حضرت نظام الدین اولیا، امیر خسرو اور مرزا غالب کے مزارات
1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
سید محمد نظام الدین اولیاء ان بزرگان دین میں سے ہیں جنھوں نے ہندوستان میں اشاعت اسلام میں بے حد اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھیں محبوب الہی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ بدایوں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم آپ کے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ والد کی وفات کے بعد آپ کی والدہ آپ کو لے کر دلی آ گئیں۔ آپ جوانی ہی میں بابا فرید الدین المعروف گنج شکر کے مرید ہو گئے اور ہر سال رمضان کے مہینے میں اجودھن، موجودہ پاکپتن آتے تھے۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی ان کے مزار پر آتے ہیں اور ان سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
میں انھی عقیدت کے جذبات اور احساسات کے ساتھ ان کے مزار پر چلا گیا۔ ان کے مزار کو درگاہ کہتے ہیں۔ وہ علاقہ جہاں آپ کا مزار ہے، کو بستی نظام الدین کہتے ہیں۔ یہ ایک بہت وسیع علاقہ ہے۔ تبلیغی جماعت کا مرکز بھی اسی علاقے میں ہے۔ یہاں پر دلی کی میٹرو اور ریل کا سٹیشن بھی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ ہم بمبئی سے دہلی آئے تھے تو ٹرین کا آخری سٹیشن بستی نظام الدین ہی تھا۔ اس سے پہلے کہ میں آپ کو حضرت نظام الدین اولیاء کی زندگی سے متعلق کچھ باتیں بتاؤں، میں چاہوں گا کہ درگاہ پر جانے والے واقعے کی کچھ تفصیل آپ کے سامنے رکھوں۔
جب میں بستی نظام الدین کے علاقے میں داخل ہوا اور وہاں کا ماحول دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ علاقہ ایک غربت زدہ علاقہ ہے۔ گلیوں اور بازاروں کو دیکھ کر مجھے یوں لگا کہ میں ایک نہایت ہی پسماندہ علاقے میں آ گیا ہوں۔ بہت سی تنگ گلیوں سے ہوتا ہوا میں درگاہ کے مین گیٹ پر پہنچا۔ راستے میں صفائی ستھرائی کا نام و نشان نہیں تھا۔ یہ دہلی کا ایک مضافاتی علاقہ ہے لیکن اس کی دہلی سے کوئی نسبت نظر نہیں آ رہی تھی۔ جب میں درگاہ کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ کاریڈورز میں بہت سے لوگ لیٹے ہوئے ہیں جن کی اکثریت نے صرف ایک دھوتی پہن رکھی تھی۔ میں ان کے پاس سے بہت مشکل سے گزرا۔ ایک چھوٹے سے صحن کے ایک طرف کمرہ میں حضرت نظام الدین اولیاء کی قبر مبارک ہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ صحن میں دو تین جگہوں پر فربہ قسم کے لوگ مختلف ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے تھے۔ انھوں نے اپنے سامنے ایک بڑا سا رجسٹر رکھا ہوا تھا۔ جو آدمی بھی اندر آتا یہ اسے گھیر لیتے اور اس سے مطالبہ کرتے کہ ہم لوگ عرس کے موقع پر ایک بہت بڑی حلیم کی دیگ پکاتے ہیں آپ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں اور بتائیں کتنے پیسے دیں گے تا کہ رجسٹر میں ہم آپ کا نام لکھیں۔ یہ ایک طرح سے زبردستی کا منظر تھا۔
