قندیل بلوچ کا عالم ارواح سے ماں کے نام نوحہ
ماں آخر کار قندیل بجھ گئی ایک مرتبہ پھر زندگی سے بھرپور لڑکی کی روح بھی دیگر سینکڑوں لڑکیوں کی طرح بیدردی سے قتل کر دی گئی۔ تم نے صلح کر کے اپنی ہی کوکھ جائی کا سودا کر دیا۔ کیا غیرت اتنی سستی ہے کہ اس کے لئے زندگیاں مقتول بنا دی جائیں مگر قاتل زندہ و سلامت باعزت بری ہوتے رہیں۔ ماں برسوں بعد ہم لڑکیوں کے لئے بدلا ہی کیا ہے؟ ماں تم تو وہاں موجود تھیں جب مجھے قتل کیا جا رہا تھا میرے لاڈلے قاتل بھائی نے اعتراف بھی کیا پھر بھی تم نے ایک مقتول بیٹی پر قاتل بیٹے کو ترجیح دی۔
اپنے جگر گوشے کو بچانے کی برسوں کی کوششوں کو کامیاب بنایا مگر اپنی لاڈلی کا خون رائیگاں جانے دیا۔ آج بھی بیٹی کا دھتکار کر بیٹے کو سینے سے لگایا میں اپنے قاتل کو سینے سے لگانا چاہتی ہوں کیونکہ تم کہتی ہو وہ تمہارا سہارا ہے۔ ماں تم جانتی ہو اپنی بیٹی کو جس نے ہر اچھے برے وقت میں کبھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ہمیشہ تمہاری اور اپنے قاتل بھائی کی کفیل رہی ہوں۔ یہاں تک کہ میرے نام پر تمہیں ملنے والی امداد سے میں اپنے قتل کے بعد تمہاری اور اپنے قاتل کی آج تک پرورش کر رہی ہوں۔
میرا قاتل جیل میں میرے نام پر ملے والی امداد سے کپڑے پہنتا ہے، کھاتا ہے یہاں تک کہ عید کے تہوار پہ بھی اسے انتظار رہتا ہے کہ قندیل کی رقم سے اس کے لئے نیا جوڑا اور عید کا سامان آئے گا۔ اس ملاقات کے لئے دی جانے والی رشوت بھی میرا گوشت نوچ کر دی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے رہائی کے بعد نشہ اور سگریٹ بھی مجھ سے لے کر پیئے گا۔ میں کیسی بد نصیب مقتولہ ہوں جس کے قاتل کا انحصار اس پر بدستور موجود ہے۔ پر قاتل کو میرے قتل سے پہلے اور بعد میں کبھی غیرت نہیں آئی کہ وہ میری آمدنی خود پر خرچ کرنے سے انکار کر سکتا۔
میرے باقی بھائی بھی میرے نام پر ملنے والی امداد کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ قندیل نے ان کی عزت خراب کی تھی۔ ماں تم نے تو قاتل کو معافی دے دی عدالت نے بھی اسے بری کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔ تاہم خدا اور میری عدالت سے تم سمیت میرے قاتل کو رہائی کیسے ملے گی۔ میرا قاتل بھائی وسیم میرے بنائے گھر میں رہے گا میری امداد سے زندگی آگے بڑھائے گا تو کیا اس وقت کوئی اسے طعنے نہیں دے گا۔ تمہاری فوزیہ عظیم کا قصور صرف غربت اور پسماندگی سے نکل کر اپنے لئے جینے کی کوشش کرنا تھا جس کی پاداشت میں اس فوزیہ عظیم نے قندیل بلوچ بننے کے سفر کا آغاز کیا جس کا قدم قدم پرخار تھا جس پر چلتے ہوئے روح اور جسم دونوں چھلنی ہوئے مگر حوصلہ نہیں ٹوٹا۔
