مجھے خود کشی کرنی ہے!


وہ قے کرتے ہوئی اپنی ماں سے لپٹ گئی اور ڈوبتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا،
”میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا“

پولیس انسپکٹر کا زہریلی گولیاں کھا کر اپنی ماں اور دو ننھی بچیوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے مر جانا!

کیا رونگٹے کھڑے ہوئے آپ کے؟ کیا دل ایک لمحے کے لئے دھڑکنا بھول گیا؟ کیا اس ایک جملے نے وہ قلعی اتار دی جو ہمارے پدرسری معاشرے پر لپٹی ہوئی ہے؟

معاشی طور پہ خود مختار عورت، شادی شدہ اور دو بچیوں کی ماں موت کو گلے لگاتی ہوئی ایک جملے میں اپنی زندگی کی حقیقت بیان کر رہی ہے۔ وہ زندگی جس کے جبر نے زندہ رہنے کی خواہش کو مردہ کر دیا۔ اور ستم ظریفی دیکھئیے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے میں کام کرنے والی لیڈی انسپکٹر بھی اگر گھریلو ذہنی و جسمانی تشدد سے نہیں بچ سکی تو ہر طرف سے بے دست و پا عورت کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے؟

سوچیے ایک عورت جب کہ وہ ماں بھی ہو، موت کو کیوں گلے لگاتی ہے آخر؟ قبل از وقت موت اس کے لئے زندگی سے زیادہ شیریں کیوں بن جاتی ہے؟ جواب تلاش کرنا چنداں مشکل نہیں۔ آس پاس دیکھئیے آپ فوراً کسی نہ کسی نتیجے پر تو پہنچ ہی جائیں گے۔

ہمارے معاشرے کی عورت میں خود کشی کی خواہش کو بیدار کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ پدرسری نظام کا ہے جو عورت کو اپنی زندگی کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لینے دیتا۔ زندگی بسر کرنے کی بس ایک ہی راہ قابل قبول رکھی جاتی ہے، باپ کے گھر سے شوہر کے گھر تک۔ جس عورت نے بھی اس لکیر سے باہر نکلنے کا سوچا اس کے لئے معاشرہ ایک ننگی تلوار بن جاتا ہے۔ شادی نہ کرنے کا فیصلہ ہو یا طلاق لے کر اپنی زندگی جینے کا، یہ معاشرے کے ناخداؤں کو قبول نہیں۔

مطلقہ عورت پہ ہر طرح سے زندگی تنگ کر دی جاتی ہے خاندان، اقدار اور معاشرہ سب کی انگلی عورت کی طرف اٹھتی ہے، کیوں طلاق ہوئی؟ کیوں نہیں قربانی دی؟ کیوں صبر سے کام نہیں لیا؟

عورت چاہے مار کھائے یا ہڈیاں تڑوائے مگر شوہر کے گھر سے نکلنے کا کبھی نہ سوچے کہ ماں باپ کو واپسی قبول نہیں۔ ایسے میں کیا کرے وہ؟ کہاں جائے؟ ایسے میں ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ ہے موت!

بنیادی طور پہ پدرسری معاشرے میں اچھی عورت وہ گنی جاتی ہے جو کامل طور پہ مطیع ہو۔ زندہ رہنا ہے تو لب سی کر، آنکھ جھکا کر، دل کو سلا کر اور ہر بات کو مان کر، دوسری کوئی صورت ممکن نہیں۔

نفی میں سر ہلاتی، اپنی مرضی کا اظہار کرتی اور سوال و جواب کرنے والی عورت کی جگہ کہیں ہے ہی نہیں۔ اختلاف کرنے والی عورت مالک کو قبول نہیں چاہے وہ باپ ہو، بھائی، شوہر یا بیٹا۔ عورت کو زندہ رہنے کی اجازت تب ہی دی جائے گی جب وہ مرضی نامی لفظ اپنی زندگی سے مٹا دے۔

اور اگر وہ سر نہ جھکا سکے تب اس کا علاج وہی ہو گا جو ریوڑ سے علیحدہ ہونے والی بھیڑ بکری کا ہوتا ہے۔ مالک کے ہاتھ میں پکڑی سوٹی اور باغی بکری۔

الفاظ، فقروں اور رویوں کا تشدد باغی عورت کو راہ راست پر لانے کے لئے ایک عام بات ہے۔ سیدھا تو کرنا ہے نا بھئی۔ ایسا کرنے میں کیا فرق پڑتا ہے اگر عورت کے جسم و روح میں چھید ہو جائیں، جب زندگی ہشت پا کی طرح جکڑ کر سانس ہی تنگ کر دے۔ تب عورت کے پاس اور کچھ نہیں بچتا سوائے اس کے کہ کیا کرنا ہے زندہ رہ کے؟ درد اتنا ہے کہ زندگی کا بوجھ اتار دینا ہی بہتر۔

