانے لکھے وہ ہماری تقسیم و تاریخ کا ایک نکتہ یا ایک پہلو سمجھا جا سکتا ہے یعنی تاریخ کی باریک بینی۔ سعادت حسن منٹو کے ہند و مسلم فسادات پر لکھے افسانے، ٹھنڈا گوشت، شریفن، تماشا، آخری سلیوٹ، کھول دو، وہ لڑکی، موذیل، ہرنام کور، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور یزید یہ سب تاریخ کے وہ چھوٹے پہلوں ہیں جو تقسیم ہند میں پیش آئے اور اس میں سعادت حسن منٹو نے جو جیسا ہے اسے ویسے ہی پیش کیا ہے ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم، بے رحم کو بے رحم اور رحم دل کو رحم دل بنا کر پیش کیا ہے۔
یزید، منٹو کا ایک ایسا افسانہ ہے جس کا مین کردار کریم داد کا ہے جو کہ فسادات کو اللہ کی مرضی سمجھ کر نہیں بلکہ وہ تو مقابلہ کرتے ہوئے ملک سے کٹ کر ایک الگ ملک سے جڑا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو کھویا اور اس کی جگہ ایک خوبصورت بیوی کو پایا تھا۔ اس کے برعکس اس کی بیوی جیناں نے اپنی ماں، باپ اور بھائی کو کھویا تھا۔ دونوں فسادات سے رنجیدہ تھے مگر کریم داد رنجیدہ نہیں تھا بلکہ حالات سے لڑتا ہوا اس میں ڈھلنے والا کردار ہے۔
کہانی کے پلاٹ کا پیٹ پنجابی محلات اور رسم و راہ کو پیش کرتی ہے جس میں لڑکا لڑکی کی محبت بھری شادی کو غیر گنجان آباد قرار دے کر غیرت مند بنا جاتا ہے مگر کریم داد بلند ارادوں و سوچ کا مالک ہے جو کہ کسی شے کو بے معنی نہیں سمجھتا اور صرف ایک چھوٹی سی بات سے لڑائی پر نہیں اترتا۔ وہ آنا والے وقت کا مقابلہ کرنے سے خوب واقف ہے کریم داد و جیناں کی دھوم دھام سے شادی ہونے پر فسادات کے خوف ہراس کی لہر تھوڑی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔
جیناں اپنے خاندان کھونے کی وجہ سے کمزور دل ہو جاتی ہے۔ جیناں، کریم داد کو محرم قریب آتے ہی گھوڑے و تعزیے دیکھنے کا ارادہ ظاہر کرتی ہے ادھر جیناں حاملہ ہوتی ہے اور کریم داد اس کے شکم میں موجود اپنے بچے کو گالی دے کر یعنی سور کا بچہ کہہ کر تخاطب کرتا ہے جیناں اس سوچ میں جاتی ہے کہ کریم داد کے سور کا بچہ کہنے میں بھی پیار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اتنے میں یہ خبر عام ہوتی ہے کہ ہندوستان جو کہ پہلے برصغیر کا خطہ تھا وہ اس کے ٹکڑے زدہ دشمن ملک پاکستان کے دریا کا پانی بند رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ادھر جیناں کو موسی دس دن بعد بچہ پیدا ہونے کا اندازہ بتا دیتی ہے۔ پانی بند ہونے پر کافی باتیں یعنی یہیں موضوع ہر جگہ زیر بحث تھا۔ چوہدری نتھو کے گرد لوگ جو کچھ کرنے کا کا ارادہ نہ رکھنے والے اور لیڈروں کو پیٹ بھر کر گالیاں دے کر پیاس بجھانے والے سبھی تقدیر کے غلام اپنا اپنا وبال نکالنے میں محو تھے کچھ لوگ تو اسے خدائی آفت سمجھ کر خدا کی طرف رخ کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے مگر کریم داد نے سمجھانا چاہا کہ تمہیں تو دشمنی کرنے کے طریقے بھی نہیں ہیں دشمنی بھی رکھتے ہو اور چاہتے ہو کہ دشمنی کے قوانین بھی اپنے ہوں کیا بے ضرر سی باتیں چل رہیں تھیں۔
کریم داد نے کہا اگر تم کسی سے دشمنی رکھتے تو اگر تمہارے ہاتھ میں وہ اختیار ہوتے تو تم بھی یہیں کرتے اس لیے اس رونے دھونے سے کچھ فائدہ نہیں۔ اگر کوئی مصیبت آن پڑی تو اس کا حل سوچو نہ کہ پیٹ بھر گالیاں دے کر وبال نکال کر چلتے بنیں۔ کریم داد یہاں سے واپس گھر پہنچتا ہے تو اسے اپنے بچے کی خبر ملتی ہے موسی بولتی ہے اس کا کیا نام رکھنا ہے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کریم داد اس کا نام یزید پکارتا ہے موسی ہکی بکی رہ جاتی ہے جب کریم داد جیناں کے پاس جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نام رکھا ہے کریم داد برملا کہتا ہے یزید۔ پھر کریم داد بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کیا ہوا جو اس کا نام یزید ہو گا اس یزید نے پانی بند کیا تھا یہ پانی کھولے گا۔
یعنی مذہب ان چیزوں میں آن پڑا ہے۔ حالانکہ کہتے ہیں نفرت گناہ سے کروں انسان سے نہیں۔ کریم داد ایک انقلابی کردار ہے جو کہ منٹو کے خون میں تیز لہروں کی طرح دوڑتا دکھائی دیتا ہے وہ آزادی کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ منٹو ماضی و مستقبل کے بارے سوچنے کا بھی روا دار نہیں اور یہیں افسانے کا پہلو ہے وہ موجودہ فعل میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ کریم داد جیسے لوگ معاشرے کا خاصہ ہیں۔ یہ ایک نئے دور کی راہیں ہموار کرتا ہوا بلند ترین کردار ہے۔


