یوٹرن ایکسپریس اپنی منزل پر

ہمارے ’بندوبستی‘ وزیر اعظم لڑکپن سے ہی لاڈلے تھے۔ مشرقی معاشرے میں پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کو لاڈلا ہونا بھی چاہیے۔ اوپر سے موصوف ’ہینڈسم‘ بھی تھے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل بھی تھے اور بائیس سال کرکٹ سے محبت کرنے والے ملک کی کرکٹ ٹیم میں بھی رہے۔ طویل عرصہ اسی ٹیم کے کپتان رہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موصوف کی کپتانی میں ٹیم نے ورلڈ کپ بھی جیت لیا۔ یہ وہ سارے اسباب تھے جنہوں نے موصوف کو دنیائے شوبز، صحافت، سیاست اور سماجی حلقوں میں مقبول و معروف بنائے رکھا۔
انھی اسباب کے پیش نظر موصوف کبھی تماشائیوں پر غصے ہو جاتے تو کبھی ایمپائرز پر۔ کبھی کسی سوال پر صحافیوں کے ساتھ آپے سے باہر ہو جاتے تو کبھی جلسوں اور دھرنوں میں قومی سیاستدانوں کو انتہائی نامناسب اور غیر پارلیمانی الفاظ سے مخاطب کرتے۔ اور کبھی اپنے جلسوں میں اپنے ہی مداحوں کو دھکے دیتے اور مکے مارتے دیکھے جاتے۔
یہ سلسلہ جاری تھا کہ خلائی مخلوق مہربان ہوئی اور موصوف مختصر راستے یعنی شارٹ کٹ سے وزارت عظمیٰ کے انتہائی معتبر اور با وقار منصب پر براجمان ہو گئے۔ اس منصب پر بیٹھنا تھا کہ پہلے جہاں صرف موصوف لوگوں کو لاتیں، مکے اور دھکے مارنے اور گالیاں دینے کے عادی تھے وہاں ان کے تمام پیروکار بھی اسی روش پر چل پڑے۔ پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا سے چن چن کر بد زبان اور بد اخلاق معاونین، وزرا اور مشیر اکٹھے کیے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مخالفین کو دلیل سے چپ کرانے کے بجائے گالی سے خاموش کرانے کا عمل جاری و ساری ہو گیا۔
یہ ٹیم اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے 24 / 7 مخالف جماعتوں کی قیادت کو برا بھلا کہنے کے لیے میڈیا ٹاک میں مصروف پائی جاتی۔ حکومت کے پہلے دن سے مخالفین کے ساتھ بد زبانی کرنا، ان کی نقلیں اتارنا اور روز انھیں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے، حکومت گرانے اور عدم اعتماد کی تحریک لانے کے چیلنج دینا اس ٹیم کا پسندیدہ مشغلہ ٹھہرا۔
وقت نے پلٹا کھایا، اپنی ہی نالائقی کی بنا پر خلائی مخلوق کے ساتھ ہنی مون کا اختتام ہوا اور بالآخر اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لے آئی۔ مذکورہ تحریک سے قبل اپوزیشن کی طرف سے پیدا کردہ ہر طرح کے چیلنج سے چونکہ ’مہربان‘ نمٹا کرتے تھے مگر اب سر سے وہ دست شفقت اٹھ چکا تھا اس لیے اب اس تحریک کا خود ہی سامنا کرنا تھا۔ مفت کی کھائی مگر اتنی جلدی کیسے بھولتی۔ اسی لیے پہلے پہل نفسیاتی حربے کے طور پر اور خود کو پر اعتماد ظاہر کرنے کے لیے جلسے شروع کر دیے۔
مخالفین کو گالیاں دیں اور فرمایا کہ میں مدت سے دعا گو تھا کہ یا اللہ یہ کب تحریک عدم اعتماد لائیں اور میں کب انھیں شکست دوں۔ ایک طرف یہ پالیسی اور دوسری طرف دست شفقت کی طرف مسلسل امداد طلب نگاہوں سے دیکھتے رہے۔ جب ان کی طرف سے مسلسل بے اعتنائی نظر آئی تو یو ٹرن لیا اور انھیں بھی جانور کہہ کر گالیاں دیں۔ گالیوں پر انھوں نے ڈانٹا تو فوراً طبیعت بھی سنبھل گئی اور دوبارہ سے امید بھی بندھ گئی مگر امداد نہ دارد۔
فوراً یوٹرن مارا اور مخالفین پر پیسے پکڑنے اور ضمیر فروشی کا ناٹک شروع کر دیا اور مخالفین کے گھروں پر حملے کرنے، ان کے بچوں کو سکولوں میں سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنے، ان کے بچوں سے شادیاں تک نہ کرنے کے نیچ بیانات داغے۔ اس سے بھی بات بنتی نظر نہ آئی تو اپنا ساتھ چھوڑ دینے والوں کو جنہیں ایک دن پہلے تک، دلے، بے غیرت، رنڈی کے بچے، ضمیر فروش، مکروہ چہرے اور میر جعفر کہا تھا؛ کے والد بن بیٹھے اور ان کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔
یہ وار بھی ناکام گیا تو ایک اور یوٹرن لیا اور مذہب کی چھتری میں پناہ ڈھونڈی۔ خود کو معروف اور اپنے علاوہ تمام کو منکر کی سند دی۔ اس یوٹرن سے بھی دال نہ گلی تو ایک اور یو ٹرن لیا اور آئین کی اس دفعہ کی تشریح کے لیے عدالت کی طرف بھاگے جس دفعہ کو میٹرک پاس شخص بھی تشریح کے بغیر سمجھ جائے گا۔ اس یوٹرن سے بھی کام نہ بنا تو مزید ایک یو ٹرن لیا اور وسیم اکرم پلس کی قربانی پیش کر دی اور ایسے بندے کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا جسے ایک دن پہلے تک موصوف بشمول اپنے گالی بریگیڈ بلیک میلر، موقع پرست، ابن الوقت اور ڈاکو کہہ رہے تھے اور وہ بندہ موصوف کو ’نیپی‘ والا وزیر اعظم کہہ رہا تھا۔ اس سے بھی مصیبت ٹلتی نظر نہ آئی تو ایک اور یو ٹرن کے ذریعے عالمی سازش کا جھوٹ موٹ خط لہرانے کا ڈرامہ رچایا۔ یہ وار بھی خطا گیا تو اس خط کو بنیاد بنا کر قربانی کے بکروں کے کندھے پر بندوق رکھ کر آئین شکنی کی۔
حضور! یہ کیسی عالمی سازش ہے جو شروع میں کسی ملک کے دھمکی آمیز خط کی شکل میں تھی؟ جو بعد میں تبدیل کر کے اپنے ہی سفیر کے ایک خط کو بنیاد بنا کر تیار ہوئی۔ امریکہ کی اس سازش کے باوجود آپ کے وزیر خارجہ اس کے ساتھ شاداں و فرحاں نظر آئے۔ امریکہ کے آفیشیلز کو آپ نے او آئی سی اجلاس میں بطور خاص شرکت کی دعوت دی۔ یہ خط سات مارچ کو آپ کو ملا۔ آٹھ مارچ کو آپ تحریک عدم اعتماد کی قرار داد کو آج کی طرح غیر ملکی سازش کی ایما پر داخل کردہ کہہ کر رول آؤٹ کر دیتے۔
آپ تو مگر بیس دن خط چھپائے بیٹھے رہے۔ بقول آپ کے آپ کو اس معاملے کا اگست یا اکتوبر سے پتا تھا لیکن آپ نے غداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی بلکہ آج سپیکر کے ذریعے انھیں غدار قرار دلوایا۔ کیا اس ملک کے مروجہ آئینی طریقہ ء کار کے مطابق پہلے بھی سپیکر لوگوں کے غداری اور حب الوطنی کے فتوے دیتا تھا یا حکومت مقدمے بناتی اور عدالتیں فیصلے کرتی تھیں؟ موجودہ معاملے میں مروجہ طریقہ ء کار کیوں اختیار نہ کیا گیا؟ حکومت کی تبدیلی کی غیر ملکی سازش کو آپ نے خود ہی عثمان بزدار کو ہٹا کر پرویز الٰہی کو نامزد کر کے کیوں توثیق کی۔ اور بالآخر حکومت تبدیلی کی اسی ’غیر ملکی سازش‘ کو اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہی حکومت کو تحلیل کر کے پورا کر دیا۔
دراصل ہوا یہ ہے کہ آپ نے ساری عمر لوگوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالا تھا اور آپ قطعاً یہ امید نہیں کر رہے تھے کہ اپوزیشن آپ کو گریبان سے بھی پکڑ لے گی۔ جب اپوزیشن نے آپ کا گریبان پکڑا تو آپ کو سرپرائز ملا اور آپ دست شفقت کے انتظار میں روزانہ بونگیاں مارتے رہے اور حتیٰ کہ آج کا دن آ گیا اور آپ نے شدید گھبراہٹ میں گریبان چھڑانے کی کوشش میں اپنا ہی گلا کاٹ لیا۔ جو کچھ آپ نے کیا وہ غیر آئینی ہے۔ وہ سرپرائز نہیں بلکہ سرنڈر ہے۔
خالصتاً آئینی اور دستوری معاملے سے آپ بھاگے ہیں۔ آخر کار آپ کی یوٹرن ایکسپریس آئین شکنی جیسی گھناؤنی منزل پر پہنچ گئی ہے۔ آپ کو تو خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا کہ آپ اپنی فیس سیونگ کے لیے مزید کوئی یوٹرن لے لیں گے لیکن ملک کے دستور کا جو حلیہ آپ نے بگاڑا ہے اور جو کھلواڑ آپ نے اس کے ساتھ کیا ہے اس کے اثرات کئی عشروں تک پھیلے رہیں گے۔ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ اس ملک پر ایک ایسا نیم پاگل انسان بھی حکمران رہا ہے جس کی جھوٹی انا، تکبر، ہٹ دھرمی اور جہالت کی بنا پر ملک کے مقدس دستور کو بھی روندا گیا ہے۔


زبردست نچوڑ عمران خان کی نفسیات اور اتار چڑھاؤ کا۔ امید ہے بےلاگ تحریریں ہمیں اب پڑھنے کو ملتی رہیں گی نیازی صاحب۔
شکریہ جناب۔۔۔
آپ کی حوصلہ افزائی جاری رہی تو ان شاءاللہ لکھتے رہیں گے ۔