پاکستان میں وزرائے اعظم کی تاریخ اور عمران خان کا اقتدار


پاکستان میں آج تک کسی بھی وزیراعظم نے اپنے پانچ سالہ اقتدار مکمل نہی کیے ہیں۔ سوائے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے والے جرنیلوں نے ایک ایک دہائی تک اقتدار کا مزہ لیا ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان ہوں یا شہید ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئی مگر پانچ سالہ مدت پوری نہ کر سکی۔ مسلم لیگ کے نواز شریف تین بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے ہیں مگر تینوں بار وزیراعظم بننے کے بعد اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔

دو مرتبہ حکومت ختم کردی گئی اور تیسری بار نا اہل قرار دے کر نکالا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمجھ رہے تھے کہ وہ وزیر اعظم کی پانچ سالہ مدت پوری کریں گے اور 2023 کے انتخابات میں دوبارہ الیکشن جیت کر وزیر اعظم بن جائیں گے۔ شاید مارچ اس کے لئے آخری مہینہ ثابت ہو۔ اگر عمران خان اقتدار چھوڑ کر مستعفی ہوتے ہیں تو ٹھیک عدم اعتماد کی چھری بھی پہلے سے تیز کردی گئی ہے۔ اگر عدم اعتماد جس سے لگتا ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے گی لیکن اپوزیشن کے اسلام آباد میں دھرنے بھی شروع ہو گئے ہیں۔

جے یو آئی، نواز لیگ اور پیپلز پارٹی اب عمران خان کا پیچھا چھوڑنے والی نہیں ہیں۔ ایک نظر ڈالتے ہیں پاکستان میں پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے اقتدار مدت سے پی ٹی آئی کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی اقتدار تک۔ پاکستان آزاد ہونے کے بعد ہندوستانی نزاد اردو زبان سے تعلق رکھنے والے لیاقت علی خان کو گورنر جنرل آف پاکستان نے 15 اگست 1947 ع کو پہلا وزیر اعظم منتخب کیا۔ لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 ع کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں میں شہید کیا گیا کر دیا گیا۔

لیاقت علی خان 15 اگست 1947 ع سے 16 اکتوبر 1951 تک چار سال تک اقتدار میں رہے۔ دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین 17 اکتوبر 1951 ع سے 17 اپریل 1953 تک دو سال اقتدار میں رہے۔ تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ 17 اپریل، 1953 ع سے 12 اگست 1955 ع تک 2 سال اقتدار میں رہے۔ چوتھے وزیراعظم پاکستان چوہدری محمد علی 12 اگست 1955 سے 12 سیپٹمبر 1956 ع ایک سال کے لئے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔ پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی 12 سیپٹمبر 1956 ع سے 17 اکتوبر 1957 ایک سال تک اقتدار میں رہے۔

چھٹے وزیر اعظم پاکستان ابراہیم اسماعیل چندریگر 17 اکتوبر 1957 سے 16 ڈسمبر، 1957 ع تک پانچ ماہ تک اقتدار میں رہے۔ ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون 16 ڈسمبر 1957 ع سے 7 اکتوبر 1958 تک ایک سال تک اقتدار میں رہے۔ 6 شخصیات 1951 ء سے 1958 ء تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں اور ان کے بعد صدر پاکستان اسکندر مرزا نے 1958 ع میں اس عہدے کو ختم کر دیا۔ پھر جنرل یحییٰ خان نے 8 ویں وزیر اعظم نور الامین کو 7 ڈسمبر 1971 ع کو وزیر اعظم بنایا جو 20 ڈسمبر 1971 ع تک 13 روز کے لئے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔

ملک میں عام انتخابات ہوئے۔ پاکستان کا 9 واں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو انتخابات میں اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے وزیر اعظم منتخب ہوئے جو 14 اگست 1973 ع سے لے کر 5 جولائی 1977 ع تک چار سال وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کیا۔ لیاقت علی خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو دوسرے وزیراعظم تھے جو اقتدار کے دوران پھانسی دے کر شہید کر دیے گئے۔ ضیاء الحق نے 1977 ء میں وزیراعظم کے عہدے کو ختم کرتے ہوئے خود چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر بیٹھ گئے۔

جنرل ضیاء الحق نے 10 ویں وزیر اعظم کے لئے محمد خان جونیجو 24 مارچ 1985 کو نامزد کیا اور 29 مئی 1988 ع کو اسے بھی رخصت کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق جہاز حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ 88 ع کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے دی گئی اور یوں محترمہ بے نظیر بھٹو 11 ویں وزیر اعظم پاکستان کی پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم منتخب ہوئی۔ آپ 2 ڈسمبر 1988 ع سے 6 اگست 1990 ع تک دو سال تک اقتدار میں رہیں۔ آپ کے اقتدار کا خاتمہ کیا گیا۔

محترم غلام مصطفیٰ جتوئی کو پہلا نگران وزیراعظم بنایا گیا جو 6 اگست 1990 سے 6 نومبر 1990 ع چار ماہ تک نگران وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔ 12 وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف 6 نومبر 1990 ع سے 18 اپریل 1993 ع تک تین سال کے لئے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔ نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ کیا گیا جس کے بعد دوسرا نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری بنے جو 18 اپریل 1993 ع سے 26 مئی 1993 تک ماہ کے لئے نگران وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔

1993 ع میں بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئی اور دوران اقتدار اپنے ہی صدر نے تختہ الٹ دیا۔ پھر نواز شریف دوسری بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے 1998 ع میں سابق صدر پرویز مشرف نے نواز شریف کا تخت الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ مشرف کی بغاوت کی وجہ سے 2002 کے انتخابات کے بعد میر ظفر اللہ خان جمالی کے اس عہدے پر آنے تک یہ عہدہ خالی رہا۔ بلوچستان سے منتخب میر ظفر اللہ جمالی 21 نومبر 2002 ع سے 26 جون 2004 ع تک دو سال کے لئے وزیر اعظم رہے۔

سابق صدر پرویز مشرف سے اختلاف ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا گیا۔ 14 واں وزیر اعظم پاکستان چوہدری شجاعت حسین دو ماہ کے لئے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے، 30 جون 2004 ع سے 20 اگست 2002 ع تک اقتدار پر رہے۔ جس کے بعد پرویز مشرف کی جانب سے شوکت عزیز کے لئے میدان تیار کیا گیا۔ شوکت عزیز 15 واں وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے۔ 20 اگست 2004 ع سے 16 نومبر 2007 تک عہدے پر فائز رہے۔ نئے الیکشن کے لئے محمد میاں سومرو کو پانچواں نگران وزیر اعظم مقرر کیا گیا جو 16 نومبر 2007 ع سے 25 مارچ 2008 ع تک پانچ ماہ تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

2008 ع میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد انتخابات میں پیپلز پارٹی اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور یوں سید یوسف رضا گیلانی کو 16 واں وزیر اعظم پاکستان منتخب کیا گیا۔ جو 25 مارچ 2008 ع سے 26 اپریل 2012 تک چار سال اقتدار میں رہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدالت میں ایک مقدمہ میں سزا دی اور نا اہل قرار دے دیا گیا اور یوں وزیر اعظم کے منصب سے فارغ ہو گیا۔

پیپلز پارٹی نے 17 واں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو منتخب کرایا جو کہ 22 جون 2012 ع سے 2013 تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے۔ میر ہزار خان کھوسہ 6 نگران وزیر اعظم بنا جو نواز لیگ کے میاں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم پاکستان بنے جو 5 جون 2013 سے 28 جولائی 2017 ع تک چار سال اقتدار میں رہے۔ پاناما لیکس میں اقامے میں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نا اہل قرار دے دیا گیا۔ اور نواز لیگ کی جانب سے شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم پاکستان بنے جو پہلی اگست 2017 سے 31 مئی 2018 ع تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے۔

25 جولائی 2018 ع کو عام انتخابات ہوئے پاکستان تحریک انصاف کامیاب ہوئی عمران خان وزیر اعظم پاکستان بنے جو مارچ 2022 تک بھی برقرار ہے۔ وزیراعظم کے خلاف اس وقت اپوزیشن جماعتیں نواز لیگ۔ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے دیے گئے ہیں۔ عمران خان نے بھی 27 مارچ کو اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی ہے۔ جس پر 28 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جلسے میں مستعفی ہونے کا اعلان کریں اور نئے الیکشن کا فیصلہ کریں۔ مگر یہ بات طے ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تیاری مکمل کرلی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ لیاقت علی خان سے لے کر نواز شریف تک کسی وزیر اعظم نے اپنی مدت پوری نہی کی۔ کوئی شہید ہو گیا تو کوئی مستعفی اور کسی کو ہٹایا گیا۔ عمران خان بھی وزیر اعظم کی پانچ سالہ مدت پوری کرتے ہیں ہٹائے جاتے ہیں یا مستعفی ہوتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے جہاں اپنے اتحادیوں نے جدائی کی ہے وہیں پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی دوری اختیار کرلی ہے۔ وہ اپنے اقتدار کے بچانے کے لئے جہاں بنی گالا میں مرغیوں جلا کر جادو ٹونے سے کام لے رہے ہیں وہیں پر ایڑی چوٹی کا بھی زور لگا رہے ہیں کہ شاید ہی کوئی معجزہ ہو جائے۔ اس وقت اسلام آباد میں جہاں آج عمران خان پریڈی گراؤنڈ میں جلسہ کر رہے ہیں وہیں پر مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز صاحبہ بھی جلوسوں کے ساتھ پہنچ گئی ہیں۔ شاید اس بار مولانا فضل الرحمان خالی ہاتھ مشکل واپس ہوں۔ بہرحال پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی وزیر اعظم اپنے پانچ سالہ مدت پوری نہی کر سکتا۔ منتخب ہونے والے وزراء اعظم کو یہاں جیل، پھانسی، گولی سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

Facebook Comments HS