بوگس معلومات: قتل اور طلاق کے مقدمات میں اضافہ
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایک جانب جدید ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے تو دوسری طرف نوجوان نسل کے بگاڑ میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ہم جس ترقی یافتہ دور سے گزر رہے ہیں اس کی ترقی میں سائنسی ایجادات اور مغرب کی دی ہوئی ترقی کا بڑا ہاتھ ہے۔ جس کی بدولت سائنس کے میدان میں ماضی کے مقابلے میں جس تیزی سے ترقی کرتے جا رہے ہیں ویسے ہی ہمارا معاشرہ اور بالخصوص ہمارے نوجوان تنزلی کی جانب تیزی سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہمارے ہاں سائنس، جدت اور جدید ٹیکنالوجی فائدوں کے ساتھ نقصانات کا باعث بھی بن رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں ہمیں بہت سی سہولیات اور آسانیاں فراہم کی ہیں وہیں بہت سی نئی مشکلات نے بھی جنم لیا ہے۔ ویسے تو دنیا میں ہر شے اور عمل کے کچھ نہ کچھ فائدے اور نقصانات ہوتے ہیں مگر نوجوانوں پر جو چیزیں بری طرح اثر انداز ہو رہی ہیں ان میں سے ایک سوشل میڈیا بھی ہے۔ سوشل میڈیا مادر پدر آزاد ہونے کے باعث من حیث القوم ہماری زندگیوں پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں۔
سوشل میڈیا نے آج کے نوجوانوں اور بچوں کو اس طرح سے اپنے اندر جکڑ لیا ہے کہ اب اس سے پیچھا چھڑانا بھی ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا جس میں فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ، ٹیلی گرام، انسٹا گرام، اسکائپ اور اس طرح کے دیگر ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ ان سب نے تو جیسے انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ہی مفلوج کر دیا ہے۔ ایک جانب اس سوشل نیٹ ورکنگ نے میلوں دور بیٹھے لوگوں کو تو ملوا دیا ہے اور ہر پل رابطے کو نہایت آسان بنا دیا ہے لیکن ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔
ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے بے خبر اپنے اپنے موبائل، لیپ ٹاپ کمپیوٹر، ٹی وی وغیرہ میں مصروف ہونے لگے ہیں۔ پہلے لوگ اپنے بچوں کے آنے جانے، ان کے دوستوں اور جیب خرچ پر نظر رکھ کر ان کی صحبت درست کرنے اور ان کی تربیت کرتے تھے لیکن اب اینڈرائیڈ موبائل فون نے ان سب چیزوں پر پردہ ڈال دیا ہے اور نوجوانوں کی تربیت نہایت مشکل امر اختیار کر گیا ہے۔
اس وقت ملک کی 87 فی صد آبادی کو ٹیلی کام سروسز میسر ہیں جبکہ 13 فیصد آبادی انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سہولتوں سے محروم ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں مجموعی براڈ بینڈ سبسکرپشن میں 175 فیصد اضافہ ہوا نیز مقامی سطح پر فور جی ڈیوائس مینوفیکچرنگ میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2020 ء سے 2021 ء کے درمیان پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں 24 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں فیس بک، ٹویٹر کے بعد ٹک ٹاک کی مقبولیت عروج پر ہے جبکہ یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔
آج کی نوجوان نسل کے پاس بڑے بزرگوں کے پاس بیٹھنے تک کا وقت نہیں ہوتا۔ مگر فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام اور اس طرح دیگر ایپلی کیشن استعمال کرنے کا بہت وقت ہوتا ہے۔ رشتوں میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال لوگوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس تیز رفتاری سے بہت سی برائیاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال سے لوگوں میں بہت سی تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں، لوگ آج کل انٹرنیٹ یوٹیوب کے ذریعہ قسم قسم کے ویڈیوز دیکھ کر طرح طرح کے کارنامے انجام دے رہے ہیں جس میں لوٹ مار، قتل، چوری، جنسی زیادتی، اغواء، زنا بالجبر جیسی بہت سی برائیاں سرعام پھیل رہی ہیں اور آج کل کے یہ نت نئے نوجوان اپنا سارا وقت سوشل میڈیا کے استعمال میں صرف کر رہے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی سے نئی نئی چیزیں سیکھنا تو دور کی بات آج کل کی نوجوان نسل اپنے زندگی کا مقصد ہی بھول گئی ہے اور اپنا سارا وقت غلط کاموں میں ہی صرف کر رہی ہے۔ کوئی بھی چیز خود بری نہیں ہوتی اس کا استعمال اسے اچھا برا بناتا ہے۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کا استعمال اچھے کاموں کے لئے کرتے ہیں اور کچھ لوگ برے کاموں کے لئے، سوشل میڈیا نے پوری قوم کا مزاج ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
