آمریت میں وکیل نہیں، جج بولتا ہے


کیا آپ تک حضرت جون ایلیا کا یہ فرمان پہنچا ہے؟ ”ہم ایک ہزار سال سے تاریخ کے دستر خوان پر حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کر رہے“ ۔

نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خواہ اچھا

ادھر ہم نے تاریخ بھی اپنی من مرضی سے لکھی ہے۔ یہی سنتے آئے ہیں کہ مغل بادشاہ اورنگزیب کی پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ وہ ٹوپیاں سی کر اور قرآن مجید کی کتابت سے اپنا کچن چلایا کرتا تھا۔ آڈری ٹروشکی نیو یارک کی ایک یونیورسٹی میں تاریخ کی اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ اس نے پچھلے ہی دنوں ”اورنگ زیب ایک شخص اور فرضی قصے“ کے عنوان سے اپنی کتاب میں اس مغل فرمانروا کی مختلف تصویر کھینچی ہے۔ اس نے اس دیندار لکھے گئے بادشاہ کی رقاصہ ہیرا بائی سے معاشقہ کی دلفریب کہانی بھی خاص طور پر بیان کی ہے۔
ہم محض شاہ پسند نہیں شاہ پرست قوم ہیں۔ ان کا بت بنا کر پوجتے رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی کجی لاغری اور بے ڈھنگا پن دور کرتے رہتے ہیں۔ اب نہ شاہی رہی اور نہ ہی شاہوں کا زمانہ۔ جمہوریت حکمرانوں سے پوچھ گچھ کا نام ہے۔ لیکن ہم اپنے سیاسی قائدین کو پرستش کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے انہیں پرستش کے سنگھاسن میں لا سجاتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے سیاست دان آمر بن جاتے ہیں۔ حالانکہ سیاست ضروری ہی اس لیے ہے کہ کہیں سماج کسی قطعی اور مطلق آمریت کے آگے ہتھیار نہ ڈال دے۔ مشتاق یوسفی کو ایک تقریب میں دعوت کلام قبل از طعام دی گئی تو وہ بولے۔ میں گوشہ نشین بلکہ پردہ نشین ایک مدت سے حجرہ اعتکاف میں ہوں۔ میزبان نے کہا کہ اعتکاف تو مسجد میں ہوتا ہے حجرہ میں نہیں۔ اپنے حجرہ کو مسجد سمجھنا چھوڑیے اور باہر تشریف لے آئیے۔ وہاں موجود ایک اور صاحب بولے۔ آپ نے اپنا یہ حال کیوں بنا رکھا ہے؟ مشتاق یوسفی نے جواب دیا۔ وجہ پردہ نشینی یہ ہے کہ اس قوم پر ڈکٹیٹر آمر جابر، ایوب خان، ضیا ءالحق اور پرویز مشرف یکے بعد دیگر نازل ہوتے رہے ہیں۔ ہر شریف فرد پر ان سے پردہ اور پناہ لازم ہے۔
مشتاق یوسفی کی بات اپنی جگہ درست سہی لیکن کوئی شریف آدمی اس پر افسوس ہی کر سکتا ہے کہ ادھر ان فوجی آمروں سے محبت کرنے والے لوگ بھی بہت ہیں۔ پھر وہ اپنی اس محبت کو کسی ذاتی برائی کی طرح چھپاتے بھی نہیں۔ آپ ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کی بڑی سی تصویر کے نیچے اکثر یہ لکھا بھی پائیں گے۔ تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔ مشتاق یوسفی جیسے اہل علم لوگوں کو صرف فوجی ڈکٹیٹر ہی نظر آتے ہیں۔
جنرل ایوب کے قوم کو دیے گئے باسٹھ کے آئین پر بحث کرتے ہوئے عاصمہ جیلانی کے والد ملک غلام جیلانی نے کہا تھا۔ کہاں کی جمہوریت اور کیسا آئین، آپ سیدھی طرح اپنی بادشاہت کا اعلان کریں۔ آپ ظالم ہوئے تو ہم جنگلوں میں جاکر اللہ کے حضور گڑگڑائیں گے۔ یااللہ ہم یہ عہد جیسے تیسے کر کے گزار لیں گے۔ ہمیں ولی عہد رحم دل عطا کر دنیا۔ ملک غلام جیلانی صدر ایوب کی بنائی گئی قومی اسمبلی میں ساہیوال سے ممبر منتخب ہوئے تھے۔ ان اسمبلیوں کے انتخاب میں صرف بی ڈی ممبر ہی ووٹ دینے کے اہل تھے۔ عام لوگ ان بی ڈی ممبران کو تحقیر سے موری ممبر کہا کرتے۔ اپنے پسندیدہ سیاست دانوں کی غلامی نے ہمیں آزادانہ سوچ سے محروم رکھا ہے۔ شیخوپورہ کے ایک گاؤں کے کسی کچے کوٹھے میں پیدا ہونے والی ایک خان زادی خاتون اول سے قربت کے باعث امیر سے امیر تر ہوتی چلی گئی۔ نوکر شاہی اس کے احکامات کی منتظر رہتی۔ پھر تو اس کی دولت اور اثر و رسوخ کی کوئی حد نہ رہی۔ پچھلے دنوں سیاسی ماحول کی تبدیلی کے امکانات میں یہ خان زادی ایک پرائیویٹ جہاز میں بیٹھ کر بیرون ملک چلی گئی۔ جیٹ جہاز اور مہنگے برانڈڈ بیگ کے ساتھ اس کی تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ لیکن ”سیاسی غلام“ اس پر غور کرنے کی بجائے جواب آں غزل کے طور پر سوشل میڈیا پر مریم نواز کے مہنگے جوتوں اور پرسوں کا ذکر لے بیٹھے ہیں۔
چوہدری پرویز الہٰی نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں وزیر آباد میں ایک امراض قلب کا ہسپتال قائم کیا تھا۔ جدید ترین سہولتوں سے آراستہ پیراستہ اس ہستپال کا صرف افتتاح ہونا باقی تھا کہ چوہدری پرویز الہٰی کی حکومت ختم ہو گئی۔ پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو چوہدری پرویز الہٰی کا بنایا ہوا ہستپال بھی قبول نہ تھا۔ سو یہ ہسپتال برسوں بند رہا۔ اس کے پاس سے گجرات، منڈی بہاؤالدین، کھاریاں، جہلم سے لوگ مریضوں کو لاہور لے جاتے گزرتے رہے۔ بہت سے مریض راہ میں بھی دم توڑتے رہے۔ لیکن کسی بھی نون لیگی ممبر اسمبلی میں یہ جرات نہ تھی کہ وہ اپنے قائدین سے اس ہسپتال کو کھولنے کی درخواست کر سکے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے شدید آمرانہ ماحول میں کارکن خوب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کہاں منہ کھولنا اور کہاں منہ بند رکھنا ہے۔ نون لیگی حکومت ختم ہونے پر ہی یہ ہستپال کھل سکا۔ اب یہاں ہر ماہ بہت سے بائی پاس آپریشن ہوتے ہیں۔ اک اللہ والے ڈاکٹر پروفیسر عبد الوحید کے دم سے یہاں بہار آئی ہوئی ہے۔
2003 کے الیکشن میں گوجرانوالہ شہر سے خرم دستگیر کو شکست دینے والے قاضی حمید اللہ کے بارے میں انہیں دنوں اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی کہ موصوف پورا برس اسمبلی میں ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ پوچھنے پر بتانے لگے کہ ہم پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر ایک لفظ بول بھی نہیں سکتے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت موروثی ہے اور سبھی عہدیداران انہیں کے نامزد کردہ۔ گویا ہماری جمہوری جماعتوں میں بھی جمہوریت نہیں۔ فوجی ہو یا سولین ہماری قسمت میں ڈکٹیٹر ہی لکھے گئے ہیں۔ برسوں سے کچہریوں کے برآمدوں میں انصاف کی تلاش میں خجل خوار ہوتا ایک دیہاتی آمروں کے آنے جانے کی خبروں پر بول اٹھا۔

ساڈا بولے نہ وکیل وی چندرا
تے اوہدے ولوں جج بولدا

Facebook Comments HS