میرے قاتل نے تو 2016 میں مجھے مارا میں تو حقیقت میں اس وقت مر گئی تھی جس آٹھویں کلاس میں مجھے محبت کے نام پر پامال کیا گیا اور میں اپنوں کے ہوتے ہوئے دارلامان ملتان پناہ گزیں ہو گئی تھی۔ پھر وہاں سے نکل کر جب بس ہوسٹس بنی تو اس دور میں ایسی نوکری کرنا کتنا بڑا جرم تھا یہ میں ہی جانتی تھی ہر شخص کے لئے مال مفت تھیں ہم لڑکیاں۔ بس کی نوکری کرتے ہوئے میں قندیل بلوچ بن چکی تھی۔ ایسے میں مجھے شوق چرایا کہ میں گلوکاری کر کے نام بناؤں تو اس کے لئے میں ملتان کے مختلف اخبارات کے دفاتر جاتی تھی کہ کوئی انٹرویو کرے مجھے صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملے مگر وہاں بھی سوائے مذاق کے میں کچھ نہ بن سکی۔
میرا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ مجھے دفتری اوقات کار کے بعد بلایا جاتا رہا تھا۔ آٹھویں سے شروع ہونے والی استحصالی، ہراسانی بدستور جاری رہی۔ 2007 میں موقع ملا تو پاکستان سے باہر چلی گئی۔ جس کے بعد سے ہمارے مالی حالات بدلے۔ ہمارا آشیانہ بنا بہن و بھائیوں کی زندگی میں پیسا آیا جو بے دریغ خرچ کیا گیا کبھی کسی بھائی نے اس پیسے کے سامنے غیرت کو آڑے نہیں آنے دیا۔ اس سارے سفر میں مجھ پہ جو بیتی وہ مجھ تک ہی رہی۔ جب تپتی دھوپ چھایا بننے لگی میری شہرت کی خواہش حقیقت بننے لگی۔
جب مجھے خود کو پامال کرنے والے اپنا مذاق اڑانے والوں کو جواب دینا آیا تو میرا وہ چھوٹا بھائی جیسے پیدا ہونے کے بعد میں گودوں کھلاتی رہی بہلاتی رہی اس نے میرے ہی خون سے اپنے ہاتھ رنگ لیے کوئی اسے روکنے والا نہیں تھا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ جولائی 2016 کی اس رات ماں تم بھی تو موجود تھیں۔ تم میرے قاتل کو کیسے معاف کر سکتی ہوں کہ میری موت بھی مجھ جیسی غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سینکڑوں عورتوں کے لئے قانون سازی کا ذریعہ بنی۔
اسی صلح نامے کے خوف سے میرے جیسی قتل ہونے والیوں کے مقدمات کا مدعی ریاست نے بننے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر دیکھو تو تم جیسی ماں اور باپ کی وجہ سے ریاست اس پر بھی عمل نہیں کر پا رہی ہے کہہ انصاف آج بھی قاتل کا مددگار ہے۔ ماں مجھے اپنا قتل ہی نہیں اس فیصلہ اور راضی نامہ کے بعد مجھے جنوبی پنجاب میں غیرت کے نام پر نشانہ بنائی گئی اعلٰی تعلیم یافتہ افشین مسرت، ڈاکٹر شازیہ سمیت وہ بچی بھی یاد آ رہی ہے جس کے روٹی تاخیر سے بنانے پر بھائی نے غیرت کا نام دے قتل کر دیا تھا اور وہاڑی میں یونیورسٹی کی وہ طالبہ جسے کلاس فیلو فحش پیغامات موبائل پر بھیجتا تھا اور اساتذہ نے بھی اس کی شکایت کا نوٹس نہیں لیا اور بھائی نے مدد کی بجائے اسے ہی قتل کر ڈالا اور وہ کلاس فیلو آج بھی کسی اور کو نشانہ بناتا ہو گا۔ قانون کی موجودگی اور نفاذ کے باوجود ہم سب غیرت کے نام پر بے غیرتی کی نذر ہونے والی گناہ گار عورتیں اور بچیاں یاد آ رہی ہیں جو عالم ارواح میں برسوں بعد بھی قاتلوں کو بے نقاب کرنے اور انصاف کی منتظر ہیں۔ جو ہونے میں نہیں آ رہا ہے اور قبرستان بھرتے جا رہے ہیں۔