اگر اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا جائزہ لیا جائے تو قتل کے مقدمات میں غیرت کے نام پر قتل اور فیملی مقدمات میں اکثریت پسند کی شادی، گھریلو جھگڑے اور طلاق کے مقدمات کی شامل ہے۔ جنوبی پنجاب میں گزشتہ کچھ عرصہ میں ہونے والے ایسے واقعات میں شادی سے پہلے کسی لڑکی کی بوگس تصاویر بنا کر اس کی شادی ختم کرانے یا شادی کے بعد کسی نامعلوم میسج یا کال کی وجہ سے طلاق ہونے اور بنا ثبوت کے موبائل پر پائی جانے والی کسی بھی غلط فہمی کے باعث قتل کی ہونے والی وارداتیں شامل ہیں۔
جیسے وہاڑی کی ایک طالبہ کو ملتان میں یونیورسٹی کلاس فیلو کی جانب سے موبائل پر فحش پیغام بھیجنے پر اس کی دہائی کے باوجود اساتذہ نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نتیجتاً بھائی کی جانب سے یہ فحش پیغام دیکھ کر بہن کی مدد کی بجائے بہیمانہ طریقے سے جان ہی لے لی گئی۔ مظفرگڑھ میں موبائل پر فون کال سنتے دیکھ کر ہی شوہر کی غیرت جاگ اٹھی اور بناء پوچھے کلہاڑی کے وار سے اس کی گردن ہی تن سے جدا کر دی گئی۔ جبکہ دل دہلانے والا واقعہ ملتان کی ایک نوجوان بچی (آ) کا ہے جس کو اس کی والدہ سمیت گھر سے نکالنے اور جائیداد حاصل کرنے کے لئے سوتیلے بھائیوں نے ان کو ایک کمرہ دیا اور اس میں خفیہ کیمرے لگا کر اس کی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر ان کے کمرے کے دروازے پر چپکا دیں اور کہا کہ اس گھر کو چھوڑ دو جبکہ ان خواتین کو کسی نے انصاف فراہم نہیں کیا ہے۔ اس طرح بوگس تصاویر بنا کر یا کسی کمزور لمحے کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر کسی لڑکی اور اس کے خاندان کی زندگی اجاڑنے کے سینکڑوں واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں واقع سیشن و سول عدالتوں میں اس وقت سوشل میڈیا کی وجہ سے گھر ٹوٹنے کے باعث ہونے والی مقدمہ بازی کے 4 ہزار کے قریب مقدمات زیرالتواء ہیں۔ گزشتہ ایک برس میں نام نہاد غیرت کے نام پر 57 قتل ہو چکے ہیں۔ ایف آئی کے سائبر کرائم ونگ میں سوشل میڈیا پر خواتین کی ہراسانی، بلیک میلنگ، تصاویر یا ویڈیوز وائرل کرنے، بوگس تصاویر یا ویڈیوز بنا کر وائرل کرنے پر گزشتہ ایک برس میں 735 درخواستیں دی گئیں جن میں سے 256 پر مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ باقی درخواستیں ابھی زیرالتواء چلی آ رہی ہیں۔
نفسیات دانوں کے مطابق ہمارا معاشرہ ہر سطح پر تقسیم ہو گیا ہے۔ خواتین کے حقوق، ان کے تحفظ پر بحث نے جنم لیا تو سماجی ابتری، والدین کی تربیت اور تعلیمی اداروں کا کردار بھی موضوع بحث بنا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے دو پہلو ہیں۔ اول سوشل میڈیا کا کردار اور اثرات، دوم کسی بھی معاشرے میں اسے استعمال کرنے والوں کی ذمے داریاں ہیں۔ عمومی طور پر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر انفرادی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے اور مختلف لوگوں سے تبادلۂ خیال کر کے حالات حاضرہ پر رائے قائم کی جاتی ہے۔
جبکہ کچھ صارفین، گروپ کی شکل میں کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ انفلوئینسرز کی صورت اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور یہ دونوں بعض اوقات کسی مخصوص ایجنڈے پر غیر محسوس انداز میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور دونوں گروپس اپنے اپنے حق میں دلائل دیتے ہوئے ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور بات لڑائی جھگڑے، طعن و تشنیع اور بعض اوقات گالم گلوچ تک جا پہنچتی ہے جبکہ سوشل میڈیا کے استعمال پر بننے والی فلمیں اور ڈراموں سے نوجوان اس کے منفی استعمال کو زیادہ سیکھ رہے ہیں۔