یاد رکھئیے اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کو گلے لگانے والی یک دم یہ فیصلہ نہیں کرتی۔ حالات کا جبر اسے آہستہ آہستہ ایسی بند گلی میں لے جاتا ہے جہاں اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔ وہاں تک پہنچنے کے سفر میں زندگی بار بار سرخ بتی جلاتی ہے کہ شاید کوئی جان لے کہ ان کے ساتھ رہنے والی زندگی سے آہستہ آہستہ دور ہو کر موت کی آغوش میں پناہ لینا چاہتی ہے۔

بدقسمتی سے عزیز، دوست اور احباب خود کشی کی ان علامات کو پہچان نہیں پاتے یا ان کی بے حسی اور سنگدلی انہیں اپنا ہاتھ بڑھانے نہیں دیتی۔

خود کشی کی خواہش ایک ننھے پودے کی طرح ہے جو آہستہ آہستہ تناور درخت میں بدل جاتی ہے۔ سلویا پلاتھ، مارلن منرو، ورجینیا وولف اور کیٹ سپیڈ اسی راستے پر چلیں۔

خودکشی کی خواہش رکھنے والی عورت کو مایوسی، نا امیدی، ناقابل برداشت درد، بے بسی، شرم، کمتری، احساس جرم، اپنے آپ سے نفرت، خود کو نقصان پہنچانے کی خواہش نڈھال کرتی ہے۔

میں اداس رہتی ہوں، بات کرنے یا ملنے ملانے کو جی نہیں چاہتا،
میں ہر وقت بیزار اور تھکی ہوئی رہتی ہوں، کسی چیز میں دل نہیں لگتا
مجھے بہت غصہ آتا ہے، جی چاہتا ہے کہ سب کا سر توڑ دوں
عجیب سی بے چینی رہتی ہے، رونے کو جی چاہتا ہے
سکول کالج یا دفتر کا کام نہیں کیا جاتا
میرا جی نہیں چاہتا کہ شوہر کے ساتھ سوؤں۔
منہ ہاتھ دھونا، کپڑے بدلنا، دوا کھانا سب غیر اہم ہو گیا ہے
بھوک پیاس اڑ گئی ہے۔ کبھی تو دن رات سوتی ہوں اور کبھی کئی کئی دن نیند نہیں آتی
جی چاہتا ہے ہمیشہ کے لئے سو جاؤں۔
اب اور برداشت نہیں ہوتا۔

اپنے اندر جاری اس جنگ سے نبرد آزما عورت ایک ایسی بازی گر بن جاتی ہے جس کی سانس تنے ہوئے رسے پر توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہر دم اکھڑتی ہے۔ ذہنی دباؤ نظر نہ آنے والا ٹائم بم ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

کسی کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے پہ کف افسوس ملنے سے کہیں بہتر ہے کہ کہیں اگر کوئی نزع کے عالم میں ہو تو اس کے لئے کوئی ایسا روزن دیوار کھولا جائے جس سے آتی روشنی اور ہوا اسے اپنی زندگی کو موت کے دامن میں ڈالنے سے روک دے۔

اپنا ہاتھ بڑھا دیجئیے ؛
پوچھئیے کیا تم خود کشی کے بارے میں تو نہیں سوچ رہیں؟
نصیحتوں بھرا درس دینے سے احتراز کیجئیے
بات کیجئیے اور بتائیے کہ آپ اس کے مسائل اور اس کے نتیجے میں ہونے والے درد کو سمجھ رہے ہیں
اس کی سنئیے اور اس کے اندر کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کیجئیے
وہ جو بھی کہیں اسے سکون ہمدردی اور بنا کسی رائے کے سنیے۔

اس کو بولنے کے لئے اکسائیے، اور اور اور۔ یہی عمل اس کے اندر کا دکھ، غم، رنج، اضطراب اور پریشانی کو ہلکا کرنے میں مدد دے گا۔
اس کے دکھ اور پریشانیوں کو کم مت جانئیے۔ یہ اس کی جنگ ہے جس سے وہی مسلسل لڑ رہی ہے۔
کسی بھی چیز کا حل فوراً مت پیش کر دیجئیے، کہ تم یوں کر لو، یا ایسا کر لیتیں۔ اس کے مسلے کو اس طرح سے محسوس کیجئیے جس طرح وہ کر رہی ہے۔

بنا کسی طنز و تشنیع، الزام، یا فیصلہ سازی کے یہ بتائیے کہ آپ کی حمایت اور ساتھ بلا مشروط اس کے ساتھ ہے۔

صاحبان دانش، یقین کیجئیے خود کشی کا خیال بے شمار عورتوں میں جنم لیتا ہے۔ کچھ اس خیال کو حقیقت کا جامہ پہنا لیتی ہیں جبکہ باقی ایک ایسے جسم کے ساتھ زندگی کے دن پورے کرتی ہیں جس کو وہ اپنے دل و دماغ میں کب سے موت کے گھاٹ اتار چکی ہوتی ہیں۔ زندگی اب ان کے لئے محض سانس پورے کرنے کا نام رہ جاتا ہے ۔

دیکھئیے تو سہی اپنے آس پاس، موت سے محبت کرتی ہوئی بے شمار بے جان مورتیں آپ کو نظر آئیں گی۔

Facebook Comments HS