تحریک عدم اعتماد: اسد عمر صاحب کی تقریر میں آبا و اجداد کا ذکر


تحریک عدم اعتماد منظور ہو گئی۔ اس موقع پر مکرم اسد عمر صاحب نے بھی قومی اسمبلی میں ایک تقریر فرمائی۔ ویسے تو تحریک انصاف کے تمام اراکین کی تقاریر اپنی مثال آپ تھیں لیکن اسد عمر صاحب کی تقریر ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے اراکین کی خبر لینے کے علاوہ اپنے آبا و اجداد کا کارناموں کا ذکر بھی کیا اور موجودہ سیاسی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہم اس ملک کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور اس ملک کے لئے ہمارے ماں باپ دادا نانا اور دادی نانی نے صرف مال کی یا ہجرت کر کے نہیں بلکہ اپنی جان کی قربانی دی ہے۔

ویسے تو اپنے آبا و اجداد پر فخر کرنا ہماری قومی عادت ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر کسی کے والد میں کوئی خوبی تھی یا خامی تھی تو اس بنیاد پر ہم اس شخص کے بارے میں رائے قائم نہیں کر سکتے۔ اور اگر کسی کے والد سے کوئی غلطی ہوئی تھی تو ہم اس بنیاد پر بیٹے یا بیٹی پر تنقید نہیں کر سکتے۔ یہ بھی غلط ہو گا۔ لیکن اس نازک موقع پر اسد عمر صاحب نے خود ہی اپنے آبا و اجداد کے کارناموں کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ اور وہ اس سے پہلے بھی ایک ویڈیو جاری فرما چکے ہیں جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ان کی زندگی میں ان کے والد ہی ان کے لئے انسپائریشن رہے ہیں۔ اور پھر انہوں نے اپنے والد یعنی جنرل غلام عمر صاحب کے عسکری کارناموں کا ذکر کیا کہ بقول ان کے کس طرح انہوں نے ہر جنگ میں پاکستان کے لئے بیش بہا فتوحات حاصل کی تھیں۔

پھر انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے والد کے متعلق کچھ منفی باتیں بھی پھیلائی گئی ہیں کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں ان کے والد یعنی جنرل غلام عمر صاحب پر مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی تھی۔ اور اس دکھ کا اظہار کیا پاکستانی لوگ تو کچھ پڑھتے ہی نہیں۔ یہ لوگ حمود الرحمن رپورٹ کو پڑھے بغیر ہی یہ باتیں پھیلا رہے ہیں۔ اصل میں ان کے والد پر کوئی مالی بد عنوانی کے الزامات نہیں تھے۔ بلکہ ان پر صرف یہ الزامات تھے کہ وہ غیر قانونی طریق پر ایوب خان صاحب کی حکومت کو ہٹا کر یحییٰ خان صاحب کا مارشل لاء لگانے کی سازش میں شریک ہوئے [گویا یہ معمولی جرم ہے ]۔

اور پھر مغربی پاکستان کے سیاستدانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ پاکستان کی اسمبلی کے اجلاس میں شامل نہ ہوں [شاید یہ بھی ان کے نزدیک کوئی قابل ذکر بات نہیں ]۔ وہ اس ویڈیو میں بار بار یہ کہتے رہے کہ میں تو اس وقت چھوٹا تھا۔ یقینی طور پر مکرم اسد عمر صاحب اس وقت چھوٹے تھے لیکن اس وقت ان کے والد مرحوم میجر جنرل کے عہدہ پر فائز تھے اور جب حمود الرحمن صاحب نے یہ رپورٹ تحریر فرمائی تو وہ اور ان کے ساتھی اراکین ایام طفولیت سے نہیں گزر رہے تھے۔ اس لئے ہمیں ان تاریخی حقائق کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہو گا۔

اب جب کہ پاکستان ایک خوفناک بحران سے گزر رہا ہے، اس موقع پر اسد عمر صاحب نے خود ہی اپنے آباء کے کارناموں کا ذکر چھیڑ دیا ہے۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ کچھ تفصیلات پیش کی جائیں کہ جب 1971 میں پاکستان ٹوٹ رہا تھا تو اس وقت ان کے والد نے اس میں کیا کردار ادا کیا تھا؟

جب جنرل یحییٰ خان صاحب نے ایوب خان صاحب کو اقتدار سے محروم کر کے مارشل لاء لگایا تو اس کار خیر میں میجر جنرل غلام عمر صاحب بھرپور طور پر شامل تھے۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں چھ جرنیلوں کے بارے میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ ان پر ایوب خان صاحب کا تختہ الٹنے کے جرم کی پاداش میں پبلک مقدمہ چلایا جائے۔ ان چھ جرنیلوں میں میجرجنرل غلام عمر صاحب کا نام بھی شامل تھا۔ اپنے یو ٹیوب پروگرام میں اسد عمر صاحب نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ جب یحییٰ خان صاحب نے غیر قانونی طور پر اقتدار سنبھالا تو اس وقت ان کے والد جنرل بھی نہیں تھے۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ وہ جنرل تھے یا کرنل تھے یا کیپٹن تھے، سوال یہ ہے کہ واضح طور پر اس رپورٹ میں ان کا نام ان افسران میں شامل تھا جن پر حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام تھا۔

