اے صاحب بہادر امریکہ تیرا ہم پر احسان ہے
جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو وہ اپنے بچکانا فیز میں بہت ہنگامہ خیزیاں کرتا ہے، کبھی مٹی منہ میں ڈال لیتا ہے تو کبھی کچھ توڑ دیتا ہے اور سونے سے پہلے تک اپنے بچپن کے مشن پر کار بند رہتا ہے اور جب والدین سمجھتے ہیں کہ اب بچے کو سو جانا چاہیے، بہت ہو گیا وہ سلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ اپنی حرکتوں میں محو ہوتا ہے تو اسے ڈرانے کی کوشش کرتے ہوئے ماں کہتی ہے کہ سو جاؤ ورنہ ”باؤ، جن یا ڈوگی“ آ جائے گا تو بچہ دبک کر سو جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک کے سیاست دانوں نے بھی اپنے سیدھے سادے عوام کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک مستقل ”باؤ“ یعنی ڈرانے والے استعارہ کے طور پر ”امریکہ“ کو رکھا ہوا ہے۔
سیاست کے کسی بھی موڑ پر جب کسی سیاستدان و پارٹی کے خلاف سازش ہوتی ہے یا اقتدار کے حصول کا معاملہ درپیش ہوتا ہے تو فوری طور پر اینٹی امریکہ کمپین لانچ کر دی جاتی ہے اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جانے لگتی ہے کہ امریکہ ہمارے خلاف سازشیں کر رہا ہے اور ہمیں کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور ہمارے عوام جیسے ہی امریکہ اور اسرائیل کا نام سنتے ہیں تو چارج اپ ہو جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ایک ایسے کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں جو اقتدار کے بھوکوں نے اپنے لئے رچایا ہوتا ہے۔
وہ نفرت کے اس کھیل کے بعد اقتدار کی صورت میں اپنا ٹارگٹ حاصل کر لیتے ہیں اور نعرے لگا کر ہلکان ہونے والے عوام ہمیشہ سے خالی ہاتھ ہی رہ جاتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کو بار بار مذہب کا تڑکا لگا کر ایموشنل فول بنایا جاتا رہا ہے اور ہمیں وہ کچھ دکھایا گیا جس کا زمینی حقائق سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اور آج ہمارا معاشرہ اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ اب ہمارے اندر ہر قسم کا جھوٹ سننے اور ہضم کرنے کا وافر حوصلہ موجود ہے اور المیہ یہ ہے کہ ہمیں ایک ایسی جذباتی قوم بنا دیا گیا ہے جن میں چیلنج کرنے کا حوصلہ ہی برقرار نہیں رہا اور ہر قسم کا بل شٹ ہمارے لئے قابل قبول ہوتا ہے۔
آج ہمارے خان صاحب بھی وہی کارڈ استعمال کر رہے ہیں جس کا چلن ہم شروع سے دیکھتے آرہے ہیں۔ ”مثلاً مذہب کارڈ اور دوسرا امریکہ کارڈ“ لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ خدانخواستہ اگر خان صاحب اقتدار سے ہاتھ دھوتے ہیں تو مسلم امہ ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو جائے گی اور اس خطرناک منصوبے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ مذہب کو استعمال کیے بغیر اور نفرت کا پرچار کیے بغیر ہماری کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اور المیہ کہہ لیں یا سونے پر سہاگہ، کہ ہمارے مولانا طارق جمیل بھی ایک غیبی طاقت کے طور پر خان صاحب کا کریکٹر سرٹیفکیٹ لے کر میدان میں کود پڑے تھے۔
مذہب کی آڑ میں سب چلتا ہے بھلا ان سے پوچھنے کی جسارت کون کر سکتا ہے؟ کس میں اتنا دم خم ہے؟ دراصل ہر برانڈ کے یہ مذہبی طبقے اقتدار کے وہ چھپے رستم یا مہرے ہوتے ہیں جنہیں طاقت کے مراکز ضرورت پڑنے پر اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے پریشر گروپ کا کردار نبھاتے ہیں جو مذہبی کارڈ کے ذریعے سے کسی پر بھی توہین مذہب کا الزام لگا کر یا دینی احکام کا مذاق اڑانے کا شوشہ چھوڑ کر کسی کی بھی سٹریٹ پاور میں اضافہ کر کے اقتدار کا مرحلہ آسان بنا دیتے ہیں اور بعد میں اپنا حصہ وصول کر لیتے ہیں۔
مذہب اور طاقت کے گٹھ جوڑ سے ہی ہمارے ہاں حکومتیں بنتی ہیں اور تہہ اقتدار طاقت کے پارٹنرز کے درمیان کیا کیا تماشے ہوتے ہیں عوام کو ان بھول بھلیوں سے دور رکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ادویات کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح عوام کو بھی اقتدار کی راہداریوں میں ہونے والے طاقت کے ڈراموں سے دور رکھا جاتا ہے ۔ امریکی سازشوں کا چربہ بشمول مذہبی کارڈ ہمارے نعروں میں ایندھن کا کام کرتا ہے جس کی وجہ سے اقتدار کا جہاز سیاست کی بساط پر لینڈ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
جہاں خان صاحب امریکی سازشوں کا تذکرہ کر رہے ہیں وہیں انھیں اپنی جنتا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ ان کی کیبنٹ میں کتنے وزیراعظم امریکا سے امپورٹ کیے گئے ہیں؟ جن کا کاروبار ہی امریکہ میں ہے۔ ویسے کمال نہیں ہے کہ ہم اپنے لیے کرائے کے بندے بھی امریکا سے منگواتے ہیں اور سازش بھی وہی ہمارے خلاف کرتا ہے؟ اقتدار کی کشتی ڈوبتے دیکھ کر خان بریگیڈ اس قسم کا واویلا مچا رہی ہے کہ ”میری کردار کشی کی جائے گی، میری جان کو خطرہ ہے، میرے متعلق غلط قسم کی باتیں پھیلائی جائیں گی“ وغیرہ وغیرہ۔
ویسے سیانے بندے کہہ گئے ہیں۔ ”تھنک بی فور سپیک“ اب جس کلچر کو آپ نے پروموٹ کیا تھا اس کے ڈومینو افیکٹ یا نتائج تو اب بھگتنا پڑھیں گے کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اسی لئے تو بینظیر صاحبہ نے فرمایا تھا ”ڈیموکریسی از دی بیسٹ روینج“ ایک بات تو حقیقت ہے کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو ہمارا کاروبار حکومت کیسے چلتا؟ تو یہ کہنے میں کیا حرج ہے کہ صاحب بہادر امریکہ تیرا ہم پر احسان ہے۔ سچ جان کر جیو چاہیے جتنا بھی تلخ کیوں نہ ہو