میرے لیے یہ ایک عجیب بات تھی۔ جب میں نے ایک صاحب سے معذرت کی تو انھوں نے بہت ہی برا منایا۔ میں نے ایک سے جان چھڑائی تو دوسرے گروہ کے لوگ آ گئے اور ان سے جان چھڑائی تو تیسرا گروپ آ گیا۔ ان کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا۔ وہ نہایت ہی اونچی زبان میں بات کر رہے تھے۔ مجھے لگا کہ وہ جو عقیدت جو میں حضرت نظام الدین اولیاء کے بارے میں لے کر یہاں پر آیا تھا وہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جس کا مجھے بے حد افسوس ہو رہا تھا۔ یہ عجیب و غریب منظر تھا جو مجھے کچھ اچھا نہیں لگا۔ میں نے بڑی مشکل سے ان لوگوں سے جان چھڑوا کر چھوٹے سے کمرے کے باہر کھڑے ہو کر دعائے مغفرت کی۔
حضرت محمد نظام الدین اولیاء وہ ہستی ہیں جنہوں نے اسلام کی بے حد خدمت کی۔ ہندوستان بھر میں اسلام کی اشاعت میں ان کا حصہ قابل ذکر ہے۔ آپ کو عرف عام میں حضرت نظام الدین بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا لقب محبوب الٰہی بھی بے حد مشہور ہے۔ آپ کی پیدائش تیرہویں صدی کی تیسری دہائی میں اتر پردیش میں ہوئی۔ آپ ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ کے ایک بڑے صوفی اور بزرگ مانے جاتے ہیں۔ آپ سے پہلے فرید الدین گنج شکر، قطب الدین بختیار کاکی اور معین الدین چشتی، چشتیہ سلسلہ کی نامور شخصیات ہیں۔
آپ کی تعلیمات کی بنیاد بھی محبت ہی ہے۔ اسی ذریعہ کو آپ نے خدا کو پہچاننے کا ایک راستہ بتایا ہے۔ ان کہ یہ کہنا ہے کہ خدا سے محبت کا صحیح طریقہ، انسانیت سے محبت کے اظہار کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ آپ جب بڑے ہوئے تو آپ صوفی بزرگ فرید الدین گنج شکر کے مرید بن گئے اور ہر سال رمضان کا مہینہ اجودھن میں اپنے پیر کے پاس گزارتے تھے۔ بابا فرید نے انھیں اپنا جانشین بھی مقرر کیا تھا۔
انھوں نے دلی سے ہٹ کر ایک علاقے میں رہنا شروع کیا اور اپنی خانقاہ بنائی۔ اس خانقاہ میں ہر آنے والے شخص کو کھانا دیا جاتا تھا۔ جسے آپ لنگر کہہ سکتے ہیں جو بعد میں ہر خانقاہ کا ایک لازمی جزو بن گیا۔ آپ کے شاگرد کافی مشہور ہوئے جن میں امیر خسرو کا نام سر فہرست ہے۔ پاکستان میں کئی لوگ اپنے نام کے ساتھ نظامی لکھتے ہیں جس کی وجہ آپ کی ذات ہی ہے۔ آپ کے بارے میں مزید معلومات آپ کو خلیق احمد نظامی کی کتاب
The Life and times of Shaikh Nizam-u ’d-din Auliya
میں مل سکتی ہے۔ یہ کتاب آپ کی زندگی کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں میں سے اہم سمجھی جاتی ہے۔
امیر خسرو: ایک عظیم صوفی شاعر، ذہین موسیقار اور اردو زبان کا بانی
جب بھی میں نے حضرت امیر خسرو کا نام سنا تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا تھا کہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ موسیقی کے چند آلات بنانا اور چند نئی دھنیں ایجاد کرنا ہے۔ جب میں نے ان کے مزار پر قوالی ہوتے دیکھی اور مختلف لوگوں کو ان کے بنائے ہوئے موسیقی کے آلات کے ساتھ دیکھا تو میرا یہ خیال مزید پختہ ہو گیا۔
