بچے دانی نہ ہو تو لڑکی کا کیا کریں؟


”سنا کچھ تم نے؟“
”کیا؟“
”عشرت کی منجھلی اٹھارہویں میں لگ گئی اور اب تک ماہواری شروع نہیں ہوئی“
”ہائے یہ کیا غضب ہوا؟ کیا وجہ ہوئی آخر؟“
”سنا ہے اس کے جسم میں بچے دانی / رحم ہی نہیں ہے“
”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی لڑکی کا رحم ہی نہ ہو؟ اے بہن وہ تو ہیجڑا ہوئی نا پھر“

”ہیجڑوں جیسی لگتی تو نہیں ہے۔ نازک نین نقش بھی لڑکیوں والے ہیں، آواز بھی مہین سی ہے۔ لڑکی دکھتی ہے بھئی“

”لو اور سنو، ماہواری کے بنا کسی کو عورت کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ہیجڑوں کے یہی تو مسائل ہوتے ہیں، نہ ادھر کے، نہ ادھر کے“

کسی محفل میں یہ گفتگو ہم نے اتفاقاً سن لی جس کی تپش روح تک جا پہنچی اور ہم نے بے اختیار سوچا کہ کیا عورت بچے دانی/ رحم کے بغیر کچھ بھی نہیں؟ اگر عورت کو بچے دانی/ رحم کی میزان میں ہی تول کر اس کی حیثیت کا فیصلہ کرنا ہے تب تو ہر لڑکی کی پیدائش پہ مبارک بھی کچھ یوں دینی چاہیے

”مبارک ہو، آپ کے گھر بچے دانی آئی ہے“

برا مت مانئیے اور شرمائیے بھی نہیں کیونکہ یہی تو ہیں ہمارے معاشرے کی اقدار جہاں پاجامے کے اندر کی دنیا انسان کے مقام کا تعین کرتی ہے۔

ایک سوچ در آتی ہے، اگر بچے دانی/ رحم کا خالق کچھ خام مال زمین پہ بھیج دیتا ہے تو اس کا حساب کتاب اس انسان سے کیوں؟

ہمیں بے اختیار وہ بچی یاد آ گئی جس کی پریشان حال ماں اسے ہسپتال لے کر آئی تھی۔

ڈری سہمی سولہ سترہ سالہ بچی اس سوال کے عذاب سے بارہا گزر چکی تھی کہ اسے ماہواری کیوں نہیں آتی؟ اس کے ساتھ کی سب لڑکیاں ماہواری کے مرحلے سے گزر چکی تھیں۔ سو اس کے لئے مسئلہ کیا تھا آخر؟

بچی کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ بنا کسی جرم کے وہ سزا کاٹ رہی تھی اور نہ جانے کب تک بے شمار سوال و جواب کا نشانہ بننا اس کا مقدر تھا۔

الٹراساؤنڈ کی مشین نے جسم کے اندر کا حال کھول کر بیان کر دیا تھا جس کی تائید ایم آر آئی (MRI) نے بھی کی تھی۔ بچی کے جسم میں بیضہ دانیاں یا اووریز تو موجود تھیں لیکن پیدائشی نقص کے طور پہ بچے دانی یا رحم نہ ہونے کے برابر، بہت ہی چھوٹے حجم کے ساتھ، بس اصل کی بجائے اس کی نشانی ہی سمجھیے۔

بیرونی جنسی اعضا کسی کمی بیشی کے بغیر اپنی اصلی ہیئت میں تھے۔

ہمارے لئے اگلا مرحلہ یہ تھا کہ کروموسومز چیک کروائے جائیں تاکہ گڑبڑ کی بنیاد پتہ چل سکے۔ لیجئیے جناب کروموسومز کا نتیجہ نکلا، 46 XX، یعنی جنیاتی طور پہ عورت!

تصویر اب مکمل ہو چکی تھی۔

ایک عورت جو دیکھنے میں عورت نظر آ رہی ہے۔ ماں باپ کی طرف سے حاصل کردہ کروموسومز بھی ٹھیک ہیں۔ ہارمونز بھی موجود ہیں کہ چھاتی بن چکی ہے۔ لیکن رحم یا بچے دانی غائب یا نہ ہونے کے برابر۔ لیجیے جناب معمہ حل ہو چکا۔ اس صورت حال کو مئیر روکیٹینسکی کسٹر ہاسر سنڈروم کہتے ہیں
(Mayer. Rokitansky. Küster. Hauser Syndrome)

یہ طویل اور مشکل نام ان چار ڈاکٹرز کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اس بیماری کو شروع میں دریافت کیا اور دنیا کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

حمل کے ابتدائی مرحلے میں جب اعضا بن رہے ہوتے ہیں اور جسم یہ تعین کر رہا ہوتا ہے کہ جنیٹک کوڈنگ کے مطابق کیا کچھ بنے گا؟ اس وقت کروموسومز نارمل ہونے کے باوجود متعلقہ جینز میں کچھ ایسا رد و بدل یا میوٹیشن ہوتی ہے کہ رحم اور ویجائنا یا تو بن ہی نہیں پاتے، یا بے حد چھوٹے سائز کے بنتے ہیں۔

ایم آر کے ایچ (MRKH) سنڈروم پانچ ہزار بچیوں میں سے ایک کو ہو سکتا ہے۔ سنڈروم کی علامات میں کافی ورائٹی پائی جاتی ہے لیکن ایک عنصر جو سب میں لازم ہوتا ہے، وہ ہے ماہواری کا نہ آنا۔

ایسی بچیوں کی تشخیص کا مرحلہ بلوغت کے وقت ہی سامنے آتا ہے جب بظاہر نارمل نظر آنے والی لڑکی کو ماہواری شروع نہیں ہوتی اور ماں باپ کے لئے یہ سوال عذاب بن جاتا ہے کہ اب کیا ہو گا؟

اس سوال کی شدت اور اذیت کا مقابلہ کسی بھی اور صورت حال سے نہیں کیا جا سکتا کہ معاشرہ انسان کو انسان اس وقت تک نہیں سمجھتا جب تک صنفی شناخت کی مہر مکمل نہ ہو۔

صنفی شناخت میں کجی ویسی ہی ہے جیسے جام کے بقیہ اعضا میں کوئی کمی بیشی ہو۔ جس طرح معاشرہ لنگڑے پن، لولے پن، اندھا ہونے کو قبول کرتا ہے اسی طرح ماہواری کے نہ آنے یا رحم کی غیر موجودگی کے ساتھ بھی بھرپور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

بس معاشرے کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ ضروری نہیں کہ ہر عورت حاملہ ہو سکے۔ ایسے لوگوں کے لئے جدید سائنس نے بچہ پیدا کرنے کا خواب تو پورا کر دکھایا ہے اگر بیضہ دانی سے انڈا لے کر سروگیٹ عورت کے رحم میں رکھوانا قبول ہو تو۔ اور اگر بچہ نہیں چاہیے تو پھر ویسے ہی ستے خیراں!

مان لیجیے کہ ڈی ایس ڈی Disorders of sexual differentiation کے متعلق آگہی ہر گھر کی ضرورت ہے وہ گھر چاہے چیچو کی ملیاں میں ہو یا ڈیفنس میں۔

Facebook Comments HS