کہیں دیر نہ ہو جائے


اسے انسان کی بدقسمتی کہا جائے یا المیہ کہ جیسے جیسے انسان نے اپنا ارتقائی و شعوری ترقی کا عمل طے کیا ہے وہ زندگی کی حقیقی خوشیوں اور اطمینان قلب سے محروم ہوتا چلا گیا۔ دل و دماغ کی کشمکش، وقت آئندہ کا خوف، ان دیکھے وسوسوں اور خدشات نے اس کو ایک ایسی دنیا میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ چاہ کر بھی آسان راستہ نہیں چن سکتا۔ مشکل راستوں پر قدم رکھنے کا متمنی اور نت نئی چوٹیوں کو سر کرنے کی خواہشات نے اس کو زندگی کے حقیقی رشتوں ناتوں سے دور کر دیا۔

ان رشتوں سے دوری کی وجہ کیا ہے؟
اپنے قریبی رشتوں کے ساتھ جذبات و احساسات کا اظہار اتنا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟
ایسی کیا چیزیں ہیں جو دل کی بات کھل کر کہنے سے روک دیتی ہیں؟

اطراف میں اپنوں کی موجودگی کے باوجود بھی ایسا کیوں لگتا ہے کہ کہی گئی بات کی اہمیت نہیں رہے گی؟ یا ابھی کہنا مناسب نہیں، کچھ وقت اور سہی۔

ہم میں سے ہر ایک اپنی آدھی سی زیادہ زندگی ایک ڈر، خوف یا پھر ایک فطری جھجک کے ساتھ گزار دیتا ہے اور یہ جھجک اور خوف کسی غیر سے نہیں بلکہ اپنے ہی قریبی رشتوں کے ساتھ پنپتے ہیں۔

لفظوں کے خالی جانے کا خوف، رد کر دیے جانے کا خوف، مذاق اڑائے جانے کا خوف، ”لوگ کیا کہیں گے“ کا خوف، یا پھر نا امیدی، غیر متوازن رویے اور خود اعتمادی کی کمی، محبتوں کے بروقت اظہار میں رکاوٹیں کھڑی کرتے نظر آتے ہیں۔

بچے بڑے ہو کر ماں باپ سے محبت کے اظہار میں جھجکتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ماں باپ ہی ان کو یہ کہہ کر خود سے دور کر دیتے ہیں کہ ابھی بھی بچہ بنے ہوئے ہو، بڑے ہو جاؤ۔ بظاہر عام سے یہ جملے کردار سازی کے نازک اور حساس عمل کو بری طرح متاثر کر جاتے ہیں۔ جذبات کی گرم جوشی، مصلحتوں سے لبریز سرد مہری کی نذر ہو جاتی ہے۔ شخصیت سازی کرتے ہوئے ابتداء میں ہی جب یہ بیج بو دیا جاتا ہے تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ نمو پاتا ہے، تناور درخت بنتا ہے اور پھر اکثر بیج بونے والے رشتے ہی بھرپور محبتوں سے محرومی کا شکار نظر آتے ہیں لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ یہ محرومی یک طرفہ نہیں ہوتی۔ متاثر بہرصورت دونوں فریقین ہوتے ہیں، دائرہ کار وسیع ہوتا جاتا ہے اور اطراف کے قریبی رشتے بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں پوچھے گئے سوال نے توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔

سوال تھا کہ اگر وقت کی سوئیوں کو واپس پیچھے کی طرف گھما دیا جائے اور آپ کو موقع دیا جائے تو آپ کس سے ملنا پسند کریں گے؟

مختلف جوابات تھے، ان جوابات میں سنجیدگی کے ساتھ ہر ایک نے اپنی بذلہ سنجی بھی دکھائی تھی لیکن ایک کمنٹ نے رکنے اور کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

ایک نوجوان نے لکھا تھا
” اپنی مرحومہ ماں سے۔“

بظاہر عام سا کمنٹ تھا۔ جن کے ماں باپ اس جہان فانی سے کوچ کر چکے ہیں ان میں سے ہر ایک کے دل میں قدرتی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ ایک بار اپنے ماں باپ سے مل سکیں، لیکن اس نوجوان کا آگے کا لکھا ہوا کمنٹ اس کے اندر موجود ایک کسک اور ماضی کی ہونے والی کسی کوتاہی کو بیان کر رہا تھا جس میں ماں جیسے انمول رشتے کی محبت کو وقت پر کشید نہ کر پانے کا اور اظہار نہ کر سکنے کا افسوس شامل تھا۔

