عورت: انسانوں کی نئی قسم


کیا آپ جانتے ہیں کہ انسانی ارتقائی مراحل میں آخری نمبر پر موجود ہومو سیپئینس HOMO SAPIENS کے بعد بھی ایک قسم موجود ہے۔ اس کا نام ہے ہومو ریزیلیئنٹ HOMO RESILIENT اسے آپ میرے ذہن کی اختراع ہی سمجھیں مگر ان دونوں میں جو فرق ہے جب آپ سمجھ جائیں گے تو میری بات سے اتفاق ضرور کریں گے۔ ہومو سیپئینس HOMO SAPIENSکو مار دو تو مر جاتا ہے۔ جلاؤ تو جل جاتا ہے۔ ڈبو دو تو ڈوب جاتا ہے۔ گراؤ تو گر جاتا ہے۔

مگر ہومو ریزیلیئنٹ HOMO RESILIENTمیں یہ کمال ہے کہ مار دو تو زندہ ہو جاتے ہیں۔ جلا دو تو بجھ کر شرارہ بن جاتے ہیں۔ ڈبو دو تو تیرنے لگتے ہیں اور گرا دو تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جی ہاں ساری عورتیں اسی کیٹیگری میں شمار ہوتی ہیں۔ خود دنیا میں آنے سے لے کر دوسری جان کو دنیا میں لانے تک کا سفر کتنا مختصر سا محسوس ہوتا ہے۔ مگر اس کی طوالت کا اندازہ تو صرف وہ ہی کر سکتا ہے جو خود اس راہ کا مسافر ہو۔ اپنی پیدائش سے لے کر پیدائش کے مرحلے سے گزرنے تک ایک ایک تکلیف کے باوجود زندہ۔ ناصرف زندہ بلکہ آئندہ کے لئے تیار۔

ہومو ریزیلیئنٹ تو وہ مخلوق ہے جو ذہنی، جسمانی، روحانی اور سماجی تشدد کے باوجود زندہ ناصرف زندہ بلکہ محبت کا استعارہ۔ کا ری کر دو، ونی کردو، بازار میں گھسیٹو، تیزاب سے جھلسا دو، آگ میں جلا دو پھر بھی زندہ۔ کتے چھوڑ دو، زندہ دفن کر دو پھر بھی زندہ۔ لڑکی پیدا کیوں کی؟ باہر کیوں جھانکا ہنسی کیوں تالی کیوں بجائی۔ گالی۔ تھپڑ یا پھر طلاق۔ پھر بھی زندہ۔ اغوا کر لو۔ ریپ کردو، ہراس کرو خودکشی پر مجبور کردو پھر بھی موجود بلکہ کسی نئے نام کے ساتھ پھر موجود قبر میں لیٹی ہوئی عورت کو ریپ کردو مزاحمت ہی نہیں کرتی۔ بے غیرت! سڑکوں پر گالی دو۔ اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر گندی زبان استعمال کرو۔ ذات پر حملہ کرو برا بھلا کہو پھر بھی سیاست سے باز نہیں آتی۔ محبت، تعلیم صحت اور وراثت نہ دو پھر بھی زندہ۔ حقوق مانگنے احتجاج کرنے پر بے حیا اور مغربی ایجنڈے پر کاربند ہونے کی نوید پھر بھی احتجاج سے باز نہیں آتی۔ ڈھیٹ۔

ہنسنے، گانے، ناچنے اور جینے پر پابندی لگا دو پھر بھی ہنستی ہے چاہے آنکھیں نم ہوں۔ پھر بھی گاتی ہے چاہے آواز درد میں ڈوبی ہو۔ پھر بھی ناچتی ہے چاہے پیر زخمی ہوں۔ پھر بھی جیتی ہے چاہے مار دیا گیا ہو۔ یعنی یہ نا فرمان باز نہیں آتی۔ نا ہی عالمی یوم خواتین منانے سے اور نہ ہی عورت مارچ سے۔ حالانکہ مذہبی امور کے ماہر حکومت کو خط کے ذریعے سمجھا چکے ہیں کہ عورت مارچ سے امن و امان اور اسلامی معاشرے کو خطرہ ہے۔ اور اس ہی سے تو بے حیائی پھیلتی ہے۔ ہمیں تو حیا مارچ اور حجاب ڈے کی ضرورت ہے۔ عورت کو کبھی پھول، ہوا، خوشبو اور رنگ جیسے استعاروں سے یاد کیا جاتا تھا جاوید اختر سے بہت معذرت کے ساتھ

کسی کا حکم ہے ساری ہوائیں
ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں
کہ ان کی سمت کیا ہے۔
ان کی رفتار کیا ہے
کسی کا حکم ہے دریا کی لہریں
ذرا سر کشی کم کریں
اپنی حد میں ٹھہریں
غلط ہے ان کا ہنگامہ کرنا
یہ سب ہے بغاوت کی علامت
اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا
تو ہو گا ان کو چپ چاپ بہنا

عورت مارچ میں لگائے جانے والے نعرے ہی تو دراصل فحاشی کا منبع ہیں۔ میرا جسم میری مرضی سے بڑھ کر دنیا میں بے غیرتی اور فحاشی کا کوئی جملہ ایجاد ہی نہیں ہوا ایک عورت مارچ ہی سے تو اس اسلامی معاشرے کو خطرہ ہے باقی مسائل تو حل ہو چکے۔ عوام کا متشدد رویہ۔ سیالکوٹ اور خانیوال میں ملکی اور غیر ملکی معصوموں کا بپھرے ہجوم کے ہاتھوں قتل۔ ملک میں بڑھتا ہوا پورن فلموں کا رواج۔ مدرسوں میں طالب علموں سے بد فعلی اور جنسی زیادتی۔ عورتوں کی دلالی۔ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ اور ذمہ داران کی طرف سے ہراسمنٹ۔ بدزبان سیاستدان کم علم مذہبی رہنما، بے فہم اساتذہ اور بے شعور منتشر قوم تو بالکل بے ضرر سی چیزیں ہیں سارا خرابہ تو صرف اور صرف عورت کی وجہ سے ہے بہت بے زاری طاری ہونے لگتی ہے میرا دل کرتا ہے کہ عذرا عباس کی طرح

جب بے زاری آتی ہے
دل چاہتا ہے کسی درخت کی
اونچی شاخ پر بیٹھ کر
لوگوں کو گزرتے دیکھوں
اور جب وہ گزریں تو
ان کے سروں پر تھوکتی جاؤں

بلکہ میرا دل چاہتا ہے کہ ساری عورتوں کے ساتھ درخت پر چڑھ جاؤں اور ان کے ساتھ مل کر نیچے گزرتے لوگوں کے سروں پر اتنا تھوکوں کے سارے غیرت مند اس تھوک کے سمندر میں ڈوب جائیں۔ یہی خیال ہے پریشان مجھ میں مگر چھوڑیں ہم تو ہومو ریزیلیئنٹ HOMO RESILIENTہیں۔ ماؤ، بہنو، بیٹیو آگے آ جاؤ دانانیر کی طرح ایک کلپ بناتے ہیں۔

یہ میں ہوں۔ یہ میرے ملک کی عورتیں ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

Facebook Comments HS