جدید دور کی غلامی


لفظ غلامی کو عام طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک متروک شکل کے طور پر سمجھا جاتا ہے جسے 1948 میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (UDHR) کے ذریعہ ختم کر دیا گیا ہے۔ ترقی یافتہ دور میں اس کے خاتمے کے باوجود بھی غلامی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ اگرچہ غلامی کے بارے میں زیادہ تر علمی ادب قبل از گلوبلائزیشن مرتب کیا گیا ہے اور اسکالرز نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے دوران موجود ثقافتی، سماجی اقتصادی، اور قانونی فریم ورک کے تقاضوں کے مطابق غلامی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے مگر اس لئے جدید غلامی کی تعریف ابھی تک مبہم ہے۔

غلامی کا اصل مفہوم سمجھانے کے لیے زمانہ قدیم میں رائج غلامی کے تصور سے مثال اخذ کرنا زیادہ مفید اور آسان رہے گا۔ زمانہ قدیم میں غلام ہمہ جہت، ہر لحظہ، ہر گھڑی اپنے مالک یا آقا کا مطیع فرمان رہنے کا پابند ہوا کرتا تھا۔ مالک یا آقا کو اپنے غلام کی جان پر بھی حق حاصل ہوتا تھا۔ لہٰذا تاریخ میں ایسی کئی نظیریں ملتی ہیں کہ جب مالک نے اپنے غلام کو انگاروں پر بھی لٹایا، تپتی ریت پر لٹا کر اوپر پتھر رکھا اور کسی جنگ میں اپنی جان کے متبادل کے طور پر اپنے غلام کو بھیجا۔ تاریخ گواہ ہے کہ غالب طبقے نے مغلوب طبقے سے ہمیشہ غلامی ہی کا تقاضا کیا ہے۔ اور غلامی بھی ایسی کہ جس میں طاقتور کا فائدہ اور مغلوب کا استحصال ہی ہوا ہے۔ کمزور غلامی کے اس طوق کو گلے میں ڈالنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ غلامی کے اس تصور میں کمزور غلام خود کو کامل اطاعت پر مجبور پاتا ہے۔

مگر آج کی غلامی ایک انسان کو پرانے ادوار کی طرز پر غلام بنا کر رکھنے کا نام نہیں ہے اگرچہ وہ غلام غلام نظر آتا تھا مگر آج کا غلام نظر آزاد آتا ہے مگر اس کی زندگی اس دور کے غلام سے زیادہ فرسودہ ہے غلامی عالمی دنیا میں مختلف شکلوں اور سیاق و سباق میں برقرار ہے۔

انسان کی جبلت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ طاقت کے حصول کے لئے دوسرے انسان کا استحصال کرتا چلا آیا ہے۔ جو معاشرے آج انسان حقوق کے علمبردار ہیں وہاں پر بھی غلامی کسی نہ کسی صورت میں رائج رہی ہے۔ یہ بات شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں کہ دارالحکومت واشنگٹن کی تعمیر میں اصل کام سیاہ فام غلاموں سے لیا گیا۔ آج سیاہ فام آبادی کے لئے غالباً اس شہر کی سب سے اہم یادگار ملک کے سولہویں صدر ابراہم لنکن کے نام سے منسوب `لنکن میموریل ’ہے۔ انہوں نے ہی ایک سو چالیس برس پہلے امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کی غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ آج غلامی مختلف انواع میں پائی جاتی ہے مثال کے طور پر جبری شادی، خواتین اور بچوں کا اغوا اور ان سے جبری مشقت، قرضہ کے عوض غلامی جسے ہم بانڈڈ لیبر کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اگرچہ جدید غلامی  کا رجحان صرف پاکستان میں موجود نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر ملک میں اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مگر پاکستان میں بانڈڈ لیبر کافی حد تک بڑھ رہی ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں سب سے پہلی وجہ آبادی میں اضافہ اور کاروبار میں نشو و نماء اور ترقی کا تناسب ہے۔  گلوبل سلیوری انڈیکس کے مطابق پاکستان کی آبادی کا ایک تخمینہ تناسب یعنی ( 16.82 / 1000 ) جدید غلامی میں جی رہا ہے اور ( 74.12 / 100 ) پاکستان میں جدید غلامی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں 360,000 سے زیادہ مزدور بانڈڈ لیبر کے طور پر رکھے گئے ہیں۔ دوسرا، پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.40 فیصد ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کی شرح نمو 1.0۔ 1.5 فیصد ہے۔ اگر آبادی میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو 2050 میں 220 ملین نوجوان جاب مارکیٹ میں شامل ہوں گے۔ دوسری طرف، پاکستان میں صنعتی ترقی 5 % ہے جو کہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم ترقی ہے [مثال کے طور پر، (بھارت، 7.50 %) ، (بنگلہ دیش، 8.60 %) اور (سری لنکا، 5.40 %) ]۔

جیسے جیسے صنعتی پیداوار اور ترقی میں کمی آئے گی، ویسے ویسے لیبر کی طلب میں کمی کا امکان ہے لیکن پاکستان میں مزدوروں کی سپلائی میں مسلسل 2.40 % اضافہ ہو رہا ہے۔ جب حد تک، لیبر کی سپلائی بڑھتی جاتی ہے اور طلب میں کمی آتی ہے، ایک تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان بانڈڈ لیبر کے لیے زرخیز زمین کے طور پر سامنے آتا جائے گا۔ تیسرا، پاکستان کو دنیا کا پانچواں سب سے بڑا نوجوان آبادی والا ملک سمجھا جاتا ہے۔