ظاہر ہے وقت کا پلٹ کر لوٹ آنا یا وقت کی سوئیوں کو الٹا چلا دینا یہ سب محض خواب و خیال کی باتیں ہیں اور عملی طور پر پر ایسا کچھ بھی حقیقت میں ہونا ناممکن ہے۔ جو وقت ہاتھ سے مانند ریت پھسل گیا وہ پھسل گیا، اب واپس نہیں آ سکتا۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ہم اپنے اطراف موجود اتنے خوبصورت رشتوں سے غافل کیسے ہو جاتے ہیں کہ جب یہ رشتے ہمارے درمیان نہیں رہتے تو پھر ہم اپنی بقیہ عمر ایک پچھتاوے اور کسک کے ایک احساس کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس سوال کا جواب ہر شخص اپنے انداز سے دے گا۔ شاید ہر ایک کے لیے محبتوں کے انداز بھی بڑے مختلف ہوتے ہیں۔ اپنے رشتوں سے محبت تو شاید سبھی کرتے ہیں لیکن ان رشتوں کے پیچھے چھپے جذبات اور ان کا اظہار ہر ایک کے لیے الگ الگ ہوتا جاتا ہے۔

ان رشتوں سے محبت کا اظہار کسی کے لیے گرمجوشی کی صورت ہوتا ہے، جو کھل کر جیو اور جو دل میں آئے کہو پر یقین رکھتے ہیں تو کسی کے لیے خاموشی اور سرد مہری لیے ہوئے ہوتا ہے کہ جو سمجھنا ہے خود سمجھ جاؤ، کہے کون۔

بلکہ ان میں دوسری قسم کے لوگ اتنے ہٹ دھرم ہوتے ہیں کہ جب ان سے ان کے اندر اس کمی کے متعلق بات کی جاتی ہے تو وہ الٹا ناراض ہو جاتے ہیں کہ یہ سب کیا اب محبتوں کو بھی جتانا پڑے گا یا بول بول کر بتانا پڑے گا، یہ تو سب خود سے سمجھ لینا چاہیے۔

لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ وقت گزرنے کے بعد وہی لوگ جو اپنی فطرت کے باعث سرد مہری کا لبادہ اوڑھ کر رشتوں کو چلا رہے ہوتے تھے وہ ایک لامتناہی کسک، تڑپ، اور بے چینی کا شکار نظر آتے ہیں۔

عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ خونی اور قریبی رشتوں میں ماضی میں دلوں میں پیدا ہونے والی رنجشوں کو برسوں گھسیٹا جاتا ہے۔ تعلقات بحال بھی ہو جائیں لیکن دلوں میں پرانی باتیں اسی طرح موجود رہ جاتی ہیں۔ یہ باتیں رویوں میں وہ گرمجوشی نہیں لا پاتیں جو ان رشتوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ ایک فریق کا رویہ دوسرے فریق کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ پھر یہی محتاط رویوں کا شکار لوگ اپنے پیاروں کے جنازوں پر سر پٹخ پٹخ کر روتے دکھائی دیتے ہیں۔ محبت کی دبی چنگاریاں جب بھڑک کر شعلہ بنتی ہیں تب تک دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ سرد جسموں تک محبت کی گرمی کبھی پہنچی ہے بھلا؟

ایسے لوگوں کے لیے زندگی اب صرف ایک لفظ کو محور بنا کر اس کے گرد روبوٹ بن کر گھوم رہی ہوتی ہے اور وہ لفظ ہے۔

”کاش!“

کاش وقت کا پہیہ الٹا گھوم جائے اور وہ خود سے منسلک ان تمام رشتوں کو، جن سے ظالم وقت نے اب محروم کر دیا ہے وہ سب کہہ سکیں، جو اس وقت نہ کہہ سکے تھے۔

لیکن اس سب میں وقت کو کیسے قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

وقت کا کام تو ہے چلنا اور وہ تو ازل سے ایسے ہی چل رہا ہے اور ابد تک چلے گا جب تک کہ اس کو رک جانے کا حکم نہیں ملے گا۔ تو پھر یہ تو ہمارا کام ہے کہ وقت کی اس تھیوری کو سمجھ کر اپنے سے وابستہ رشتوں کو، جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہی چل رہے ہیں اور اپنا مقررہ وقت لے کر اس دنیا میں آئے ہیں ان کو امر کر لیا جائے۔

ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور گزرتا جا رہا ہے۔ تو کیوں نہ اس وقت کو محبتوں کے اظہار کے ساتھ محفوظ کر لیا جائے۔

کیوں اپنی زندگی میں شامل ان پیارے اور خوبصورت رشتوں کی اہمیت کو ان کے خود سے دور ہو جانے کے بعد ہی محسوس کیا جائے اس کسک کے ساتھ کہ کاش جو ابھی سوچا جا رہا ہے وہ وقت پر کہہ دیا جاتا تو آج یہ ادھورا پن اور یہ پچھتاوا نہیں ہوتا۔

اس کیوں کا جواب ہر ایک کے لیے الگ ہو گا۔ مختلف وجوہات، اور شاید جذبوں کا فطری اظہار کرنے میں حائل کچھ رکاوٹیں۔

وہ رکاوٹیں کیا ہو سکتی ہیں؟
سب سے پہلی رکاوٹ تو شاید ہمارے اندر ہی موجود ایک قدرتی جھجک ہے۔

یہ قدرتی جھجک اظہار کرنے جیسے عمل کو مشکل ترین بنا دیتی ہے۔ اظہار کرنا اپنے ہی قریبی رشتوں سے بعض اوقات دنیا کا مشکل ترین کام لگنے لگتا ہے۔

الفاظ اندر ہی گھٹ جاتے ہیں۔ مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں۔ اور پھر آج کل، آج کل، کرتے کرتے وقت ہی ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

اسی جھجک کے بالکل دوسری طرف جو کیفیت ہے اس کا نام ہے ضد اور انا۔

انا جو محبتوں کے لیے زہر قاتل ہوتی ہے۔ محبتوں کی بے ساختگی اور لطافت سے آپ کو محروم کر دیتی ہے۔ انا جو آپ کو منفی احساسات کے ساتھ ساتھ غصہ، حسد، ان دیکھے خوف میں مبتلا رکھتے ہوئے خود سے ہی محبت کرنے والے رشتوں کے ساتھ وقتی نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

کچھ لوگ انا کا لبادہ اوڑھ کر وقتی طور پر تو اپنی ذات کی تسکین حاصل کر لیتے ہیں لیکن اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ ؟

دراصل انانیت کے ہاتھوں مجبور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک خود ساختہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ معاملات زندگی میں یہ لوگ با اعتماد نہیں ہوتے اور نتیجتاً ان کی اس خامی سے ان کے نزدیکی رشتے اور ٹوٹ کر چاہنے والے ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور مستقل اسی رویے کے زیر اثر یہ لوگ اپنوں میں رہتے ہوئے، بھری محفلوں میں بھی تنہا رہ جاتے ہیں۔

پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟

وہی عمر بھر کا پچھتاوا اور کسک! زندگی پچھتاوے کے ساتھ جی تو کیا جی۔ جو زندگی کا ایک لمحہ دل کی خوشی کے ساتھ جی گیا سمجھو وہ زندگی کو جی گیا۔ خوشی کے اصول بہت سادہ ہیں بغیر کسی ہیر پھیر کے۔

اسی طرح خوشی کے حصول کا راستہ بہت آسان اور سیدھا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اپنی ذات سے جڑے رشتوں کو خوشیاں دینا سیکھیں۔ ان کو ان کی موجودگی میں اہمیت دیں۔ فاصلوں کو پاٹنا سیکھیں، پہل کریں، پہل کیے جانے کا انتظار نہیں۔ اپنوں کی کوئی بات اچھی لگتی ہے تو بتائیں کہ یہ اچھا ہے، لفظوں کے چناؤ میں نہ الجھیں۔ پھر بھی مشکل لگے تو اظہار کے طریقے سیکھیں۔

اپنے پیاروں سے محبت کا اظہار کبھی بھی لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایک چھوٹی سی مسکراہٹ، دوستانہ رویہ، اچھا برتاؤ، بھرپور توجہ اور اہمیت دینا بھی محبت کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں۔ اظہار کے ساتھ محبت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔

تو اب اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ اپنے اطراف موجود ان خوبصورت رشتوں کو بروقت اعتراف کے ساتھ مزید خوبصورت بنانا ہے یا پھر عمر بھر کی نہ ختم ہونے والی کسک اور پچھتاوے کے ساتھ اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنی ہے۔ وقت مسلسل اپنا وار کر رہا ہے بس آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔

Latest posts by لبنیٰ مقبول (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments