سیاست میں عدم برداشت
میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک اور ٹویٹر آج کے دور میں اپنے خیالات کے اظہار کے لیے بہترین پلیٹ فارمز ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کی وجہ سے اس مصروف ترین دور میں ایک شخص ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں سے بیک وقت جڑا ہوتا ہے۔ یہاں ہم کسی بھی چیز کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار آزادانہ اور مثبت طور پر کر سکتے ہیں۔ اپنی پسند نا پسند، اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں، اپنا علم اور حتی کہ اپنے بزنس اور کاروبار کو بھی پروموٹ کر سکتے ہیں۔ وہ دوست اور احباب جن سے ہم براہ راست ایک عرصہ دراز سے نہی ملے ہوتے، سوشل میڈیا پر ہم روزانہ کی بنیاد پر ان سے رابط کرتے ہیں اور یوں اپنے روزمرہ کے معمولات، جاب اور کاروبار کو ڈسٹرب کیے بغیر ہم ایک دوسرے کے حالات و واقعات سے باخبر بھی رہتے ہیں اور ہمارا تعلق بھی استوار رہتا ہے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر اپنے سیاسی خیالات کا اظہار ایک مشکل اور تکلیف دہ عمل بن گیا ہے۔ سیاسی بحث میں عدم برداشت، تناؤ اور نفرت کی فضاء پیدا ہو گئی ہے۔ بہت سارے لوگ سیاست کو پرسنل لے کر نفرت آمیز اور تلخ جملوں کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں جس سے ہمارے آپس کے تعلقات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
سیاست میں اختلاف کا ہونا کوئی بری چیز نہی۔ آپس میں اختلاف رائے کا ہونا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ سیاسی مخالفین بھی جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ مگر اختلافات میں اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ سیاسی بحث و مباحثہ میں اپنے قیمتی تعلقات، دوستیاں اور رشتہ داریاں قربان نہ کریں۔ سیاست پر گفتگو اور بحث ضرور کریں مگر شائستگی اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ غلاظت خباثت ہمارے منہ سے نکلے القابات اور گالیاں ہمارے اپنے خاندانی ہونے نہ ہونے اور ہمارے ظرف کی عکاسی کرتے ہیں۔ سیاست میں اپنی رائے دیں یہ آپ کا حق ہے مگر دوسرے کی بات سننا بھی آپ پہ فرض ہے۔ خاندانی لوگ پہلے سنتے ہیں پھر شائستہ الفاظ میں اپنی رائے دیتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں ایسی سیاست جو نفرتیں پیدا کرے، دوریاں لے آئے، وہ کچھ بھی ہو، سیاست نہیں۔
ہمارا آپس میں گفتگو کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ باہمی احترام نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی۔ ایسے ایسے سنجیدہ احباب کی زبان بگڑتے دکھائی پڑتی ہی کہ حیرت اور رنج کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
درجنوں دوست و احباب ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر انفرینڈ کر چکے ہیں، گھریلو تعلقات بھی باہمی تفریق اور بے ادبی کی صورتحال سے دو چار ہیں۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ہم ایک ایسی صورت حال کی وجہ سے آپس میں بدظن ہوں جس میں براہ راست ہمارا کوئی ہاتھ بھی نہیں۔
خدارا اس بارے میں ضرور سنجیدگی سے سوچیں۔ سیاست کو سیاست ہی رہنے دیں۔ اسے کفر اور اسلام کا معرکہ نہ بنائیں۔ حقیقت یہی ہے کہ سیاست میں یہ سب کچھ کوئی نئی بات نہیں۔ آپ ایک دوسرے کی مخالفت بھی کرتے ہیں، لیکن بات چیت اور ذاتی تعلق کو بھی قائم رکھتے ہیں۔ اپنے لیڈران کو ضرور فالو اور سپورٹ کریں، لیکن یہ جان لیں کہ کوئی بھی دودھ کا دھلا نہی۔ سب میں بے شمار خامیاں ہیں۔ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا سیکھیں۔ کسی کو بھی بلائنڈلی فالو نہ کریں۔ ہماری مثبت تنقید ہی ان سیاست دانوں کو راہ راست پر لا سکتی ہے۔
زمینی حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں کل کا ”ڈاکو“ آج آپ کا ”اتحادی“ بن جاتا ہے۔ چپڑاسی تک نہ رکھنے کا دعویٰ کرنے والا آپ کا سب سے مضبوط ترین وزیر بن جاتا ہے۔ اگر آپ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اسے کفر اور اسلام کا معرکہ اور امریکا اور پاکستان کی جنگ سمجھ رہے ہوتے ہیں تو قصور کسی اور کا نہیں، آپ کا اپنا ہے۔ دوسروں پر غدار، بھکاری، چور اور کفر و شرک کے فتوے نہ لگائیں۔
میری اپنے تمام فیس بک فرینڈز سے عاجزانہ اپیل ہے کہ سیاست میں برداشت اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں سیاست ضرور کریں سیاست ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن اخلاقیات کا دامن ہر گز نہ چھوڑیں کیونکہ آپ کا اخلاق آپ کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔
دین کے بتائے راستے کو اپنائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ لیڈروں کی وجہ سے دین اور ایمان کو ہاتھ سے گنوا بیٹھیں۔ ، کسی پر اپنی بات نہ تھوپیں اور سنی سنائی باتوں کو پھیلانے سے پرہیز کریں پہلے تحقیق کریں۔
پیارو محبت کو پروان چڑھائیں اچھے معاشرے کے مہذب شہری بنیں۔
آئیے عہد کریں کہ حالات کی آندھی کو اپنے اوپر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رہیں گے۔ ایک قوم بنے رہیں گے، باہمی احترام کے ساتھ مکالمہ کرتے رہیں گے، آگے بڑھتے رہیں گے۔


