اسرار عزا اور پاکستانی شیعہ: ایک عصبیت زدہ کالم


 

میں غالباً پانچویں جماعت میں تھا جب پہلی بار اماں سے محرم کے مرکزی جلوس میں علم (پرچم) اٹھانے کے لئے ضد کی تھی۔ ہمارے ہاں محرم کے جلوس میں علم عموماً انفرادی طور پر گھروں سے نکلتے ہیں جو کہ گھر کے مرد اٹھاتے ہیں۔ ان میں اکثر تعداد منتی علموں کی ہوتی ہے۔ اور کچھ جلوس کی قدیمی روایت کا حصہ ہوتے ہیں جو مختلف امام بارگاہوں سے جلوس میں شامل ہوتے ہیں۔

تب مجھے اماں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ابھی تم چھوٹے ہو اس لئے محلے کے چھوٹے جلوس میں ہی علم اٹھاؤ، جب بڑے ہو جاؤ گے تو مرکزی جلوس میں اٹھانا۔ کیونکہ شیعہ عقائد میں علم عباس ؑ کی کافی تکریم ہوتی ہے تو شاید اس اندیشے سے کہ کہیں میں جلوس کی بھیڑ میں علم کو ٹھیک سلیقے سے سنبھال پاؤں گا یا نہیں، انہوں نے منع کر دیا۔

اتر سندھ (شمالی/اپر سندھ) میں عزاداری کے مروج اطوار کے مطابق کئی صدیوں سے ہر سال سات اور آٹھ محرم کی درمیانی شب ہر شیعہ گھر سے اس گھر کے زندہ مردوں کی تعداد کے برابر چھوٹے چھوٹے علم محلے کے سادات گھروں میں تبرکاً بھیجے جاتے ہیں۔

8 محرم کا دن غالباً پوری دنیا کے شیعہ اور خصوصاً پاکستانی شیعہ حضرت عباس ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں، جو کہ علمدار فوج حسین علیہ السلام تھے۔ اور امام حسینؑ سے وفاداری اور ان پر جانثاری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اس مناسبت سے اتر سندھ میں اس دن سے ایک رات قبل ہر غیر سادات کے گھر سے علم سادات کے گھروں میں تبرکاً اس عہد کی تجدید کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں، کہ ہمارے گھر کے مرد آپ کے جد (امام حسین ؑ) پر جانثاری کے لئے حاضر ہیں اور جب منتقم کرار (امام مہدی ؑ) کا ظہور ہو گا تو یہ فدائی ان کے لشکر میں پیش پیش ہوں گے ۔

یہ روایت محض غیر سادات شیعہ تک محدود نہیں، شیعہ سادات بھی اس رات اسی جذبے اور تجدید عہد کے ساتھ اپنے گھروں سے مردوں کی تعداد کے برابر علم اٹھائے اپنے قریبی و آبائی امام باڑوں میں تبرکاً بارگاہ امام میں پیش کرتے ہیں۔

جب میں چھٹی جماعت میں پہنچا تو مجھے اماں نے بالآخر اپنے ہاتھوں سے علم سجا کے دیا اور مرکزی جلوس میں بھیج دیا۔ اس دن ننھے علمدار کے طور پر میں اپنے ماتمی حلقے میں سب کی توجہ کا مرکز رہا۔ وہ احساس بلاشبہ ایک اعزاز کے ملنے کا سا تھا۔ مرد تو مرد، بڑی بوڑھیاں اور پردہ دار خواتین بھی آ کے پہلے علم کو جھک کر سلام کرتیں اور پھر اس کے پھریرے کو چومتیں اور بعد میں میری پیشانی کا بوسہ لے کر لمبی عمر کی دعائیں کرتیں اور میری اماں کے لئے آفرین آمیز جملے کہہ کر آگے بڑھ جاتیں۔

جب شام کو میں وہی علم اٹھائے گھر پہنچا تو گھر کے صحن میں خواتین کا ایک جم غفیر تھا۔ اتنی خلقت میں نے پہلے کبھی اپنے گھر میں نہ دیکھی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی پہلے تو سب نے صدائے یا حسین ؑ بلند کی اور پھر اپنے اپنے انداز میں پر درد بین کرنے لگیں۔ کچھ سسکیاں لینے لگیں تو کچھ کی حالت غیر ہو چلی۔ وہ جو پہلے جلوس میں مجھ پر واری جا رہی تھی اب فقط علم کے پھریرے سے لپٹ رہی تھیں۔ حتی کہ میری اماں کہ جنہوں نے مجھے علم سجا کے دیا اور بلائیں لے کر جلوس میں بھیجا وہ تک مجھے آنکھ بھر کے نہیں دیکھ رہی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ نہ مجلس ہوئی، نہ نوحہ، نہ سوز نہ مرثیہ تو آخر یہ سب اتنا کیوں رو رہی ہیں۔

