نواز شریف کی بد دعا


سال بھر پہلے میرا ایک کالم ”واقعی ایک پراسرار نواز شریف ہے“ شائع ہوا تو میاں نواز شریف سے عقیدت کی حد تک محبت کرنے والے بہت سے پیروکاروں نے ۔اپنے لیڈر کو ایک سیاسی لیڈر کی بجائے کسی پہنچے ہوئے بزرگ یا کسی صوفی کا درجہ دینا شروع کیا۔ حالانکہ نہ ہی یہ میرا مقصد تھا اور نہ ہی نواز شریف کی کوئی خواہش یا دعوی۔

بلکہ میں نے صرف ان سیاسی اور حربی کرداروں اور ان کے انجام یا تحلیل ہوتی ہوئی طاقت پر حقائق کو مدنظر رکھ کر تبصرہ کیا تھا جنہوں نے نواز شریف کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے اکثر کا انجام قابل رشک نہیں تھا۔ اس سلسلے میں میں نے غلام اسحاق خان سے پرویز مشرف تک کئی کرداروں کی مثال دی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے اس اٹل قانون سے انکار کیسے ممکن ہے کہ خیر اور شر کے تصادم میں آخری فتح خیر ہی کی ہوتی ہے۔

تاہم کسی خیر کو فتح سے پہلے ایک عرصے تک ابتلا اور آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ میاں نواز شریف سے ذاتی قربت کا نہ تو مجھے کوئی دعوی ہے اور نہ ہی اس کی تمنا لیکن ایک صحافیانہ تجسس کی وجہ سے جانتا ہوں کہ شیخو پورہ کے ایک گمنام اور غریب پنجابی شاعر سے لاہور کی ایک بے سہارا خاتون تک خیر اور بھلائی کے کتنے سلسلے خاموشی کے ساتھ نواز شریف کی ذات سے جڑے ہیں جن کا ذکر کبھی انہوں نے اپنے قریبی لوگوں تک سے نہیں کیا۔

پچھلی سردیوں کی بات ہے کہ ایک دوست نے پنڈی میں درمیانی عمر کے ایک شخص سے تعارف کراتے ہوئے شرارت آمیز لہجے میں کہا کہ انہیں ٹٹول لیجیے کیونکہ یہ کافی عرصے جیل میں نواز شریف پر ڈیوٹی دے چکے ہیں۔ اور پھر ”اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں“ کے مصداق لگ بھگ ایک گھنٹہ میں انہیں کریدتا اور عام نظروں سے اوجھل سابق وزیر اعظم کی صبر اور عاجزی سے متعلق بعض معاملات تک پہنچنے کی کوشش کرتا اور حیران ہوتا رہا۔ مجھے یاد ہے کہ واقعات سناتے ہوئے اس شخص کی آنکھیں کئی بار بھر آئیں۔

یہی وہ صبر اور عاجزی تھی کہ جب اس کی اہلیہ لندن کے ایک ہسپتال میں تڑپ تڑپ کر جان دے رہی تھی تو وہ ایک بے بسی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں اپنی بیٹی کے سمیت پابند سلاسل بھی تھے اور بد ترین میڈیا ٹرائل کا سامنا بھی کر رہے تھے لیکن کسی ایک دلآزار لفظ کی گواہی تک بھی دستیاب نہیں جو اس کے منہ سے نکلا ہو۔ گالم گلوچ اور بد زبانی تو دور کی بات ہے۔ لیکن اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ”تمھارا رب بھولتا نہیں“ پھر اس سے آگے کا منظر نامہ خالق کائنات کے اسی حکم اور نواز شریف کی فطرت کو ذہن میں رکھ کر ملاحظہ کریں کہ جو شخص اسلام آباد کے ڈی چوک میں بیٹھ کر سیاسی تاریخ کی بد ترین گفتگو الزامات اور گالم گلوچ کے دریا بہا رہا تھا۔

وہی ”دریا“ اب اسی کے در و بام کو غرقاب کرنے کے درپے ہے خوفناک مہنگائی سے بلبلاتے پورے ملک کے عوام ”ایک اور زاویے“ سے اب وہی زبان بول رہے ہیں جو کنٹینر کا خاصہ تھا۔ لیکن یہ بھی دیکھیں کہ اس زبان کا رخ اب کس کی طرف ہے؟ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پیکا قانون سے جہانگیر ترین کی بیمار پرسی تک ہر جائز و ناجائز سہارا ڈھونڈنے نکلا ہے۔ تکبر کی جگہ الگ سے ترلوں اور منتوں نے لی ہے۔ جن راہداریوں میں نواز شریف کی سیاست کے گرد سرخ لکیر کھینچی جا رہی تھی ان راہداریوں کے سازشی مکین اب نشان عبرت اور وہاں کی آلودہ فضائیں قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔

اب ان راہداریوں کے نئے خوش باش مکینوں اور بدلتی ہوئی آب و ہوا کے پیش نظر نواز شریف کی مدد اور اعتبار کا حصول ہی اولین ترجیح ہے۔ بحیثیت منتخب وزیراعظم وہ جس عمارت کے مکین تھے اسی با وقار عمارت اور منصب کا گھیراؤ چند سو بے عقل لونڈوں کے ذریعے کروا کر انہیں بے توقیر کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن آج وہی نواز شریف نا اہل بھی ہے منتخب وزیراعظم بھی نہیں کسی عہدہ و منصب پر بھی فائز نہیں ہاتھ میں کوئی اختیار و اقتدار بھی نہیں حتی کہ ملک سے بھی باہر ہے لیکن وقت کا کمال دیکھیں کہ طاقت اور اقتدار کا دھارا اسی نواز شریف کی دہلیز کی طرف رواں دواں ہے۔

لندن کی خبریں رکھنے والے با خبر صحافیوں کے پاس ششدر کر دینے والی رپورٹس اور خبریں موجود ہیں کہ کیسے کیسے خیرہ کن منصبوں والے سائل اور فریادی بن کر اس کی دہلیز پر جھکے نظر آئے۔ جس بدنام زمانہ صحافت کے ذریعے اسے رسوا کیا جا رہا تھا اس صحافت کا انجام سامنے پڑا ہے۔ لعن طعن اور تہمت و الزام میں پیش پیش ایک ٹی وی چینل کو اب روز روز لندن میں مقدمات ہارنے اور جرمانے بھرنے پڑتے ہیں۔ دوسرے چینل کا مالک جعلی ڈگریاں فروخت کرنے اور دھوکہ دہی کے الزامات میں رسوا کن مقدمات کا سامنا کرتا رہا۔

ایک اور چینل کا مالک اپنا پورا میڈیا ہاؤس فروخت کر کے صحافت کے میدان تک کو چھوڑ دیتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہوا جنہیں صحافت کا لبادہ پہنا کر بلیک میلنگ اور الزام و دشنام کے لئے سکرینوں پر بٹھایا گیا تھا کسی کی اپنی اولاد اس کے خلاف سر بازار رسوا کن گواہیاں دینے آیا تو کسی کی خانگی زندگی پورے ملک میں ایک تماشا بن کر رہ گئی ہے۔ کوئی سکرین پر پیسے مانگتا ہوا پکڑا گیا تو کوئی کرپشن کے الزام میں جیل کاٹ آیا کسی کو اپنے ہی ممدوح سے بھری محفل میں مار پڑی تو کسی کے لکھے ہوئے مشہور قصیدے نے اسے فاتح کی بجائے فاسق کا روپ دے کر تماشا بنا دیا۔

جرم اور ثبوت کے بغیر سزا پر سزا سناتا آمرانہ قوتوں کے آلہ کار ثاقب نثار نہ صرف خود تاریخ کا نفرت انگیز کردار بن چکا بلکہ اس کے ہمرکاب بھی عبرت کے نشان بنتے چلے گئے کوئی ملک چھوڑ کر امریکہ بھاگ گیا تو کوئی ”سر سے پاؤں تک“ عوام کے سامنے آیا۔ الزام و دشنام کے بچے کھچے لشکر فواد چودھری شیخ رشید اور شہباز گل کے بیانات نوحہ خوانی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جو بے چارے خود اپنی بقاء کے حوالے سے سراسیمگی کا شکار ہیں۔

غل غپاڑہ اور الزام و دشنام کی سیاست کا انجام یہ ہوا کہ مہذب اور شائستہ لوگ کنٹینر کی سیاست کا ذکر آتے ہی بات بدل دیتے ہیں یا محفل سے اٹھ جاتے ہیں شریف اور پڑھے لکھے لوگ کنٹینر سے سابقہ وابستگی کو بھی چھپاتے پھرتے ہیں۔

بدلتی ہوئی موسموں کو دور سے سونگھنے کی حس رکھنے والی سول بیوروکریسی کے حوالے سے تو بات یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اگلے روز اسلام آباد کا ایک باخبر دوست بتا رہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے طاقتور پرنسپل سیکرٹری اور خود سر بیورو کریٹ اعظم خان کا دفتر اجاڑ پن اور ویرانی کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ سول اداروں کی بربادی کا ایک بڑا کردار مشیر اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد دو دن پہلے ایک جونیئر افسر کو فون پر فون ملا رہا تھا بالآخر نوجوان افسر نے سیل فون کے سکرین پر چمکتا ہوا نام سامنے بیٹھے اپنے کولیگز کو دکھاتے ہوئے قہقہہ لگایا اور سیل فون پرے پھینک دیا۔

یہ تمام باتیں کوئی دیو مالائی کہانیاں یا روحانیت میں گوندھی ہوئی حکایات نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جو ایک پہاڑ کی مانند ہمارے سامنے کھڑے ہیں یہ الگ بات کہ صبر اور عاجزی نے ان ناقابل یقین حقائق کو ممکن بنایا اور یہی اللہ تعالی کا وعدہ بھی ہے۔ ”کہنا کہ خان آیا تھا“ جملہ تو طنز اور طعنے کی تاریخ اپنے پیچھے چھوڑ کر قصہ پارینہ بن گیا لیکن اب کے شاید خلق خدا اس جملے کو اپنی تیقن بنا لے کہ صبر اور عاجزی لئے ایک آدمی کچھ لوگوں کو بد دعا دینے آیا تھا۔ اور ہاں، وہ آدمی تین بار اس ملک کا وزیراعظم بھی رہا تھا۔

Facebook Comments HS