پاپڑ بچنے والے کی دو ادھ کھلی آنکھیں


آپ نے وہ ادھ کھلی آنکھیں دیکھی ہیں زندگی کی رمق سے عاری بجھی ہوئی خشک آنکھیں۔ مایوسی اور نا مرادی کی گہری چادر اوڑھے ہوئے پریشان چہرے کی دو خاموش آنکھیں۔ مگر یہ آنکھیں خاموش نہیں ہیں یہ تو گواہی دے رہی ہیں ہماری بے حسی اور بے غیرتی کی۔ یہ ثبوت پیش کر رہی ہیں کہ ہم ایک جنونی وحشی قوم ہیں۔

ہلاکو چنگیز خان اور فرعون تو اپنے اپنے وقت میں ایک ایک تھے یہاں تو پوری قوم ہی چنگیزیت اور فرعونیت کا شکار ہے بلکہ ہلاکو چنگیز خان اور فرعون کو شرمندہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آتی ہے۔ دیکھیں پتوکی کے شادی ہال میں پاپڑ بچنے والے کی تشدد زدہ لاش زمین پر پڑی ہے اور باراتی کھانا کھا رہے ہیں، سو چیں ان دو آنکھوں میں یاسیت تو ہے ہی پر ان دو آنکھوں کو دیکھنے کے لئے کسی ٹوٹے پھوٹے گھر میں چھے آٹھ پریشان آنکھیں روٹی کا انتظار کر رہی ہوں گی۔

ان دو آنکھوں نے سوچا ہو گا کہ پاپڑ بک گئے تو گھر جاتے ہوئے کچھ کھانے کو لیتا جاؤں گا مگر اب تو یہ ایک لاش کی آنکھیں ہیں جو زندہ لاشوں کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ دیکھیں اس لاش کی آنکھیں پتھرائی ہوئی نہیں ہیں یہ سوال کرتی ہوئی بے نور آنکھیں ہیں۔ ان میں کچھ نئے کچھ پرانے دھند لائے ہوئے مناظر ہیں۔ ان مناظر میں بے شمار چہرے ہیں، بے شمار سوال ہیں، بے شمار حسرتیں ہیں بے شمار کاش ہیں۔ یہ دیکھیں مشال کا چہرہ۔

کاش کسی نے مشال کے قتل پر قاتلوں کے ہاتھ توڑ دیے ہوتے تو یہ آنکھیں بے نور نہ ہوتیں۔ دیکھیں ان دو بھائیوں کو کاش ان دو بھائیوں کے قتل پر قانون حرکت میں آ گیا ہوتا۔ کاش مینار پاکستان پر نہتی لڑکی کو نوچنے بھمبھوڑنے اور ہوا میں اچھالنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا گیا ہوتا۔ یہ دیکھیں سری لنکن مینیجر۔ کاش سری لنکن مینیجر کے قتل پر صرف شرمندگی کے اظہار کے بجائے کسی کو سر عام سزا بھی ملی ہوتی۔ یہ دیکھیں ذہنی طور پر معذور شخص۔ کاش ذہنی معذور شخص کے قتل پر کسی کو نشان عبرت بنایا گیا ہوتا۔ تو آج یہ دو آنکھیں روشن ہوتیں

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خاموشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

کے مصداق بے وقعت کیڑے مکوڑوں کی طرح کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کاش عورتوں اور بچوں پر تشدد کے واقعات پر کسی کو سزا ہوئی ہوتی۔ کوئی مجرم عدم ثبوت کی بنا پر رہا نا ہوا ہوتا، کاش جب مظلوموں کو مارا کچلا گھسیٹا جلایا اور مضروب کیا جا رہا تھا تو کسی انسان نے آگے بڑھ کر ظالم کا ہاتھ روک لیا ہوتا۔ کاش مگر ہم تو کسی کو بھی ہشت پا کی طرح جکڑ اس کا سانس بند کر سکتے ہیں کسی کی بھی گردن پر پاؤں رکھ کر اس کا دم گھونٹ سکتے ہیں۔

بس کردو۔ خدا کے لئے بس کردو یہ دشنام طرازی، بد زبانی طعنہ زنی اور اشتعال انگیزی۔ بس کردو نہیں چاہیے۔ مار دو، جلا دو، رگڑ دو، گھسیٹو۔ رحم کردو، ۔ ”ریاست مدینہ“ کا استعمال بند کردو۔ توہین ہوتی ہے لفظ ریاست مدینہ کی۔ کہاں وہ ٹھنڈی ریاست مدینہ کہاں قوم کے نام پر بپھرے ہوئے منتشر مشتعل لوگوں کا ہجوم۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ گھر کا سربراہ جس مزاج کا ہوتا ہے سارے بچے وہی مزاج اپنا لیتے ہیں۔ وہ جو خود کو باپ سمجھے اور جس کی زبان سے شعلے برسیں جو دوسروں کی تحقیر کو گفتگو کی شان سمجھے۔

جہاں مشیر خاص اپنے لفظوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے رنڈی اور دلال کی توجیہ پیش کرنے لگے۔ جہاں ہر بڑا دوسرے بڑے کے لئے بازاری زبان استعمال کرے اور میڈیا سارا دن اسے عوام کے سامنے پیش بھی کرتا چلا جائے تو دیکھنے سننے اور بھگتنے والوں کی بلڈ کیمسٹری تبدیل ہونے لگتی ہے جہاں شخصیت پرستی عروج پر ہو وہاں پیروکار بھی وہی زبان اور طور طریقے اپناتے چلے جاتے ہیں۔ دیکھ لیجیے سوشل میڈیا پر مخالفین پر گالیوں کی بوچھاڑ۔

دل ایک دو دن میں سیاہ نہیں ہوتے یہ برسوں کا تسلسل ہوتا ہے۔ کاش اونچے ایوانوں سے کرپشن چوری عدم اعتماد کی آوازوں کے ساتھ کہیں دو بول ان ادھ کھلی خاموش آنکھوں کے لئے بھی ادا ہو جاتے۔ کم از کم ان دو آنکھوں کی منتظر چھ آٹھ آنکھوں کی کفالت کا اعلان ہی ہو جاتا مگر کیسے امیر شہر کو تو اونچا سنائی دیتا ہے۔ کاش کہ کوئی ایسا بھی لیڈر ہوتا جو اس بپھری ہوئی قوم کی انسان سازی کرتا، کردار سازی کرتا۔ انھیں انسان سے محبت کرنا سکھا دیتا۔

انھیں بتا دیتا کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔ کاش اس بپھرے ہجوم میں اتنی انسانیت پیدا کر دیتا کہ انھیں معلوم ہوتا کہ اگر زمین پر کسی غریب کی تشدد زدہ لاش پڑی ہو تو اس کے سامنے کرسیوں پر بیٹھ کر کھانا کھانا غیر انسانی سا فعل ہے۔ کوئی انسان ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ کیا ہم ایک بد لحاظ بدکردار مشتعل اخلاق باختہ قوم ہیں۔ بس یہی اک خیال ہے پریشان مجھ میں۔

Facebook Comments HS