وہاں پر بیٹھے ہوئے لوگ بھی مجھے اپنی مخصوص وضع قطع سے فن موسیقی سے وابستہ ہی لگے لیکن جب میں نے امیر خسرو کے متعلق پڑھا تو مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ ان کے متعلق پتا چلا کہ وہ تو ایک بہت بڑے صوفی تھے اور خواجہ نظام الدین کے انتہائی قریبی مرید بھی تھے۔ خواجہ صاحب نے ان سے متعلق یہ کہا تھا کہ اگر شریعت کی اجازت ہوتی تو میں انھیں اپنی قبر میں دفن کرنے کے لیے کہتا۔ خواجہ صاحب کی وفات کے چند ماہ بعد ہی امیر خسرو کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہ چند ماہ بھی انھوں نے نہایت خاموشی سے گزارے، وہ ہر وقت ایک افسردگی کے عالم میں رہتے۔ یہ سب ان کی اپنے مرشد سے محبت کی وجہ سے تھا۔
امیر خسرو کا اصل نام عین الدین اور ابوالحسن ان کی کنیت تھی۔ مختلف مسلمان بادشاہوں نے آپ کو امیر خسرو اور ان جیسے کئی دوسرے القابات سے نوازا تھا۔ آپ کے والد ترک تھے جو اپنے آبائی علاقہ ثمرقند سے نقل مکانی کر کے ہندوستان آ گئے تھے۔ امیر خسرو، پٹیالی، اترپردیش میں تیرہویں صدی کے وسط میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ایک ہندو خاندان سے تھیں۔ یہ بات مجھے خاصہ حیران کرتی ہے کہ بہت سے اثر و رسوخ رکھنے والے مسلمانوں، خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کی بیویاں ہندو خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ ایک عام رواج تھا کہ لوگ ہندو خاندان میں شادیاں کرتے تھے۔
امیر خسرو کی والدہ بھی ایک ہندو راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ جب آپ آٹھ سال کے ہوئے تو آپ کے والد وفات پا گئے۔ آپ کی والدہ اپنے بچوں کو لے کر اپنے والد کے گھر دہلی آ گئیں۔ جب امیر خسرو بیس سال کے ہوئے تو آپ کے نانا بھی فوت ہو گئے اور یوں آپ اپنے بڑوں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔
جو بات مجھے سب سے زیادہ حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس دور میں جب سفر کرنا بے حد مشکل تھا امیر خسرو نے اس قدر علم کیسے حاصل کیا اور کس طرح سے انھوں نے اس اپنے علم کی بدولت نت نئی چیزیں ایجاد کر کے لوگوں کو حیران کیا۔ وہ بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں۔ طبلہ اور سارنگی انھی کی ایجاد ہے۔ وہ قوالی کے بھی بانی مانے جاتے ہیں۔ ایک اور بات جو ان سے متعلق کہی جاتی ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اردو میں شعر لکھا۔
امیر خسرو کی مادری زبان فارسی تھی۔ میں نے یہ بات کئی جگہ پڑھی ہے اور سنی بھی ہے کہ اس وقت ہندوستان کے ایک بڑے علاقے میں ایک زبان بولی جاتی تھی جسے ہندوستانی زبان کہا جاتا تھا۔ یہ زبان سنسکرت سے خاصی مختلف تھی۔ جو لوگ یہ زبان بولتے تھے انھیں عام طور پر ہندوستانی کہا جاتا تھا۔ عربی، فارسی، سنسکرت اور اسی ہندوستانی زبان کے ملاپ سے اردو زبان کی بنیاد رکھی گئی۔ بہت سارے لوگ امیر خسرو کو اردو زبان کا بانی کہتے ہیں اور انھیں طوطی ہند کا لقب بھی دیا گیا ہے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ زبان کسی خاص تاریخ کی ہی ایجاد ہو۔ یہ ایک عوامی معاملہ ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ ایک اور بات بھی آپ کی دلچسپی کے لیے بڑی اہم ہوگی کہ جس طرح خواجہ نظام الدین کا عرس منایا جاتا ہے اسی طرح سے ان کا عرس بھی باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ ایک بڑا طبقہ ان کو پیر بھی مانتا ہے اور انھیں لوگ خواجہ امیر خسرو کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
میں ان ہی خیالات میں خواجہ امیر خسرو کی قبر مبارک کے پاس چلا گیا۔ قبر کے چاروں طرف جالی لگی ہوئی تھی اور اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ زیادہ تر لوگ چادریں چڑھا رہے تھے اور کچھ لوگ وہاں پر پہلے سے موجود چادریں لے کر جا رہے تھے۔ میں کافی دیر وہاں بیٹھا قوالی سنتا رہا۔
قوالی کبھی ہمارے ہاں بھی بہت سنی جاتی تھی۔ ہر گلی محلے میں کسی نہ کسی پیر کا مزار ہوتا تھا اور ان کے عرس کے موقع پر قوال، قوالی پیش کرتے تھے لیکن اب آہستہ آہستہ قوالی کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ نصرت فتح علی خاں صاحب نے قوالی کے فن کو عروج تک پہنچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں امیر خسرو کے مزار پر بیٹھا قوالی سن رہا تھا تو میں یہ دیکھ رہا تھا کہ قوال بار بار ہاتھوں سے امیر خسرو کے مزار کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور انھی کی لکھی ہوئی کوئی قوالی گا رہے تھے۔
وہ منظر مجھے بہت ہی اچھا لگا۔ میرے بھارت کے دورے کا یہ ایک اہم واقعہ تھا جو مجھے اب تک یاد ہے۔ آپ تصور کریں کہ آپ قوالی سن رہے ہوں اور ان کی قبر بھی سامنے ہو جنھوں نے قوالی ایجاد کی ہو، تو اس منظر کا ناقابل فراموش ہو جانا تو بنتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہاں پر کوئی حلیم کی دیگ پکانے کے لیے پیسے نہیں لے رہا تھا۔
امیر خسرو سے متعلق پڑھنے کے بعد مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ وہ ایک بہت ہی عظیم صوفی تھے اور جنھوں نے اردو اور فارسی ادب میں بے حد اہم کام سر انجام دیے۔ آج آٹھ سو سال بعد بھی ان کے اشعار زبان زد عام ہیں۔ یہ اشعار ان ہی کے لکھے ہوئے ہیں۔
خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا اس پار
امیر خسرو نے بے شمار کتابیں بھی لکھیں، غزلیں بھی کہیں۔ ان کے کام کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہر فن مولا تھے۔ ان کے مزار پر جانے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ ان کی اصل شناخت ایک شاعر اور ایک مصنف کی ہے جنھوں نے اردو جیسی خوبصورت اور عظیم زبان کی بے حد خدمت کی لیکن قوال حضرات نے ان کی پہچان قوالی ایجاد کرنے والے ایک موسیقار کے طور پر کروائی ہے۔
انھی خیالات کے ساتھ میں ان کے مزار سے واپس آ گیا اور احاطے کے باہر کھلے میدان میں ایک چار دیواری کے اندر مرزا غالب کی قبر کے پاس چلا گیا۔ اس وقت اس احاطے میں صرف انھی کی اکیلی قبر تھی جس کے اوپر کوئی چھت وغیرہ بھی نہیں تھی۔ اب میں نے تصاویر میں دیکھا ہے کہ ان کی قبر پر ایک کمرہ تعمیر کر دیا گیا ہے۔ اب اس بادہ خوار کا مزار دو عظیم مزاروں کے قریب موجود ہے۔ ابھی اس پر عرس شروع نہیں ہوا۔ ایک بات جو میرے لیے حیران کن تھی کہ مرزا غالب جن کا انتقال ڈیڑھ سو سال پہلے ہوا تھا کو دلی شہر میں دفن کرنے کی بجائے دلی سے باہر بستی نظام الدین میں دفنایا گیا۔ یقیناً اس کی وجہ اس وقت بھی لوگوں کی حضرت نظام الدین سے عقیدت ہی ہوگی۔