کچھ دیر بعد رونا تھما اور تمام خواتین دال روٹی کا تبرک لے کر چلی گئیں۔ میں نے تب اماں سے بہت معصومانہ اور سہمے ہوئے انداز میں پوچھا تھا کہ آپ سب رو کیوں رہی تھیں۔ اور یہ گلا بھی کیا کہ میں پورا جلوس مکمل کر کے تھکا ہارا علم واپس گھر لے آیا اور آپ نے مجھے دیکھا نہ داد دی۔ بس روتی جا رہی تھیں۔

اماں نے مجھ کو گلے سے لگایا اور پھر رو پڑیں۔ روتے روتے کہا کہ جو علم تم گھر لے آئے ہو نا وہ امام حسین ؑ کے خیموں سے جب گیا تھا تو پھر نہ علمدار واپس آیا نہ علم واپس آیا۔ انہوں نے روتے روتے مجھے غازی عباس کی پوری شہادت کا واقعہ سنا دیا۔ جب میں نے پوچھا، تو اچھا پھر مجھے داد کیوں نہ دی اور پورا وقت مجھے دیکھا تک کیوں نہیں۔ اس پر وہ پھر رو پڑیں اور کہا وہ اس لئے کہ تم واپس آ گئے تھے مجھے تسلی ہوئی پر میرے مولا نہیں آئے تھے۔ بس تم جب بڑے ہو جاؤ گے تو خود سمجھ جاؤ گے۔

بڑے ہوئے تو تاریخ کربلا سے روشناس ہوئے اور حضرت وہب کلبی کا واقعہ بارہا سننے کو ملا کے کیسے جناب وہب کی ماں نے ان کی شہادت کے بعد ان کا کٹا ہوا سر فوج اشقیا کی طرف پھینک کر کہا تھا کہ ہم خدا کی راہ میں دی گئی چیز واپس نہیں لیتے۔ تب مجھے اس رمز عشق مولا حسینؑ کا تھوڑا سا اندازہ ہوا کہ جس کی وجہ سے شیعہ مائیں اپنے بیٹوں کے لہولہان اجسام کا درد اپنے دلوں میں پال لیتی ہیں۔ سیرت ثانی الزہرہ پر چلتے ہوئے الھم تقبل ہٰذالقربان کی صدا کے ساتھ انا للہ و انا الیہ راجعون رضاً بقضاہ و تسلیماً لامرہ کا ورد کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں۔

یہ بات سمجھنے میں کسی کو دقت نہیں ہونی چاہیے کہ دنیا بھر کے شیعوں کے لئے کربلا ایک درسگاہ اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور کربلا خود شجاعت حیدر کرار اور سیرت مصطفیٰ ﷺ کا تسلسل ہے۔ یہ کربلا کا درس ہے اور یہی سیرت خاتم النبینﷺ اور امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہے کہ شجاعت محض تلوار کے جوہر دکھانے کا نام نہیں بلکہ شجاعت اس غیرت کا نام ہے کہ جب آپ بھرپور طاقت رکھتے ہوں تو کمزور دشمن کے ساتھ صلہ رحمی سے کام لیں۔ پر ظالموں پر اپنی شدید ضرب کو بنائے رکھیں۔

اسکی نظیر ہمیں فتح مکہ کے موقع پر ملتی ہے کہ جب حضور پرنور ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کے قاتل اور ان کے جگر خور تک کو رضائے پروردگار کے لئے نہ صرف بخش دیا بلکہ اعلان عام کیا کہ جاؤ آج تم سب آزاد ہو۔ ایسا ہی ایک منظر اس سے پہلے جنگ احزاب میں یہ بھی دیکھا گیا کہ علی علیہ السلام دشمن پر غالب آنے کہ بعد اسے نہ صرف قتل نہیں کرتے بلکہ اس کے بریدہ جسم کو برابر کر کے اسے پوری تکریم کے ساتھ اٹھا لے جانے کے لئے آواز بھی دیتے ہیں۔ اور یہ فرماتے ہیں کے علیؑ کی تلوار محض اللہ کے دشمن کے لئے ہے نہ کہ ذات کی تسکین کے لئے۔

کربلا اسی کردار کی معراج کا نام ہے جہاں ایک بوڑھا باپ (امام حسینؑ) اپنے جوان بیٹے کے قاتلین میں سے جب ایک کو زخمی کر کے بے حال کر دیتا ہے تو اسے یہ کہ کر قتل نہیں کرتا کہ خدا کے دین میں نہتے پر وار کرنا جائز نہیں، آؤ اسے لے جاؤ کیا پتا پروردگار اس کی ماں کے صدقے اس کی جان بخش دے۔

