میہڑ: دم توڑتی زندگی امید کی منتظر
سندھ حیدر آباد ڈویژن کا ایک ضلع دادو ہے۔ دادو انیس سو اکتیس میں ضلع بنا۔ دادو کے مغرب میں پاکستان کے تین بڑے پہاڑی سلسلوں میں سے کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ ہے جو اسے بلوچستان سے جدا کرتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ دریائے میولا بلوچستان سے جنوب کی طرف کراچی اور بحیرہ عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ ضلع دادو میں دادو میہڑ خیر پور ناتھن شاہ اور جوہی بالترتیب تحصیلیں ہیں۔ ضلع دادو کا موسم خاصا گرم ہے مگر دادو ہی میں گورکھ ہل اسٹیشن ہے جو سطح سمندر سے 5688 فٹ بلند ہے اور سیاحت کے لیے شاندار مقام ہے۔
دادو میں جنگلات بھی ہیں۔ سیاسی حالات کی گہما گہمی میں جہاں مقدس ماہ کے تقدس کو نہیں آنکھ اوجھل کر دیا گیا وہیں اپریل حال ہی میں صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں ہونے والی آتشزدگی نے متاثرین کو غموں سے نڈھال کر دیا ہے۔ جب کہ آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق متاثرین کا کہنا ہے ہمارے گھروں کا سامان اناج اور بوریا بستر سب آگ نے جلا دیا۔ سونے کے لئے سر پر کھلے آسمان کے سوا کوئی چھت نہیں اور کھانے کے لئے خوراک اور پینے کا پانی تک میسر نہیں۔
میہڑ کے گاؤں فیض محمد چانڈیو میں 9 معصوم بچے آگ کی نذر ہو گئے۔ سیکڑوں خاندان غم کی تصویر بن گئے۔ حیرت انگیز طور پر میہڑ حادثے نے سندھ حکومت کی کارکردگی کی قلعی کھول دی کیونکہ حادثے کی اطلاع ملنے پر 2 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جو جائے حادثہ پر تاخیر سے پہنچیں، وہ بھی خراب تھیں۔ آگ لگنے کی وجوہات بھی تاحال معلوم نہیں ہو سکیں کیونکہ شہری انتظامیہ حادثے کا ذمہ دار گھر کے چولہوں اور مقامی افراد بچوں کی لگائی آگ کو ٹھہراتے ہیں۔
واقعے کو 30 گھنٹوں سے زائد وقت گزر چکا تھا۔ تاہم مقامی رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر پیپلز پارٹی قیادت تاحال متاثرین کی مدد کے لئے نہ پہنچ سکی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ہم نے اراکین اسمبلی کو مشکل وقت میں فون کال کی۔ تاہم کسی نے فون اٹھانا گوارا نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو ہماری جان و مال کی حفاظت کرنا ہوگی۔ آج پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے نے متاثرین تک امدادی ساز و سامان پہنچا دیا ہے جس میں بستر کمبل ٹینٹ تکیے بیڈ شیٹس واٹر کولرز اور مچھر دانیاں شامل ہیں۔
دو روز قبل لگنے والی آگ نے پورے گاؤں کو جلا کر راکھ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے میں 120 گھر جل کر راکھ ہو گئے۔ آتشزدگی سے ہونے والے جانی نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔ بعض میڈیا چینلز کا کہنا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں 4 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ جنگ گروپ کی رپورٹ کے مطابق جلنے والے تمام افراد بچے تھے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان کی آمد کے بعد صورتحال کسی قدر بہتر ہوئی ہے۔
یاد رہے ضلع دادو کی تحصیل میہڑ کو ناصرف فراموش کیا گیا ہے اور سیاسی انانیت کی بھینٹ چڑھایا گیا بلکہ اس سے قبل بھی میہڑ اس کے رہنے والوں کو بے اعتنائی اور عدم توجہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس تحصیل کا گزر بسر مہندی سے ہوتا ہے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں کاشت کی جانے والی مہندی کو ملک کی بہترین مہندی کہا جاتا ہے۔
دور دراز علاقوں کے لوگ جب میہڑ بائی پاس سے گزرتے ہیں تو گھر والوں اور دوست احباب کے لیے تحفے کے طور پر یہ مہندی ضرور خریدتے ہیں۔ مہندی کا پودا ایک بڑی جھاڑی نما ہوتا ہے اور اس کی شاخیں سخت اور پتلی ہوتی ہیں۔ پتے پہلے ہرے اور بعد میں سرخ ہو جاتے ہیں اور اس کے پھول پہلے سفید بعد میں سیاہ پھل جیسے بن جاتے ہیں۔
مہندی یا حنا خواتین کے سنگھار کا اہم حصہ ہے۔ اس کے بغیر ہر تہوار اور دیگر خوشیوں کی تقاریب ادھوری سمجھتی جاتی ہیں۔ دلہن کے ہاتھ رنگنے والی مہندی کے کاشت کار اب پریشان ہیں اور کاشت بھی کم کر رہے ہیں۔ پہلے میہڑ میں ہر طرف مہندی کی فصلیں ہوتی تھیں مگر اب چند گوٹھوں کی زمینوں پر محدود پیمانے پر ہی مہندی اگائی جاتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں چند سال پہلے 12 ہزار ایکڑ پہ مہندی اگائی جاتی تھی۔
اب حکومت میں بجٹ کی عدم منظوری اور پسماندہ علاقہ شمار کرنے کی بناء پہ صرف 2 ہزار ایکڑ پہ اس کی فصل اگائی جاتی ہے۔ انگریزی سال میں دو بار اس کی فصل کی کٹائی کی جاتی ہے۔ ایک نئی اور دوسرا ستمبر میں۔ پہلے کی طرح اب بھی حکومتی اداروں بالخصوص سندھ حکومت اس علاقے کے مسائل حل کرنے میں گریزاں رہی ہے جب کہ ضلع دادو کی مشہور شخصیات میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی معروف سیاست دان سردار عبدالحمید جتوئی سابق وفاقی وزیر ظفر لغاری سندھ کے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق جبکہ شاعروں ادیبوں میں استاد بخاری تاج صحرائی عبداللہ مگسی عزیز کنگرانی اور اکبر جس کا نام قابل ذکر ہیں۔
دادو شہر کے جنوب میں دس کلو میٹر دور ایک قصبہ خدا آباد ہے۔ اس شہر میں باغات ہیں وسیع رقبے پر حویلیاں ہیں بلند و بالا عمارتیں ہیں۔ یہ شہر تجارت کا مرکز بھی ہے اس شہر کی جامع مسجد میں مغل آرٹ نمایاں ہے۔ ضلع دادو کی تحصیل جوہی میں ایک قدیم شہر واہی پاندھی ہے واہی پاندھی سے آٹھ کلو میٹر دور کاچھو کا تاریخی گاؤں گوٹھ غوث بخش چانڈیو واقع ہے۔ دادو ضلع میں دریائے سندھ کے کنارے ایک قدیم شہر پاٹ شریف ہے، پرانے زمانے میں یہ شہر علم و ادب اسلامی تعلیمات علماء عارفوں اور فقیہوں کا مرکز رہا۔ پاٹ شریف ارغون اور مغل حکمرانی کے دور سے آباد ہے۔ مہیڑ کے قریب گوٹھ گاہی مہیسر میں چند ایکڑ زمین پر مہندی کاشت کرنے والے میر خان چانڈیو بھی مایوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مہندی کے دام اچھے نہ ملنے اور پانی کی قلت کے باعث کئی کاشت کار سخت پریشان ہیں۔
