مکلی میں مرگ، میری نظر میں


قبروں، مزاروں اور مقبروں سے جڑی زندگی کے رشتے اور عقیدے فکشن کا روپ ہیں۔ جن کو غافر شہزاد نے ”مکلی میں مرگ“ میں ایک نئے اور منفرد انداز سے پیش کیا ہے۔ انھوں نے ایک ایسی زندگی کو متعارف کروایا ہے جو انسان کو مرنے کے بعد اپنے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کے ذہنوں میں ملتی ہے۔ اس سے انسان کی ایک نئی شناخت قائم ہوتی ہے جس کا تعلق بعض اوقات اس کی حقیقی زندگی سے نہیں ہوتا۔ یوں وہ ایک نئی شناخت کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں میں امر ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی شخصیت کے روحانی پہلو کو مادی مقاصد کی تکمیل کے لیے جس طریق سے استعمال کیا جاتا ہے اس کے بیان میں غافر شہزاد فنی مہارتوں سے کام لیا ہے۔

”مکلی میں مرگ“ نئے انداز فکر کا ناول ہے۔ جو بیک وقت علمی اور تخیلی ہے۔ اسے علمی اور تخیلی اس لیے کہا ہے کہ اس کی بنیاد ایسے سوالوں پر رکھی گئی ہے جو خالص علمیانہ اور فلسفیانہ ہیں لیکن ان کو پیش ایسے کرداروں کے ذریعے کیا گیا ہے جو غیر فطری ہیں۔ خاص طور پر ریڈی صاحب کا کردار جس کے ذریعے ارسلان منصور زندگی اور موت کے کنارے کھڑا دونوں طرف دیکھتا ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں ناول ان بنیادی سوالوں سے جڑ جاتا ہے جو ناول کے ابتدائی حصے میں اٹھائے گئے ہیں۔

ان سوالوں پر ہی ناول کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ ناول نگار نے ان سوالوں کو بڑی ہنری مندی اور چابک دستی سے موضوع میں سمیٹا ہے کہ ان کو ناول کے پلاٹ کی حیثیت مل گئی ہے۔ ناول کی ساخت کی مختلف کڑیاں ان سوالوں کی بدولت آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ ناول جب بھی اپنے ٹریک سے اترنے لگتا ہے تو یہ سوال اس کا گھیراؤ کر لیتے ہیں اور اسے اپنی منزل کی جانب گامزن کرتے ہیں۔

ناول نگار نے ان سوالوں کی بنیاد زندگی اور موت کے فلسفے پر رکھی ہے جس کو ہر عہد کا انسان اپنی سوچ اور فہم کے مطابق سمجھنے کی سعی کرتا رہا ہے۔

ناول نگار ان سوالوں کے کھوج میں ایک لمحے کے لیے اساطیری جہان میں جھانکتا ہے اور مذہب سے ہوتا ہوا سائنس، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے الجھیڑوں کو سلجھانے کے ساتھ جسم، زندگی اور موت کے تعلق کے متعلق اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے لیکن اس کے نقطہ نظر میں تشنگی باقی رہتی ہے جو ناول کو آگے بڑھنے کا جواز مہیا کرتی ہے۔

”زندگی بھر ساتھ رہنے کے بعد ،
موت ان میں جدائی کیوں لے
کر آتی ہے؟ جسم کیوں فنا ہوتا
ہے؟ روح کے حصے میں بقا کیوں
آتی ہے؟ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے
یا یہ بھی ان سوالوں کی طرح کہ
جن کے جواب ابھی تک نہیں مل
سکے، مفروضوں پر قائم کہانی ہے ”۔ (مکلی میں مرگ ص7)

باقاعدہ طور پر ناول کا آغاز مکلی (سندھ کا قدیم قبرستان) میں منعقد ہونے والی ”عالمی تنظیم برائے روایتی عمارات و تعمیر“ کی کانفرنس کے دعوت نامے سے ہوتا ہے جو ارسلان منصور کو ملتا ہے۔ اس دعوت نامے میں کانفرنس کے حوالے سے مکمل معلومات دی ہوتی ہے۔ کانفرنس کے منتظمین میں عرفانہ خان کا نام دیکھ کر ارسلان منصور خوشی ہوتی ہے لیکن آغا کمال کو شامل نہ کرنے پر اسے انتہائی افسوس ہوتا ہے۔ یہاں ناول نگار نے ارسلان منصور کے ذہن میں آغا کمال کو منتظمین میں شامل نہ کرنے کے حوالے سے تجسس پیدا کیا ہے۔

پھر اس تجسس کے تناظر میں کانفرنس کے مقاصد کو مختلف تناظر میں دکھاتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ عالمی تنظیمیں مذہب، ثقافت، کلچر کے فروغ اور جدت کے نام پر ٹیکنالوجی اور اپنی پراڈکٹ سیل کرتی ہیں۔ عام انسان جدت کے پیچھے دوڑتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جدت روایت سے الگ کوئی چیز ہے حالانکہ جدت روایت کا ہی ایک دھارا ہے۔ ناول نگار نے یہ بات ارسلان منصور کے ذہن سے دریافت کرتے ہوئے فن پر اپنی کامل دسترس کا ثبوت دیا ہے۔