تقریباً 65 فیصد آبادی 15 سے 33 سال کے درمیان نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں تاریخ میں سے سب سے زیادہ نوجوان اب اس وقت موجود ہیں، اور کم از کم 2050 تک اس میں اضافہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دوسری طرف، پاکستان کو بے روزگاری کے مسئلے کا سامنا ہے یعنی 6.9 %/سالانہ بے روزگاری کی شرح ہے جو کہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جیسے جیسے بے روزگاری کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ویسے ویسے پاکستان میں لوگوں میں بانڈڈ لیبر ، کے رجحانات بڑھتے جائیں گے۔

چوتھا، ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان میں مالیات تک رسائی کا تناسب 21.29 % ہے جو کہ جنوبی ایشیا میں بھی سب سے کم ہے [مثال کے طور پر، (بھارت، 79.88 %) ، (بنگلہ دیش، 50.05 %) اور (سری لنکا، 73.65 %) ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادی کا صرف پانچواں حصہ مالیاتی خدمات حاصل کر رہا ہے جس سے پاکستان میں نوجوان طبقے کی کم سے کم با اختیاریت میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور مالی مدد حاصل کرنے کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، افراد کے پاس اپنی ضروریات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مالیات حاصل کرنے کے لیے صرف محدود انتخاب ہوتے ہیں۔ رسمی مالیاتی شعبے تک رسائی کم، جاگیرداروں اور صنعت کاروں سے انتہائی سخت شرائط پر مالیات حاصل کرنے کا زیادہ امکان ہوتا جاتا ہے۔

اس جدید غلامی کی لعنت جسے ہم بانڈڈ لیبر کہتے ہیں ان علاقوں میں نمایاں ہے جہاں پر جاگیرداری اور سجادہ نشینی کا نظام بہت مضبوط ہے اور زمین کی تقسیم مساویانہ نہیں ہے ان مزدوروں کے ساتھ امتیازی سلوک اپنایا جاتا ہے انہیں ان کی ذات، مذہبی وابستگی اور نسل کی وجہ سے قرض کی غلامی کے معاہدے سے پہلے ہی کمتر انسان سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ نسل در نسل ہاری اور معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں، اور انہیں اپنے معیار کو بلند کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جاتا ہے۔

ان کے پاس قرض کی غلامی کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ یہ پسماندہ گروہ اپنے قرضوں کی غلامی کی وجہ سے تناؤ اور افسردگی کی زندگی بسر کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ غربت اور خاندانی قرضوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ہر قسم کی غلامانہ لیبر پر پابندی لگائی ہوئی ہے مگر انہیں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے جیسے کہ کم اجرت، کام کے اضافی اوقات، کوئی سالانہ چھٹی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور زبانی بدسلوکی، اور بچوں اور خواتین کے ساتھ جبری جنسی تعلقات وغیرہ وغیرہ۔

صرف اور صرف قوانین پاس کرنا یا ان پر عمل درآمد کروانا ہی نہیں کافی ہوتا اس طرح کی غیراخلاقی افعال پر قابو پانے کے لئے۔ اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسی ماہ اپنے فیصلے میں اس بات کی وضاحت کردی ہے مزدور پیشگی رقم کی واپسی کا پابند نہیں ہے کیونکہ یہ عمل ہی غیر قانونی ہے عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ایک آگاہی مہم چلائیں جس میں بتایا جائے کہ مزدور اپنی مرضی کے بغیر بھٹہ پر کام کرنے کے پابند نہیں ہیں اور وہ اپنی مرضی سے نوکری بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

جیسا کہ لاطینی محاورہ ہے کہ ”اخلاقیات کے بغیر قوانین بیکار ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر بھٹے پر کام کرتے ہیں ان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے بچوں کی تعلیم کا مناسب بندوبست نہ ہونا ہے کیونکہ انہیں تعلیم کا موقع نہیں ملتا۔ پنجاب میں اس سلسلے میں ان کے لئے سپیشل تعلیم کا بندوبست کیا جاتا تھا اور امداد بھی فراہم کی جاتی تھی کیونکہ سب سے زیادہ بانڈڈ لیبر پنجاب میں پائی جاتی ہے مگر موجودہ حکومت نے یہ فنڈز بند کر دیے ہیں صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں بھٹہ مزدوروں کے بچوں کے دیے جانے والے ماہانہ وظائف بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وہ زیادہ تر لوگ پیدائشی غریب ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی اثاثہ جات نہیں ہوتے اور روٹی کمانے کے لیے ان کے پاس آمدنی کے صرف محدود ذرائع ہوتے ہیں۔ وہ اپنے زندگی میں کوئی اچھی ملازمت حاصل نہیں کر پاتے اور اس کے لیے مطلوبہ تعلیم اور مہارت نہیں رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سرکاری اور نجی اداروں کے مواقع محدود ہیں کیونکہ وہ دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ اس لئے حکومت کو اس ایشو کے اوپر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں تعلیم اور بنیادی ضروریات کو مہیا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب بستیوں کی بستیاں جدید غلامی کی تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے ۔

Facebook Comments HS