نوجوانوں کی حالت زار

اس موضوع پہ کچھ بھی لکھتے ہوئے میری حالت عجیب تھی اور افسوس ہو رہا تھا، کیونکہ میں خود بھی ایک نوجوان ہوں تو جہاں اس موضوع پہ بات کرتے ہوئے حالت غیر ہو رہی ہے وہاں بحیثیت نوجواں نوجوانوں کی موجودہ حالت زار سے بھی وقف ہوں، میں اپنے اس موضوع میں نوجوان نسل کی خودکشی کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان اور ڈپریشن میں مبتلا ہونے کی وجوہات پہ بات کروں گا، اس موضوع میں نوجوانوں کا پسند کی شادی پر خودکشی کرنا زیر بحث نہیں، بلکہ روشن مستقبل کی تلخ تعبیر زیر بحث ہے۔
ایک المیہ ہے کہ والدین بیٹی کے مقابلے میں بیٹے کے پیدا ہونے کی تمنا شدت سے رکھتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑھاپے میں ہمیں کسی سہارے کی ضرورت ہے بیٹی شادی کے بعد اپنے گھر چلی جائے گی تو کم از کم بیٹا ہو، تو وہ ہمیں بڑھاپے میں سنبھال لے گا وہ ہماری لاٹھی اور زور بازو بنے گا،
بیٹا اس دنیا میں آتا ہے تو گھروں میں جشن کا سما بن جاتا ہے، نازوں سے پالا جاتا ہے لیکن مضبوط بنایا جاتا ہے، اسے رونے نہیں دیا جاتا اسے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ تم مرد ہو اور مرد روتا نہیں، وہ تو مضبوط ہوتا ہے اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا، بیٹا پیدا ہونا یقیناً ایک خوشی ہے لیکن ہم اس ذات کو دنیا میں لاتے ہیں جس کا وجود ہی بس صنف نازک کی تمام خوشیاں مکمل کرنا اور ذمہ داریوں کو سنبھالنا ہے، بیٹا جب پیدا ہوتا ہے تو اسے زندگی کے ہر موڑ پہ بتایا جاتا ہے کہ تم مرد ہو تیار رہو پریشانیوں کے لئے، مصیبتوں کے لئے، تم گھر کے ذمہ دار ہو، تمہیں گھر کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، اس گھر کا چولہا جلانا ہے، وہ سکول میں ہو تو اسے سمجھایا جاتا ہے کہ اب تم بچے نہیں اچھے نمبر لو کالج کی سطح آ رہی ہے، وہ کالج آئے تو اسے بولا جاتا ہے کوئی ایسی حرکت نہ ہو کہ ہماری ناک کٹ جائے جوانی کو ضائع نہ کرنا، پھر وہ یونیورسٹی میں آتا ہے اسے محبت سے روکا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود کچھ نوجوان تو محبت جیسی وادی میں گم ہو جاتے ہیں اور جب ذمہ داریاں سر پہ آتی ہیں، تو ذمہ داریوں کے بوجھ میں کچلے جاتے ہیں، کچھ نوجوان ایسے بھی ہوتے ہیں جو ذمہ داریوں کے ڈر سے محبت کے قریب سے بھی نہیں گزرتے، وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ڈگری لیں گے ایک اچھی نوکری ہوگی، ماں باپ شادی کروائیں گے اور بالآخر ایک اچھی زندگی گزریں گی، کیا سچ میں ہمارے ملک خدا داد پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے؟
کیا سچ میں ایک نوجوان جس نے اپنی جوانی اتنی مشکلات سے گزاری ہو وہ ایک روشن مستقبل کو پا لیتا ہے؟ جس نے جوانی کی رنگینی تک نہیں دیکھی، صرف اس لئے کہ مجھے گھر کا چولہا جلانا، میں گھر کا مستقبل ہوں، حالانکہ اس نوجوان کا اپنا مستقبل تاریک ہوتا ہے، وہ بچپن سے لے کر جوانی تک سادہ سا شخص رہ کر جوانی گزار دیتا ہے، کبھی کسی نامحرم کی محبت میں مبتلا نہیں ہوتا کہ میں گھر کا کفیل ہوں، اور بالآخر جب اس کے ہاتھ میں ڈگری آتی ہے تو وہ در بدر پھرتا ہے کہ کوئی تو ہو جو اس کی محنت کو سراہے، کوئی تو ہو جو اس کی محنت کا پھل اسے دے، وہ جہاں بھی جاتا ہے بس تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے، آج پاکستان میں حالات ایسے ہیں کہ نوجواں ہاتھوں میں اعلیٰ ڈگریاں لے کر لائن میں کھڑے ہیں کہ کوئی پرسان حال ہو، چپڑاسی تک کی ہی نوکری مل جائے، لیکن کمال یہ ہے کہ اعلیٰ افسر تو کوسوں میل دور کی بات ہے یہاں چپڑاسی بھی اپنا رشتہ دار، اپنی برادری، اپنا قریبی لگایا جاتا ہے، اتنا گھٹیا نظام ہے کہ اعلیٰ ڈگری یافتہ نوجوان ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور بیشتر جعلی ڈگری والے افراد بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھے ہیں، فقط اپنے تعلق کی وجہ سے، اس ساری صورتحال میں وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان در بدر کی ٹھوکروں کے بعد اپنے آبائی پیشے کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں سے اکثر محنت و مزدوری کرتے ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جو کم تنخواہ والی ملازمت کرتے ہیں تاکہ گھر کا نظام چل جائے، لیکن کیا اس ملک میں ایسا ممکن ہے کہ آپ چند ہزار روپے سے گھر کا نظام چلا سکیں؟
انہی نوجوانوں میں سے اکثر اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں نوکری کرتے ہیں اور وہاں خدمت خلق انجام دیتے ہیں، ان میں سے کچھ نوجوان مایوس ہو جاتے ہیں اور خود کشی کرلیتے ہیں اس گھٹیا اور درندوں کے نظام سے نجات کا راستہ ان کو یہی نظر آتا ہے، آپ ان تمام طبقوں کے نوجوان سے ملیں سبھی ملک خدا داد پاکستان کے موجودہ نظام سے مایوس ہیں، انہیں کوئی نجات دہندہ چاہیے، کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں، مقام افسوس ہے کہ نوجوانوں کو جوانی کے عالم میں بھی مسیحا کی تلاش ہے، ذرا تصور کریں کہ ایک ایسا نوجوان جس نے ڈگری کے بعد نوکری حاصل کرنے کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہوں آخر جب اسے نوکری نہیں ملے گی تو اس پہ کیا بیتے گی، مثال کے طور پر اگر آپ کسی صحرا میں ہوں اور پیاس کی شدت ہو اور آپ کو سامنے پانی نظر آ رہا ہو اور آپ دھوپ کی شدت میں سفر کر کے اس مقام تک پہنچے اور پانی وہاں موجود نہ ہو، دھوپ کی شدت سے جان جا رہی ہو، تو سوچیں اس حالت میں آپ پہ کیا بیتے گی؟
آپ کی سوچ میں کیا آ سکتا ہے؟ سوائے موت کے۔ پس اس سے بھی بدتر حالت اور سوچ اس نوجوان کی ہوتی ہے جسے یہ بتایا جاتا ہے کہ تم نے اپنی پانچ بہنوں کی شادی کرنی ہے، ان کو جہیز بھی دینا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ لعنت ہر کسی کو چاہیے، پھر آپ کو اپنی شادی بھی کرنی ہے تمہارے رشتہ دار بھی تب ہی تمہارا رشتہ لیں گے جب اچھی نوکری یا کام ہو گا، یا اگر پسند کی شادی کرنی ہے تو لڑکی کے ماں باپ بھی اچھی نوکری ہوگی تو رشتہ کریں گے، پھر تمہیں اپنی اولاد کو اچھا مستقبل بھی دینا ہے، اپنی بیٹی کی کل کو شادی بھی کرنی ہے اس کو بھی جہیز دینا ہے، ہماری ذمہ داری بھی بڑھاپے میں اٹھانی ہے، اور ساتھ ساتھ زندگی کے کئی اور اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے ہیں، تو سوچیں جب اسے اس ارض پاک میں جہاں لوگوں کی بیٹیاں محفوظ نہیں جہاں کچھ بھی محفوظ نہیں کیا وہاں کسی نوجوان کا مستقبل کیا خاک محفوظ رہ سکتا ہے؟ جب نوجوان اپنے سر پہ اتنی ذمہ داریاں دیکھتا ہے تو اپنے ہاتھ میں ڈگری اور اتنی محنت کی بدولت کچھ حاصل نہیں ہوتا اور سامنے تاریک مستقبل ہوتا ہے تو پس اکثر و بیشتر راستے سے ہٹ جاتے ہیں نا امید ہو جاتے ہیں اور ان کو ان تمام ذمہ داریوں سے چھٹکارے کا راستہ صرف خودکشی ہی نظر آتی ہے۔
آخر پہ اپنے نوجوان دوستوں کو کہنا چاہوں گا کہ جتنی بھی مشکلات ہوں زندگی سے ہار نہ مانیں، زندگی کو جئیں، مصیبتوں اور پریشانیوں کے ساتھ، زندگی ہے ہی یہی اور کبھی بھی خدا کی ذات سے مایوس نہ ہوں۔
خدا کرے اس ملک خدا داد پاکستان کے حکمران آج کی نوجوان نسل کی حالت زار پہ رحم کریں اور آپسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس ملک کی خدمت آج کے نوجوان کو دی جائے، اور یقین جانیے ہمارے نوجوان اس صلاحیت کے مالک ہیں کہ وہ اس ارض پاک کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکتے ہیں، اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