”معلوم نہیں کیوں ارسلان منصور
کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ جدت
نہیں، روایت ہے جو تسلسل
سے اپنا سفر جاری رکھتی ہے بلکہ
جو آج جدت ہے وہ آنے والے کل
میں روایت کا حصہ بن جاتی ہے۔
اس جدت میں اگر جان ہو تو آنے
والے وقت میں روایت کے تسلسل
میں کسی نئے دھارے کو جنم دیتی ہے ”۔ (مکلی میں مرگ ص11)

ناول نگار عرفانہ خان اور آغا کمال کے متعلق بات کرتے ہوئے امریکہ اور پاکستان میں ”فن تعمیر“ کی تعلیم میں جو بنیادی فرق ہے اسے اجاگر کرتے ہوئے فن تعمیر کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کو بھی سامنے لاتا ہے

ارسلان منصور ناول کا بنیادی کردار ہے جو کانفرنس کے متعلق کافی شکوک و شبہات کے بعد کانفرنس میں جانے کے لیے صرف اسی وجہ سے تیار ہو جاتا ہے کہ اسے مکلی قبرستان میں موجود صدیوں پرانے مقبرے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ تصوف اور صوفیا سے لگاؤ ارسلان منصور کو والدہ کی طرف سے وراثت میں ملتا ہے اس لیے ارسلان منصور کی مقبروں سے جڑت فطری معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس جڑت کے ذریعے اہل مقابر کی شخصیت کو مقبروں کے تعمیری انداز سے تلاش کرتا ہے۔ جس سے ناول باقاعدہ طور پر مقبروں کی سیاحت کی طرف چل پڑتا ہے۔ ناول نگار مقبروں کی سیاحت کے ساتھ ان کی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور ان کی نئی شناخت کے تناظر میں پوشیدہ کرپشن کا پردہ چاک کرتے ہوئے خوش اسلوبی کو بہت عمدگی سے نبھاتا ہے۔

طارق اسمعیل کا کردار ایک ایسے صحافی کا کردار ہے جو مکلی میں ہونے والی کانفرنس کے پیچھے سرمایہ دارانہ مقاصد، مقبروں کی تاریخ، ان کی از سرنو تعمیر (جو ان کی نئی شناخت قائم کرنے کے لیے کی جاتی ہے ) کے ذریعے مادی مقاصد کے حصول کے طریق سے ارسلان منصور کی راہنمائی کرتا ہے۔ دراصل ارسلان منصور طارق اسمعیل کی عینک سے دیکھتا ہے اور طارق اسمعیل اپنی صحافتی سٹوری بابا مستان کی دی گئی معلومات سے ترتیب دیتا ہے۔ یوں ناول نگار کو ان کرداروں کو ایک تسلسل کے ساتھ برتنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔

ارسلان منصور کے کردار میں جو کمزوری راہ پا گئی ہے اسے ناول نگار طارق اسمعیل اور بابا مستان کے کردار کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بابا مستان کا کردار ایک معمہ ہے۔ جس کی پر اسراریت طارق اسمعیل کو متجسس کیے رکھتی ہے۔ طارق اسمعیل بابا مستان کی اسراریت کو کریدنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ بابا مستان اسے بڑی مہارت سے اپنے مقاصد کے لیے اسے استعمال کرتا ہے۔ جس کا اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔

”اس کے دل میں کہیں یہ شدید
احساس تھا کہ وہ استعمال ہوا ہے
اور مہارت سے اسے استعمال کیا
گیا ہے کہ اسے معلوم بھی نہیں ہو
سکا ”۔ (مکلی میں مرگ)

ارسلان منصور، طارق اسمعیل اور بابا مستان ایسے کردار ہے جو صوفیا کے مقبروں سے جڑے ہوئے ہیں یا یوں سمجھ لیجیے کہ ان کے بیشتر مقاصد ان کو صوفیا کے مقبروں سے جوڑے رکھتے ہیں۔ جس سے ان کے مزاج میں ہم آہنگی آجاتی ہے۔ جس وجہ سے ان کرداروں کو ایک تسلسل کے ساتھ برتنا فطری معلوم ہوتا ہے۔ ناول نگار نے ان کی تخلیق میں موضوع کی مناسبت کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ جس سے ناول میں جان سی آ گئی ہے۔