اس ساری تمہید کا مقصد قارئین کو اس امر سے روشناس کروانا تھا کہ ایک عام سے شیعہ گھر میں رہنے والے افراد کی بچپن سے لے کر بڑھاپے تک جذبۂ قربانی اور شہادت کے لئے تربیت کیسے ہوتی ہے۔ اس تربیت میں گلے کاٹنے سے زیادہ حق کی سربلندی اور انسانیت کی حفاظت کی خاطر گلا تک کٹوانے کی جرات پیدا کی جاتی ہے۔ پر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنی حفاظت کے لئے غیر محتاط ہوا جائے اور باطل سے نبرد آزما ہونے کے لئے کوئی تدبیر نہ کی جائے۔

جمعہ کو پشاور کی مسجد میں خودکش حملے سے ہونے والی خونریزی کو کچھ احباب کی طرف سے ملک کے امن اور خاص طور پر برسوں بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے خلاف سازش کرار دیا جا رہا ہے۔ چلو ایک لحظہ مان لیتے ہیں ایسا ہی ہو گا۔ پر بات یہ سمجھ نہیں آتی کے ہر بار ملک کو بدنام کرنے کے لئے صرف شیعہ مسلک کے لوگوں، امام بارگاہوں اور مسجدوں کا ہی انتخاب کیوں کیا جاتا ہے۔

اللہ کی پناہ خاکم بدہن اگر یہ یا ایسا واقعہ سر بازار ہوتا جہاں مرنے والوں کی تفریق ممکن نہ ہوتی تو بھی اسے ملک کے خلاف سازش کے طور پر گردانا جا سکتا تھا مگر ہر بار جب نشانہ ایک ہی مسلک بنے گا تو سوال تو پیدا ہو گا کہ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے اور آخر یہ انتخاب کرتا کون ہے؟

میں جب بھی شیعہ نسل کشی کی بات کرتا ہوں تو میرے اکثر احباب یہ گلا کرتے ہیں کہ تم کہو کہ بہت ظلم ہو رہا ہے پر اسے نسل کشی تو نا کہو۔ جبکہ نسل کشی کی ہر مروجہ تعریف کے مطابق نسلی، ثقافتی، مذہبی یا قومی گروہ کی منظم طریقے سے ایک بڑے حصے کی تباہی نسل کشی ہے۔

دنیا بھر میں موجود تحقیقاتی اداروں کے مطابق 2001 سے 2019 تک وطن عزیز میں 5295 شیعہ محض مسلک کی بنیاد پر مارے گئے ہیں جبکہ ٹیکساس نیشنل سکیورٹی رویو کی مطابق محض 2013 میں 200 دہشتگرد حملوں میں 700 شیعہ قتل ہوئے اور 1000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

شیعہ ٹارگٹ کلنگ ہو یا کراچی کی مسجد علی کا دھماکہ ہو، کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی پر حملہ ہو یا شکارپور کی شیعہ جامع مسجد ہو یا پھر کوئی جلوس عزا، یہ ملک کے ساتھ سازش کا وزن صرف شیعوں کے کندھوں پر کیوں لادا جاتا ہے۔ اس پر اس ملک کی وہ ایجنسیز جو سیاستدانوں کے واش روم میں پڑے لوٹوں کا رنگ تک جانتی ہیں آخر کیوں دہشتگردوں کے گلوں تک نہیں پہنچ پاتی۔

یہاں پر جاں پناہی کی حد میں رہتے ہوئے یہی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یا تو ہماری ایجنسیز کے دعوے محض دعوے ہیں یا پھر پاکستان میں بھی کوئی برمودا مثلث ہے جہاں کارروائی کے بعد دہشتگرد گم ہو جاتے ہیں اور دنیا کی نمبر ون ایجنسی کی وہاں تک کوئی رسائی نہیں۔ ملک میں شیعوں کا قتل اتنے عرصے سے ایک منظم طریقے سے ہو رہا ہے۔ جس کا کوئی تدارک نہیں کیا گیا تو کیا اب بھی اسے نسل کشی نہ کہا جائے؟

حالات کچھ بھی ہوں پر جب تک شیعہ باقی ہیں ہر سال ان کے گھروں کے زندہ مردوں کی تعداد کے برابر خانۂ سادات میں تبرکاً علم بھیجے جاتے رہیں گے۔ اور ان کی مائیں اپنے بچوں میں روح عزاء حسینؑ، نیز جذبۂ ایثار و قربانی زندہ رکھتی آئیں گی۔ چاہے پھر ہر بار ان کو سیرت ثانی زہرہ پر چلتے ہوئے الھم تقبل ہٰذالقربان کی صدا کے ساتھ انا للہ و انا الیہ راجعون رضاً بقضاہ و تسلیماً لامرہ کا وردہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ تاکہ اسلام اور انسانیت کی سربلندی کے لئے اس کے چہرے پر دہشتگردی کے لگے بدنما دھبوں کو شہیدوں کے لہو سے دھو کر اسرار عزا کو پا لیا جائے اور درس کربلا کو لوگوں کی روح تک پہنچایا جا سکے۔ شاید کہ کوئی حر لشکر یزید وقت کو چھوڑ کر قافلۂ حسینی میں شامل ہو جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments