شہزادی ثریا جہاں بخت
رسالدار اول حاکم بہجت زرہ اور آہنی خول پہنے سب سے آگے موجود تھا جس کی لوہے کی جالی اس کی گردن سے ہوتی ہوئی شانوں پر گر رہی تھی۔ وہ اپنی بھاری اور غضب ناک آواز میں نعرہ لگاتا تو اس کی نیش عقرب کی طرح اٹھی، ضربت کاری کو تیار مونچھوں پر بھی دو دھاری زہر آلود خنجر کا گماں ہوتا تھا۔
شہزادی ثریا جہاں بخت اپنے جانباز دستے کے ساتھ مخصوص جگہ پر موجود تھی۔ حکمت عملی طے پا چکی تھی۔ بس جیت خدا کے ہاتھ تھی۔
مونکھ گن باتر لشکر کے مغربی جانب اپنے دستے کے ساتھ میدان کا جائزہ لینے کو موجود تھا۔ اس کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا۔ اس کے ہی کیا۔ یہ سوجی آنکھوں اور چپٹی ناک والوں کے چہروں پر کبھی کسی نے بوکھلاہٹ یا پریشانی کم ہی دیکھی تھی۔ مارتے یا مر جاتے۔ اظہار کم ہی ہوتا تھا ان کے یہاں کسی بھی جذبے کا۔ ان کا سپہ سالار بھی مسلسل صف اول کا ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا چکر لگا کر جنگ جوؤں کا خون گرما رہا تھا۔ اول دستے نے آہنی خول کے بجائے کپڑے کے غلاف منہ پر چڑھائے ہوئے تھے جن پر کسی دیوتا کا منہ بنا ہوا تھا۔ دیکھنے پر یوں معلوم ہوتا تھا کہ دیوتا طنزاً مسکرا رہا ہے۔
نقارہ بجا اور دونوں جانب سے غبار اٹھا۔ دستگیر عالم کے اول دستے، نیزوں کا رخ دشمن کے لشکر کی جانب کیے ڈھال بدست تھے مگر دشمن لشکر کے اول دستوں کے دونوں ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ حاکم بہجت نے اپنی تلوار بلند کی تو تیر اندازوں نے کمانیں کھینچ لیں۔ وہ اشارے کے منتظر تھے۔ ابھی حاکم کی تلوار نیچے نہ آنے پائی تھی کہ یک لخت دشمن کی صف اول کے پیچھے دوڑتے سوار اپنے اپنے گھوڑوں کی پشت پر کھڑے ہو گئے اور اس برق رفتاری سے تیر برسانے لگے کہ ان کے ہاتھوں کی حرکت اور کمان سے تیر نکلنے کے وقت میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا۔
حاکم بہجت نے فوراً تیر اندازوں کو اشارہ کیا اور ادھر سے بھی تیروں کی بارش ہونے لگی۔ یوں دوڑتے گھوڑوں پر متوازن رہ کر تیر اندازی کرنا ان پہاڑی جنگلیوں کا ہی خاصہ تھا۔ چشم فلک تو یہ نظارہ دیکھ چکی تھی مگر دستگیر عالم شاہ کے لشکر نے ایسا کرتب پہلے نہ دیکھا تھا۔ لشکروں کا ٹکراؤ قریب تھا۔ تیروں سے چھلنی سپاہی گرتے جا رہے تھے اور اپنے ہی لشکر کے گھوڑوں کے سموں تلے ان کے لاشے روندے جا رہے تھے۔ بھاگتے ہوئے گھوڑے کا سم جب کسی زخمی کے سینے پر پڑتا تو اسے اس کی کمر سے ملا دیتا اور ہڈیاں واقعتاً سرمہ بن جاتیں۔
ٹکراؤ سے لمحہ پہلے گن باتر کے دستہ اول کے آدھے سپاہیوں نے، جن کے چہروں پر دیوتا کی شکل کا غلاف تھا، ہاتھ سینے پر سپاس گزاری انداز میں جوڑے اور دونوں ہاتھوں میں موجود تلواروں کو افقی رخ میں تھام لیا۔ باقی آدھے گھوڑوں پر ہی کمر کے بل ہو گئے اور اسی رخ تلواریں پکڑ لیں۔ آخر کو گھمسان کا رن پڑ گیا۔ گن باتر کے اول دستوں کی یہ بناوٹ دستگیر عالم کے لشکر کے لیے خون کا رنگ لے آئی۔ جن کی تلواریں اوپر تھیں وہ گلے کاٹتے جا رہے تھے، جن کی تلواریں نیچے تھیں وہ پہلو کاٹتے جا رہے تھے۔ چپٹی ناک والے دستگیر عالم کے لشکر کی صفوں کو چیرتے جا رہے تھے۔ صورت حال خطر ناک حد تک پہنچنے والی تھی۔