ارسلان منصور ایک ایسے کردار کے روپ میں سامنے آتا ہے جس کو اپنے سفر کی سمت کا تو اندازہ ہے لیکن سفر کیسا شروع کرنا ہے اس کا اسے خاطر خواہ علم نہیں۔ اور نہ ہی ناول اس کی بدولت کوئی نئی کروٹ لیتا ہے۔ ناول نگار نے اسے زیرو پوائنٹ پر رکھا ہے تاکہ دیگر کرداروں کو اس کے ساتھ رکھنے کا جواز مل سکے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا قرینہ نظر نہیں آتا جس کے تحت ناول کو آگے چلایا جاتا۔ یہ ناول نگار کی خامی نہیں بلکہ خوبی ہے کیونکہ بنیادی کردار کو زیرو پوائنٹ پر رکھ کر ناول کو منزل مقصود تک پہنچانا انتہائی مشکل امر ہے۔ ناول نگار نے ارسلان منصور کا خاندانی پس منظر بیان کرتے وقت معاصریت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستانی معاشرے کے غیر تخلیقی رویوں، مذہبی اور سیاسی جنونیت کی طرف بڑے سلیقے سے اشارہ کیا ہے

”پاکستانی معاشرہ اس نہج پر
آ گیا تھا کہ ان کا تخلیقی وجود
برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں
تھا۔ یہ وہ دن تھے جب مذہبی
جماعتیں تعلیمی اداروں میں
گھس آئی تھیں۔ طلبہ تنظیمیں
مذہبی، سیاسی وابستگی کی
بنیاد پر بنائی جانے لگی تھیں ”۔ (مکلی میں مرگ)

ناول نگار نے ارسلان منصور کے والد کے ذریعے اپنا ادبی نقطہ نظر یہ کہ کر واضح کیا ہے کہ ادب پارے کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئے سیاسی اور سماجی تناظر میں اپنے ڈائیلاگ کے معنا بدل دے۔ پھر اس نے اس بات کو وقت کے ساتھ مقبروں کی بدلتی شناخت پر منطبق کر کے وقت کے بدلتے تناظر میں بدلتا ہوا دکھایا ہے۔ اس طرح علمی، فکری اور حقیقی مغالطہ خود ساختہ سچائی بن جاتا ہے۔

ناول نگار نے بڑی عمدگی سے ارسلان منصور کی ذہنی وسعت کو بڑھا کر کچھ نئے سوالوں کو جنم دیا ہے جو اسے آغا کمال سے ملاقات کا اشتیاق بڑھاتے ہیں۔ جس وجہ سے ارسلان منصور آغا کمال کے متعلق جاننا چاہتا ہے۔ آفتاب علی آغا کمال کا معاصر ہے۔ اس سے ارسلان منصور اس کے دفتر میں مل چکا ہے لیکن وہ اس سے آغا کمال کے متعلق رائے اس لیے نہیں لیتا کہ ان دونوں کے درمیان معاصرانہ چشمک ہے۔ کہیں آفتاب علی کی رائے تعصب پر مبنی نہ ہو۔ اس لمحے مجھے ناول نگار بے بس دکھائی دیا ہے لیکن بہت جلد وہ اس صورت حال پر یہ کہہ کر قابو پا لیتا ہے کہ

”البتہ آرکیٹیکٹ آغا کمال کے
بارے میں ناول نگار بخوبی
آگاہ ہے، اپنے کرداروں کے بارے
ہر طرح کی معلومات رکھنا
اس کے لیے لازم ہے۔ وہ اب
یہاں اپنے کردار ارسلان منصور
کی مدد کرنا چاہتا ہے کہ اس کے
بغیر اور کوئی راستہ نہیں ”۔ (مکلی میں مرگ)

ناول نگار کے اس انداز پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کردار کی انگلی پکڑ کے اسے خود منزل تک لے کر جانا مناسب نہیں لیکن ناول نگار کے ایسا کرنے سے ناول کی ساخت میں کسی قسم کا خلل اور کرختگی پیدا نہیں ہوتی اس لیے اس کے اس انداز کو قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

صائمہ علی کا کردار دلچسپ تو ہے لیکن اس کی جڑت ناول میں وہ نہیں جو ہونی چاہیے۔ ناول نگار نے اس کردار کے ذریعے لاہور کے صوفیوں خاص طور پر حضرت علی بن عثمان ہجویری اور بی بی پاک دامن کے مقبروں کی تاریخ اور ان کی تعمیر متعلق بڑی مفید باتیں معلوم کی ہیں۔

ناول کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ مقبروں کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، ان سے جڑی زندگی کے رشتوں اور عقیدوں اور کرپشن کی روداد کو بڑی خوب صورتی سے بیان کرتا ہے لیکن پلاٹ کی بنت میں کچھ دراڑیں ہیں۔ جن کو پر نہ کرنے میں ہی ناول نگار نے عافیت جانی ہے۔ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ناول میں زندگی کا انداز وہ نہیں جو اکثر ناولوں میں ہوتا ہے۔ اس میں تو زندگی اور موت کا سنگم ہے جو ٹوٹتا ہے اور جڑتا رہتا ہے۔ یہی اس کا خاصا ہے۔ اپنے مطالعے سے انصاف برتتے ہوئے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ ناول الگ طرز کا ہے اسے اس کے تناظر میں رکھ کر ہی پرکھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS