مردہ بہن کا گوشت کھانے والے

قندیل کے غیرت کے نام پر قتل کو ہوا کس نے دی؟ اس کے قتل پر بھڑکانے والا وہ میڈیا تھا جو اس کے گاؤں پہنچا، جس میڈیا نے ایک دن اس کے ساتھ گزار کر اس کی شاندار زندگی دنیا اور اس کے گاؤں والوں کو دکھائی جو اس کے بھائی کی یونٹ والوں نے دیکھی۔ جنہوں نے دنیا والوں کو چیخ کر بتایا کہ فوزیہ کہاں ہوتی ہے اور کیا کرتی ہے۔ اس کے بھائی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ اس کی بہن کیا کرتی تھی کیونکہ اس کی بہن نے گھر کا خرچہ اٹھا رکھا تھا، چھوٹے بھائی کو اسی کمائی سے موبائل کی دکان ڈال کر دی تھی، ماں باپ کو گھر بنوا کر دیا تھا، ان کا علاج معالجہ خود کرواتی تھی۔
پھر میڈیا نے اس کے سابقہ شوہر اور معصوم بچے کی خبریں دنیا کو دکھائیں، اس کا فارم ہاؤس میں شوٹ کیا، تب ہی اس کے قتل کا منصوبہ بنا کر تھالی میں پیش کیا گیا تھا۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ کس فخر سے ایک نیوز چینل پر یہ رپورٹ چلائی جا رہی تھی کہ ”قندیل بلوچ کی اصلیت سامنے آ گئی۔ اس کا اصل نام قندیل نہیں فوزیہ ہے۔“ یہ ایسے بتایا جا رہا تھا جیسے وہ ملکی سلامتی کی بات ہو۔ اس کے سابقہ شوہر کا انٹرویو ایسے چلایا گیا جیسے قندیل بلوچ کوئی مجرم تھی جس کے ہاتھوں کسی کی زندگی اجڑی ہو اور ورثاء کا ماتم کیے جانا جائز ہو۔ اس کے سابقہ شوہر نے کس فخر سے اس پر لعن طعن کی جیسے وہ حق رکھتا ہو۔
سابقہ شوہر سے امید بھی کیا کی جا سکتی تھی، سو اس نے وہی کیا جو اس جیسے کسی بھی انسان کا ظرف ہوتا ہے۔ یہ بات بار بار دہرائی گئی کہ وہ تو فوزیہ ہے، یہ بھی کس بدتمیزی سے بتایا گیا کہ تو ”بھی نہیں“ کیونکہ بلوچ اس کا شوہر تھا، جیسے وہ اس کے نام کی توہین کر رہی تھی۔ اس کا شناختی کارڈ دکھایا گیا کہ دنیا کو اس کی اصلیت معلوم ہو؟
قندیل بلوچ کا ایسا تھا کیا جو اس نے دنیا سے چھپا کر رکھا تھا؟ ہاں مگر اس کے قتل میں اس کی ماں کا جنا ہوا وسیم ہی قاتل نہیں، وہ سب لوگ بھی قاتل ہیں جنہوں نے بڑھ چڑھ کر اس کے راز صرف اس لئے کھولنے کی کوشش کی کہ چند ہزار ویوز حاصل ہوں گے، چینلز کی ریٹنگ بڑھے گی اور بہت سے روپے کما لئے جائیں گے۔
آج صرف چھ سال بعد اس کے قتل میں براہ راست ملوث ایک قاتل وسیم رہا بھی ہو گیا ہے، بقیہ تو سب آزاد تھے۔ اس کو اس ملک کی عدالت نے نہیں، اس کے اپنے پیدا کرنے والوں نے رہا کروایا ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹیوں کا قتل اس ملک کی ریاست کے لئے اہم نہیں ہے، بس کوئی بھی بہن یا بیٹی کو قتل کرنے کی اتنی آزادی رکھتا ہے کہ چند سال بعد معاف کیا جا سکے۔ قتل کو ریاست کا نہیں گھریلو مسئلہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ کبھی ماں، باپ، یا بیوی معاف کردے اور ہاتھوں سے عورت کی قبر کی مٹی کو جھٹک دیا جائے۔
جب یہ غیرت کے قتل والے عدالتوں سے گھر والوں کی معافی پر رہا ہو کر گھر آتے ہیں تو ان کا ضمیر ان کو ملامت کرتا ہے نہ معاشرہ۔ یہ لوگ اسی مردانہ شان و شوکت سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ بیٹی کا ہی تو قاتل ہوتا ہے یا بہن کا۔ ان عورتوں کی اس دنیا میں حیثیت ہی کیا ہے؟
رتی برابر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ مقتولہ کے والدین نے قاتل کو اس لئے معاف کیا ہے کہ قاتل کو انہوں نے ہی جنا تھا۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو بیٹیوں کو فخر سے مارتا ہے، جو گلہ نہیں کاٹتے وہ اس کی جیتے جی زندگی کی ڈور کاٹ دیتے ہیں کہ وہ جیتے جی مر جائے مگر زندہ رہے۔ وہ زندہ نعش ضرور بن کر رہے مگر رہے۔ وہ جئے یا مرے، جس کی شادی پر اس کے اگلے گھر ہی سہی مگر جنازے کے اٹھنے کی باتیں ہوں، یہ وہ جگہ ہے جہاں ہاتھ سے پکڑ جب بیٹی کو جس گھر سے نکالا جائے، اس کے پیارے اس کو ہاتھ سے دوبارہ پکڑ کر اسی گھر چھوڑ آتے ہیں جہاں سے وہ رسوا ہو کر نکلی ہو۔
یہ عورت کی وہ مقتل گاہ ہے جہاں بیٹیوں کو اس لئے مار دیا جاتا ہے کہ وہ خوش ہوں، وہ خوش رہنا چاہتی ہوں یا صرف اس لئے کہ وہ بیٹیاں ہوں۔ یہ سب انہی روایات کے امین ہیں جہاں بیٹوں کے قتل پر نسلوں تک دشمنیاں چلتی ہیں اور بیٹیوں کے قاتلوں کو خدا خوفی میں معاف کر دیا جاتا ہے۔ جہاں عورت کے قتل کی دیت بھی آدھی ہے کہ وہ عورت ہے۔ یہاں بیٹیوں کے قاتلوں کے ساتھ اگلی بیٹی کو بیاہ دیا جاتا ہے۔ یہ وہی عظیم اقدار ہیں جن کی بدولت حصہ مانگنے کی پاداش میں بیٹی کو معاف تو نہیں کیا جاتا مگر بیٹی کے قاتل بیٹے کو ضرور معاف کر دیا جاتا ہے۔ یہاں بیٹیوں کی عصمت پر ہاتھ ڈالنے والے بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کے جرائم سے آنکھ چرائی جاتی ہے، یہ ایسا معاشرہ ہے۔
کیسی عجیب مگر قابل فہم بات ہے نا، قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر مار دیا گیا، پھر اس کے قاتل نے پانچ سال بھی ٹھیک قید میں نہیں گزارے۔ حیرت نہیں کہ جس ملک کا صرف قانون سخت ہے کہ راہ چلتے چھیڑ دینے اور ہراساں کرنے پر زیادہ سے زیادہ دس برس کی سزا ہو، اس ملک میں قتل کے مقدمے میں قاتل پانچ برس میں بری ہو گیا ہے۔ قندیل نہیں رہی، اس کا بھائی جو قاتل ہے وہ آج بھی موجود ہے، آزاد ہے۔ بوڑھے ماں باپ کی واحد سہارا بیٹی نہیں تو کیا ہوا، بیٹا تو ہے۔ آج قندیل کا غالباً مال و دولت اس کے قاتل کا ہے، اس کے قاتل کو معاف کرنے والوں کا ہے بس قندیل نہیں ہے۔
آج نور اور عینی نہیں ہیں مگر ظاہر اور عمر ابھی بھی ہیں اور وہ بھی رہیں گے۔ قندیل نہیں ہے مگر وسیم ہے اور آزاد ہے۔ اس ملک کی لاکھوں عینی، نور، اور قندیلیں نہیں ہیں مگر لاکھوں ظاہر، عمر، اور وسیم ضرور ہیں اور آزاد ہیں۔ جب ہی یہ ملک بھی ایسا ہے، اس کا دنیا میں نام بھی ایسا ہے، اور یہ معاشرہ بھی ایسا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ دنیا میں ہماری عزت نہیں، وقار نہیں اور طاقت نہیں۔
یہ کیوں نہیں کہتے کہ غیرت کے نام پر قتل بالکل ایسا ہے کہ جیسے عورت کا گوشت کھایا جائے۔ پتہ ہے کہ یہ معاشرہ کن کا ہے؟ مردہ بہنوں، بیویوں، اور بیٹیوں کا گوشت کھانے والوں کا ہے۔ مردہ عورت کا اتنا گوشت کھا چکے ہیں مگر پیٹ اور نیت بھر نہیں رہی، مردہ گوشت ہے کہ کھاتے تھکتے نہیں۔ جانوروں کا گوشت پکوا کر کھاتے ہیں مگر بہنوں اور بیٹیوں کو زندہ نوچ کر کھاتے ہیں۔ جانور کا گوشت تازہ کھانا پسند کرتے ہیں مگر عورت کا مردہ گوشت بھی شوق سے کھا جاتے ہیں۔ اپنی خود ساختہ غیرت قتل نہیں کرتے مگر عورت قتل کر دیتے ہیں۔