جب یحییٰ خان صاحب نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو جنرل غلام عمر صاحب کو نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سربراہ بنا دیا گیا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس کونسل کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ ملکی سلامتی کی فکر کرے لیکن اس کونسل کی ذہنی اڑان اس سوچ تک محدود تھی کہ کس طرح ایسے نتائج حاصل کیے جائیں کہ حکمران گروہ کو کھل کھیلنے کا موقع ملے۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن صاحب اور ان کی جماعت عوامی لیگ زور پکڑ رہی تھی اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی نوزائیدہ سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا تھا۔

جنرل شیر علی خان صاحب اور جنرل غلام عمر صاحب نے مل کر سرکاری وسائل سے مذہبی سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی شروع کی تا کہ وہ ان دو پارٹیوں کا اثر کم کر سکیں۔ اور آئی ایس آئی اور آئی بی جیسے اداروں کی مدد سے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ نظریہ پاکستان اور اسلام کو خطرہ ہے۔ اس کے علاج کے لئے جنرل غلام عمر صاحب اسلام پسند پارٹیوں کی سرپرستی کر رہے تھے۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں میجر جنرل غلام عمر صاحب کا نام ان جرنیلوں میں شامل کیا گیا ہے جنہوں نے ان انتخابات میں من پسند نتائج حاصل کرنے کے لئے سرکاری ذرائع کا استعمال کیا تھا۔

مکرم اسد عمر صاحب اس کا یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے والد کا انتخابات سے تعلق تو تھا لیکن یہ وہ واحد انتخابات تھے جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ منصفانہ ہوئے تھے۔ لیکن اسد عمر صاحب یہ بھول جاتے ہیں کہ جنرل غلام عمر صاحب پر انتخابات کے روز دھاندلی کا الزام نہیں تھا بلکہ یہ الزام تھا کہ انہوں نے انتخابات سے قبل نام نہاد اسلام پسند پارٹیوں کی سرپرستی کی تھی۔

اسی طرح اس کمیشن کی رپورٹ میں جنرل غلام عمر صاحب پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ جب انتخابات کا خلاف امید نتیجہ سامنے آ گیا تو انہوں نے منظم سازش کے تحت سیاسی پارٹیوں کو اس بات پر آمادہ کرنا شروع کیا کہ وہ ڈھاکہ میں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کریں۔ اور اس کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان میں بغاوت کے حالات پیدا ہوئے۔ جب یہ حالات پیدا ہو گئے تو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا اور اس آپریشن میں مشرقی پاکستان کے عوام پر بہت سے بھیانک مظالم توڑے گئے۔

اس وقت کا حکمران گروہ ان مظالم سے بے خبر نہیں تھا بلکہ یہ سب کارروائیاں ان کی آشیر باد سے ہو رہی تھیں۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں اس صورت حال کی ذمہ داری چار اشخاص پر ڈالی گئی ہے۔ اور یہ چار اشخاص جنرل یحییٰ خان صاحب، لیفٹننٹ جنرل پیرزادہ، لیفٹننٹ جنرل مٹھا اور میجر جنرل غلام عمر صاحب تھے۔ اسد عمر صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ آخری مرتبہ میرے والد مشرقی پاکستان میں 1962 میں تعینات ہوئے تھے۔ اس لئے یہ الزام درست نہیں کہ اس آپریشن میں ہونے والے مظالم کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔ اس بارے میں یہ عرض ہے کہ اس رپورٹ میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ ان کے والد اس وقت مشرقی پاکستان میں مقرر تھے، اس رپورٹ میں ان کا نام ان چار اشخاص میں شامل ہے جو اس آپریشن اور اس میں ہونے والے مظالم کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

بہر حال اسد عمر صاحب کا گھرانا اکثر اوقات کسی نہ کسی صورت میں اقتدار میں رہتا ہے۔ جب جنرل یحییٰ خان صاحب اقتدار میں تھے اور مارشل لاء لگا ہوا تھا تو ان کے والد نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ تھے۔ جب مسلم لیگ نون کی حکومت تھی تو ان کے بھائی محمد زبیر صاحب گورنر تھے۔ اور جب تحریک انصاف کی حکومت تھی تو خود اسد عمر صاحب وفاقی وزیر تھے۔ اب یہ حکومت ختم ہوئی تو اب دوبارہ ان کے بھائی برسر اقتدار پارٹی کے اہم رکن ہیں۔ باقی رہے نام اللہ کا۔ تاریخ کا قتل ہوتا ہے تو ہونے دیں۔

[تفصیلات کے لئے ملاحظہ فرمائیں
Hamoodur Rahman Commission Report
Pakistan between Mosque and Military by Hussain Haqqanni
Crossed Swords by Shuja Nawaz [

Facebook Comments HS