میر خان نے کہا کہ مہندی کی کاشت میں خرچہ اور محنت بہت زیادہ ہے۔ مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے صورت حال یہ ہے کہ جہاں 25 سے 30 ہزار ایکڑ پر مہندی کاشت کی جاتی تھی اب وہاں بمشکل 200 ایکڑ پر کی جاتی ہے۔ یہ حالت ناگفتہ بہہ ہے۔ ان کے مطابق مہندی کی فی ایکڑ کاشت پر 60 سے 70 ہزار روپے لگ جاتے ہیں، بیج بونے سے اس کی دیکھ بھال اور کٹائی سے لے کر مارکیٹ پہچانے تک ہر ایکڑ پر 60 سے 70 ہزار روپے خرچہ ہے۔
اس کے باوجود کاشت کاروں سے فی من چھ ہزار روپے میں لیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خریدار کم قیمت میں مہندی لیتے ہیں مگر آگے وہ وہی مہندی مہنگے داموں میں بیچتے ہیں۔ اس لیے بھی ان جیسے کئی کاشت کار بہت پریشان ہیں اور کئی لوگوں نے تو مہندی کی فصل ہی اگانا چھوڑ دی ہے۔ میر خان بتاتے ہیں کہ مہندی کی فصل تیار کرنے میں بہت محنت لگتی ہے۔ زمین کو خشک رکھنا پھر بیج بونا ہر 15 ویں دن پانی دینا اور اچھی طرح سے دیکھ بھال کرنے سمیت کٹائی بعد میں مہندی کے پودوں کو سکھانا اور سوکھے ہوئے پودوں کو مزدورں کی مدد سے کوٹنے سے لے کر مارکیٹ تک پہچانے میں بہت محنت و مشقت لگتی ہے۔
میہڑ کی مہندی پورے صوبے سمیت دیگر صوبوں میں بھی مشہور ہے۔ میر خان کا دعویٰ ہے کہ یہاں کی مہندی بھارت بنگلہ دیش سری لنکا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی جاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میہڑ کی مہندی اس لیے مشہور ہے کہ یہاں کی آب و ہوا مہندی کی کاشت کے لیے بہت اچھی ہے۔ مہندی کو درجہ حرارت کے حوالے سے بہت گرمی چاہیے جتنی گرمی ہوگی اس کے پتے مضبوط ہوں گے اور اس کا رنگ ہرا اور بہترین ہو گا۔ میر خان کہتے ہیں کہ اگر پانچ سے سات ہزار روپے فی من تک ریٹ مل جائے تو اخراجات پورے کر سکیں گے ورنہ ہم دوسروں کی طرح مہندی کی فصل اگانا چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
حکومت جیسے گندم اور چاول کے ریٹ مقرر کرتی ہے اسی طرح مہندی کا بھی مقرر کرے تو کاشت کار مزید مہندی کاشت کریں گے۔ حیدر آباد ڈویژن کا ایک ضلع دادو ہے۔ دادو 1931 میں ضلع بنا۔ دادو کے مغرب میں کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ ہے جو اسے بلوچستان سے جدا کرتا ہے۔ ضلع دادو میں دادو، میہڑ خیر پور ناتھن شاہ اور جوہی تحصیلیں ہیں۔ ضلع دادو کا موسم خاصا گرم ہے مگر دادو ہی میں گورکھ ہل اسٹیشن ہے جو سطح سمندر سے 5688 فٹ بلند ہے اور سیاحت کے لیے شاندار مقام ہے۔ دادو میں جنگلات بھی ہیں۔
آگ کی لپیٹ ہو یا معاشی عدم استحکام اس تحصیل کو ہر وقت نظر انداز کیا گیا۔ جبکہ اسی تحصیل سے نامور شخصیات وابستہ رہیں ہیں۔ البتہ حالیہ وزیراعظم کا اس تحصیل کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرنا اور صوبائی سندھ حکومت سے امداد کا کہنا خوش آئند ہے۔ سوگواران کے ساتھ دلی تعزیت اور اس علاقے کی خوشحالی کے لیے دعا گو رہیں گے۔