شہزادی ثریا جہاں بخت نے یہ سب دیکھ کر اپنی کمان میں تیر پرو لیا۔ کچھ دیر اور میدان کی طرف دیکھا کہ ابھی دشمن کا لشکر مقررہ جگہ تک نہیں پہنچا تھا۔ آخر جنگل کی جانب نشانہ لیا اور تیر چھوڑ دیا۔ وہ تیر ایک مخصوص جگہ پہنچ کر ایک درخت میں پیوست ہو گیا۔ وہاں پہلے سے موجود دستہ وہ تیر دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ وقت آ گیا ہے۔ ہر طرف ہل چل مچ گئی۔ چھکڑوں پر سے سبز ترپال ہٹائی گئی تو اس کے نیچے سے کئی گز لمبی مضبوط لوہے کی نال نکلی۔ اس میں دو سوراخ تھے اور دہانہ بھی تقریباً گز بھر کا تھا۔ تمام دستے نے گھسیٹ کر وہ نال چھکڑوں سے اتار کر پہلے سے بنے چبوترے پر اس رخ رکھی جہاں سے شہزادی کا تیر آیا تھا۔
ایک سوراخ میں لوہے کے بڑے بڑے گولے رکھ دیے گئے تھے اور دوسرے میں کالا سفوف بھر دیا گیا۔ اتنے میں شہزادی کا دوسرا تیر اسی جگہ آ کر پیوست ہو گیا۔ یہ آخری اشارہ تھا۔ کالے سفوف کو آگ دکھائی گئی اور ایک دل دہلا دینے والا دھماکہ ہوا۔ پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔
حاکم بہجت کٹتے لشکر کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے گھوڑے کا رخ سالاری دستے کی جانب موڑا اور قریب پہنچتے ہی اس نے شہزادی کو تیر جنگل کی طرف چھوڑتے دیکھا تو سکون کی سانس لی۔
اپنے لشکر کی خون ریزی دیکھ کر گن باتر کے چہرے پر اطمینان مزید پھیل رہا تھا کہ اچانک جنگل کی طرف سے ایک آگ کا بگولہ آیا اور اس کے سپاہیوں کے پرخچے اڑا گیا۔ منجنیق کا استعمال تو دونوں لشکروں میں ہو رہا تھا لیکن یہ ایسا تیز گولہ کہاں سے آیا۔ اور پھر مسلسل آنے لگا۔ یہ آگ کے گولے اس کے اطمینان کو پگھلا رہے تھے۔ اس کو اب نرم ریت اور مٹی والی ٹیلے کی حکمت عملی سمجھ آ گئی تھی۔ اس کا لشکر واپس آنے کی بجائے ٹیلے کی طرف بھاگ رہا تھا۔ اور وہاں خندقوں میں لگے نیزے ان کا انتظار کر رہے تھے۔
حاکم بہجت نے دوبارہ پوری قوت سے دشمن کے منتشر لشکر پر دھاوا بول دیا۔ منصوبے کے مطابق وہ انھیں ٹیلے کی طرف دھکیلنے میں کامیاب ہو رہا تھا۔ لیکن اسی وقت اس نے لال پھریروں والے علم بلند دیکھے جن کا رخ جنگل کی طرف تھا۔ یہ مونکھ گن باتر کے جان بازوں کا دستہ تھا۔ اسی اثناء میں شہزادی جہاں بخت نے بھی وہ پیش قدمی دیکھ لی تھی اور اس کی سرکوبی کے لیے اپنے دستے سمیت جنگل کی جانب بڑھ رہی تھی۔
گن باتر نے جنگل سے آگ اگلنے والی بلا سے خود نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے دستے سمیت جنگل میں اتر گیا۔ اسے شمال سے چکر کاٹ کر آنا پڑا تا کہ گولوں کی زد میں نہ آئے۔ آخر وہ ہتھیار نظر آ گیا جو آگ اگل رہا تھا۔ دستے آمنے سامنے تھے اور دوبدو لڑائی شروع ہو چکی تھی۔ گن باتر نے دیکھا کہ دشمن فوج کا سپہ سالار بھی وہیں موجود ہے۔ اس نے پیش قدمی کی اور سپہ سالار پر حملہ کیا۔ اسے لگا کہ وہ اس کا ہر وار پہلے سے جانتا ہے بالکل کسی نظم یا شاعری کے ٹکڑے کی مانند کہ ایک بول کے بعد دوسرا بول کس ترکیب سے آنا ہے۔ وہ اس کی بہادری کا قائل ہو گیا۔
کہیں تلواروں سے اور کہیں دست بہ دست لڑائی جاری تھی کہ تیروں کی ایک بوچھاڑ آئی اور آگ اگلتی نال پر کھڑے سپاہیوں کے گلے چیرتی ہوئی نکل گئی۔ ایک کے ہاتھ میں کالا سفوف اور دوسرے کے ہاتھ میں مشعل تھی۔ کالے سفوف کی بوری پھٹ گئی اور ضرورت سے زیادہ مقدار نال میں چلی گئی۔ اس پر مشعل گری تو پورا جنگل تو کیا میدان کار زار دہل کر رہ گیا۔ نال مکمل طور پر پھٹ گئی۔ جو قریب تھے ان کے تو ٹکڑے بھی نہ ملے۔ گن باتر اور شہزادی زیادہ قریب نہ تھے۔ شہزادی کا آہنی خول سر سے اتر چکا تھا اور وہ ایک درخت کے سہارے بے ہوش پڑی تھی۔
دھماکے کی آواز سنتے ہی دونوں لشکروں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ دستگیر عالم کا لشکر بہرحال اپنے حواسوں میں تھا کہ ان کا بادشاہ سلامت تھا۔ البتہ دشمن لشکر کو اپنا بادشاہ کہیں دکھائی نہ دے رہا تھا اور وہ ٹیلے کی طرف دھکیلے جا رہے تھے جہاں ان کو جانے سے منع کیا گیا تھا لیکن دستگیر عالم کا لشکر انھیں گھیرے ہوئے تھا۔
ہر طرف موت کی عمل داری تھی۔ گن باتر کو ہوش آیا تو اس کی نظر دھندلا رہی تھی۔ دھماکے کی آواز اور صدمے سے اس کا ذہن ماؤف تھا۔ مشکل سے اٹھ کر اس نے حواس مجتمع کیے تو اسے یقین نہ آیا۔ اسے تھوڑی دور پر درخت کے نیچے سپہ سالار کی ذرہ میں ایک دوشیزہ بے ہوش پڑی نظر آئی۔ اس نے آنکھیں مل مل کر دیکھا مگر ہنوز وہ وہیں موجود تھی۔ خون اور مٹی سے آلودہ چہرے پر لچھے دار گیسو لہرا کر زندگی کی خوب صورتی کا پتہ دے رہے تھے۔
لوگ کٹ رہے تھے، گردنیں اڑ رہی تھیں، لاشیں خاک و خوں میں لت پت دوڑتے گھوڑوں تلے روندی جا رہی تھیں مگر گن باتر کے لیے وقت رک گیا تھا۔ اسے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ صرف اس کی ماں کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ لوری جو وہ اپنی مقامی زبان میں اسے سناتی تھی۔ اس کا دماغ پرسکون ہو گیا تھا اور چشم زدن میں اس نے فیصلہ کر لیا۔
ہتھیار کے ساتھ موجود دستہ مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا لیکن دشمن کے لشکر کو مکمل طور پر ٹیلے کی طرف دھکیلا جا چکا تھا۔ گن باتر چاہتا تو میدان میں واپس جا سکتا تھا اور اس کا لشکر اس کو دیکھتے ہی دوبارہ میدان مار سکتا تھا مگر پھر گن باتر کے ذاتی دستے سے ایک سپاہی میدان میں آ کر گلا پھاڑ کر چلایا
”شکست شکست، واپس دوڑو واپس دوڑو“ ۔
یہ سنتے ہی چپٹی ناک اور سوجی آنکھوں والوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا۔ جو بچ سکے وہ نکل گئے۔ باقی تمام کچی اور نرم مٹی سے ڈھانپی ہوئی خندقوں میں دھکیل دیے گئے جہاں عمودی رخ پر گڑھے نیزوں نے ان کا استقبال کیا۔
جنگ کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ دشمن نے پسپائی اختیار کر لی تھی اور بچا کھچا لشکر واپس بھاگ رہا تھا۔ دستگیر عالم شاہ اور حاکم بہجت نے میدان، جنگل اور ٹیلے سے ملنے والی ایک ایک لاش دیکھی لیکن شہزادی ثریا جہاں بخت کا کوئی نشان نہ ملا۔ پہلے وہ ان افواہوں پر کان نہیں دھر رہے تھے کہ مونکھ گن باتر جب بھاگا تو اس کے گھوڑے پر اس کے علاوہ بھی کوئی تھا۔ لیکن اب ان کو پریشانی نے آن گھیرا تھا۔
کسی جنگ میں حکمت عملی چل جاتی ہے اور کسی میں خدائی مدد۔ اس جنگ میں شاید بے دلی سے چڑھائی گئی بھینٹ نے کام دکھا دیا تھا۔

